امریکہ (رپورٹس)حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزدورہ امریکہ ستمبر؍اکتوبر 2022ء

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ (۱۳؍ اکتوبر ۲۰۲۲ء بروز جمعرات)

(رپورٹ:عبدالماجد طاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد)

٭…امریکہ کے دور دراز علاقوں سے حاضر ہونے والے احبابِ جماعت کے اپنے پیارے امام سے ملاقات کے بعد تاثرات

٭… حضورِانور کے چہرے پر نظر پڑتے ہی انسان کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ چہرۂ مبارک پر مَیں نے نور ہی نور دیکھا ہے

٭…میں نیا احمدی ہوں اور پہلی دفعہ ملا ہوں اس وقت میرا دل اس قدر جذبات سے بھرا ہوا ہے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے میں پہلے شیعہ ہوگیا تھا وہاں مجھے کوئی سکون نہیں ملا اور دل مطمئن نہ ہوا پھر احمدیوں کے درمیان آنا جانا شروع کیا اور دل کو اطمینان ملا آج حضورِانور سے ملاقات کرکے برملا اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ یہی صحیح راستہ ہے اور یہی حق ہے

٭…میں نے ملائشیا میں جو مشکل ترین حالات میں پانچ سال گزارے ہیں وہ میں بیان ہی نہیں کرسکتا لیکن آج حضورِانور سے ملاقات نے یہ ساری تکلیفیں اور مشکلات دور کردی ہیں اور مجھے سکون ملا ہے۔ آج میں بہت خوش ہوں

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر پندرہ منٹ پر ’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا کے مختلف ممالک سے Fax اور ای میل کے ذریعہ آنے والے خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ نیز حضورِانور کی مختلف دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی۔

ایک بج کر تیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد بیت الرحمٰن ‘‘تشریف لا کر نمازظہروعصر جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب بھی نمازیں پڑھانے کے لیے اپنی رہائش گاہ سے مسجد تشریف لاتے ہیں اور پھر واپس جاتے ہیں تو راستہ کے دونوں اطراف مختلف جگہوں پر احبابِ جماعت اور خواتین ایک بڑی تعداد میں اپنے پیارے آقا کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے آقا کے ساتھ عشق و محبت اور اپنی فدائیت اور والہانہ محبت کا اظہار پُرجوش نعروں کے ساتھ کررہے ہوتے ہیں۔ ہرطرف سے السلام علیکم حضور اور ’’انی معک یامسرور‘‘ کی آوازیں آرہی ہوتی ہیں اور مسلسل نعرے بلند ہورہے ہوتے ہیں۔

مسجد کے بیرونی احاطہ میں مختلف جگہوں پر بڑی تعداد میں مارکیز لگائی گئی ہیں اور مرداحباب اور خواتین کے لیے نماز پڑھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔مردوخواتین کے لیے کھانا کھانے کا انتظام بھی علیحدہ علیحدہ مارکیز میں ہے۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن کے لیے بھی علیحدہ علیحدہ مارکیز ہیں اور Covid ٹیسٹ کے لیے بھی علیحدہ علیحدہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں روزانہ صبح سے شام تک ہر آنے والے کا Covid Test کیا جاتاہے۔ اسی طرح ہرروز سینکڑوں ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور بعض دنوں میں یہ تعداد ہزار سے بڑھ جاتی ہے۔ غرض تمام انتظامات بڑے وسیع پیمانہ پر کیے گئے ہیں۔ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختلف پارکنگ ایریا حاصل کیے گئے ہیں اور وہاں سے احباب کے آنے جانے کے لیے بسیں چلائی گئی ہیں۔ تمام انتظامات بڑے آرگنائزڈ ہیں۔

امریکہ کے مختلف علاقوں اور خطوں سے دودوہزار میل سے زائد فاصلوں سے احباب اورفیملیز یہاں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور سارا سارا دن مسجد اور ان مارکیز میں گزار دیتے ہیں اور اپنے آقا کے دیدار اور زیارت کا کوئی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کے دن ہیں۔ بڑے مبارک اور برکتوں والے دن ہیں۔ یہاں آنے والا ہر ایک ان برکتوں سے فیض پارہا ہے۔

پروگرام کے مطابق چھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ آج شام کے اس سیشن میں 49 فیملیز کے 206 افراد نے اپنے آقا کے ساتھ شرف ملاقات پایا۔ ہر ایک فیملی نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطافرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطافرمائے۔

احبابِ جماعت کی ملاقاتیں

آج ملاقات کرنے والی یہ فیملیز اور احباب Mary Land کی مقامی جماعت کے علاوہ امریکہ کی مختلف 23 جماعتوں سے آئے تھے۔ جن میں سے بعض بڑے لمبے اورطویل سفر طے کرکے پہنچے تھے۔ جماعت Syracuse سے آنے والے 356 میل، Cleveland سے آنے والے 362 میل، جماعت Charlotte سے آنے والے احباب 422 میل اور بوسٹن سے آنے والے 427 میل کا سفر طے کرکے پہنچے تھے۔ جبکہ جارجیا (Georgia) سے آنے والے احباب 661 میل، سیاٹل (Seattle) سے آنے والے 2731 میل اور Sacramento سے آنے والے احباب 2751 میل کا طویل سفر طے کرکے حضورِانور سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

آج بھی ملاقات کرنے والوں میں سے بہت سے ایسے احباب اور فیملیز تھیں جن کی زندگی میں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔

ملاقات کرنےوالوں کےتاثرات

ایک دوست محسن بیگ صاحب جو جماعت Sacramento سے 2751 میل کا فاصلہ طے کرکے ملاقات کے لیے آئے تھے جب ملاقات کرکے باہر آئے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کہنے لگے کہ میرے جو جذبات ہیں، بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ کہنے لگے کہ میرے والد صاحب بچپن میں فوت ہوگئے تھے۔ پوری زندگی ان کی کمی محسوس ہوتی رہی۔ دل میں ایک خالی پن رہا۔ آج اپنے پیارے آقا سے ملنے کے بعد، اپنے روحانی والد سے ملنے کے بعد وہ خالی پن دور ہوگیا ہے اور میرا دل سکون سے بھر گیا ہے۔ حضور کے چہرۂ مبارک میں نورہی نور ہے۔ میں اپنے دل میں بے انتہا خوشی محسوس کرتاہوں۔

ایک دوست فاروق خان صاحب نے بتایا کہ مَیں نے اندر جا کر فوراً سکون پایا اور میری تمام مشکلات اور پریشانیاں دور ہوگئیں اور مجھے اطمینان قلب نصیب ہواہے۔

ایک دوست طاہر نسیم صاحب جماعت بالٹی مور (Baltimore) سے آئے تھے۔ کہنے لگے آج زندگی میں پہلی دفعہ ملاقات ہوئی ہے۔ میرا دل سرور سے بھر گیا ہے۔ حضورِانور کے چہرے پر نظر پڑتے ہی انسان کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ چہرۂ مبارک پر مَیں نے نور ہی نور دیکھا ہے۔ میں اپنے ذہن میں بہت کچھ سوچ کرگیا تھا لیکن سب کچھ بھول گیا۔ بس میں نے دعا کی درخواست کی۔ حضور نے ہمیں بہت دعائیں دیں اور بچے کو ازراہِ شفقت تبرک بھی دیا۔

ایک دوست عاشر احمد صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی زندگی میں پہلی دفعہ ملا ہوں۔ بڑا ہی نورانی چہرہ ہے۔ ہم سری لنکا سے یہاں آئے تھے۔حضورِانور نے ازراہِ شفقت ہم سے کام کے بارہ میں پوچھا اور دعائیں دیں۔

ایک نومبائع دوست حضوربخش ہادی صاحب جماعت سنٹرل جرسی سے آئے تھے، کہنے لگے کہ میں نیا احمدی ہوں اور پہلی دفعہ ملا ہوں۔ اس وقت میرا دل اس قدر جذبات سے بھرا ہوا ہے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔ میں پہلے شیعہ ہوگیا تھا۔ وہاں مجھے کوئی سکون نہیں ملا اور دل مطمئن نہ ہوا۔ پھر احمدیوں کے درمیان آنا جانا شروع کیا اور دل کو اطمینان ملا۔ آج حضورِانور سے ملاقات کرکے برملا اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ یہی صحیح راستہ ہے اور یہی حق ہے۔

ضیاء الرحمٰن صاحب جماعت Pennsylvania سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ملاقات کرکے جب باہر آئے تو ان کے چہرہ پر اتنی خوشی تھی کہ بات نہیں ہورہی تھی۔ الحمدللہ، شکرالحمدللہ کہتے جارہے تھے۔ کہنے لگے کہ حضورِانور نے فرمایا کہ اب چھوٹے بچے کی بھی شادی کرو۔ یہ فیملی اس قدر خوش تھی کہ آپس میں ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارکباد دے رہے تھے۔

ایک دوست عبدالشکور صاحب جماعت کولمبس (Columbus) سے آئے تھے۔ جذبات سے بھرے ہوئے تھے، رونے لگ گئے۔ کہنے لگے کہ آج میری زندگی کی خواہش پوری ہوگئی۔ ایک ہی خواہش تھی کہ حضور سے ملاقات ہو۔ آج اللہ تعالیٰ نے پوری کردی۔ 13 سال میں نے نیپال میں گزارے ہیں اور تین سال پہلے یہاں امریکہ آیا ہوں۔ ان کی اہلیہ کہنے لگیں کہ ہم اس قدر خوش ہیں کہ بیان نہیں کرسکتے۔ یہ ہماری زندگی کے بہترین لمحے تھے۔ حضور نے ہمارے لیے دعا بھی کی۔

طاہر محمود صاحب جو کہ بالٹی مور جماعت سے آئے تھے، کہنے لگے کہ آج زندگی میں پہلی بار ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ ہم کافی دنوں سے آج کے دن کا انتظار کررہے تھے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ حضور سے ملے ہیں اور حضور کی اقتدا میں نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ بڑا روحانی ماحول ہے۔

جماعت روچسٹر (Rochester) سے آنے والے دوست حفیظ احمد صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میرے خلاف مقدمات تھے۔ میں نے ملائیشیا میں جو مشکل ترین حالات میں پانچ سال گزارے ہیں وہ میں بیان ہی نہیں کرسکتا۔ لیکن آج حضورِانور سے ملاقات نے یہ ساری تکلیفیں اور مشکلات دور کردی ہیں اور مجھے سکون ملا ہے۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ حضور میرے سامنے تھے، میرے ساتھ تھے، مجھے یقین ہی نہیں آرہا کہ حضور سے مل کر آیا ہوں۔ آج میں بہت سکون میں ہوں۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام سواآٹھ بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں ساڑھے آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ میں تشریف لا کر نمازمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button