متفرق مضامین

رحمة للعالمین رسول اللہﷺ کا حالت امن اور حالت جنگ میں دشمنوں کے حقوق کا قیام اور ان کی حفاظت (قسط اوّل)

(‘ابو فاضل بشارت’)

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں امن وامان کے قیام کے ساتھ اپنے دین کو قائم کرنےکےلیے مختلف ادوار میں اپنے انبیاء و رسل کی مقدس جماعت کووقتاًفوقتاً مبعوث فرمایا۔رسول اللہﷺ کی بعثت سے قبل عرب کی جوحالت زار تھی وہ تاریخ میں عیاں ہے۔یہ بے آب وگیاہ علاقہ شرک،بت پرستی،لوٹ مار،قتل و غارت،توہم پرستی،نسلی تفاخر،قبائلی نظام اورطرح طرح کی برائیوں کی آماجگاہ تھا۔رقابت اور انتقام کا جذبہ اس قدر تھاکہ مستقل طویل المدت جنگوں کا پیش خیمہ بن جاتا تھا۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اپنی شدت پسندی کے باعث اپنے جوش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کےلیے دشمن کے قتل کے بعد اس کے اعضاکاٹ کر اس کی ہیئت کو بگاڑدیناان کا شیوہ تھا اور کلیجہ کو دانتوں میں چبانےاور کھوپڑی میں شراب پینے کی نذریں ماناکرتے تھے۔

ایسے پُرآشوب وقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت نے جوش مارا اورانسانیت کو اس وحشیانہ رویہ سے محفوظ رکھنے کےلیے اپنی صفت رحمت کا کامل اظہار کرتے ہوئےرحمة للعالمینﷺکو مبعوث فرمایا۔اس رؤوف و رحیمﷺ نے آکر عرب کی حالت ہی بدل دی اور انسان کو بااخلاق اور باخدا انسان بنادیا۔لیکن کیا ایسا یکدم ہوگیا؟بالکل بھی نہیں۔کیونکہ بت پرستی کی جگہ توحید پرستی کاقیام،نسلی تفاخر کی بجائے معاشرتی مساوات اور قبائلی نظام میں جانبدارانہ حمایت کی بجائے عدل و انصاف سے غیرجانبدارانہ حمایت پر عمل کروانا اور لوٹ مار کی جگہ جائز رزق حلال کمانے پر آمادہ کرنا ایک نہایت کٹھن اور محنت طلب کام تھا۔جواللہ تعالیٰ کے خاص فضل ورحمت کے ساتھ ساتھ ہادیٔ کاملﷺ کے عملی نمونہ کا بھی متقاضی تھا۔

خلق عظیم و اسوۂ حسنہ

اس کےلیےاللہ تعالیٰ نے اپنے رسول خاتم الانبیاءﷺ کوبنی نوع انسان کی ہدایت کےلیےایک مکمل ضابطہ حیات قرآن کریم عطا کرکے مبعوث فرمایا۔یہ ایسی کامل اورمتمم شریعت ہےجس میں تاقیامت ہر زمانے میں پیداشدہ مسائل کا حل بیان ہےاوراس پر آپﷺ کا عملی نمونہ سونے پر سہاگہ ہے۔چنانچہ جب سعد بن ہشام بن عامر نے ام المومنین حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺکے اخلاق فاضلہ کے بارے میں پوچھا تو آپؓ نے فرمایا:

كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ

پھر فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيمٍ(القلم: 4) (مسنداحمد جزء41صفحہ148)

پس رسول اللہﷺ کے اخلاق فاضلہ قرآن کریم کی عملی تصویر ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو تمام عالم انسانیت کےلیےاسوۂ حسنہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب 22)

ىقىناً تمہارے لئے اللہ کے رسول مىں نىک نمونہ ہے۔

مشہور مفسر علامہ ابن کثیر(متوفی:774ھ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

هٰذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ أَصْلٌ كَبِيرٌ فِي التَّأَسِّي بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ وَأَحْوَالِهِ، وَلِهَذَا أُمِرَ تبارك وتعالى النَّاسُ بِالتَّأَسِّي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (تفسير ابن كثيرجزء6صفحہ350)

یعنی یہ آیت کریمہ بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرتﷺ کے تمام اقوال،افعال اوراحوال اقتدا، پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں۔اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام لوگوں کو نبی کریمﷺ کی اقتدا کا حکم دیا۔

حقوق العباد کی ادائیگی میں صفت رحمت وشفقت کا کردار

پس جب ہم اس اسوۂ حسنہﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد میں بھی آپ کا نمونہ بے مثال پاتےہیں۔حقوق العباد کی ادائیگی کےلیے شفقت و رحمدلی کا خلق ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ کسی کی زیادتی کو معاف کرکے عفو کا سلوک کرتے ہوئے بوقت ضرورت اس سے احسان کا سلوک کرنا ہی رحمت و شفقت کابرمحل اظہار ہے اوراس کے بغیر حقوق العباد کی ادائیگی ناممکن ہے۔آپؐ کی ذات بابرکات میں شفقت ورحمت کی صفات بدرجۂ اتم موجود تھیں۔اسی وجہ سےرب العالمین نے رسول اللہﷺکورحمة للعالمین کا عظیم الشان لقب نوازتے ہوئے فرمایا:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (الانبياء:108)

اور ہم نے تجھے نہىں بھىجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت کے طور پر۔

اللہ تعالیٰ جو رحمٰن و رحیم ہے اوراپنے متعلق فرماتا ہے: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ(الاعراف:157)۔اسی طرح رسول اللہﷺ بھی صفت رحمٰن و رحیم کے کامل مظہر اورمجسم رحمت تھے اور آپؐ کے رحم کا دائرہ بھی بہت وسیع تھا۔آپؐ کے متبعین تو اس سے فیض اٹھاتے ہی تھے لیکن آپ کے دشمن بھی اس سے پوری طرح مستفیض ہوتے رہے۔

رسول اللہﷺ سے دشمنی کی وجوہات اورپامالیٔ حقوق

یہ دشمن کون تھے؟اور کیا وجہ تھی کہ وہ دشمنی پر اترآئے؟یہ عرب کے بااثراور سرکردہ لوگ تھےجن کی دینی و دنیاوی اجارہ داری اوربرتری کو اسلام نے ختم کرڈالا تھا۔اس پرمستزادقبائلی رقابت وحمیت بھی اس کا اہم محرک تھا۔جس کی وجہ سے وہ اسلام اور بانیٔ اسلام رسول اللہﷺ کے جانی دشمن بن گئے تھے۔

قریش مکہ میں سے آپؐ کے چچا ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل(جو گھر کے آگےکانٹے بچھادیتی تھی)، حکم ابن ابی العاص، عقبہ ابن ابی معیط(جوبکری کی اوجھڑی یاہانڈی حالت نمازمیں آپؐ پر ڈال دیتا)اور اس کے ساتھیوں نےسب سے زیادہ ایذاوتکالیف پہنچائیں اورآپؐ کے گھر پر پتھراؤتک کیا۔ابوجہل بھی آپ کے اشدترین دشمنوں میں سے تھا۔ان مخالفین نے آپؐ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔آپؐ جہاں بھی دین حق کا پیغام پہنچانےکےلیے جاتے وہاں ابولہب بھی پہنچ جاتا اور لوگوں کوآپؐ کے خلاف بھڑکاتا۔(مسند احمد جزء3 صفحہ492)ذوالمجاز کے میلے میں ایک دفعہ دعوت الی اللہ کے دوران ابوجہل آپ پر خاک اڑاتا اور لوگوں کو آپ کی مخالفت پر اکساتا رہا۔(مسند احمدجزء5 صفحہ371)اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہﷺصفا کے پاس بیٹھے تھے کہ ابوجہل نے آکر آپ کو بہت گالیاں دیں اور ستایااور دین کی مذمت کی۔لیکن آپ نے ایک لفظ اس سے نہ کہا۔(تاریخ طبری جزء 2صفحہ78)ایک روزذوالمجازکے میلے میں ہی آپؐ سرخ قبہ پہنے منادیٔ توحیدکررہے تھے کہ ایک شخص نے آپ پر پتھر برسانے شروع کردیے جس سے آپ کی پنڈلیاں اور ٹخنے لہولہان ہوگئے۔

(سیرت الحلبیہ جزء1 صفحہ354)

یہ تو قریش مکہ میں سے تھے لیکن دیگر قبائل عرب بھی آپ کے سخت دشمن بن چکےتھے۔رسول رحمتﷺ کو ہر قسم کی ایذائیں دی گئیں لیکن آپ نے ان سب پر کمال صبر و استقامت کا مظاہرہ فرمایا۔

دوسری طرف آپؐ کی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں مومنین کی مٹھی بھر جماعت دعوت حق پر لبیک کہتے ہوئے آپؐ پراپنا تن من دھن نچھاور کرنے کو تیار ہوگئی۔چنانچہ 13 سالہ مکی دَور میں رسول اللہﷺ سمیت اس سعیدفطرت جماعت پراپنے عقیدہ کی بنا پر دشمنان اسلام قریش مکہ نے ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔جس پرآپﷺکے حکم پربعض صحابہؓ نےحبشہ کے عادل بادشاہ نجاشی کے ملک میں جاکرپناہ بھی لی۔آپؐ کے چچاحضرت حمزہؓ کے قبول اسلام کے بعد دشمنوں کی ایذا رسانیوں میں کچھ کمی ہوئی لیکن حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بعدقریش مکہ نے متحدہ مخالفت کا اعلان کردیا اوربائیکاٹ کا تحریری معاہدہ کیا۔آپؐ کو صحابہ ومعاونین سمیت شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کردیااور بنیادی حقوق تک سلب کرلیے گئے۔اسی دوران10 نبوی عام الحزن کوآپؐ کی وفا شعار زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ اور آپ کے مخلص چچاحضرت ابوطالب کی وفات ہوئی تویہ ظلم و ستم حد سے زیادہ بڑھ گئے۔

کفارمکہ کی ظلم و زیادتی کی انتہا پرایک روزبے بس صحابہؓ نے آپؐ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ جب ہم مشرک تھے تو معززین میں شمار ہوتے تھے اور جب ہم ایمان لائے تو ہمیں ذلیل کیاگیااس پرآپﷺنے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

اِنّیْ اُمِرْتُ بِا لْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوْا

کہ مجھے عفو کا حکم ہو اہے۔اس لئے تم لڑائی سے بچو۔

(نسائی کتاب الجہاد باب وجوب الجہاد)

اہل طائف کے مظالم پران سے عفو اور رحم کاسلوک

شعب ابی طالب کی اذیت ناک محصوری کے بعد ماہ شوال 10نبوی میں آپؐ پیغام حق پہنچانے کی خاطرطائف گئے۔لیکن وہاں بنوثقیف کے سرداروں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ کے پیچھے بدتہذیب لڑکوں کولگادیا کہ وہ آپ کو طائف سے نکال دیں۔ان شریروں نے آپ پر آوازے کسے اور گالیاں دیں جس پر لوگ اکٹھے ہوگئے اور آپ پر پتھر برسانے لگے۔آپ تھکاوٹ سے بیٹھتے تو وہ آپ کو زبردستی کھڑا کردیتے۔آپ کی معیت میں حضرت زید بن حارثہؓ نے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور سر پر پتھر لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔اس پتھراؤ کے نتیجے میں رسول اللہﷺ کی پنڈلیاں لہولہان ہوگئیں اور خون بہ کر جوتوں میں جم گیا اور سخت تکلیف کا باعث بنا۔لیکن آپﷺ نے یہاں بھی کمال صبر کامظاہرہ کیا۔جب آپﷺقرن الثعالب پہنچے تو حضرت جبرئیلؑ آپ کی خدمت میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا آپ سے کیاگیاسلوک دیکھ لیا ہے اور پہاڑوں کا فرشتہ ساتھ بھجوایا ہے۔آپ اسے جو حکم دیں گے یہ بجالائے گا۔چنانچہ پہاڑوں کے فرشتے نے سلام کرکے کہا کہ آپ جو حکم دیں گے میں وہ کروں گا اگر آپ چاہیں تو میں یہ دونوں پہاڑ ان پر گرادوں۔

آپﷺ نے نہایت عفو ورحم کا مظاہرہ کرتے ہوئےفرمایا کہ نہیں نہیں ایسا نہ کرو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا کرے گا جو خدائےواحد کےپرستارہوں گےاور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

(بخاری کتاب بدء الخلق،سیرت ابن ہشام جزء1صفحہ421)

رسول اللہﷺ نے طائف میں گزرے مشکل ترین دن کوغزوۂ احد والے دن سے زیادہ تکلیف دہ بیان فرمایا۔جبکہ غزوۂ احد میں آپؐ کے دو دندان مبارک شہید ہوئے اور آپؐ شدیدزخمی ہوئے پھر بھی آپ نے اپنے دشمنوں کے خلاف بددعا اور لعنت نہ فرمائی۔

آپﷺ کی دن رات کی محنت بارآور ہوتی گئی اوردعوت حق دیگرقبائل تک پہنچی اور سعید فطرت مومنین کی تعدادمیں اضافہ ہوا اور اسلام کا اثر پھیلنےلگا۔اس پرقریش مکہ نے دارالندوہ میں جمع ہوکر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایااورابوجہل کی تجویزقتل کو سب نے قبول کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کوبروقت ان کے ناپاک عزائم سے مطلع کرتے ہوئے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا۔الغرض رسول اللہﷺ اور آپ کے جاںنثارصحابہ نے ان مصائب اور ظلم وستم کاکمال جوانمردی سے مقابلہ کیاتاآنکہ مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی۔

مکی دَور میں دوسروں کے حقوق کا خیال

مکی دور میں باوجوداس کے کہ آپؐ کے تمام حقوق کو پامال کیاگیا،آپؐ نے دشمنوں کے مقابل دوسروں کے حقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند فرمائی۔جس کی ایک مثال قبل ازنبوت معاہدہ حلف الفضول میں آپؐ کی شمولیت اوربعداز نبوت اس کی پاسداری میں مظلوم اراشی کے اونٹ کی رقم ابوجہل سے دلانا ہے۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد2صفحہ123تا124)

غیرمسلم مصنف پرکاش دیوجی رسول اللہؐ اورآپؐ کے صحابہ پر مظالم کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’حضرتؐ کے اُوپر جو ظلم ہوتا تھا اُسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ برداشت کرتے تھے۔ مگر اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر اُن کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا اور بےتاب ہو جاتا تھااُن غریب مومنوں پرظلم وستم کاپہاڑ ٹوٹ پڑاتھا۔ لوگ اُن غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کرکے جلتی تپتی ریت میں لٹادیتے اور اُن کی چھاتیوں پرپتھر کی سلیں رکھ دیتے وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔ مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔ بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔‘‘

(سوانح عمری حضرت محمد صاحب پرکاش صفحہ 25 بحوالہ اسوۂ انسان کاملؐ)

ریاست مدینہ کاقیام اوردفاع کی اجازت

ہجرت مدینہ کے بعدمدینہ منورہ میں خودمختاراسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا جس کے باشندوں کی تعداد انصار و مہاجرین سمیت پانچ سو سے زائد نہ تھی اوریوں اسلام کو کچھ تقویت نصیب ہوئی۔لیکن دشمنان اسلام کو یہ کب گوارا تھا کہ ان کے مظلوم اورستم رسیدہ محکوم غلام ان پر برتری لے جائیں۔انہوں نے ہر ایسی چال چلی کہ اس ریاست کا خاتمہ ہو۔جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار کے معاشی و معاشرتی،دینی و دنیاوی ظلم کی چکی میں پسنے والے مسلمانوں کو اپنے دفاع کےلیےجنگ کرنے کا حکم نازل ہوا:

اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ ۣ۔الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ۔(الحج :40تا41)

اُن لوگوں کو جن کے خلاف قتال کىا جا رہا ہے (قتال کى) اجازت دى جاتى ہے کىونکہ ان پر ظلم کئے گئے اور ىقىناً اللہ اُنکى مدد پر پورى قدرت رکھتا ہے (ىعنى)وہ لوگ جنہىں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گىا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور اگر اللہ کى طرف سے لوگوں کا دفاع اُن مىں سے بعض کو بعض دوسروں سے بِھڑا کر نہ کىا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دىئے جاتے اور گرجے بھى اور ىہود کے معابد بھى اور مساجد بھى جن مىں بکثرت اللہ کا نام لىا جاتا ہے اور ىقىناً اللہ ضرور اُس کى مدد کرے گا جو اس کى مدد کرتا ہے ىقىناً اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔

اس آیت کریمہ میں اسلامی جنگوں کی اجازت کے بنیادی اسباب بیان کیے گئے ہیں جن میں سرفہرست دفاع اور جان ومال کی حفاظت ہے۔اس کے علاوہ قرآن کریم میں فتنہ و فساد کے خاتمہ

وَ قٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ (البقرة: 194)،

دین کے معاملہ میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کی خاطر

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ(النساء:76)

اورعہدشکنی

اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ وَ ہَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَ ہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ(التوبة:13)

وغیرہ کی صورت میں جنگ کا حکم ہے۔

یوں طویل صبرو استقامت کے بعد ان ظالموں کے ظلم سے نجات حاصل کرنے اور ظلم کو روکنے کےلیے مدافعانہ جنگوں کی اجازت مل گئی۔مشہوراطالوی مستشرق ڈاکٹر وگلیری نے اسلامی جنگوں کی اجازت کاذکرکرتے ہوئے لکھاہے:’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں اسلام صرف توحید کا داعی تھا۔ لیکن جب آپؐ اور آپؐ کے ساتھی ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے تو اسلام ایک زبردست سیاسی طاقت بن گیا۔ محمدؐ نے قریش کے مطاعن اور مظالم کو صبر سے برداشت کیا اور بالآخر آپؐ کو اذنِ الٰہی ملا کہ آپؐ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔پس مجبورہوکر آپؐ نے تلوار کو بے نیام کیا…محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے الہامات میں یہ تعلیم ہوتی تھی کہ مظالم کو صبرسے برداشت کرناچاہئے۔‘‘

(اسلام پر ایک نظر صفحہ 12 ترجمہ An Interpretation of Islamمطبوعہ1957ءبحوالہ اسوۂ انسان کامل)

دشمنوں کے حقوق کی ادائیگی

جب مدافعتی جنگوں کا آغاز ہواتو انسان کاملﷺنے اس میدان میں بھی ایسا اسوۂ حسنہ قائم فرمایا جو آئندہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے ایک کامل نمونہ بنا۔آپؐ نےدشمنوں کی جارحانہ کارروائیوں کے باوجودان کے حقوق کو ادا کیا خواہ زمانۂ امن ہو یا حالت جنگ۔آپﷺ نے قرآنی احکام پر مکمل عمل کرکے دکھایا۔دشمنوں کے حقوق کی حفاظت کےلیے آپﷺنے عدل وانصاف پر مبنی معاہدات کیے،امان نامے عطافرمائے، سفارتی تعلقات قائم کیےاور ہرضرورت کے وقت ان کی مددفرمائی اوردشمن سےحسن سلوک کی اعلیٰ مثالیں قائم فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ اور آپ کےمتبعین کو جہاں دشمنوں سے مدافعانہ جنگی کارروائی کرنے کا حکم فرمایا وہاں دشمنوں کے حقوق بھی بیان فرمادیے جن میں سےسب سے پہلا حق عدل و انصاف کا ہے کیونکہ جہاں عدل و انصاف نہ ہوگا وہاں لازماً کسی فریق کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوگی۔

عدل وانصاف کا حق

رسول اللہﷺ نے قرآنی حکم کے مطابق دشمنان اسلام کو ان کی زیادتیوں اور بے انصافیوں کے باوجود انہیں عدل و انصاف کا حق دیا۔ان کے جتنے بھی دینی و دنیوی معاملات آپؐ کے سامنے پیش ہوئے ان سب میں آپؐ نے ان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا۔یہود مدینہ، نصاریٰ اور قریش مکہ سب کے ساتھ یکساں عادلانہ رویہ اختیار فرمایااور ان سے کسی معاملہ میں کوئی زیادتی نہ ہوئی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

…وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا… (المائدة:3)

اور تمہىں کسى قوم کى دشمنى اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہىں مسجدِ حرام سے روکا تھا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زىادتى کرو۔

اس آیت سے پانچ آیتوں بعد پھر فرمایا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا…(المائدة:9)

اے وہ لوگو جو اىمان لائے ہو! اللہ کى خاطر مضبوطى سے نگرانى کرتے ہوئے انصاف کى تائىد مىں گواہ بن جاؤ اور کسى قوم کى دشمنى تمہىں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔

سورت المائدہ کی ان دو آیات میں دشمنوں کے حقوق کی ادائیگی کا بالصراحت ذکر ہے۔پہلا یہ کہ دشمنوں سے زیادتی نہ کرو اوردوسرا یہ کہ دشمن کے ساتھ انصاف کرتے رہو۔یہ تاکید ی احکام ایسے شدیدمخالف دشمنوں کے بارے میں ہیں جنہوں نےمسلمانوں کو ان کے مذ ہبی فرائض کی ادائیگی سے روکاتھا، انہیں وطن سے بے وطن کیا تھااور ان کے اور ان کے محب رسولﷺکوایذا پہنچانے میں کوئی کمی نہ کی تھی۔لیکن اسلام نے ان پر کمال شفقت و رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے ان سے عدل و انصاف کا معاملہ کرنے کا حکم دیا اور ہر قسم کی زیادتی سے منع فرمایا۔یہ ہے سلامتی والا مذہب اسلام۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:’’خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی، فرمایا ہے لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی (المائدۃ: 9) یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔ اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دُکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں، جیسا کہ مکّہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں، ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی…

مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔‘‘

(نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 409تا410)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:’’آپﷺ انصاف کا خیال جنگ کے موقع پر بھی رکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہؓ کو باہر خبر رسانی کے لئے بھجوایا۔ دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے صحابہ نے اِس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ جا کر مکہ والوں کو خبر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے اُن پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک لڑائی میں مارا گیا۔ جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا، تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آیا کہ اُنہوں نے حرم کے اندر ہمارے دو آدمی مار دیئے ہیں۔ جو لوگ حرم کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے رہتے تھے اُن کو جواب تو یہ ملنا چاہئے تھا کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا کہ تم ہم سے حرم کے احترام کی امید رکھتے ہو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا۔ ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیو نکہ ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں اُنہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو اس لئے آپ لوگوں کو خون بہاد یا جائے گا۔ چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں دستور تھا اُن کے ورثا ء کو ادا کیا۔‘‘(دیباچہ تفسیر القرآن،انوارالعلوم جلد20صفحہ397)

معاہدات امن کا حق

یہودونصاریٰ و دیگر قبائل عرب کے ساتھ میثاق مدینہ

عدل و انصاف کے قیام اوردشمنوں کے حقوق کی حفاظت کےلیےمدینہ آتے ہی رسول اللہﷺنےوہاں موجود یہودونصاریٰ اور اردگرد کے عرب قبائل کے ساتھ ایک عادلانہ معاہدہ کیا جو’’میثاق مدینہ‘‘کہلاتاہے۔اس معاہدے میں غیرمسلموں کومکمل آزادی مذہب دی گئی اور ان کے جانی و مالی حقوق کامکمل خیال رکھاگیا جومعاہدہ کی شرائط سے بخوبی واضح ہے۔اس معاہدے سےمسلمانوں اور یہودکو امت واحدہ اور یک قوم کرکے انہیں سیاسی لحاظ سےمضبوط کیا۔ یہود اور مسلمانوں کواپنے اپنے دین کی مکمل آزادی دی۔باہمی تعاون سےبیرونی طاقت کے حملوں سے ایک دوسرے کو محفوظ کیا۔اوراندرونی معاملات میں فریقین کو ایک دوسرے کا خیرخواہ بنایا۔(السیرۃ النبویہ لابن ھشام جلد2صفحہ147تا150)

یہ وہ پہلا باقاعدہ معاہدہ تھا جو امن کے پیغمبررسول اللہﷺنے قیام امن کی خاطر اوردشمنوں کے بحالیٔ حقوق کےلیے کیااورباوجود اس کے کہ یہود مدینہ اس معاہدے کی باربارخلاف ورزی کرتے رہے،آپﷺ نے ہمیشہ اس معاہدےکی پاسداری کی اوران کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

قریش مکہ سےمعاہدہ صلح حدیبیہ

6ھ میں رسول اللہﷺ ایک خواب کی بنا پراپنے جاںنثار صحابہؓ کے ساتھ عمرے کےلیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن قریش مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔آپؐ نے حضرت عثمانؓ کو بطور سفیر مکہ میں بھیجاجنہیں قریش نے کچھ دیر کےلیے روک لیا کہ وہ کوئی قطعی فیصلہ کرسکیں۔اس دوران آپؓ کی شہادت کی افواہ حدیبیہ میں پہنچ گئی جس پر رسول اللہﷺ نے چودہ سو صحابہ سے آپؓ کی شہادت پر بیعت رضوان لی۔ قریش مکہ اپنی بات پر مصر رہےاور اگلے سال ہی عمرہ کی اجازت کے فیصلہ کے ساتھ حضرت عثمانؓ کو واپس بھجوادیااور حالات کی نزاکت کے پیش نظراس بارے میں معاہدہ کی طرح ڈالی اور سہیل بن عمرو کو بطور سفیر روانہ کیا۔

رسول اللہﷺنے بہت سی حکمتوں کے پیش نظر اس معاہدے کو قبول کیا،جس سے دوررس نتائج پیدا ہوئے۔اس معاہدے کی شرائط یہ تھیں کہ فریقین کےلیےدس سال کےلیے جنگ کرنا ممنوع قراردیاگیا۔اور ان دس برسوں میں محمدؐ اور ان کے ساتھی تین اغراض حج،عمرہ اور تجارت میں سے کسی ایک کےلیے مکہ آئیں تو اہل مکہ پر ان کی جان اور مال کی ذمہ داری ہوگی۔قریش بغرض تجارت براستہ مدینہ مصر یا شام جائیں تو مسلمان ان کی جان و مال کے ذمہ دار ہوںگے۔اہل مکہ میں سے جو شخص اپنے خاندانی سربراہ کی اجازت کے بغیر مسلمان ہوکر مدینہ چلاجائے تو محمدؐ پر اس کا مکہ لوٹا دینا واجب ہے۔اگر کوئی شخص مدینہ میں سے اسلام ترک کرکے مکہ میں پناہ گزیں ہوتو قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔قبائل میں سے جو قبیلہ اہل مکہ کے ساتھ معاہد رہنا چاہے وہ مختار ہے۔اگر کوئی قبیلہ اسی قبیلے کی مانند محمدؐ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے تو یہ بھی آزاد ہے۔اس مرتبہ محمدؐ اور آپ کے ہمراہیوں کو عمرہ کیے بغیر واپس لوٹنا ہوگا۔آئندہ سال وہ مکہ میں عمرہ کےلیے آنے کے مجاز ہیں۔ان کے داخلہ پر قریش اور ان کے ہمسائے شہر خالی کردیں گے۔مسلمان اپنے ساتھ صرف سواری کے شایاں اسلحہ لاسکتے ہیں مگر تلواریں میان میں ہوں نہ کہ کسی اور غلاف سے ڈھکی ہوئی۔انہیں مکہ میں تین روز سے زیادہ قیام کی اجازت نہ ہوگی۔مسلمان اس سفر میں عمرہ کےلیے ہدی کے جانور جو اپنے ہمراہ لاتے ہیں وہ منیٰ میں لے جاکر ذبح نہیں کیے جاسکتے۔یہ مسلمان جانیں اور ان کی ہدی اور اس کا مذبح۔فقط

(آنحضرتﷺ کے فرامین،معاہدات۔مکاتیب اور خلفائے راشدین کے احکام سیاسی وثیقہ جات از ڈاکٹر حمیداللہ حیدرآبادی،اردو مترجم مولانا ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی صفحہ48تا50)

یہود سے دیگرمعاہدات

معاہدہ اہل حنین و خیبر و مقنا

رسول اللہﷺ کی حیات مبارک میں جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو7 ہجری میں فتح خیبر کےبعد وہاں کے یہود سے معاہدہ ہوا جس میں ان کے معاشی و معاشرتی،دینی ودنیوی حقوق کا بخوبی خیال رکھاگیا۔پھراہل حنین و مقنا سے معاہدوں کی بنیاد بھی انہی منصفانہ امور پر تھی اور یہ معاہدے صرف رسول اللہﷺ کے مبارک عہد تک کےلیے نہ تھے بلکہ تاقیامت نافذالعمل تھےاورآپﷺ نے اس کی جو شرائط وضع فرمائیں وہ انسانی حقوق کے عین مطابق تھیں۔آپؐ کی طرف سے معاہدہ کی عبارت یہ تھی:’’مجھے وحی الٰہی کے ذریعے تینوں طبقات کے اپنے اپنے گھروں میں لوٹنے کی اطلاع ہوئی ہے؛ سو ضرور لوٹ جائیے۔سب کے لیے خدا اور خدا کے رسولﷺ کی طرف سے پناہ ہے۔نہ صرف تمہاری جانوں کے لیے امان ہے بلکہ تمہارے دین،تمہارے اموال،تمہارے غلام،تمہاری جملہ املاک،ان سب میں خدا اور اس کے رسولؐ کا ذمہ ہے۔‘‘

ان رعایتوں کے علاوہ ان کو رسول اللہﷺ نے اور بھی بہت سی مراعات سے نوازا جن میں جزیہ کی معافی،گھوڑے پرسواری اور دین میں کسی قسم کی زبردستی نہ ہونا وغیرہ شامل تھیں۔

(سیاسی وثیقہ جات از ڈاکٹر حمیداللہ حیدرآبادی،اردو مترجم مولانا ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی صفحہ 73تا76)

امان نامے

معاہدات کے علاوہ رسول اللہﷺ نے غیروں کےحقوق قائم رکھنے کےلیے انہیں امان نامے بھی جاری فرمائے چنانچہ تیماء مقام کے یہود بنی عادی کے لیے وثیقہ امان تحریر فرمایا جس کا متن یہ تھا:’’یہ امان ہے بنی عادی کےلیے:مسلمان ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اور وہ ادائے جزیہ کے ذمہ دار۔ان پر ریاست کی طرف سے اور کوئی بار نہ ڈالا جائے اور نہ انھیں جلا وطن کیا جائے۔بغاوت اور فرمان برداری دونوں کی وضاحت کردی گئی ہے۔‘‘

(سیاسی وثیقہ جات اردو صفحہ 60)

اہل ایلہ کےلیے امان نامہ

اسی طرح آپ نے یجنہ بن اوبہ اور اہل ایلہ دونوں کے لیے امان نامہ تحریر فرمایا جس میں ان کے جان و مال کی حفاظت کا معاہدہ تھا۔(سیاسی وثیقہ جات اردو صفحہ70-71)

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button