متفرق

مستورات کو ایک نیک مشورہ

الفضل قادیان کے کالم تَادِیْبُ النِّساء سے ایک انتخاب

اول : قرآن کریم میں فرمایا ۔ بی بی وہی اچھی ہوتی ہے جو کہ عبادت گزار ہو، صابر ہو ،متحمل ہو ، عصمت شعار ہو ،اس کی آنکھیں صرف اپنے خاوند پر ٹھہری ہوئی ہوں جو حور جنت کی صفت ہے ۔ پھر سب سے زیادہ یہ کہ اطاعت گزار ہو۔ اس میں خاوند کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری میں اس کے رشتہ داروں کی اطاعت بھی شامل ہے اور قاطع رحم نہ ہو جو شخص قطع رحم کرے اس کی بخشش نہ ہو گی ۔ اس کی دعا مقبول نہیں ہوتی اور عصمت شعاری کی نسبت فرمایا ۔ عورتو تم ایک نفیس چیز ہو۔ سو نفیس اور شفاف چیز کو زنگار اور غبار یا میلا ہونے کا خطرہ ہے۔ اور نازک و نفیس شئے کی جب تک کامل طور سے حفاظت نہ کی جاوے ۔ وہ ضرور خراب ہو گی یہ ایسے بیش قیمت انمول فقرے ہیں کہ اس سے زیادہ پر اثر فقرے میری کیا بساط کہ بناسکوں سو ہر اس معظمہ محترم بی بی کو جو اسلام والے گھروں میں ہے اس پر ضرور قائم و پختہ طور سے عامل ہونا چاہیے کہ دینی و دنیاوی فلاح کا موجب ہے۔

دوم : فرمایا گیا ہے پاکیزہ ہو کہ طہارت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے پانچوں وقت نماز کا حکم اس لئے ہے کہ کامل طور سے انسان پاک رہے ۔ برتن کی نسبت یہاں تک حکم اسلام ہے کہ رات کو کوئی برتن ننگا نہ رہے کپڑے میلے یا پیشاپ پلیدی لگے ہوؤں سے نماز درست نہیں ۔ پیشاب کی چھینٹ پاؤں پر پڑ جاوے تو سخت گناہ لگتا ہے۔ مردہ جانوروں کا گوشت یہاں تک کہ کتے کا جوٹھا دودھ گھی پلید اور گندہ فرمایا۔

سوم: پردہ کا حکم یہاں تک فرمایا ہے کہ چوتھائی حصہ بال کا کھلا ہو یا ایسا کپڑا جس سے بدن نظر آتا ہو یا بال نظر آتے ہوں جیسے باریک ململ یا جالی کے دوپٹہ سے نماز صحیح نہیں ہوتی۔ بے شک عورتوں کو سب زینت جائز ہے مگر اسلامی حد بھی تو کوئی چیز ہے بال سنورنے تو جائز ہیں مگر زلفیں کاٹ کر پھر انہیں نماز کے وقت یا کسی نا محرم کے سامنے کھلا رکھنا سخت گناہ ہے اور عورت کی زیادہ تر زینت بال ہی ہیں۔ اسی طرح چونڈا کرنا یعنی پیچھےکی طرف جوڑا باندھنا شاید جائز تو ہے مگر برقعہ میں باندھ کر راستہ میں چلنا بہت بڑا گناہ ہے۔ خیر یہ تو لمبا قصہ ہو رہا ہے عورت اپنی زینت زیبائش غیر محرموں سے چھپائے رکھے۔

چہارم: سب سے عمدہ دستور العمل یہ ہے کہ کفایت شعار ہو اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا اصراف ہے اور اصراف کرنا سخت گناہ ہے ۔ مثلاً میاں کی تنخواہ پانچ روپیہ ہو اور بی بی کے دوپٹہ کو پانچ روپے کا فیتہ لگا ہوا ہو ۔ یا میاں بیچارا تو دو آنہ روز کی مزدوری کرنے والا ہو اور بی بی کے ہاتھوں کی چوڑیاں بارہ آنہ جوڑا کی پڑی ہیں بیٹا تو مزدور کا اور سفید ریشم کا کرتہ پہن کر جب تک باہر نہ نکلے چار بیویوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ۔ یہ سخت نا مناسب بات کیا بلکہ گناہ اور عیب ہے اور دنیا میں خواری کے علاوہ دین بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔

پنجم : ہر ہنر مند بیوی کو کبھی نکمی نہیں بیٹھنا چاہیے وہ کسی نہ کسی کام میں لگی رہے خواہ اسے خود ضرورت کام کی نہ ہو یعنی کر کے کھانے کی ضرورت نہ ہو مگر حلال کما کر کسی حاجت مند کو دینا وارثِ جنت ہونے کا ثبوت ہے ۔

حضرت امّ المومنین زینب رضی اللہ عنہا چمڑے رنگنے کا ہنر جانتی تھیں اور وہ مزدوری لے کر محتاجوں میں بانٹتی تھیں میں یہ نہیں کہتی کہ پھولوں کے سیجوں پر سونے والیاں یا امیرانہ زندگی گذار بیویاں اب چکی یا چرخہ کا کام کریں ۔ نہیں وہ اپنی حیثیت کے موجب بہت عمدہ نازک کام کر سکتی ہیں ۔ مثلاً دیکھو تربوز خربوزہ کے بیج نکال کر دیکھیں، ہے تو محنت کا کام مگر کیسے قیمتی ہوتے ہیں ۔ بازار کے بوسیدہ سے مغز بہت گراں ملتے ہیں ۔ یا دیکھو سلائی کا کیسا بیش قیمت کام ہے۔ بازار میں بچوں کے گرم موزے آٹھ آنہ بنیان دو چار روپیہ سے کم نہیں ملتی اگر گھر میں اون لے کر بنوائی جاوے تو علاوہ کم قیمت لگنے کے مضبوط اور عمدہ بھی ہو گی اسی طرح زنانہ مردانہ موزے ہی دیکھو غور کرو تو کئی ہزار روپیہ دوسروں کے خزانہ میں داخل ہوتا ہے حالانکہ یہ کیسا آسان کام ہے۔

پھر اس سے بھی زیادہ شاہی کام اور ہنر لکھنے پڑھنے کا ہے ۔ اگر عورتیں خوشخطی سیکھیں اور یہ تو عورتوں کا ہی اصل پیشہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ غور کریں تو ان کو جلد آسکتا ہے۔ کاتبوں کی آج کل بہت ضرورت اور مانگ ہے۔ اور عورتیں تو اندر بیٹھے کاپی نویسی عمدہ طور سے کر سکتی ہیں ۔ اور میں نے سنا ہے کہ ایک دو خاتونان ہند کتابت کرتی بھی ہیں۔ چنانچہ ایک بہن بنام کنیز کبرے صاحبہ دہلی کو بیگم صاحبہ بھوپال کی جانب سے صرف ایک سورہ خوشخط پیش کرنے پر پانچ سو کی جڑاؤ پہنچیاں انعام بھی مل چکیں ۔ غرضیکہ یہ عمدہ نازک و نفیس کام ہے سو میں اپنی بہت ساری معزز بہنوں کی خدمت میں عرض کرتی ہوں کہ اپنی بیٹیوں کو کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سکھلاؤ۔ حلال کمائی کمانے کے علاوہ دنیا میں کسی کی محتاج بھی نہیں ہوں گی اور قوم بھی افلاس سے بچ جائے گی ۔ آہ آج کل مسلمانوں میں بھی تو تباہی ہے آمدنیاں کم اور خرچ بڑے زیادہ ہو گئے ہیں نکما پن اور اصراف بڑھ چلا ہے ۔

تجارت عورتوں سے نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کی ناقص ہمتیں اس کی متحمل نہیں ہو سکتیں ۔ ہاں اپنے ایجاد پسند دماغوں سے صنعت یعنی سلائی کے کام سے یا عمدہ عمدہ صنعتوں سے وہ بہت کچھ کر سکتی ہیں بشرطیکہ ہمت کریں ۔ اور ساتھ کوئی عمدہ مشورہ بھی ملا کرے ۔ اور ہمت بندھانے والا کامل العقل ہونا چاہیے ۔( بہنوں کی خیر خواہ سکینتہ النساء قادیان)

( الفضل 7 اکتوبر 1913 صفحہ 11)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close