خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍جنوری2021ء

جو چیز خدا تعالیٰ کی خاطر خرچ کی جائے وہ ضائع نہیں جاتی بلکہ یہ ایسا قرض ہے جسے اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر لَوٹاتا ہے

تحریکِ وقفِ جدید کے تریسٹھ ویں سال کے دوران جماعتہائے احمدیہ کی طرف سے ایک کروڑ پانچ لاکھ تیس ہزار پاؤنڈز کی بے مثال قربانی

اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے، مخلوق کی خدمت کے لیے مالی قربانی کرنا بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اسے بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا

ہر طبقہ کے احمدی کا ذاتی تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لیے اس کی راہ میں خرچ کرنا جہاں دل کے سکون کا باعث بنتا ہے وہاں دنیاوی لحاظ سے بھی ہزاروں لوگ اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ وہ رقم جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر دی ہوتی ہے واپس لوٹاتا ہے

شرط یہ ہے کہ نیک نیتی سے خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانی کی جائے اور قربانی اور اس کے لیے باقی احکامات اور نیکیوں کو بھی بجا لایا جائے

ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ ہم جماعت کا نام دنیا سے مٹا دیں گے۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرنے والوں اور وفا کرنے والوں کو مٹا سکے

لوگ تو نمازیں اور تہجد پڑھتے ہیں اس لیے کہ ہم چندوں کی ادائیگی کر سکیں بجائے اس کے کہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کریں

مخالفین چاہے جتنا بھی زور لگا لیں لیکن یہ جماعت خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو دنیا میں پھیلانےکے لیے قائم فرمائی ہے۔ اس لیے ہر موقع پر خدا تعالیٰ ہی سنبھالتا ہے اور مدد فرماتا ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کے دل میں اس کی محبت اور اس کے مقاصد کی تکمیل کی تڑپ پیدا کرتا چلا جاتا ہے

وقفِ جدید کے چونسٹھ ویںسال کے آغاز کا اعلان اوردنیا بھر میں بسنے والے احمدیوں کی قربانی کے واقعات کا عمومی تذکرہ

پاکستان اور الجزائر کے احمدیوں کی شدید مخالفت کے پیش نظر دعاؤں، نوافل اور صدقات پر زور دینے کی تلقین

امن کے لحاظ سے پاکستان کے عمومی حالات نیز دنیا کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیشِ نظر دعاؤں کی طرف توجہ کرنے کا ارشاد

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍جنوری2021ء بمطابق 08؍صلح 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ وَ اللّٰہُ یَقۡبِضُ وَ یَبۡصُۜطُ ۪ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ(البقرۃ:246)

کون ہے جو اللہ کو قرضۂ حسنہ دے تا کہ وہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھائے اور اللہ رزق قبض بھی کر لیتا ہے اور کھول بھی دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا ذکر ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو انسانی پیسے کی ضرورت ہے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ قرض مانگ رہا ہے۔ قرض کے ایک تو عام معنی ہیں جو ہم قرض کے لین دین میں استعمال کرتے ہیں ،کسی سے ادھار لیا دیا لیکن اس کے لغوی معنی اچھے یا بُرے بدلے کے بھی ہیں۔ یہاں اس کے معنی ہوں گے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ اس کا اس کو بہترین بدلہ دے۔

پس جہاں اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کرنے یا دینے کا سوال اٹھتا ہے تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کوکرنے والے کو بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کو دے رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔ قرآن کریم میں اور بھی بہت سی جگہ قربانیوں اور مالی قربانیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بہتری کی خاطر خرچ کرنے کو خود اللہ تعالیٰ کی خاطر خرچ کرنے کے برابر ٹھہرایا گیا ہے۔ اور جو چیز خدا تعالیٰ کی خاطر خرچ کی جائے وہ ضائع نہیں جاتی بلکہ یہ ایسا قرض ہے جسے اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے۔ پس کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی قرض کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ تو خود ربّ ہے، تمام جہان کو پالنے والا ہے اور دینے والا ہے۔ اس کو کسی کی حاجت نہیں ہے۔ وہ جب اپنے لیے قرض کا لفظ استعمال کرتا ہے تو مطلب ہے کہ میرے راستے میں خرچ کرو اور میرے بےشمار انعامات حاصل کرنے والے بنو۔ کون ہے جو مجھے قرضۂ حسنہ دے؟ یہ سوال اٹھا کر اس طرف ترغیب دلائی گئی ہے کہ کون ہے جو میرے راستے میں خرچ کر کے میرے بےشمار انعاموں کا وارث بنے اور بنتا چلا جائے؟ اور آگے خود ہی اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ میں تمہارے اس قرض کو اپنے پاس رکھنے کے لیے، اپنی ضرورت کے خرچ کے لیے نہیں مانگ رہا بلکہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دینے کے لیے تمہارے سے یہ قرض لے رہا ہوں اور اس کے لیے کہہ رہا ہوں۔ اگر تم میرے دین کے لیے، میری مخلوق کی بہتری کے لیے خرچ کرو گے تو کئی گنا بڑھا کر تمہیں واپس لوٹاؤں گا اور قرضۂ حسنہ کا لفظ استعمال کر کے یہ بھی بتا دیا کہ تم اپنی مرضی سے اور خوش دلی سے یہ خرچ کرو گے تو پھر ایسا جو خرچ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہو گا وہ تمہاری طرف سے قرضۂ حسنہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی ایک مجلس میں اس حوالے سے بیان کرتے ہوئے ایک جگہ یوں فرمایا کہ

’’اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج ہے۔ ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا۔‘‘ یعنی بڑھا کر واپس کروں گا ’’یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد3صفحہ268)

پھر ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’ایک نادان کہتا ہے کہ

مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا۔(البقرہ:246)

(کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے) اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے۔ احمق نہیں سمجھتا۔‘‘ آپؑ فرماتے ہیں کہ احمق لوگ ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ’’احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں سے نکلتا ہے؟‘‘ جب قرضۂ حسنہ کی بات اللہ تعالیٰ کرتا ہے کہ مجھے دو تو اس سے کہاں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھوکا ہے۔ فرمایا کہ ’’یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے‘‘ قرض تو ہوتا ہی واپس کرنے کے لیے ہے اور اس کے ساتھ وعدہ ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ’’اس کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگا لیتا ہے‘‘ یعنی اعتراض کرنے والا افلاس کا لفظ یا غربت کا لفظ یا اللہ تعالیٰ کی ضرورت کا لفظ اپنی طرف سے لگا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہ نہیں فرمایا کہ میں بھوکا ہوں، افلاس زدہ ہوں۔ اس لیے مجھے دو۔ اپنی ذات کے لیے میں نے خرچ کرنا ہے۔ ہاں اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے جب بھوکے ہوتے ہیں تم دو گے، ان پر خرچ کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے تم نے مجھ پر خرچ کیا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’یہاں قرض سے مراد یہ ہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جزا اسے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔‘‘ کوئی بھی عمل صالح ہو اللہ کی خاطر بجا لاؤ تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کے دیتا ہے۔ صرف روپیہ پیسے کی بات نہیں ہے اور یہ جو بات ہے، فرماتے ہیں ’’یہ خدا کی شان کے لائق ہے۔ جو سلسلہ عبودیت کاربوبیت کے ساتھ ہے۔ اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بدوں کسی نیکی، دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کا فر ومومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تو ہر ایک کی پرورش کر رہا ہے قطع نظر اس کے کوئی کافر ہے یا مومن ہے ’’اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔ پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا؟‘‘ جب بغیر کسی نیکی کے، بغیر کسی کام کے اللہ تعالیٰ سب کو پال رہا ہے اور دے رہا ہے تو پھر جب کوئی نیکی کرے گا اور عمل صالح کرے گا تو اس کو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ضائع کرے اور اس کا اجر نہ دے۔ ’’اس کی شان تو یہ ہے

مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔(الزلزال:8)

جو ذرّہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرّہ بدی کرے گااس کی پاداش بھی ملے گی۔ یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے۔ چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا تھا اس لیے یہی کہہ دیا

مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا۔ (البقرہ:246)

اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے

مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔‘‘ (الزلزال:8)

(ملفوظات جلد1صفحہ226-227)

کہ جو ذرّہ بھی نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بدلہ ہے۔

پس اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے، مخلوق کی خدمت کے لیے مالی قربانی کرنا بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اسے بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا۔ دوسری جگہ پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ مالی قربانیوں کے سلسلہ میں تو افراد جماعت سے بہتر اَور کون جان سکتا ہے۔ ہر طبقہ کے احمدی کا ذاتی تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لیے اس کی راہ میں خرچ کرنا جہاں دل کے سکون کا باعث بنتا ہے وہاں دنیاوی لحاظ سے بھی ہزاروں لوگ اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ وہ رقم جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر دی ہوتی ہے واپس لوٹاتا ہے۔ ایسے بہت سے احمدی ہیں جو صرف قربانی کرتے ہیں یعنی قربانی کے نام پہ قربانی کرتے ہیں اور صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ ان کے دل میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کا بدلہ انہیں دنیا میں یا دنیاوی مال کی صورت میں مل جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ میں احسن رنگ میں اس کو لوٹاؤں گا وہ لوٹادیتا ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو بُرے حالات کے باوجود قربانی کر دیتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کی اپنی ضروریات کسی نہ کسی طرح پوری کر ہی دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کی اس امید کو بھی پوری کردیتا ہے اور ان کو بھی حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے ضرورت پوری کردی لیکن شرط یہ ہے کہ نیک نیتی سے خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانی کی جائے اور اس کے لیے باقی احکامات اور نیکیوں کو بھی بجا لایا جائے۔ یہ نہیں کہ صرف مال دے دیا اور سمجھ لیا کہ میں نے بہت قربانی کر دی، باقی فرائض پورے کر دیے۔ باقی نیکیاں بجا لانا بھی ضروری ہے۔ نہ کہ ایک کاروباری شخص کی طرح صرف اس سوچ کے ساتھ مال خرچ ہو کہ اس کا منافع لینا ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دو منافع مل جائے گا۔

بہرحال میں اس وقت بعض لوگوں کے اپنے واقعات پیش کرتا ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے فیض پایا۔ اکثر ایسے واقعات ہیں جن میں خالص ہو کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی دی اور حیرت انگیز طور پر ان کی ضروریات کو نہ صرف اللہ تعالیٰ نے پورا کیا بلکہ بڑھا کر دیا۔ بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ اپنی اور اپنے بچوں کی بھوک کس طرح مٹائیں گے لیکن چند منٹ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑھ کر ان کی بھوک کو مٹانے کے سامان پیدا کر دیے۔ جو ان کے پاس تھا اس سے بہت بڑھ کر دے دیا اور یوں یہ بات ان کے ایمان میں مزید تقویت کا ذریعہ بن گئی۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے وہ لوگ جن کی بےشمار مثالیں آج ہمیں جماعت احمدیہ میں ہی نظر آتی ہیں۔

گنی کناکری کے صدر اور مبلغ انچارج نے ایک واقعہ لکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا جوگذشتہ سال کا وقفِ جدید کا خطبہ تھا وہ مسجد میں پڑھ کے سنایا جس میں مَیں نے مالی قربانی کی اہمیت کو بیان کیا تھا اور اس حوالے سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباسات پیش کیے تھے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے پانچ ذرائع میں سے ایک ذریعہ جہاد بالمال کا ذکر فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ ایک دل میں دو محبتیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں یعنی مال کی محبت بھی ہو اور خدا تعالیٰ کی محبت بھی ہو اور اس کے علاوہ بعض واقعات بھی میں نے سنائے تھے جو عموماً میں مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات سنایا کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد ایک غریب اور مخلص احمدی موسیٰ قبا (Muossa Kaba) صاحب نے اپنی جیب میں جتنے پیسے تھے نہایت اخلاص کے ساتھ وقف جدید کی مدّ میں ادا کر دیے جبکہ وہ اس سے پہلے اپنا چندہ ادا کر چکے تھے۔ جب رقم کا پوچھا گیا کہ کتنی ہے تو کہنے لگے جو جیب میں تھا میں نے نکال کے دے دیا اب خود ہی گن لیں۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لیے دیا ہے گنتی کر کے نہیں دیا۔ جب گنتی کی گئی تو پچاسی ہزار فرانک کی رقم تھی۔ جب انہیں کہا گیا کہ اس میں سےکچھ رقم واپس رکھ لیں۔ آپ نے گھر بھی جانا ہے۔ سب ہی آپ نے جیب میں سے نکال کے دے دیے ہیں ۔کرایہ بھی آپ کے پاس نہیں رہا تو کہنے لگے کہ آپ نے سنا نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایک دل میں دو محبتیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا آج مجھے اللہ تعالیٰ کی محبت کے سہارے جینے دیں۔ اور خوشی خوشی پیدل اپنے گھر چلے گئے۔

تو یہ ہیں وہ نظارے جنہیں دیکھ کر مبلغ صاحب نے بھی لکھا ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے۔ کیسی مخلص جماعت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا فرمائی ہے۔ لوگ خطبات سنتے ہیں اور سن کے کہہ دیتے ہیں ہاں جی ہم نے سن لیا ہے۔لیکن اس گہرائی سے اس بات کو نوٹ کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دو محبتیں دل میں نہیں رہ سکتیں تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ میری جیب میں مال پڑا ہو اس کی محبت بھی میں رکھوں اور فوری طور پہ اس پر عمل بھی کر دیا۔ لوگ کہتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتی۔ یہ ہے گہرائی سے کسی بات کو سننا اور اس پر عمل کرنا۔ کیسے عجیب قربانی کے نظارے ہیں۔ یہ بھی شرائط بیعت کے مطابق ہے کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے وفا کا عہد پورا کرنا ہے ۔کوئی شکوہ نہیں کرنا۔ اس ادائیگی سے قربانی کی خوشی ہوئی کہ وفا کے ساتھ قربانی کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ ہم جماعت کا نام دنیا سے مٹا دیں گے۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرنے والوں اور وفا کرنے والوں کو مٹا سکے۔ اللہ تعالیٰ پھر ایسی محبت کرنے والوں کو اپنے ساتھ چمٹاتا ہے اور دشمن کی خاک کا بھی پتہ نہیں چلتا۔

جماعت احمدیہ فرانس کی ایک خاتون ڈنیوا (Dieneba) صاحبہ ہیں کچھ عرصہ قبل انہوں نے بیعت کی تھی۔ ان کو فیملی کے ساتھ بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے مالی قربانی میں چاہے وہ وقفِ جدید ہو، تحریکِ جدید ہو، مسجد فنڈ ہو ہمیشہ حصہ لینے کی کوشش کی ہے اور چندوں کی برکات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کہتی ہیں اس سال میں نے وقف جدید چندے کی ادائیگی کی ،تو حالات اس طرح کے تھے کہ میں اچھی جاب کے لیے ایک لمبے عرصہ سے کوشش کر رہی تھی لیکن کوئی جاب نہیں مل رہی تھی۔ کہتی ہیں کہ جس دن میں نے چندہ وقف جدید کی ادائیگی کی ہے دس منٹ کے بعد ہی مجھے فون کے ذریعہ ایک بہت بڑی کمپنی کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی کہ ان کے ہاں مجھے جاب مل گئی ہے۔ کہتی ہیں ان تمام چندوں کی ادائیگی کے فوراً بعد اور خاص طور پر وقفِ جدید کی ادائیگی کے فوراً بعد کام کا حصول یقیناًً اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے لیے ایک نشان ہے۔

قازقستان کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ لوکل معلم جسلان صاحب کی اہلیہ نے چند سال پہلے بیعت کی تھی۔ اس دفعہ اپنی سالگرہ کے موقع پر سات ہزار ٹینگے(Tenge، لوکل کرنسی ہے) تحریک جدید اور وقف جدید میں آدھی آدھی کر کے دے دی۔ وہ بیان کرتی ہیں …اس رقم کی ادائیگی کے ایک ہفتے کے بعد ہی مجھے ستر ہزار ٹینگے کی رقم مل گئی جس کی مجھے کوئی امید بھی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کی تو اس نے دس گنا بڑھا کے واپس کر دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا۔ ہمارے ساتھ تو ایسا واقعہ پیش نہیں آتا۔ ان کو چاہیے کہ استغفار بھی کریں اور اپنے دلوں کو ٹٹولیں کہ کیا اس قربانی کے وقت ان کی نیت خالصۃًللہ قربانی کی تھی؟ اگر تھی تو پھر شکوہ بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ پھر تو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قربانی کی توفیق عطا فرمائی۔بس اللہ تعالیٰ نے دینا تھا ۔کس طریقے سے دینا ہے وہ دے دے گا۔ ہو سکتا ہے آج نہیں تو کل دے دے گا لیکن جن کی نیت ہی یہ ہوتی ہے ان کو پھر شکوے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ تھوڑ دل ایسے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو تو پھر نمازیں بھی بوجھ لگ رہی ہوتی ہیں۔

ماسکو کے ایک دوست ہیںعبدالرحیم صاحب۔ کہتے ہیں کہ نوکری کے معاملے میں میری قسمت ہمیشہ خراب رہی ہے۔ جہاں بھی کام ملتا وہاں تنخواہ اتنی کم ہوتی کہ ساری فیملی کا گزارہ مشکل ہو جاتا۔ ایک مرتبہ تو ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ میری تنخواہ میں اضافہ ہونے لگ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہے کہ مجھے چندہ جات باقاعدگی سے ادا کرنے چاہئیں۔ چنانچہ میں نے چندے ادا کرنے شروع کر دیے۔ جتنے چندے تھے باقاعدگی سے دینے شروع کر دیے۔ ان کی ادائیگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مزید فضل کیا اور مجھے ایک ایسی نوکری کی پیشکش ملی جس کا میں دو سال سے انتظار کر رہا تھا اور اللہ کے فضل سے اب مجھے چندہ وقف جدید کی ادائیگی کی بھی توفیق ملی ہے اور مجھے خاص طور پر اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ چندوں کی ادائیگی میں مستقل مزاجی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انسان کی آمدنی بڑھاتا چلا جاتا ہے اور آمدنی کا مستقل انتظام بھی فرما دیتا ہے اور یہ کہ میں اللہ کا بڑا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے چندوں کے شاملین میں، چندہ جات میں، جماعتی چندہ جات میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔

سیرالیون سے واٹر لو (Waterloo)ریجن کے مبلغ افتخار صاحب ۔ کہتے ہیں کہ چندہ وقفِ جدید کی وصولی کے بارے میں مختلف جماعتوں کے دورہ جات کیے۔ احباب جماعت کو بتایا کہ ہماری طرف سے آپ کو چندوں کی اہمیت بتانے میں سستی ہوئی ہے، تحریک جدید کے چندے کے اعلان کے وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ سیرالیون میں کافی استعداد ہے، پوٹینشل (Potential)ہے اور اگر وہ چاہیں تو اپنے چندوں میں بہتری کرسکتے ہیں۔ چنانچہ اس پیغام کو لے کے وہ جماعتوں میں گئے اور انہوں نے کہا کہ خلیفةالمسیح کا یہ پیغام ہے کہ سیرالیون کافی بڑی اور پرانی جماعت ہے اور افراد جماعت قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سستی ہے تو عہدیداروں کی طرف سے ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ پیغام سن کے احباب جماعت میں ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ وقفِ جدید کے چندے ادا کر دیے بلکہ دوسرے چندہ جات میں بھی اضافہ کے ساتھ ادائیگی کی۔ Newton ایک جگہ ہے وہاں اٹھارہ گھرانوں میں رابطہ کیا جس کے نتیجہ میں تیرہ لاکھ لیون ایک ہی دن میں وصول ہوگئے۔ دو احمدی سکولوں کے طلباء نے تین لاکھ لیون ایک ہی دن میں وقف جدید میں ادا کر دیے اور مزید دو لاکھ لیون کا بعد میں اضافہ کر دیا۔ Newton میں ایک بچی مسلمہ فوفونہ (Muslima Fofanah) نے پچاس ہزار لیون ادا کیے اور کہا کہ اس کے لیے خلیفة المسیح کی خدمت میں دعا کی درخواست کریں۔ کہتے ہیں پانچ طالب علموں نے مجھے بتایا کہ مزدوری کرنے پر جو اجرت ملی تھی انہوں نے پچاس ہزار لیون وقف جدید میں پیش کر دیے۔ پس یہ ہیں وہ لوگ جو خلیفۂ وقت کے حکم پر لبیک کہنے والے ہیں۔ کبھی ملے نہیں، کبھی اس طرح آمنے سامنے بیٹھے نہیں لیکن ان کے دلوں میں خلافت سے محبت اور اس کا احترام ہے اور اسی لیے پھر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ پھر اسی محبت کی ایک اَور مثال دیکھیں ۔ Newton جماعت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے S. Bah کے گھر جا کر چندہ کی تحریک کی اور خطبہ کا اقتباس سنایا کہ سیرالیون میں افراد جماعت قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہیں تو ان کی اہلیہ صاحبہ بڑی جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیفة المسیح نے بالکل ٹھیک کہا ہے اور پھر کہتی ہیں لیکن مجبوری ہے کہ آج ہمارے گھر میں کچھ نہیں ہے۔ کہتے ہیں ابھی بیٹھے ہوئے تھے کہ کہیں سے بالکل خلاف توقع کوئی رقم آ گئی جو انہوں نے اسی وقت سیکرٹری مال جو ان کے ساتھی تھے ان کو پکڑا دی کہ ہماری چندہ کی رسید کاٹ دیں۔ گننے پر پتہ لگا کہ دو لاکھ لیون ہیں جو انہوں نے سارے چندے میں ادا کر دیے۔ اور اس ادائیگی سے بہت مطمئن اور خوش تھیں۔ کوئی شکوہ نہیں تھا کہ ایسے غلط وقت میں آ گئے ابھی تو ہمیں خود ضرورت ہے۔ ہماری جو رقم آئی ہے وہ تم لے گئے۔ توکہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ رقم میں سے گھر میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ رکھ لیں۔ کہنے لگیں اب تو کچھ نہیں ہے۔ جو رقم آئی ہے چندہ میں ادا کر دی ہے۔ اب ہمیں کوئی پروا نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی ادھار نہیں رکھا ۔کہتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد ہی ان کو کہیں سے کچھ اَور رقم بھی آ گئی جو کافی رقم تھی اور پھر ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام ہو گیا۔

قرغزستان کے مبلغ سلسلہ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مخلص قرغز احمدی قوبت (Kubat) صاحب بشکیک (Bishkek)میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے وقف جدید کے لیے ایک ہزار سُم (Som)دینے کا وعدہ کیا تھا۔ سُم قرغز کرنسی ہے۔ مالی سال ختم ہونے سے ایک ماہ قبل ہماری جماعت کے صدر صاحب نے خطبہ میں وقف جدید کے چندے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ کہتے ہیں انہوں نے خطبہ میں ہمارے خلیفة المسیح کے کسی گذشتہ خطبہ کے واقعات پڑھ کر سنائے تو کہتے ہیں میں نے اپنے کیے ہوئے وعدہ ایک ہزار سُم میں سے اس وقت تک صرف دو سو سُم ادا کیے ہوئے تھے۔ مکمل ادائیگی کی ابھی توفیق نہیں ملی تھی۔ میری ایک بیمار بہن ہیں، حکومت اسے ہر ماہ چار ہزار سُم ادا کرتی ہے۔ اس روز جمعہ کے بعد میں اپنی بہن کی پینشن لینے بینک گیا۔ جب میں نے اے ٹی ایم مشین میں کارڈ ڈالا تو اکاؤنٹ میں دس ہزار سُم موجود تھے۔ ایک ہفتہ قبل میری والدہ نے حکومت کو ایک خط لکھا تھا کہ ہمارا گزارہ اس طرح نہیں ہوتا تو الاؤنس بڑھایا جائے تو میں سمجھا کہ یہ وہی رقم آئی ہے حکومت کی طرف سے۔ لیکن کہتے ہیں کہ آج صبح 29؍ دسمبر کو حکومت کی طرف سے فون آیا کہ وعدہ کے مطابق آپ لوگوں کو ہم پانچ ہزار سُم دیں گے۔ اس طرح مزید پانچ ہزار سُم بھی مل گئے۔ اور کہتے ہیں میں نے چندہ بھی ادا کر دیا اور جو ہم پہلے خرچ کر چکے تھے یہ اس میں سے نکال لیا۔ تو کہتے ہیں جو چندہ میں نے ادا کیا تھا یہ فوری طور پر اس کی برکت کا نتیجہ ہے۔ ہمیں نہیں پتہ لگا کہ وہ پہلے پیسے کہاں سے آئے تھے لیکن بہرحال ہمارے اکاؤنٹ میں آئے ہوئےتھے اور بینک نے کہا کہ یہ تمہارے ہی پیسے ہیں۔ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو یہ جو قربانیاں ہیں پھر ایمان میں ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

تنزانیہ کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ زنجبار (Zanzibar) جماعت سے خیر رشیدی صاحب ہیں۔ انہیں جب اس سال کے اختتام پہ وقف جدید کی یاددہانی کروائی گئی۔ تو انہوں نے لکھا کہ جب یہ یاددہانی ہوئی ہے اس وقت میرے پاس نہ کوئی نوکری تھی اور نہ ہی کوئی رقم لیکن میں نے مربی صاحب سے درخواست کی کہ آپ میرا نام مکمل ادائیگی کرنے والوں کی فہرست میں شامل کر دیں۔ اللہ تعالیٰ خود ہی انتظام فرما دے گا۔ کہتے ہیں دو دن گزرے ہوں گے کہ مجھے ڈرائیور کی نوکری مل گئی اور پہلے ہی دن جو آمد ہوئی اس سے بآسانی میں نے اپنا اور اپنے بچوں کی طرف سے چندہ وقف جدید ادا کر دیا۔ تو کہتے ہیں چندہ ادا کرنے کی نیت کی وجہ سے مستقل آمد کا میرا انتظام ہو گیا۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں ایسی باتیں ہیں کہ ان باتوں سے پھر ہمارا ایمان بھی پختہ ہوتا ہے۔

تنزانیہ کے امیر صاحب ہی تحریر کرتے ہیں ارِینگا ریجن سے طٰہٰ صاحب نے بیان کیا کہ اس سال خاکسار کو چندہ وقف جدید کے حوالے سے غیر معمولی برکات مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ کہتے ہیں وقف جدید کا وعدہ تقریباً چھ لاکھ شلنگ (Shilling)تھا۔ نومبر میں مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مجھے خط لکھا کہ مجموعی طور پر ملکی اور کاروباری حالات بہت خراب ہیں اس لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے میں وقف جدید کا وعدہ مکمل کر سکوں۔ اب یہ لوگ جو خط مجھے لکھتے ہیں یہ بھی صرف ذاتی ضروریات کے لیے نہیں لکھتے، بلکہ یہ فکر کے ساتھ لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہم اپنا چندہ ادا کر سکیں۔ آگے بعض واقعات آئیں گے کہ لوگ تو اس لیے نمازیں اور تہجد پڑھتے ہیں کہ ہم چندوں کی ادائیگی کر سکیں بجائے اس کے کہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کریں۔ کہتے ہیں ابھی خط لکھا ہی تھا کہ دل میں سکون سا محسوس ہوا کہ ان شاء اللہ کچھ سامان ہو جائے گا اور ابھی خط لکھے ہوئے چوبیس گھنٹے ہی گزرے ہوں گے کہ کسی ریفرنس سے میرے پاس ایک دوست اپنے کاروبار کے سلسلہ میں مشورہ اورکنسلٹیشن (consultation) کے لیے آئے۔ ان سے ملنے پر علم ہوا کہ پندرہ سال پہلے ہم دونوں کلاس فیلو بھی تھے۔ کہتے ہیں ان کے کام کے سلسلہ میں جو باتیں ہوئیں کاروباری باتیں ہوئیں۔ پھر مجھے ان کے ذریعہ سے ایک کنٹریکٹ مل گیا جو اس وقت چھ ملین شلنگ کا کنٹریکٹ تھا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے وعدے کی رقم سے کئی گنا زیادہ، دس گنا بڑھا کر انتظام فرما دیا۔ چھ لاکھ کو چھ ملین کر دیا۔ ایڈوانس ملتے ہی سب سے پہلے میں نے وقفِ جدید کا وعدہ پورا کیا۔

زنجبار کے ایک نومبائع دوست جمعہ صاحب ہیں۔ سبزی منڈی میں مزدوری کا کام کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب وقفِ جدید کے وعدے کی ادائیگی کے حوالے سے تحریک کی گئی تو ان دنوں سامان لانے والی گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہو گئی تھی۔ سامان کی گاڑیوں پر لوڈنگ اَن لوڈنگ کرتے ہیں۔ مالی حالات تنگ تھے۔ جس طرح میں نے کہا تھا ناں اب یہ مزدور آدمی ہے، غریب آدمی ہے یہ دعا نہیں کر رہا کہ میری ضروریات پوری ہو جائیں، میرا پیٹ بھرنے کے سامان ہو جائیں بلکہ کہتے ہیں میں نے کچھ دن تہجد میں اللہ تعالیٰ سے چندوں کی ادائیگی کے لیے خاص دعا کی۔ تہجد میں اٹھ کے دعا کی تو صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں مالی قربانی میں پیچھے نہ رہوں۔ چنانچہ وقفِ جدید کا سال ختم ہونے سے صرف تین دن پہلے یہ سلسلہ کاروبار جو کہ بند ہوا ہوا تھا دوبارہ شروع ہو گیا اور انہیں تقریباً تین لاکھ شلنگ کی آمد ہوئی جس سے کہتے ہیں مجھے اپنا اور اپنے بچوں کا چندہ ادا کرنے کی توفیق ملی۔ یہ ذکر نہیں کہ گزارہ کرنے کے لیے ہمیں رقم مل گئی بلکہ یہ کہ میرا اور میرے بچوں کا چندہ ادا ہو گیا۔ کہتے ہیں جب سے میں نے بیعت کی ہے چندہ جات کی ادائیگی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے میرے مال میں خاطر خواہ برکت عطا فرمائی ہے۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کو فکر ہے تو چندوں کی ادائیگی کی اور تہجدمیں جیسا کہ میں نے کہا خاص طور پر رو رو کر دعا کر رہے ہیں تو یہ کہ خدا تعالیٰ چندہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک دنیا دار انسان یہ باتیں سن کر کہہ سکتا ہے یہ تو پاگل پن ہے لیکن دنیا دار کی نظر میں یہی جو بیوقوف لوگ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے اور پھر ان کی ضرورتیں خود ہی پوری کرتا ہے۔

رپورٹس میں عجیب عجیب واقعات ملتے رہتے ہیں۔ گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں: نارتھ بنک ریجن کے ایک گاؤں کے دکاندار ابراہیم صاحب بڑے کامیاب تاجر تھے اور لوگ اپنی امانتیں وغیرہ ان کے پاس رکھوایا کرتے تھے اور اس وقت یہ غیر احمدی تھے۔ بعض وجوہات کی بنا پر اچانک دیوالیہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے لوگوں کی امانتوں میں سے بھی خرچ کر لیا۔ جب انہیں خطرہ ہوا کہ وہ امانتیں بھی واپس نہیں کر پائیں گے تو اپنے آبائی ملک گنی کناکری چلے گئے۔ ملک چھوڑ کے دوڑ گئے اور تین سال تک گنی کناکری رہے۔ پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں واپس جانا چاہیے۔ دل میں نیکی تھی تو یہی فیصلہ کیا کہ واپس جا کے حالات کا مقابلہ کر لیں گے اور لوگوں کے قرضے کسی نہ کسی طرح واپس کرنے چاہئیں چنانچہ انہوں نے گاؤں کے چیف اور ڈسٹرکٹ چیف کو فون کیا اور ایک موقع دینے کی منت سماجت کی کہ مجھے موقع دو، مجھے واپس آنے دو ۔گرفتار نہ کرنا تو میں کوشش کروں گا کہ میں سارے قرضے ادا کر دوں۔ چنانچہ چیف نے اس شرط پہ واپس آنے کی اجازت دی کہ وہ محنت کر کے کمائیں گے اور لوگوں کی امانتیں واپس کریں گے۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو جیل بھیج دیا جائے گا۔ کہتے ہیں انہیں آئے ہوئے ابھی چار ماہ کا عرصہ ہوا تھا کہ ان تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا جسے سن کر انہوں نے احمدیت قبول کر لی اور باقاعدگی سے چندہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ مالی تحریکات میں بھی حصہ لینے لگے۔ جو آمد ہوتی تھی اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے چندے کی ادائیگی سے ان کے کام میں اتنی برکت پڑی کہ دو سال کے عرصہ میں انہوں نے نہ صرف اپنے تمام قرض ادا کر دیے جوکہ دو لاکھ ڈلاسی (Dalasi)تھے بلکہ اپنا مکان بھی تعمیر کر لیا اور دکان بھی دوبارہ سے قائم کر لی اور اب ان کا کام پہلے سے بہت بڑھ کر ترقی کر رہا ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ چندے کی برکات سے ہوا ہے۔

آسٹریلیا جماعت کی ایک لجنہ ممبر ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ جب ہم نئے گھر میں شفٹ ہوئے تو ہمارے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔ گھر کا کرایہ بھی زیادہ تھا۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ ضروری سامان خرید سکوں اور دوسری طرف چندے کا سال بھی ختم ہو رہا تھا۔ میں نے اللہ پہ توکل کرتے ہوئے چندہ ادا کر دیا اور دعا کی کہ اے اللہ کسی کی محتاجی نہ ہو خودمیری ضروریات پوری کر دے۔ یہ دنیادار ملک میں رہنے والی خاتون ہے۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی غریب ملک میں تھیں۔ کہتی ہیں اسی دن شام کو میرے شوہر آئے اور مجھے لا کر کچھ پیسے دیے اور کہنے لگے کہ مجھے آج میرے افسر سے یہ بونس ملا ہے اور سارے ملازمین میں سے یہ صرف مجھے ہی ملا ہے اور کسی کو نہیں ملا، جو میرے چندے کی رقم سے دوگنی رقم تھی۔ یہ کہتی ہیں اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل اور احسان تھا کہ میں حیران رہ گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاطر کی گئی قربانی کرنے والے کو کبھی بےیارومددگار نہیں چھوڑتا۔

انڈیا، بھارت سے قمر الدین صاحب، یہ انسپکٹر ہیں لکھتے ہیں کہ مالی سال کے اختتام پر ناظم وقف جدید کے ہمراہ دورے پہ جماعت کالی کٹ پہنچا۔ اس دوران ایک احمدی حنیف صاحب کے گھر بھی گئے۔ انہوں نے آٹھ سال قبل بیعت کی تھی اور معمولی مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ ان کے گھر پہنچے تو ان کا دس سال کا بیٹا مدلاج علی اپنے بُگی اور گولک لے کر آیا اور وقفِ جدید میںجمع کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ چندہ اس نے وقف جدید کے لیے سال بھر اکٹھا کیا ہے۔ جب بُگی کو کھولا گیا تو اس میں بڑی رقم تھی۔ ناظم صاحب نے اس بچے سے دریافت کیا کہ عموماً بچے پیسے اپنی پسند کی چیزیں خریدنے کے لیے جمع کرتے ہیں یہ تم چندہ وقف جدید میں کیوں دے رہے ہو؟ اس پر اس بچے نے جواب دیا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے کرام تو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہیں اس لیے یہ رقم چندہ وقف جدید میں دے رہا ہوں۔ یہ ہے احمدی بچوں کی تربیت۔ جس جماعت کے بچوں کی یہ سوچ ہو اور اس طرح تربیت ہو اس کو یہ مخالفین احمدیت کیانقصان پہنچا سکتے ہیں؟ مخالفین چاہے جتنا بھی زور لگا لیں لیکن یہ جماعت خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو دنیا میں پھیلانے کے لیے قائم فرمائی ہے۔ اس لیے ہر موقع پر خدا تعالیٰ ہی سنبھالتا ہے اور مدد فرماتا ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کے دل میں اس کی محبت اور اس کے مقاصد کی تکمیل کی تڑپ پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔

تنزانیہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں ہمسایہ ملک ملاوی (Malawi)کی منگوچی (Manguchi) جماعت سے معلم لکھتے ہیں کہ ایک دوست ابراہیم صاحب گوشت کا کاروبار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سال چندہ وقف جدید کے لیے پانچ ہزار آٹھ سو ملاوین کَوَاچا (Kwacha)وعدہ کیا۔ دوران سال تھوڑا تھوڑا ادا کرتے رہے۔ دسمبر تک کچھ حصہ ادا کرنا باقی تھا لیکن ملکی حالات کی وجہ سے کاروبار بند ہو گیا۔ انہوں نے ادھار لے کر وعدہ مکمل کر دیا۔ ایک ہفتے کے بعد انہوں نے کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک بکری خریدی تاکہ اس کا گوشت بیچ سکیں اور چند دنوں میں ہی اتنی برکت پڑی کہ ان کا تمام قرض ادا ہو گیا۔ تو غریب لوگ بھی جس توکل اور قربانی کے جذبے سے چندہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی پھر فضل فرما دیتا ہے۔ اب ملک کے حالات تو ویسے ہی تھے، اَور ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے حالات بدل دیے۔

ملاوی کی جماعت موالا (Mwala) کے معلم کہتے ہیں: ہماری جماعت میں ایک بیوہ خاتون مَٹِنْبَا (Matemba) صاحبہ ہیں۔ ہر سال اپنی حیثیت کے مطابق چندہ ادا کرتی ہیں۔ اس سال وقف جدید کے لیے کچھ رقم کا وعدہ کیا اور دوران سال ہی دیگر خواتین سے پہلے ہی مکمل ادائیگی کرنے کی توفیق بھی حاصل کی۔ جس دن ادائیگی مکمل کی اسی رات خواب میں دیکھا کہ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ آج سے تمہارے کاموں میں خدا مدد کرے گا۔ چنانچہ اگلے دن وہ معلم صاحب کے پاس آئیں اور چندہ وقف جدید میں زائد ادائیگی کردی۔ وہ کہتی ہیں کہ چندہ کی برکت سے خدا تعالیٰ میری فصل میں بہت اضافہ فرما دیتا ہے اور اب تو مجھے اس نے خود ہی کہہ دیا ہے خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ کس طرح بعض دفعہ اللہ تعالیٰ فوری طور پر ایمان میں ترقی کے سامان بھی پیدا فرما دیتا ہے۔

البانیا کے مبلغ نومبائعین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک دوست ماریگلین بیا (Mariglen Beja) صاحب ہیں۔ تین سال قبل انہوں نے بیعت کی تھی۔ جماعت کے سیکرٹری تبلیغ بھی ہیں۔ بہت فعال خادم ہیں۔ ایک دن موصوف اپنے ساتھ ایک ڈبہ لے کر آئے جو پیسوں سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ماہ سے یہ ڈبہ اپنی گاڑی میں اس نیت سے رکھا ہوا تھا کہ جتنی بچت ہوتی جائے گی وہ اس میں جماعت کے چندہ کے لیے ڈالتے جائیں گے۔ چنانچہ پہلی دفعہ جب وہ بھرا ہوا ڈبہ لے کر آئے تو ایک حصہ اپنے چار ماہ کے بیٹے بیورن بیا (Bjorn Beja) کی جانب سے تحریکِ جدید اور وقفِ جدید میں دیا اور باقی اپنی طرف سے تحریکِ جدید میں اور وقفِ جدید میں اور لازمی چندہ جات میں ادا کیا۔ اس کے بعد سے ہر ماہ پیسوں کا ڈبہ بھر کر لاتے ہیں اور وقفِ جدید کے موقع پر دسمبر کے آخر میں آخری جمعہ پر بھی انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق کافی بڑی رقم کی مالی قربانی کی ہے۔ احمدی ہونے کے بعد قربانی کا ایک جوش پیدا ہوتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے دیکھتے ہیں۔

یوکے سے چیم(Cheam) کے صدر جماعت کہتے ہیں کہ ہمارے ٹارگٹ میں کافی کمی تھی۔ میں اس حوالے سے تہجد میں اٹھ کر دعا کرتا تھا۔ ایک دن میری اہلیہ نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں فیملی جو ہے ان کو اگر کہو گے تو تمہیں مزید ادائیگی ہو جائے گی۔ چنانچہ ان سے رابطہ کیا گیا تو اس فیملی نے کہا کہ ہمارا نام ظاہر نہ کرنا اور ایک ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کر دی۔ اس کے علاوہ ایک ہزار پاؤنڈ اپنے دونوںبچوں کی طرف سے ادا کیے۔ پھر کہا کہ اس کے علاوہ بھی اگر آپ کو ضرورت ہو تو بھی بتائیں۔

یوکے سے ہی لجنہ اسلام آباد کی سیکرٹری وقفِ جدید ہیں،کہتی ہیں یونیورسٹی سے گریجوایشن کرنے کے بعد بچوں کی پرورش میں مصروف تھی۔ اب میرے بچے پانچ اور آٹھ سال کے ہو چکے ہیں۔ تمام چندے خاوند کی آمد سے ہی ادا ہوتے تھے۔ میرے اپنے اکاؤنٹ میں صرف بچوں کے چائلڈ بینیفٹ (child benefit)آتے تھے۔ میں خیال کرتی تھی کہ جتنا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر لوں اسے حقیقی مالی قربانی نہیں کہہ سکتی۔ چنانچہ میں نے اس سال ستمبر میں اپنے پرسنل اکاؤنٹ (Personal account)سے چندہ جات کے لیے سٹینڈنگ آرڈر کے ذریعہ چندہ وصیت اور تحریک جدید اور وقف جدید کے علاوہ اپنی دادی اور چچا کی طرف سے بھی چندے ادا کرنے شروع کر دیے۔ ماہانہ اقساط اتنی مقرر کیںکہ واقعۃً میری آمد کے مطابق وہ حقیقی قربانی ہو۔ اسی ماہ میں نے بچوں کے سکول میں بطور ٹیچر اسسٹنٹ جاب کی درخواست جمع کروا دی کہ آگے مزید کام کرنے کے لیے کچھ تجربہ حاصل کر لوں لیکن کامیابی کی کوئی امید نہیں تھی۔ کہتی ہیں کہ جس دن میرے اکاؤنٹ سے پہلی چندے کی رقم کی ادائیگی ہوئی ہے اس سے اگلے روز مجھے سکول سے انٹرویو کی کال آئی۔ جب اکاؤنٹ سے دوسری ادائیگی ہوئی تو مجھے اسسٹنٹ ٹیچر کی بجائے سکول والوں نے ایک اَور اہم رول دے دیا جس سے میری آمد دس گنا بڑھ گئی جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کا نتیجہ ہے۔

مبلغ فرہاد صاحب جرمنی سے ہیں، وہ کہتے ہیں لوکل عمارت ویزبادن (Wiesbaden)کے ایک خادم نے بتایا کہ وہ تحریک جدید کا چندہ ادا کر چکے تھے بلکہ جو رقم وقفِ جدید میں ادا کرنی تھی وہ بھی اضافی چندہ میں تحریکِ جدید میں ادا کر دی تھی۔ اسی مہینے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے خط آ گیا کہ آپ کے ذمہ آٹھ سو یوروز ہیں جو آپ نے ادا کرنے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود کہتے ہیں میں نے ہمت کر کے وقفِ جدید کا چندہ ادا کر دیا کہ ٹھیک ہے قرض لے کے ٹیکس بھی دے دیں گے۔ اس کے چند ہفتوں بعد ہی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا خط آیا کہ ہم نے دوبارہ آپ کے کاغذات کا جائزہ لیا ہے آپ کے ذمہ کوئی رقم نہیں ہے بلکہ ہم نے آپ کو چار ہزار چار سو یورو واپس کرنے ہیں ۔اور کچھ دن کے بعد ہی کہتے ہیں میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، نقصان ہوا، کسی نے نقصان کر دیا تو اس کے بھی مجھے چار ہزار سات سو یورومل گئے۔ اس طرح تھوڑی سی ہمت کر کے میں نے چندہ میں جو اضافہ کیا تھا، جو ادائیگی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی ادائیگی کے سامان پیدا کر دیے۔ اب اس کو چاہے کوئی اتفاق کہے لیکن ایک مومن جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کا نتیجہ ہے۔

کینیڈا کی صدر لجنہ کہتی ہیں کہ ایک بہن بیان کرتی ہیں کہ تین سال پہلے ان کے خاوند اپنی تعلیم میں مصروف تھے۔ نوکری کے ساتھ باہر کی تمام ذمہ داری ان پرآن پڑی۔ اس تھکا دینے والی روٹین نے انہیں مضمحل کر دیا۔ وہ بیمار رہنے لگیں۔ اسی دوران جب وقف جدید، تحریک جدید کے وعدوں کا ٹائم آیا تو انہوں نے اپنی آمدنی سے دو گنا وعدہ لکھوا دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کی جاب ختم ہو گئی۔ شدید تنگ دستی کا شکار ہو گئیں۔ کریڈٹ کارڈ سے اخراجات پورےکرنے لگیں۔ سال کے آخر میں جب چندے ادا کرنے کا وقت آیا تو بحالت مجبوری اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے انہوں نے کریڈٹ کارڈ سے ہی چندوں کی ادائیگی بھی کر دی۔ خدا تعالیٰ نے عجیب قدرت دکھائی کہ انہی دنوں میں انہیںبینک سے معلوم ہوا کہ ان کی کریڈٹ پروٹیکشن انشورنس ہے اور اگر جاب چلی گئی ہے تو اس کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ اس طرح ان کے کریڈٹ کارڈ کی تمام ادائیگی کا بندوبست ہو گیا اور ساتھ ہی انہیں نئی نوکری بھی مل گئی جو پہلی نوکری سے زیادہ بہتر تھی۔ مالی حالات بہتر ہونے لگے۔ انہوں نے پہلے سے بڑھ کر لازمی چندوں کی ادائیگی کی، طوعی وعدہ جات کو بھی بڑھا دیا اور اسی دوران ان کے خاوند کی بھی تعلیم مکمل ہو گئی اور ان کو بھی اچھی جاب مل گئی تو انہوں نے اپنی جاب چھوڑ دی اور خاوند کی جاب سے ہی گزارہ ہونے لگا۔

انڈونیشیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ امین صاحب کے اہل خانہ کی ہمیشہ خواہش ہوتی تھی کہ رمضان کے مہینے میں اپنے وقفِ جدید اور تحریکِ جدید کے چندے ادا کر دیں۔ اس سال آمدنی کم تھی، وعدہ پورا کرنا بظاہر ناممکن تھا۔ مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے رمضان کے مہینے میں روزے کے ساتھ انہیں خود دیکھا ہے کہ وہ روزانہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پہاڑی علاقے میں چار کلومیٹر کا سفر طے کر کے اپنے کینڈل نٹ (candlenut)کے کھیت میں جاتے تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے وعدہ جات پورے کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے رمضان کے اندر ہی اپنا دو لاکھ کا وعدہ پورا کر دیا اور اتنی رقم بغیر سخت جدوجہد کے اکٹھی کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ مبلغ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کیا چیز مجبور کرتی ہے کہ آپ روزے کے ساتھ اتنی مشقت کرتے ہیں۔ اس پر یہ کہنے لگے کہ میں اور میرے اہل خانہ صرف خلیفہ وقت کے احکامات پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

برکینا فاسو کے ریجن اِکایا کی ایک جماعت ہے۔ وہاں کے ایک دوست نیانپا (Nianpa) صاحب ہیں، ان کو بیعت کیے دس سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن چندوں کی ادائیگی میں کمزور تھے۔ گھر میں اکثر بیماری اور تنگی کے حالات رہتے تھے۔ کچھ عرصہ سے انہوں نے چندہ جات خاص طور پر تحریکِ جدید اور وقفِ جدید میں باقاعدگی سے ادائیگی کرنی شروع کر دی جس کی وجہ سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ہاں تنگی جاتی رہی بلکہ جو بیماریاں تھیں ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی اور اس سال انہوں نے بڑھ چڑھ کر وقفِ جدید میں حصہ لیا اور جو لوگ انہیں کام نہیں دیتے تھے وہ خود چل کر ان کے پاس کنٹریکٹ کرنے آئے اور کام دیا۔ ادریس صاحب کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہی ہے کہ اس نے وقفِ جدید کے ذریعہ سے مال بڑھانے کا سبب عطا فرمایا۔ تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے قرض کو بڑھا کر واپس دینے کے انداز۔

یہ چند واقعات میں نے بیان کیے ہیں۔ ایسے بےشمار واقعات ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کے افراد کے ساتھ ایسا سلوک رکھے اور وہ اخلاص و وفا سے قربانیاں بھی دیتے رہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے نظارے بھی دکھاتا رہے۔

اب میں وقفِ جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے گزرے ہوئے سال کے کچھ اعداد و شمارپیش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تریسٹھواں سال 31؍ دسمبر 2020ء کو ختم ہوا اور چونسٹھواں سال یکم جنوری سے شروع ہو گیا۔ اللہ کے فضل سے جماعت کو اس سال کے دوران میں ایک کروڑ پانچ لاکھ تیس ہزار پاؤنڈز (10,530,000)کی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ یہ وصولی گذشتہ سال سے آٹھ لاکھ ستاسی ہزار پاؤنڈز زیادہ ہے۔ الحمدللہ۔ اب یہ کسی انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ یہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔

اس سال بھی برطانیہ دنیا کی جماعتوں میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے اول ہے۔ انہوں نے اللہ کے فضل سے کافی اضافہ کیا ہے۔ برطانیہ کی لجنہ اماء اللہ اللہ کے فضل سے بڑی محنت سے کام کرتی ہے۔ اس دفعہ جس بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس سال مردوں نے بھی لجنہ کی طرح محنت کی ہے۔ دوسرے نمبر پر جرمنی ہے۔ گو انہوں نے بھی بڑا اضافہ کیا ہے لیکن ابھی برطانیہ ان سے بہت آگے ہے۔ پاکستان تو کرنسی کی وجہ سے بہت پیچھے جماعتوں میں چلا گیا ہے گو تیسرا نمبر ہی ہے لیکن بہرحال مجموعی طور پر ملکی کرنسی کے لحاظ سے یہاں بھی ترقی ہے اور یہ لوگ قربانی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تو جان کی قربانی بھی دی جا رہی ہے۔ مال کی قربانی بھی، ذہنی قربانی بھی دی جا رہی ہے، مستقل ٹارچر ان کو مل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا فرمائے۔ کینیڈا چوتھے نمبر پہ ہے۔ پھر امریکہ ہے۔ پھر بھارت ہے۔ پھر آسٹریلیا ہے۔ پھر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت ہے۔ پھر انڈونیشیا ہے۔ پھر گھانا ہے۔ افریقن ملکوں میں سے گھانا بھی اب بڑے ملکوں کے مقابلے میں پہلی دس جماعتوں کی فہرست میں آ گیا ہے۔

فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ نمبر ایک ہے۔ پھر سوئٹزرلینڈ ہے۔ پھربرطانیہ ہے۔

افریقہ میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے گھانا نمبر ایک ہے۔ پھر نمبر دو ماریشس۔ پھر نائیجیریا۔ پھر برکینافاسو۔ پھر تنزانیہ، سیرالیون، گیمبیا ،کینیا، مالی اور بینن ہے۔

ان کی شاملین کی تعداد چودہ لاکھ باون ہزار ہے۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی دس بڑی جماعتیں فارنہم (Farnham) نمبر ایک پر۔ پھر اسلام آباد نمبر دو۔ ووسٹر پارک (Worcester Park) نمبر تین۔ پٹنی (Putney) نمبر چار ۔ برمنگھم ساؤتھ (Birmingham-South) پانچ۔ جلنگھم (Gillingham) چھ۔ ساؤتھ چیم (South Cheam) سات۔ مسجد فضل آٹھ۔ برمنگھم ویسٹ (Birmingham-West) نو اور نیو مولڈن (New Malden) دس۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے پہلے پانچ ریجنز جو ہیں، نمبر ایک پر بیت الفتوح۔ پھر مسجد فضل۔ پھر اسلام آباد۔ پھر مڈ لینڈز (Midlands)۔ پھر بیت الاحسان۔

دفتر اطفال کے لحاظ سے پہلی دس جماعتوں میں فارنہم (Farnham) نمبر ایک۔ پھر اسلام آباد نمبر دو۔ پھر روہیمپٹن ویل (Roehampton Vale)۔ بیت الفتوح۔ پھر مچم پارک (Mitcham Park)۔ گلاسگو (Glasgow)۔ چیم (Cheam)۔ گلفرڈ (Guildford)۔ ووسٹر پارک (Worcester Park)۔ برمنگھم ساؤتھ (Birmigham South)۔

چھوٹی جماعتوں میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے دس جماعتیں لیمنگٹن سپا۔ (Leamington Spa) سپن ویلی (Spen Valley)۔ بورن متھ(Bournemouth)۔ برٹن اپان ٹرینٹ (Burton-upon-Trent)۔ پیٹر برا (Peterborough)۔ کونٹری(Coventry)۔ ایڈنبرا(Edinburgh)۔ کیتھلی (Keighley)۔ سوانزی(Swansea)۔

جرمنی کی پانچ لوکل امارات ہیمبرگ (Hamburg) نمبر ایک پر۔ پھر فرینکفرٹ (Frankfurt)۔ پھر ویزبادن (Wiesbaden)۔ پھر گراس گیراؤ (Gross Gerau)۔ پھر ڈٹسن باخ (Dietzenbach)۔

چندہ بالغان وقف جدید میں پہلی دس جماعتیں جرمنی کی رویڈر مارک (Rödermark)۔ پھر نوئس (Neuss)۔پھر نیدا (Nidda)۔ پھر مہدی آباد۔ پھر مائنز (Mainz)۔ کوبلنز (Koblenz)۔ ہناؤ(Hanau)۔ لانگن (Langen)۔ فلورس ہائم (Flörsheim)۔ بینزہائم (Bensheim)۔ پینی برگ (Pinneberg)۔

دفترا طفال میں پہلےپانچ ریجنز ہیسن زُودْاُوسٹ(Hessen-Süd-Ost)۔ ہیسن مِٹے(Hessen-Mitte)۔ رائن لینڈ فالز(Rheinland-Pfalz)۔ ویسٹ فالن (Westfalen)۔ تاؤنس (Taunus)۔

پاکستان کی پہلی تین جماعتیں نمبر ایک لاہور۔ نمبر دو ربوہ۔ نمبر تین کراچی۔ چندہ بالغان میں اضلاع کی پوزیشن یہ ہے اسلام آباد نمبر ایک۔ نمبر دو راولپنڈی۔ نمبر تین سرگودھا۔ پھر گجرات۔ گوجرانوالہ۔ عمر کوٹ۔ حیدرآباد۔ پشاور۔ میرپور خاص۔ ڈیرہ غازی خان۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے پہلی دس جماعتیں ڈیفنس لاہور۔ اسلام آباد شہر۔ ٹاؤن شپ لاہور۔ کلفٹن کراچی۔ دارالذکر لاہور۔ گلشن اقبال کراچی۔ سمن آباد لاہور۔ عزیز آباد کراچی۔ راولپنڈی شہر۔ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور۔

دفتر اطفال میں پاکستان کی تین بڑی جماعتوں میں اول لاہور۔ پھر دوم کراچی۔ پھر سوم ربوہ۔ دفتر اطفال میں اضلاع کی پوزیشن یہ ہے کہ اسلام آباد۔ گوجرانوالہ۔ پھر سرگودھا۔ پھر شیخوپورہ۔ فیصل آباد۔ ڈیرہ غازی خان۔ گجرات۔ پھر عمر کوٹ۔ پھر نارووال۔ پھر بہاولنگر ۔

کینیڈا کی امارتیں جو ہیں نمبر ایک پہ وان (Vaughan)۔ پھر پیس ولیج (Peace Village)۔ پھر وینکوور (Vancouver)۔ پھر بریمٹن ویسٹ (Brampton-West)۔ پھر ٹورنٹو ویسٹ (Toronto-West)۔ کینیڈا کی دس بڑی جماعتیں بریڈ فورڈ(Bradford)۔ ڈرہم (Durham)۔ ملٹن ایسٹ (Milton-East)۔ ایڈمنٹن ویسٹ (Edmonton West)۔ ونڈسر (Windsor)۔ ملٹن ویسٹ (Milton-West)۔ رجائنا(Regina)۔ آٹوا ویسٹ(Ottawa-West)۔ ائیرڈری (Airdrie)۔ ایبٹس فورڈ (Abbotsford)۔

اطفال کی نمایاں امارتیں وان (Vaughan) نمبر ایک پر۔ پھر ٹورانٹو ویسٹ (Toronto-West)۔ پھر پیس ولیج (Peace Village)۔ پھر کیلگری (Calgary)۔ پھر بریمپٹن ویسٹ (Brampton-West)۔ اطفال میں جو جماعتیں ہیں بریڈ فورڈ (Bradford) نمبر ایک۔ پھر ڈرہم (Durham)۔ پھر ملٹن ویسٹ (Milton-West)۔ لندن (London)۔ ہملٹن ماؤنٹین (Hamilton Mountain)۔

وصولی کے لحاظ سے امریکہ کی دس جماعتیں ہیں: میری لینڈ (Maryland)۔ پھر لاس اینجلیس (Los Angeles)۔ پھر سیئٹل (Seattle)۔ پھر سیلیکون ویلی (Silicon Valley)۔ پھر بوسٹن (Boston)۔ پھر آسٹن (Aston)۔ اوش کوش (Oshkosh)۔ سیراکوس (Syracose)۔ راچسٹر (Rochester)۔ مِنی سوٹا (Minnesota)۔

دفتر اطفال کے لحاظ سے دس جماعتیں میری لینڈ (Maryland)۔ لاس اینجلیس (Los Angeles)۔ سیئٹل (Seattle)۔ اورلینڈو (Orlando)۔ سیلیکون ویلی (Silicon Valley)۔ آسٹن (Aston)۔ اوش کوش (Oshkosh)۔ مِنی سوٹا (Minnesota)۔ لاس ویگاس(Las Vegas)۔ فِچ برگ (Fitchburg)۔

بھارت کی جماعتیں۔ جو صوبہ جات ہیں ان میں نمبر ایک کیرالہ۔ پھر تامل ناڈو۔ پھر جموں کشمیر۔ پھر تلنگانہ۔ کرناٹکا۔ اڈیشہ۔ پنجاب۔ ویسٹ بنگال۔ دہلی۔ اتر پردیش۔ اور جو جماعتیں ہیں۔ کوئمباٹور۔ پھر قادیان۔ پھر پاٹھا پریام۔ حیدرآباد۔ کلکتہ۔ بنگلور۔ کالی کٹ۔ کَنُّور ٹاؤن۔ رشی نگر۔ کیرنگ۔

آسٹریلیا کی دس جماعتیں جو ہیں ملبرن لانگ وارِن (Melbourne Langwarrin)۔ کاسل ہل (Castle Hill)۔ مارسڈن پارک (Marsden Park)۔ میلبورن بیرک (Melbourne Berwick)۔ ایڈیلیڈ ساؤتھ (Adelaide South)۔ ماؤنٹ ڈروئٹ (Mount Druitt)۔ پینرتھ (Penrith)۔ پرتھ(Perth)۔ لوگن ایسٹ (Logan-East)۔ بلیک ٹاؤن(Blacktown)۔

بالغان میں آسٹریلیا کی جماعتیں ہیں ملبرن لانگ وارِن (Melbourne Langwarrin)۔ کاسل ہل (Castle Hill)۔ مارسڈن پارک (Marsden Park)۔ ملبرن بیرک (Melbourne Berwick)۔ پینرتھ (Penrith)۔ ماؤنٹ ڈروئٹ (Mount Druitt)۔ بلیک ٹاؤن (Blacktown)۔ ایڈیلیڈ ساؤتھ (Adelaide South)۔ پرتھ (Perth) اور کینبرا (Canberra)۔

اطفال میں آسٹریلیا کی جماعتیں ہیں ملبرن لانگ وارِن (Melbourne Langwarrin)۔ ایڈیلیڈ (Adelaide)۔ ملبرن بیرک (Melbourne Berwick)۔ ماؤنٹ ڈروئٹ (Mount Druitt)۔ لوگن ایسٹ (Logan-East)۔ پینرتھ (Penrith)۔ کاسل ہل (Castle Hill)۔ ملبرن ایسٹ (Melbourne-East)۔ پرتھ (Perth) اور ایڈیلیڈ ویسٹ (Adelaide-West)۔

اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔ ان کو روحانی ترقی بھی عطا فرمائے اور یہ لوگ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے ہوں۔

ان دنوں میں دوبارہ جیسا کہ میں تحریک کر رہا ہوں پاکستان کے احمدیوں کے لیے بھی خاص طورپر دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور فرمائے۔ ان کی پریشانیوں کو دور فرمائے۔ مخالفین کے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روکے اور جن مخالفین کی اصلاح نہیں ہونی اللہ تعالیٰ ان کی پکڑ کے سامان کرے۔ اسیران کی جلد رہائی کے بھی سامان پیدا فرمائے جس میں الجزائر کے اسیران بھی شامل ہیں۔ الجزائر میں بھی کافی مخالفت ہے۔ ان کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی سکون کے سامان پیدا فرمائے۔ خاص طور پر دعاؤں، نوافل اور صدقات پہ زور دیں۔ پاکستان کے عمومی لحاظ سے مجموعی حالات بھی امن کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہیں ان کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ امن کے حالات وہاں پیدا کرے اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پہ جو لگے ہوئے ہیں اور دہشت گردی اور فتنہ اور فساد ہے اس کو اللہ تعالیٰ جلد ختم کرنے کے سامان پیدا فرمائے۔ وہاں کی انتظامیہ اور حکومت کو بھی عقل دے کہ وہ حقیقی رنگ میں عوام کی خدمت کرنے والے ہوں اور انصاف سے کام لینے والے ہوں۔ اسی طرح دنیا کے عمومی حالات کے بارے میں بھی دعا کریں جو بہت تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب انسانیت پر رحم فرمائے۔

٭…٭…٭

(الفضل انٹر نیشنل 29 جنوری 2021ء صفحہ 5تا10)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close