سیرت خلفائے کرام

حضرت حکیم مولوی نورالدینؓ کے حالات زندگی (قبل از سکونتِ قادیان) (قسط دوم)

(آصف محمود باسط)

منشی جمال الدین صاحب کا نواسہ اچانک علیل ہوگیا، حضرت نورالدینؓ کی دہلی میں موجودگی کی اطلاع پاکر منشی صاحب نے کارندے دوڑائے اور آپ کے بروقت علاج کی کامیابی سے خوش ہوکر آپ کو فوری طور پر 700روپے انعام سے نوازا، جبکہ بعد میں مزید 500روپے بھی اداکیے، یوں ہندوساہوکار کے واجب الادا 1200؍روپے کا انتظام ہوگیا۔

مکہ میں شب و روز

مکہ مکرمہ پہنچ کر حضرت نور الدینؓ وہاں موجود نامی علماء سے علوم اسلامیہ سیکھنے میں مصروف ہوگئے۔ تب دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے علماء نےمکہ میں اپنے مدارس قائم کرکے طلبہ کے لیے تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ ان بزرگ اساتذہ میں سے چند معروف نام شیخ محمد خزرجی، شیخ الحدیث سید حسین اور مولوی رحمت اللہ کیرانوی وغیرہ کے ہیں۔

مولوی رحمت اللہ کیرانوی گو علم الحدیث میں نامی استاد تھے مگر ان کا عیسائیت کی تاریخ و عقائد کاگہرا مطالعہ اور عیسائی پادریوں سے کامیاب مناظرے خاص وجہ شہرت بن چکا تھا۔

آپ کے 1854ء میں آگرہ میں پادری سی جی فنڈر سے ہونے والے مناظرے نے آپ کو مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بنا دیا تھا۔ چونکہ آگرہ کے اس مناظرے میں رحمت اللہ کیرانوی کے دلائل کی برتری نمایاں تھی، یوں عیسائی پادریوں کے تند حملے سے مایوس مسلمانوں میں مذہبی جذبات کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی۔ حتیٰ کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودعلیہ السلام نے بھی اپنی ایک تصنیف میں اس مناظرے میں مولوی رحمت اللہ صاحب کے دلائل کو پسند فرماتے ہوئےآپ کی کاوشوں کا تعریفی رنگ میں ذکر فرمایا ہے۔ (اربعین، روحانی خزائن جلد 17صفحہ389تا390)

مولوی رحمت اللہ صاحب کے ایک عزیز دوست ڈاکٹر وزیر خان کا بھی ذکر ملتا ہے جنہوں نے مناظرے کے ضمن میں مولوی صاحب کی معاونت کا کام کیا تھااورپھر یہ دونوں دوست 1857ء کے غدر کے بعد ہندوستان سے خفیہ ہجرت کرکے مکہ مکرمہ جابسے تھے اوران کی باقی زندگی وطن سے دور ارض حرم ہی میں بسر ہوئی۔

(Avil A Powell, Muslim-Christian Confrontation: Dr Wazir Khan in Nineteenth-century Agra, in Religious Controversy in British India: Dialogues in South Asian Languages, ed Kenneth Jones, State University of New York Press, 1992)

قیام مکہ کے دوران حضرت نورالدینؓ نے جہاں مولوی رحمت اللہ صاحب سے اکتساب علم کیا وہاں ڈاکٹر وزیر خان کی طبی و جراحی میں مہارت سے متاثر ہوئے اور خودنوشت میں ذکرکیاکہ’’وہاں ایک اور امر میری طبی توجہ کے بڑھانے کا یہ ہوا کہ ڈاکٹر محمد وزیر خاں صاحب جو ہمارے شیخ مولوی رحمت اللہ کے بڑے دوست اور مناظرہ آگرہ میں شامل تھے- مولوی صاحب کے مکان پر ان سے تعارف ہوا۔ ان دنوں شریف مکہ کو سنگ مثانہ تھا۔ چونکہ فرانس کے ساتھ وہاں کے شریف کا تعلق تھا، فرانس سے وہ آلہ جس سے پتھری پیس کر نکالتے ہیں، منگوایا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے اس کو پیس کر نکالا۔ اس کامیاب تجربہ سے مجھے ڈاکٹری طب کا بہت شوق ہوا‘‘(حکیمِ حاذق، نومبر1907ء)

رسالہ’’حکیم حاذ ق‘‘میں درج حالات کے مطابق آپ کا مکہ مکرمہ میں قیام ایک ڈیڑھ سال تک رہا اور پھرآپ مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر شاہ عبدالغنی مجددی کے شاگرد بنے۔ آپ کے یہ استاد بھی حضرت شاہ عبدالعزیز سے فیض یافتہ تھے اور یوں لازمی طور پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے بھی فیض اٹھانے والے تھے۔ تب شاہ عبدالغنی کی علم الحدیث پر دسترس کا زمانہ گواہ تھا اور آپ سے تعلیم مکمل کرکے دنیا کے مختلف ملکوں میں حدیث کا علم پھیلانے والے علماء کی ایک طویل فہرست ملتی ہے۔ (نزھۃ الخواطر۔ از حکیم عبدالحئی)

حضرت نورالدینؓ نے شاہ عبدالغنی کے ہاتھ پر بیعت بھی کی اور بتایا کہ میں مدینہ میں ’’ان کے حضور بہت مدت رہا۔‘‘(مرقات الیقین، صفحہ116)

نیز بیعت لیتے وقت شاہ عبدالغنی نے حضرت نورالدینؓ سے کہا تھا کہ آپ کو کم از کم ایک سال میرے پاس رہنا ہوگا۔ (رسالہ حکیم حاذق،نومبر1907ء)

مدینہ منورہ میں قیام کے بعد حضرت نورالدینؓ دوسری دفعہ حج بیت اللہ کی نیت سے دوبارہ مکہ مکرمہ میں وارد ہوئے، یہاں ایک حیرت انگیز امر یہ سامنے آتا ہے کہ آپ کے سوانح میں کہیں بھی پہلے حج کا احوال درج نہ ہے اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے پہلی دفعہ اپنے مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران حج بیت اللہ کی سعادت پائی ہوگی۔

مرقات الیقین میں درج ہے کہ ’’مکہ معظمہ میں ایک قابل افسوس امر یہ پیش آیا کہ میرے شہر کا رہنے والا میرا ہم وطن، میرا ہم مکتب ایک شخص وہاں رہتا تھا۔ چونکہ اتنے تعلقات تھے اس لئے میں جب مدینہ طیبہ کو جانے لگا تو اپنا بہت سا اسباب اور روپیہ اس کے پاس رکھ دیا اور کہا کہ میں زمانہ دراز تک مدینہ منورہ میں رہوں گا۔ یہ روپیہ تجارت میں لگاؤ۔ تم کو فائدہ ہو جائے گا۔ میں جب آئندہ حج کے وقت آؤں گا تو روپیہ تم سے لے لوں گا۔ تم حج کے زمانہ سے پہلے ہی روپیہ جمع رکھنا۔ میں جب آیا اور حج سے فارغ ہوا تو روپیہ اور اسباب اس سے طلب کیا…‘‘

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دو دفعہ حج کی سعادت پائی اور آپ کی مکہ واپسی ایک سال کے اندر اندر ہوئی یعنی ایک حج سے دوسرے حج کے درمیان واپسی ہوگئی۔

شاہ عبدالغنی کی بات کہ آپ کو میرے پاس ایک سال رہنا ہوگا، بھی اس امر کی تائید کرتی ہے۔

چونکہ حضرت نورالدینؓ کے خود نوشت حالات زندگی سے یا بعد میں مرتب کی جانے والی کتب یعنی حیات نور اور تاریخ احمدیت وغیرہ سے ماہ و سال کی لگی بندھی اور من وعن تعیین کرنا دشوار ہے، لہٰذا ہمارے پاس میسر معلومات کافی منتشر ہیں۔ یوں آپ کی زندگی کے بعض واقعات کے محض اندازے ہی قائم کیے جاسکتے ہیں۔

اگر آپ کے مکہ مکرمہ میں پہلی دفعہ ورود کا سال 1868ء یا 1869ءسمجھا جائے تو آپ کا وہاں قیام سال ڈیڑھ رہا۔ جو 1871ء تک پہنچ گیا۔ اور پھر ایک سالہ قیام مدینہ سمجھاجائے تو دوسرے حج کا سال 1872ء ہوا۔ اوراس سال حج کا فریضہ ماہ ستمبر کے اواخر میں بجالایاگیا تھا۔ اب اگر آپ کی واپسی کے سفر کاآغازماہ اکتوبر میں متصور کرلیاجاوے تو اندازہ ہے کہ آپ اسی سال کے اواخر یا اگلے سال کے شروع میں بخیریت واپس ہندوستان پہنچ چکے تھے۔

ہفت روزہ بدر قادیان نے 27؍جولائی 1905ء کے شمارے میں حضرت نورالدینؓ کی اہلیہ کی وفات کا اعلان شائع کیا اور بتایا کہ ’’حضرت مولوی صاحب موصوف کے نکاح میں اس وقت آئی تھیں جب کہ مولوی صاحب ہندو عرب سے تحصیل علوم کرکے کوئی تیس سال کی عمر میں اپنے وطن بھیرہ کو واپس تشریف لائے تھے۔‘‘

تاریخ احمدیت نے بھی اسی بنا پر ارض حجاز سے واپسی پر حضرت نورالدینؓ کی عمر تیس سال کے لگ بھگ درج کی ہے۔ یوں زیر نظر مضمون میں پیش کی گئی زمانی ترتیب اور تاریخ احمدیت کی متعلقہ جلد سے سامنے آنے والے واقعات کے سنین بالکل عین مطابق ہوچکے ہیں البتہ اس مضمون میں آگے چل کر کچھ جگہ معمولی فرق سامنے آئے گا۔

وطن واپسی

ایک طویل عرصے پر پھیلے ہوئے تعلیمی سفر سے اپنے آبائی شہر میں واپسی پر حضرت نورالدینؓ کی شہرت ہر طرف پھیل گئی اورآپ کےشہر شہر سےتحصیل علم کرنے اور بالخصوص ارضِ حجاز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علماء سے اکتساب علم کرنے کا خوب شہرہ ہوا۔ بھیرہ کے اس سپوت کی اہل علاقہ نے خوب پذیرائی کی جو لمبے سفروں کے بعد ایک عالم فاضل بن کرواپس آیا تھا۔

تاہم آپ کو ’’عالم دین‘‘کہلانے کی ایک بھاری قیمت بھی چکانی تھی کیونکہ تب عوام الناس کے خیال میں آپ ایک’’وہابی‘‘بن کرآئے تھےاور اُس زمانہ میں وہابیت مخالف جذبات نہ صرف مسلمان حلقوں میں پنپ رہے تھے بلکہ ہندوستان کی انگریز حکومت بھی ’’وہابیت‘‘سے خائف تھی جیسا کہ اسی مضمون میں اوپر اہل حدیث کے جہاد کے متعلق نظریات اوران کی مجاہدین کے لیے معاونت کا ذکر کیا جاچکاہے۔

عوام میں وہابیت مخالف جذبات اس حد تک پھیل چکے تھے کہ اس سے وابستگی کا اظہار و اقرار بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔ یوں حضرت نورالدینؓ کو بھی اپنے ہی شہر میں شدید مخالفت اور دشمنی کا سامنا رہا۔ آپ سمیت دیگر اہل حدیث کے خلاف جاری کیے گئے فتاویٰ میں آپ کو بدعتی قرار دیا گیا، آپ پر جان لینے کی نیت سے حملے کیے گئے، آپؓ ان سب خطرات کے باوجود 1876ء تک یعنی اگلے چار سال تک مرد آہن بن کر اپنے وطن بھیرہ میں مخلوق خدا کی ہمدردی اور خدمت پر کمربستہ رہے۔

یوں قیام بھیرہ کے دوران آپ کی پہلی شادی ہوئی، آپ نے طلبہ کے لیے علوم اسلامیہ کا باقاعدہ درس جاری فرمایا اور باقی وقت اپنے مطب میں مریضوں کا علاج کرنے لگے۔

آپ نے اپنے آبائی گھر کےبیرونی دالان میں مریض دیکھنے شروع کیے مگر آپ کے خلاف جاری شدہ فتاویٰ اور عمومی مخالفت کے ماحول نے مریضوں کی تعداد پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ کی سوانح عمری مرقات الیقین کے مطابق تب آپ کے اپنے گھر کے روزمرہ اخراجات کے لیے بھی رقم نہ بچتی تھی اور گزارہ مشکل سے ہوتا تھا۔

پھر کچھ عرصہ بعد، جس کا معین ماہ و سن نہیں ملتا، آپ کے والد حافظ غلام رسول صاحب کی وفات ہوگئی اورآپ کے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب نے والد کی میراث کے سلسلے میں آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ تحریر لکھ دیں کہ مکان مولوی سلطان احمد کے روپے سے خریدا اور تعمیر کیا گیا ہے۔

حضرت نورالدینؓ یہ اشارہ بخوبی سمجھ گئے اور تحریر لکھ کر فی الفور گھر کی بجائے قریبی مسجد کے حجرے میں مطب کی ادویات منتقل کروادیں اور وہاں مریض دیکھنے شروع کردیے۔

آپؓ نے یکسربے سروسامانی کے باوجود محض اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئےایک ہندو ساہوکار سے 1200؍روپے قرض لےکراپنے ذاتی مکان کی تعمیر شروع کروادی، تب اس مستغنی وجود کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہ بھاری رقم کب اور کہاں سے چکا پائے گا۔ نیزعمارت کی تعمیر سے پہلے ہی اس جگہ کی ملکیت کے ثبوت، سرکاری محکموں سےنقشوں اور ضروری اجازت ناموں کے حصول اور متعلقہ سازو سامان کی فراہمی کے گھمبیرمسائل وقتاً فوقتاً سر اٹھانے لگے۔

ملازمت کی تلاش

ہندو بنیےکو واپس کرنےکے لیے 1200؍روپے کی خطیر رقم کے انتظام کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی اور آپ کے خود نوشت سوانح کے مطابق یہ دسمبر 1876ء کا واقعہ ہوگا، کہ آپ کو زمانہ طالب علمی میں اپنے قیام بھوپال کے دوران غیرمعمولی شفقت و سرپرستی کرنے والے منشی جمال الدین صاحب کا پیغام ملا کہ آپ دربار بھوپال میں ملازمت کی پیش کش قبول کر لیں۔ اِدھر اپنے قرض کے پیشِ نظر آپ کے پاس انکار کی کوئی راہ نہ تھی۔

جب آپ نے بھوپال جانے کا ارادہ کرلیا تو آپ کی ملاقات اپنے پرانے دوست ملک فتح خان صاحب سے ہوئی جو آپ سے ملنے بھیرہ آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی میں لارڈ لٹن وائسرائے ہند نے دربار دہلی کا اہتمام کیاہے جہاں ملک کے حکمرانوں اور راجشاہی ریاستوں کے والیان کو بلایاگیا ہے۔ یہ دربار دہلی یکم جنوری 1877ء کو ملکہ وکٹوریہ کے قیصرہ ہند کا لقب اپنانے کا اعلان کرنے کے لیے سجایا گیا تھااور وائسرائے ہند Lord Lyttonنے تاج برطانیہ سے وابستگی کا اقرار کرنے والے تمام والیان ریاست کو مدعو کیا تھا کہ انہیں اس صلے میں خطابات اور تمغوں سے نوازا جائے۔ اس اجتماع کے موقع پر منشی جمال الدین صاحب بھی والیہ بھوپال کے وزیر اعظم کے طور پر مدعو تھے اور مدعوین کے قیام و طعام کے لیے سجائی گئی ایک وسیع وعریض خصوصی خیمہ بستی میں مقیم تھے۔

آپ کے خود نوشت حالات میں ملتا ہے کہ حضرت نورالدین دربار دہلی کے موقع پر بھیرہ سے لاہور اور پھر لاہور سے بذریعہ ریل دہلی پہنچے۔ یقیناً یہ ماہ دسمبر 1876ء کے اواخر کا واقعہ ہے کیونکہ دہلی میں والیان ریاست نئے سال کے آغاز پر ہونے والے دربار کے لیے جمع ہورہے تھے۔

دربار دہلی کی گہماگہمی کے دنوں میں منشی جمال الدین صاحب کا نواسہ اچانک علیل ہوگیا، حضرت نورالدینؓ کی دہلی میں موجودگی کی اطلاع پاکر منشی صاحب نے کارندے دوڑائے اور آپ کے بروقت علاج کی کامیابی سے خوش ہوکر آپ کو فوری طور پر 700 روپے انعام سے نوازا، جبکہ بعد میں مزید 500 روپے بھی اداکیے، یوں ہندوساہوکار کے واجب الادا 1200؍روپے کا انتظام ہوگیا۔ (حکیم حاذق نیز مرقات الیقین)

اس دربار دہلی کے موقع پر منشی جمال الدین صاحب نے حضرت نورالدینؓ سے اصرار کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہی بھوپال چلیں جس پر آپ رضامند ہوگئے اور یوں آپؓ کے دوسری دفعہ بھوپال جانے کا انتظام ہوا۔

آپ کی خود نوشت سوانح عمری میں مذکور ہے کہ آپؓ بھوپال میں 200؍روپے ماہوار تنخواہ پر متعین تھے جبکہ آپؓ کو اپنے فارغ وقت میں مریضوں کا علاج کرنے کی اجازت بھی تھی۔ لیکن بھوپال میں قیام کا یہ سلسلہ چند ماہ تک ہی جاری رہ سکا۔ (حکیم حاذق نیز مرقات الیقین)

پھر آپؓ بھوپال سے واپس بھیرہ پہنچے جہاں سے آپ کی نئی منزل جموں وکشمیر کے سفر کا آغاز ہونا تھا جہاں آپ مہاراجہ کشمیر کے طبیب کے طور پر مقرر ہوئےلیکن ریاست کشمیر میں آپ کے قریباً پندرہ سولہ برسوں کےقیام کا احوال بتانے سے قبل چند گنجلک امور کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

کچھ مہاراجہ کشمیر کے بارہ میں

حضرت نورالدینؓ کے جموں و کشمیر جانے کے متعلق آپ کی خود نوشت سوانح میں ذکر ہے کہ’’جموں سے ایک شخص جو جموں میں پولیس افسر ہیں، مدقوق ہوکر علاج کے لئے میرے پاس آئے۔ شہر میں وہ ہمارے پڑوسی تھے۔ ان کا نام لالہ متھراداس ہے۔ ان کے علاج میں کامیابی ہوئی۔ اسی اثناء میں دیوان کرپا رام وزیر اعظم جموں کا گزر پنڈدادنخان میں ہوا۔ بہرحال دیوان صاحب اور لالہ متھراداس کے ماموں بخشی جوالہ سنگھ صاحب نے سرکار جموں سے ذکر کیا۔‘‘

رسالہ ’’حکیم حاذق‘‘کے مذکورہ بالا شمارہ کے صفحہ 14 پراس کے بعد آپؓ نے بھیرہ میں قیام اوراپنی طبی خدمات کا ذکر جاری رکھتے ہوئے لکھا کہ’’ہم بھیرہ کاحصہ اس پر ختم کرنا کافی سمجھتے ہیں …اب ہم جموں پہنچتے ہیں ‘‘

تاریخ احمدیت نے دیوان متھراداس کے علاج اور پھر مہاراجہ کشمیر کے سامنے حضرت نورالدینؓ کا ذکرکرنے کا سال درست طور پر 1876ء درج کیا ہے۔ مگر حضرت نورالدینؓ کے بھیرہ سے جموں پہنچ کر طبیب شاہی بن کر اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کاآغاز کردینا 1876ء میں مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اخبار ٹائمز آف انڈیا سمیت دیگر ذرائع کے مطابق دیوان کرپارام کی وفات ستمبر 1876ء میں ہوگئی۔ یوں ظاہر ہے کہ انہوں نے مہاراجہ کے سامنے ان کے حین حیات میں ہی1876ء کے کہیں وسط میں حضرت نورالدینؓ کا ذکر کیا ہوگا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سن 1876ء کے اواخر میں حضرت نورالدینؓ ملازمت کی تلاش میں بھی ہیں اور جنوری 1877ء کے دربار دہلی میں شرکت کے لیے سفر بھی اختیار فرما رہے ہیں اور پھر دربار کے بعد بھوپال بھی جارہے ہیں جہاں ریاست کے ملازم ہوکر طبی خدمات بھی بجالارہے ہیں۔ مذکورہ بالا سب معلومات کی روشنی میں بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ آپؓ 1877ء کے وسط سے پہلے پہلے کشمیر نہیں پہنچے ہوں گے۔ کیونکہ دیوان کرپارام نے یقیناًستمبر 1876ء میں اپنی وفات سے پہلے ہی پنڈدادنخان سے گزرتے ہوئے حضرت نورالدینؓ کی طبی مہارت کی بلندی پر اطلاع پائی اور پھر مہاراجہ کشمیر کو اطلاع دی ہوگی۔ لیکن آپؓ کی دربار دہلی میں شمولیت اور پھر دوسری دفعہ بھوپال کا سفر کرکے وہاں ملازمت قبول کرلینا، آپ کے مہاراجہ کے سامنے مذکور ہوتے ہی فوری طور پر کشمیر پہنچنے کے قیاس کی راہ میں روک ہیں۔

پس یہاں بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ آپ وسط یا اواخر 1877ءمیں مہاراجہ کشمیر کے دربار سے منسلک ہوئے تھے۔

کشمیر بعہد مہاراجہ رنبیر سنگھ

حضرت نورالدینؓ کے حالات زندگی میں مہاراجہ کشمیر کا بارہا ذکر ملتا ہے لیکن اس میں ایک عجیب فرق بھی ہے کہ آپؓ کے بیان کردہ واقعات سے کبھی تو مہاراجہ ایک زیرک اوربیدارمغز حاکم کےطورپرنظر آتا ہےاور کبھی ایک معمولی عقل و فہم کے مالک کے طور پر۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپؓ نے کشمیر میں قیام کے دوران یکے بعد دیگرے تخت نشین ہونے والے دو مہاراجوں کا دور دیکھا تھا۔ آپ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دور میں دربار سے منسلک ہوئے اور 1885ء میں اس کی وفات کے بعدجب اس کا بیٹا پرتاب سنگھ مہاراجہ کشمیر بنا تب بھی آپ دربار کشمیر سے منسلک تھے۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ اپنے مرحوم والد مہاراجہ گلاب سنگھ کا جانشین بنا تھااور گلاب سنگھ ریاست جموں و کشمیر پر ڈوگرہ راج کا بانی تھا۔ ان دونوں باپ بیٹے کو تخت نشینی کے ساتھ ہی برطانوی راج کی مداخلت کا بھی سامنا تھا اوریہ دونوں ہی اپنے اپنے ادوار میں اس دباؤ اور کشمکش کا کامیابی سے مقابلہ کرتے رہے۔

پہلے تو اہل برطانیہ نے گلاب سنگھ کے ساتھ ریاست کشمیر کا سودا کرلیا لیکن خطہ کشمیر کو بیچتے ہی ان کو اپنے اس فیصلہ پر پچھتاوا شروع ہوگیاکیونکہ اب برطانوی علاقوں اور روسی سرحد کے درمیانی علاقہ میں کشمیر حائل ہوگیا تھا، روسی سرحدوں سے دور یا منقطع رہ کر برطانوی حکومت کہاں چین کی نیند سوسکتی تھی جبکہ برطانیہ کی اہل روس سے اور باہمی سازشوں کی طویل تاریخ بھی تھی۔

پس کشمیر کا علاقہ گلاب سنگھ کو فروخت کرکے خطہ کشمیر کو خود مختار تسلیم کرنے کے بعد سے حکومتِ برطانوی ہندوستان نے کوششیں شروع کردیں کہ کسی طرح ان کو مہاراجہ کشمیر کے دربارتک رسائی میسر رہے۔ مگر مہاراجہ گلاب سنگھ نے اپنی دانش مندی سے ایسا ممکن نہ ہونے دیا اوراسی طرح اس کے بیٹے اورجانشین مہاراجہ رنبیر سنگھ نے بھی اپنے دور حکمرانی میں برطانوی حکومت کو کشمیر کے امورمیں مداخلت کرنےسے باز رکھا۔

چونکہ اُس زمانہ جہان بانی میں اہل برطانیہ کا ہی سکہ چلتا تھا، اُن کی گہری سازشیں رنگ لائیں اور وہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دربار میں اپنا ایک افسر بکار خاص متعین کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس نئی پیش رفت پردونوں فریق ہی اپنی اپنی جگہ مزعومہ کامیابی ملنےپر خوش تھے۔ مہاراجہ کشمیر یہ سمجھ کر خوش تھا کہ وہ انگریز ریذیڈنٹ کی تعیناتی رکوانے میں کامیاب رہا ہے اور انگریز حکام خوش تھے کہ انہوں نے دربار کشمیر تک رسائی کا پہلا زینہ بخوبی طے کرلیا ہے۔

اس نئی صورت حال کا لازمی نتیجہ ریاست کشمیر کے امور میں انگریزی مداخلت کا بڑھنا تھا اور مہاراجہ رنبیر سنگھ اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ اب ریاست کے حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے کیونکہ برطانوی حکام اپنا تسلط بڑھانے اوراسےمزیدمضبوط کرنے کے لیے ضرورہر جائز و ناجائز حربہ بروئے کار لائیں گے۔

صحافی ایڈورڈ میکین، جسے مہاراجہ رنبیر سنگھ کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا تھا، نے اگست 1889ء میں ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کی ایک میٹنگ کے دوران بتایا کہ’’میں آپ کو 1876ء کا ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ ایک دن میں مرحوم مہاراجہ کشمیر کے پاس بیٹھا ان سے مختلف امور پر گفتگو کررہا تھا … کہ اچانک مہاراجہ میری طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ مجھے اپنے حالیہ دورہ کلکتہ کے دوران بہت سی اہم باتوں کا علم ہوا ہے… یہ حقیقت اب راز نہیں رہی کہ برطانوی حکومت کشمیر کا الحاق چاہتی ہے، اب ان کوبس کسی مناسب موقع کی تلاش ہے تب یہ اس مقصد کے لئے خوب مہارت سے کوئی گہری چال چلیں گے…‘‘

رنبیر سنگھ نے اس صحافی کو کچھ اور بھی راز کی باتیں بتائیں اور کہاکہ میں تو دشمنوں کے درمیان پھنسا ہوا ہوں کیونکہ میرے ایک طرف برطانوی محکومات کا سلسلہ ہے۔ یہ جب چاہیں گے مجھے روندتے ہوئے شمالی سرحد کی طرف آگے بڑھیں گے۔ میرے ایک ہاتھ افغانستان کا علاقہ ہے جس کے بارے میں وثوق سے کبھی بھی کچھ بھی نہیں کہاجاسکتا ہے، اور دوسری طرف روس کا دیوہیکل عفریت بیٹھا ہوا ہےجو کسی بھی وقت افغانستان کی طرف پیش قدمی کرے گا تو اس کے مقابل پر کلکتہ میں بیٹھے لوگ فوری طور پر برطانوی مزاحمت کی تیاری پکڑیں گے اور میں غریب توان ہاتھیوں کے درمیان پس کر رہ جاؤں گا۔

’’اب کسی دن، اور وہ دن زیادہ دور نہیں جب کشمیر کے شمال میں بھی دشمن زور مارے گا اور کشمیر کے جنوب میں بیٹھی مدمقابل طاقتیں بھی جواباًہلہ بولیں گی اور کشمیر درمیان میں گھاس کی طرح برباد ہوگا۔‘‘

(ّWilliam Digby, Condemned Unheard, published by Indian Political Agency, London, 1890)

مہاراجہ رنبیر سنگھ نے یہ باتیں پیش گوئی کے رنگ میں غالباً 1876ء میں بتائی تھیں تب حضرت نورالدینؓ کی دربارکشمیر میں ملازمت اور یہاں قیام کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ اب مہاراجہ کشمیر کی تشبیہ اور استعارے کے پیرائے میں برطانیہ، افغانستان اور روس کی طاقتوں کے متعلق بتائی ہوئی باتیں مستحضر رکھیں تو حضرت نورالدینؓ کے قیام کشمیر کے زمانہ کو سمجھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے، کیونکہ آپ کا یہاں قیام بیک وقت معاشی خوشحالی مگر ابتلاؤں سےعبارت تھا۔ نیز یہاں آپ نے دنیاوی سلطنتوں کی بے ثباتی کا بھی گہرا مشاہدہ کیا۔ قبل اس کے کہ آپ کو طاقتورآسمانی سلطنت سے الحاق نصیب ہوگیا۔

دربار مہاراجہ رنبیر سنگھ

رنبیر سنگھ کو اس کے والد مہاراجہ گلاب سنگھ نے ریاست کشمیر کی گدی سپردکی تا وہ اپنی آئندہ ذمہ داریوں کا اندازہ اور مشق کرسکےمگر اس عبوری دور میں رنبیر سنگھ نے سرکاری انتظامات کو اپنے والد کے زمانہ کی ڈگرپر ہی چلنے دیا اور کوئی بھی بڑی اصلاحات متعارف نہ کروائیں۔ لیکن جیسےہی بطور مہاراجہ عنان ِحکومت مکمل طور پر اس کے ہاتھ آئی تو اس نے ریاستی امور میں بڑی قابلِ ذکر تبدیلیاں کرتے ہوئے مالیاتی، سماجی اور انتظامی محکموں کو جدید خطوط پر استوار کیا اور محکمہ انصاف کے بنیادی ڈھانچہ کو ازسرِنو مرتب کرنے کا کام کیا۔

(K L Kalla, The Literary Heritage of Kashmir, pg 76)

ڈوگرہ راج کے دیگر حکمرانوں میں سے رنبیر سنگھ کو امتیازی مقام دلانے والا اس کابڑا کارنامہ شعبہ تعلیم میں انقلاب تھا۔گواس مہاراجہ کی اپنی رسمی تعلیم بالکل معمولی تھی مگر رنبیر سنگھ نے ریاست کشمیر میں علم اور آگہی کا ماحول پیدا کرنے اور معاشرے کے ہر طبقے تک تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کا بیڑہ اٹھایا۔

رنبیر سنگھ نے پاٹھ شالے بنائے جہاں وید اورہندو علم القانون کے ساتھ ساتھ شاعری، علم العروض، گرائمر، فلسفہ، حساب، الجبرا اور علم ہندسہ سکھائے جاتے تھے۔

(Dr George Buhler‘s Report on Sanskrit Manuscripts)

اسی تعلق میں ایک اورذکر ملتا ہے کہ’’رسمی تعلیم میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کے ذاتی درجہ سے قطع نظر یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ ریاست کشمیر میں جدید تعلیم کا شعبہ ترقی کرے۔ بلکہ علم کی سرپرستی اور تعلیمی اداروں کو بنانے اور مضبوط کرنے میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کادائرہ فیض ریاست کشمیر کی سرحدوں تک محدود نہ تھا مثلاً اس نے پنجاب یونیورسٹی کی تاسیس میں ایک لاکھ روپے کا عطیہ بھیجا اور اس خدمت کے اعتراف میں اسے یونیورسٹی کے اولین fellow کے طور پربھی منتخب کیا گیا تھا۔‘‘

(Kalla, “The Literary Heritage of Kashmir”, Pg 77)

مؤرخینِ کشمیر میں ایک بڑا اور معتبر نام ڈاکٹر غلام محی الدین صوفی ہے۔ اس نے لکھاہے کہ’’رنبیر سنگھ نے مغل شہنشاہ اکبر کی طرز پر اپنے دربار میں مختلف علوم و فنون کے بڑے بڑے ناموں کو جگہ دی ہوئی تھی اور وہاں مذہبی ومعاشرتی موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہتا تھا۔ دیوان کرپا رام تو مہاراجہ رنبیر سنگھ کےلئے ابوالفضل کی جگہ تھا۔‘‘

(Kashir, Vol 2, pg 802)

قارئین کو مستحضر ہوگا کہ یہ وہی دیوان کرپا رام ہیں جنہوں نے اپنی فہم و فراست سے حضرت نورالدینؓ کے اندر پوشیدہ علم و فضل کو پہچان لیا تھااور مہاراجہ کشمیر رنبیر سنگھ سے آپ کے متعلق ذکر بھی کیا تھا۔

مؤرخ کشمیر ڈاکٹر صوفی نےمہاراجہ رنبیر سنگھ کے دربار کے علم و فضل کے بلند معیار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’دربار کاحصہ بننے والے چند علمی نابغہ روزگار افراد کے نام درج ذیل ہیں: پنڈت گنیش کول شاستری، بابو نیلامبر مکھرجی، ڈاکٹر بخشی رام، ڈاکٹر سوراج پال، پنڈت صاحب رام، پنڈت ہمت رام رازدان، مرزا ابر بیگ، حکیم ولی اللہ شاہ لاہوری، سید غلام جیلانی، مولوی ناصر الدین، مولوی غلام حسین طبیب لکھنوی، مولوی قلندر علی پانی پتی، مولوی عبداللہ مجتہد العصر، حافظ حاجی حکیم نورالدین قادیانی، بابو نصر اللہ عیسائی۔‘‘

یہاں ڈاکٹر صوفی نے لکھاہے کہ یہ سب لوگ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے علمی دربار کےگویا’’نو رتن‘‘ تھے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا کہ یہ دیوان کرپا رام ہی تھے جنہوں نے ذاتی شوق اور محنت سے ریاست کشمیر میں علماء و ماہرین کے اجتماع کا سامان کیا تھا بلکہ ڈاکٹر صوفی کے مطابق دیوان کرپا رام کے بارہ میں ملتا ہے کہ وہ خود بھی ایک قابل اور صاحب طرز انشاء پرداز اور مصنف تھا جس کے علمی کارناموں میں ’’گلزار کشمیر‘‘اور’’گلاب نامہ ‘‘جیسی تصنیفات شامل ہیں۔

1871ء میں دیوان کرپا رام سے ملاقات کرنے والا رچرڈ ٹیمپل اس کے تعارف میں بتاتا ہے کہ’’وہ ایک خاص فہم و ذکا کا مالک اور اپنے مہاراجہ کی حکومت کی اعلیٰ کارکردگی اور نیک نامی کے لئے خاص جوش و جذبے سے کام کرنے والا انسان تھا۔‘‘

(Richard Temple, Journals kept in Hyderabad, Kashmir, Sikkim and Nepal, Vol 2, pg 144)

مہاراجہ رنبیر سنگھ کے اہم اور یادگار کارناموں میں اس ’’دارالترجمہ‘‘کا قیام تھا جہاں علمی شاہکار کتب کو اہل کشمیر کے افادۂ عام کے لیے ڈوگری، فارسی اور دیگررائج زبانوں میں ترجمہ کرنےکا کام کیا جاتا تھا۔

(Kalla, “The Literary Heritage of Kashmir”)

اس مقصد میں اعلیٰ کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پورے ہندوستان سے ماہر علماء کی ضرورت تھی، تب ایسے افراد کو ریاست کشمیر میں بلا کر مہاراجہ کے ہاں ملازمت پیش کی جاتی تھی۔ مہاراجہ کے سوانح نگاروں نے علم و ادب کی سرپرستی کے حوالہ سے اس غیر معمولی اہمیت کے منصوبے کے متعلق لکھا ہے کہ’’مہاراجہ کے اس دارالترجمہ کی بدولت خطہ کشمیر میں جس قدر علماء کی آمد و رفت ہوئی وہ نہ تو اس سے قبل دیکھی گئی اور نہ ہی ایسی علمی و ادبی بہاریں کبھی بعد میں ممکن ہوسکیں۔ اس مقصد کے لیے مہاراجہ نے ہر گروہ کے ماہرین کی سرپرستی جاری رکھی۔ علماء و ماہرین کے اس گروہ میں علاوہ دیگر نامی لوگوں کے فتح سنگھ، حکیم فدا محمد خان، مولوی نورالدین، پنڈت گنیش اور جوتشی بشیش ور راجووغیرہ شامل تھے۔‘‘

(Sukhdev Singh Charak, Life and Times of Maharaja Ranbir Singh, Jay Kay Book House, Jammu)

اسی مؤرخ کے مطابق مہاراجہ نے ریاست کے تمام اہلکاروں کےلیے ایک نصاب مرتب کروایا جس کو پڑھ کر امتحان پاس کرنا لازمی ہوتا تھا۔ ریاستی اہلکاروں کا امتحان لینے اور کامیاب ہونے والوں میں سرٹیفیکیٹ کی تقسیم کا انتظام کرنے والوں میں مشہور علماء فتح سنگھ، حکیم فدا محمد خان، مولوی نورالدین، پنڈت گنیش اور جوتشی بشیش ور شامل تھے۔

ریاست کشمیر میں اعلیٰ علمی خدمات بجالانے والوں کے تذکرہ میں ڈاکٹر صوفی بطور خاص حضرت نورالدینؓ کا نام لیتا ہے اور لکھاکہ’’مہاراجہ کے معتمد طبیب حکیم نورالدین، بعد میں مرزا غلام احمد قادیانی جو پنجاب میں بانی احمدیہ فرقہ تھے، کے جانشین ہوئے۔‘‘(Sufi, pg 805)

ریاست کشمیر پر ڈوگرہ راج کا یہ سنہری دور بہت پرامن بھی بتایا جاتا ہے۔ امن و امان اور دیگر کئی لحاظ سےاس غنیمت وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراجہ کے اس معتمد طبیب نے سالہا سال یہاں رہ کر اپنا طبابت کا تجربہ بھی بڑھایا اور علوم اسلامی کی دیگر مذاہب پر برتری کے متعلق اپنے علم و عرفان میں بھی ترقی کی۔ کیونکہ علماءو ماہرین کی مذکورہ بالافہرست سے مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دربارکشمیر میں رائج ثقافتی و مذہبی تنوع اور علمی و ادبی ماحول کا اندازہ کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہے۔ پس مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دم سے قائم علم و آگہی کے اس غیر معمولی ماحول میں حضرت نورالدینؓ کا قیام رہا۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات

جماعت کے بعض مؤرخین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ حضرت نورالدینؓ کو راجہ امر سنگھ سے گہری قرابت داری کی بنا پر سازش کر کے ریاست کشمیر سے بے دخل کیا گیا اور یوں آپ قادیان تشریف لے گئے۔ (حیاتِ نور)

تاہم تحقیق کے دوران سامنے آنے والی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ راجہ امر سنگھ حضرت نورالدینؓ کو خود ریاست کے امور سے بے دخل کرنا چاہتا تھا۔ اس بات کے ثبوت کے طور پر ذیل میں تفصیلی بحث پیش کی جاتی ہے۔ (اگرچہ حضرت نورالدینؓ کے خودنوشت حالات بتاتے ہیں کہ آپ کو راجہ امر سنگھ سے ایک زمانہ میں قرابت داری کا تعلق رہاتھا)۔

جیسے جیسے رنبیر سنگھ عمر رسیدہ ہوا، اس کی صحت گرنے لگی اورساتھ ہی انگریز حکومت نے اپنی پہلے سے جاری سازشوں کو بھی بڑھادیا۔ اس عرصے میں Oliver St. John، دربار کشمیر میں افسر بکار خاص اورHenry Mortimer Durand، وفاقی سیکرٹری برائے ہند کے درمیان ہونے والی خط و کتابت سے واضح ہوجاتا ہے کہ برطانوی حکومت کے کارندوں نےریشہ دوانیوں کا جال کس قدرپھیلا رکھا تھا اور یہ سازشی عناصر ریاست کے ہر شعبہ اور محکمے میں پنجے گاڑے بیٹھے تھے۔

ڈیورنڈ نے سینٹ جون کو درج ذیل ہدایات دیں:

اوّل: جیسے ہی مہاراجہ کی وفات کی خبر متوقع ہو، افسر بکار خاص اس موقع پر کوشش کرکے اپنی قریب ترین موجودگی کو یقینی بنائے۔

دوم: یہ افسر کوشش کرے کہ جموں یا جس جگہ بھی مہاراجہ کی موجودگی ہو، وہاں قریب ترین رہ کر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا سدباب کرنے کا انتظام کرے۔

اولیور سینٹ جون نے مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات سے ایک سال قبل برطانوی حکومت کے متعلقہ محکموں کو مطلع کردیا تھا کہ رنبیر سنگھ کا بڑا بیٹا پرتاب سنگھ بطور جانشین ریاست بالکل بھی موزوں نہیں ہے۔ اس نے برطانوی ہند کی حکومت کو اطلاع دی کہ’’یہ بات بالکل عیاں ہے اور مہاراجہ رنبیر سنگھ متعدد مواقع پر اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ اپنے دونوں بڑے بیٹوں پرتاب سنگھ اور رام سنگھ کی بجائے تیسرے بیٹے امر سنگھ کو ریاست کی جانشینی سپرد کرنا چاہتے ہیں۔ میاں پرتاب سنگھ جو سب سے بڑا ہے، عمر 30سال کے لگ بھگ ہے، شراب کا رسیا اور معمولی عقل و فہم کا مالک ہے۔ نیز یہ شخص بہت سی خراب عادات کا مالک ہے…عین ممکن ہے کہ یہ شخص تخت نشین ہوکر اگر برا حکمران نہ بھی بنا، ضرورایک کمزور مہاراجہ ہوگا۔‘‘

یہ انگریزافسر بکار خاص کشمیر سے حکام بالا کو مہاراجہ کے دوسرے بڑے بیٹے رام سنگھ کے بارے میں بھی اطلاعات بھیجتا رہا کہ تخت نشینی کی دوڑ میں یہ دوسرا امیدوار بھی ایک نامناسب جانشین ہے اور سب سے آخر پر تیسرے بیٹے راجہ امر سنگھ کےضمن میں لکھاکہ’’امر سنگھ- ایک خوبرو نوجوان، عمر 18سال، عمومی لحاظ سےموزوں ترین ہے اور اپنے بڑے دونوں بھائیوں سے صلاحیتوں میں برتر ہے۔ مہاراجہ صاحب کابھی ارادہ تھاکہ وہ کسی مناسب موقع پروائسرائے کی خدمت میں امر سنگھ کی جانشینی کے بارہ میں تحریری یا زبانی طور پر عرض کردیں گے لیکن آخری وقت پر یہ سوچ کر اپنا ارادہ بدل لیا کہ ریاست کے عوام جانشینی کے اولین حقدار کو محروم کرنے پر سوال اٹھائیں گے۔‘‘

(Memorandum dated 20 January 1884, by Sir Oliver St John, Officer on Special Duty in Kashmir, India Office Records)

حکومت نے سینٹ جون کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر ہند کو لکھا اور تجویزدی کہ گو ریاست کا اگلا متوقع جانشین قیادت اور اخلاق و عادات کے لحاظ سے ایک غیر موزوں وجود ہےلیکن اس کا ایساہونا ہمارے مفاد میں ہے۔ اور لکھا کہ’’…بڑے بیٹے کی بجائے کسی اور کو جانشین بنانے کے خیال کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے…‘‘

(Secret letter from the Government of India, Foreign Department, to Secretary of State for India, dated 7 April 1884, India Office Records, folio 191)

وزیر ہند نے بھی مذکورہ بالا تجویز کو قبول کرتے ہوئے جواب بھیجا: ’’مجھے مہاراجہ کے وارثوں کی غیرموزونیت کا احوال پڑھ کر افسوس ہوا، اور میں حکومت ہند کی تجویز سے متفق ہوں کہ کسی متبادل کی تلاش نامناسب ہوگی اور کشمیر کے معاملہ میں روائتی طریق پر بڑا بیٹا ہی جانشینی کا حقدار بنایا جائے…‘‘

(Ibid, Despatch from Secretary of State for India, No 11 (Secret), dated 23 may 1884)

وزیر ہند نے اپنے اسی خط میں مزید زور دیتے ہوئے لکھا کہ’’میاں پرتاب سنگھ کی جانشینی کا اعلان اس کے والد کی وفات کے معاًبعد ہوجانا چاہیے۔‘‘

گلاب سنگھ اور اس کا بیٹا رنبیر سنگھ اپنے اپنے ادوار میں ریاست کشمیر کے اندر برطانوی ریشہ دوانیوں کا کسی حد تک کامیابی سے مقابلہ کرتے رہے۔ برطانیہ کی افسر شاہی کو رنبیر سنگھ کی موت کا جس شدت سے انتظار تھا وہ مذکورہ بالا خط سے ظاہر ہورہا ہے اور ان حکمرانوں کی بیدارمغزی پر بھی دلالت کرتا ہے۔ ایسی اور بھی بہت سی سرکاری چٹھیاں ریکارڈ پر موجود ہیں جن کا یہاں اندراج ضروری نہیں کیونکہ اُس دور کی تاج برطانیہ کی پالیسیوں کا اندازہ کرنے کے لئے مذکورہ بالا خط و کتابت ہی کافی ہے۔

برطانوی حکام نہیں چاہتے تھے کہ امرسنگھ جیساکوئی بیدار مغز شخص کشمیر پر حکمرانی کرےاور یوں ان کی کشمیر کے الحاق کی دیرینہ خواہش مزید التوا میں چلی جائے۔ اوراس خطہ میں انگریزوں کے بنائے ہوئے منصوبہ میں پرتاب سنگھ جیسے نااہل جانشین کی ہی جگہ تھی جو نہ تو سیاسی فہم کا حامل تھا اور نہ ہی ایک اچھے اور کامیاب حکمران کے بنیادی اوصاف سے متصف تھا۔

برطانوی حکام چاہتے تھے کہ رنبیر سنگھ کی موت کے فوری بعد پرتاب سنگھ کی تخت نشینی کا اعلان ہو اور ان کے خیال میں یہی ایک بہترین موقع تھاکہ وہ ریاست کشمیر میں برطانوی ریذیڈنٹ آفیسر کا تقرر کردیں۔

اسی حوالے سے مورخہ یکم اگست 1884ء کو حکومت ہند کے امور خارجہ کے نگران دفتر کی طرف سے اولیورسینٹ جون کی طرف ایک خفیہ مراسلہ بھیجا گیا۔ ایک مدت سے جس موقع کا انتظار کیا جارہا تھا، اس کو قریب دیکھ کر، مکتوب الیہ کو پختہ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ’’…عزت مآب[مرادنیا مہاراجہ]اور ان کے دربار کے اراکین کواچھی طرح باورکروا دیں کہ برطانوی حکومت کا اب آئندہ ریاست کشمیر کا انتظام چلانے کے متعلق کیا ارادہ ہے۔ آپ ان سب کو سمجھا دیں کہ عزت مآب وائسرائے ہند ریاست کشمیر کے اندر قائم موجودہ انتظام حکومت سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔ پس آپ نئے مہاراجہ اور ان کے متعلقین کو متنبہ کردیں کہ اب بلاتاخیرانتظام حکومت کے متعلق بہت بڑی اصلاحات لائی جائیں گی۔ اورآپ بےشک سب کو گوش گذار کردیں کہ اب ان تمام جدید اصلاحات کی تیاری و نفاذ کے لیے وائسرائےنے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مہاراجہ کی مدد کے لیے ایک انگریز افسر کو تعینات کریں گے اور اس انگریز افسر کا ریاست کشمیر کے اندرآئندہ کے لیے ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے وہی خاص منصب حاصل ہوگاجو تاج برطانیہ سے الحاق شدہ ہندوستان کی دیگر تمام ماتحت ریاستوں کے اندر انگریز پولیٹیکل ریذیڈنٹس کو حاصل ہے۔‘‘(India Office Record, IOR/L/191)

برطانوی افسر شاہی کو ریاست کشمیر کے امور میں مداخلت کی اس قدر بے تابی تھی کہ رنبیر سنگھ کی وفات کے موقع پر 12؍ ستمبر 1885ء کو اولیور سینٹ جون خود چل کر نئے مہاراجہ کے پاس پہنچا اور حکومتی ہدایات دستی پہنچائیں۔ تب دربار کے عملے نے اس برطانوی افسر کو مطلع بھی کیا کہ ابھی سوگ ہے اور نیا مہاراجہ تو ابھی وفات کی رسومات میں مصروف ہے، لہٰذاملاقاتیں بند ہیں مگر چونکہ سیاست جذبات نہیں بلکہ مفادات کے گرد گھومتی ہے، یہ افسر تقریباً زبردستی اندر داخل ہوکر نئے مہاراجہ سے ملا اور اسےخبردی کہ تمہارے آئندہ انتظام کے متعلق یہ فیصلے ہوچکے ہیں۔ اور یہ اُس کا اپنا بیان ہے۔

(Ibid, Oliver St John to Durand 18 September 1885)

پرتاب سنگھ کی تخت نشینی

ایک طرف پرتاب سنگھ مہاراجہ بن کر ریاست کشمیر پر گدی نشین ہوا تودوسری طرف اولیور سینٹ جون کشمیر میں افسر بکار خاص کے عہدےسے ترقی پاکر پولیٹیکل ریذیڈنٹ کشمیر بنادیا گیااورریاست کشمیر کے اندر ڈوگرہ انتظامیہ کے برے دن شروع ہوئے، کیونکہ اقتدار کی ریشہ دوانیوں نے وہ اتھل پتھل مچائی کہ کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا کہ ہندوستان میں براجمان برطانوی حکومت کی شہ پراس نئے ریذیڈنٹ کا اوّلین مقصد ریاست کشمیر کے تمام انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لینا تھااور اس سلسلے میں پولیٹیکل ریذیڈنٹ کا تقرر پہلا قدم تھا، اب بس یہ طے کرنا باقی تھا کہ ریاست کے باقی شعبوں کو کس طرح اپنے قبضے میں کرکے مرضی سے چلانا ہے۔

قبل ازیں پیش کردہ حقائق اور واقعات سے بالکل واضح ہوجاتاہے کہ اولیورسینٹ جون حکومت کو اچھی طرح بتاچکا تھا کہ پرتاب سنگھ ریاستی امور چلانے کے حوالہ سے ایک نااہل انسان ہے جبکہ اس کے چھوٹے بھائی امر سنگھ کو انتظامی امور میں خاصا فہم حاصل ہے۔ اہل برطانیہ کی پالیسی ’’تقسیم کرواور حکومت کرو‘‘چونکہ ہر جگہ ہی کامیاب رہی تھی، اس لیے یہاں بھی بغیر کسی تاخیر کے یہی گر استعمال کیا گیااور دربار میں طاقت و حکومت کو باہم غیر متحد لوگوں کے اندر بانٹ دیا گیا تااپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا مزید آسان ہوجائے۔

اولیور سینٹ جون نے 8؍جنوری 1886ء کو حکومت کو لکھا کہ’’امور کشمیر کے متعلق قریباً دوسال قبل بھیجی گئی اپنی ایک یادداشت میں، میں نے میاں پرتاب سنگھ کے بارہ میں تبصرہ کیا تھا، جب وہ متوقع جانشین تھا، کہ اگر یہ مہاراجہ بن گیا تو ناکام نہ سہی مگر بہت ہی کمزور مہاراجہ ہوگا۔ اب اس شخص کو طاقت میں آئے چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ کمزور اور ناکام حاکم ہی ثابت ہوا ہے…

…اب واضح طور پرمہاراجہ کےدونوں بھائیوں میاں رام سنگھ اور میاں امر سنگھ کو تو فوری طور پر معاملات حکومت سے لاتعلق کردیا گیا ہے۔ اب صرف دیوان اننت رام، جس کے پاس وزیر اعظم کا عہدہ ہے، اس کا ایک قریبی رشتہ دار گوبند سہائے اور بابو نیلمبرمکھرجی باقی رہ گئے ہیں۔ یہ گوبندسہائے تو قبل ازیں عزت مآب وائسرائے کے حضور بطور وکیل خدمات بجالاتارہاہے۔‘‘

اب مہاراجہ کے دونوں بھائیوں رام سنگھ اور امر سنگھ کو صاف نظر آ رہا تھا کہ اب ان کی طاقت کے ایوانوں میں دوبارہ بحالی ریذیڈنٹ کے توسط سے ہی ممکن ہے اور اس وقت تک ریذیڈنٹ کو بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ امور ریاست میں برتر درجہ پانے اور مستحکم رکھنے کے لیے اسےان دونوں بھائیوں کو اپنے ساتھ ملاکر رکھنا ناگزیر ہوگا۔ یہ ریذیڈنٹ اپنے اسی خط میں آگے چل کر لکھتا ہے کہ’’26 دسمبر کو مہاراجہ کے ان دونوں بھائیوں نے خوددرخواست کرکے مجھے بلایا اور ملتجی ہوئے کہ میں مداخلت کرکے نہ صرف ان دونوں بھائیوں کے مفادات کا تحفظ کروں بلکہ ریاست کو بھی برباد ہونے سے بچاؤں …

پھر میاں امر سنگھ نے مجھے بعض دستاویزات کا عکس دکھایا اور بعد میں وہ کاغذات مجھے دے بھی دیئے، اب اگر ان کی تصدیق ہوگئی۔ چونکہ بظاہر یہ جعلی نہیں لگ رہے، یہ کاغذات مہاراجہ کی مجرمانہ غفلت کے عکاس بلکہ حتمی طور پر اس کے بطور مہاراجہ غیر موزوں ہونے کا ثبوت ہوں گے۔‘‘

(Ibid, 193, folio 40-.41)

پرتاب سنگھ کے دربار کا محاسبہ

محولہ بالا خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاست کشمیر پر براجمان مہاراجہ پرتاب سنگھ کو خطے کی ثقافتی روایات اور عوام کے غیض و غضب کے خوف کی وجہ سے اب تخت سےاتارا تو نہیں جاسکتا تھا۔ یوں اس سے جان چھڑانے کے متبادل ذرائع کی تلاش ہونے لگی۔ اس سلسلے میں مہاراجہ کو بے دست و پا کرنے کے لیے دربار میں موجود اس کے معتمدومقرب لوگوں کو الگ کیا جانےلگا۔ پس مہاراجہ پرتاب سنگھ کو اپنے والد مہاراجہ رنبیر سنگھ سے ورثے میں ملنے والے مربوط و مزین دربار کی تطہیر کرنے کی ٹھانی گئی تا برطانوی ایجنڈے پر عملدرآمد کی راہ میں کوئی مزیدمزاحمت یا رکاوٹ بھی باقی نہ رہے۔

اس نئے متعین ہونے والے ریذیڈنٹ اولیور سینٹ جون سمیت اس کے تمام جانشینوں نے ٹھان لی کہ وہ پرتاب سنگھ کو ریاست کی گدی کے لیے نااہل ثابت کریں گے اوراس بابت رائےعامہ ہموار کرنے کے لیےاس کے بدعنوان، بےوقوف، فاترالعقل اور توہم پرست ہونے کا چرچا کریں گے۔

اس تعلق سے اولیور سینٹ جون اپنے پہلے خطوط کے ذریعہ بساط تو بچھاہی چکا تھا اس نے 8؍جنوری 1886ء کو ایک اور مراسلہ بھیجا کہ ’’…جب تک مہاراجہ پرتاب سنگھ کے پاس عنان حکومت ہے، یہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ پرانے مہاراجہ کشمیر کو دیگر ریاستوں کے برعکس جوآزادیاں اور خودمختاریاں میسر تھیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرکے ریاست کے انتظام پر کلی اختیار حاصل کیا جائے کیونکہ اب یہاں حقیقی اصلاحات کانفاذ ممکن نظر نہیں آرہاہے اورایسی ہر کوشش کو دربار کی طرف سے بنظر حقارت یکسر مسترد کردیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ریاست کے وسائل کو چہیتے لوگوں پر غیر ضروری اللوں تللوں میں اڑایا جارہا ہے۔‘‘(Ibid)

جب کچھ دیگر ذمہ داریاں اولیور سینٹ جون کے سپرد ہوئیں تو اس کی جگہ ٹی جے سی پلوڈن ریاست کشمیر میں ریذیڈنٹ بن کر تعینات ہوا۔ مگر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے صرف چہرے بدلے، برطانوی پالیسی پہلی ہی جاری رہی۔ پلوڈن نے کام شروع کرتے ہی ایک مفصل رپورٹ مرتب کی اور اس کا عنوان رکھا: ’’رپورٹ بابت امور ریاست جموں و کشمیر‘‘۔ اس کی پیشانی پر ’’خفیہ‘‘ لکھ کرحکومت ہند کے خارجہ امور کے حکام تک پہنچایاگیا۔ 5؍مارچ 1888ء کو مرتب کی جانے والی یہ رپورٹ 18صفحات پر مشتمل تھی، جس میں وہی پرانی کہانی دہرائی گئی کہ مہاراجہ امور سلطنت چلانے میں نااہل ہے اور اس کو جوتشیوں اور کاہنوں نے زیر دام کیا ہوا ہے، نیز یہ تو اپنے ’’چہیتوں ‘‘ کے درمیان گھرارہتا ہے۔ الغرض اس رپورٹ میں سجائی گئی لمبی کہانی کو چند لفظوں میں یوں سمیٹا جاسکتا ہے کہ مہاراجہ کو فی الفور امور ریاست سے دور کردیا جائے اوراس کے تمام ’’چہیتوں ‘‘ کو رسوا کرکے دربار سے باہر کرنا ناگزیر ہے۔

(Details: Report on the affairs of the State of Jummoo and Kashmir, by Plowden, IOR/1073/194)

یوں معلوم ہوتا ہے کہ پلوڈن کو رپورٹ مرتب کرنےاوربھیجنے پر بھی تسلی نہ ہوئی اور اس نےدوبارہ 28؍ مارچ 1888ء کو محکمہ امورخارجہ کو ایک اور مراسلہ بھی لکھ ڈالا، جس میں کہا کہ’’ہمارے دفتر سے مرسلہ خط نمبر 12 محررہ 8 مارچ کے تسلسل میں ہی عرض ہے کہ میں اب اپنی رپورٹ بابت جموں و کشمیر کے پیراگراف نمبر 22 میں درج مہاراجہ کے خلاف شکایات کے کاغذات کی نقل بھی ارسال کر رہا ہوں۔‘‘

(Ibid, folio 48)

اس خط میں مہاراجہ کے خلاف پرانے الزامات کو دہراتے ہوئے مزید یہ الزام بطور خاص اٹھایاگیا کہ’’…مہاراجہ نے اپنے گرد بعض بدشہرت اور دھوکے باز لوگوں کو اکٹھا کر رکھا ہے جن کے ہاتھوں میں وہ پتلی بن چکا ہے، اورانہی لوگوں کی باتوں میں آکر مہاراجہ نے بے پناہ فضول خرچی کی عادت اپنالی ہے۔‘‘

اس خط کے ساتھ پلوڈن نے کاغذات کا بھاری پلندا بھی ارسال کیا جس کا عنوان رکھا: ’’ریاست جموں کے بعض شہزادوں اور سرداروں کی طرف سے کشمیر کے ریذیڈنٹ کے نام لکھی گئی عرضی کا ترجمہ‘‘

اوراس درخواست میں کھول کر بیان کیا گیا کہ پرتاب سنگھ تو شروع سے ہی اخلاقیات اور اہلیت میں کس قدر نچلے درجے کا شخص تھا اور اب بھی ایسا ہی ہےاور اس کے ’’چہیتوں‘‘ کی دربار سے مکمل بے دخلی ناگزیر ہے۔ اس درخواست کے شروع میں لکھا گیا: ’’موجودہ مہاراجہ جب ولی عہد تھا تو اس نے اپنے باپ اور بھائیوں کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی تا وہ جلد تر گدی نشین ہوکر ریاست کو تباہ اور خزانے کو خالی کرسکےاور اپنے انہی مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے واسطے اس نے اپنے گرد بعض کم ذات لوگوں کو جمع کررکھا ہے جیسا کہ محمد بخش (نجومی) شستی چندر (بنگالی) میاں چترو، بخشی رام لبید، نیہالو ٹکا، لعل مان، کرم سنگھ، شیخ میراں بخش، ساول سنگھ، پریم ناتھ، امیر جوار، سیٹھ رام آنند، شیخ فتح محمد، مولوی نورالدین، پنڈت پیتامبر وغیرہ وغیرہ۔ یہ لوگ مہاراجہ کے جلو میں وقت گزارتےہیں اور اس سے لاکھوں روپےاور قیمتی زیورات اور پیسہ لوٹ چکے ہیں۔‘‘

Ibid, folio 54 (underline and emphasis by author of this article)

یاد رہے کہ ریذیڈنٹ کے نام اس درخواست پر صرف مہاراجہ کے بھائیوں یعنی راجہ امر سنگھ اور راجہ رام سنگھ سمیت دیوان لچھمن داس، وزیر شبھ چرن اور میاں لعل دین کے دستخط تھے۔

حضرت نورالدینؓ کا مزید احوال بتانے سے قبل واضح کردیں کہ آپ کے لیے’’نیچ ذات‘‘ کا گھٹیا لفظ استعمال کرنے والا اور آپ پر ریاستی خزانے کو پرتاب سنگھ کی قربت کی وجہ سے نقصان پہنچانے کا الزام لگانے والا کوئی اور نہیں بلکہ راجہ امر سنگھ خود ہے۔

اب کشمیر کے اندر مہاراجہ کو معزول کرکے بے دخل کرنے کی سازش تو رچائی جاچکی تھی لیکن ساتھ ساتھ حکومت کوایک اورعجیب الجھن کا بھی سامنا تھا کیونکہ ہندوستانی رسم و رواج اور صدیوں پر پھیلی پختہ روایات میں ایسا کرنے کی کوئی گنجائش اورمثال موجود نہ تھی یوں عوامی غیض و غضب بھڑک اٹھنے اور نقض امن کا بھی اندیشہ موجود تھا۔

ایسے میں جب پلوڈن مہاراجہ کے بھائیوں سے سازبازکرکےاس کو معزول کرنے کی سازش میں کافی آگے تک پہنچ چکا تھا، تواس کے ریاست کشمیر سے تبادلے کے احکامات پہنچ گئے اوراس کی جگہ Parry Nisbetنیا ریذیڈنٹ کشمیر بن کر آگیا۔

نسبٹ کی مہاراجہ رنبیر سنگھ سے بھی گہری دوستی تھی اور بعد ازاں یہ شخص پرتاب سنگھ کا بھی قریبی رہ چکا تھایوں اس پرانی دوستی کی بنا پر مہاراجہ پرتاب سنگھ کو لگتا تھا کہ نیا ریذیڈنٹ اس کو درپیش متعدد مشکلات حل کردے گا مگر بعد میں عقدہ کھلا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور سیاسی مفادات کے سامنے دوستیاں اور گہرے تعلقات کچھ بھی اہم نہیں ہوتے۔ نسبٹ تو کشمیر پہنچا ہی اس لیے تھا کہ اس معاملےکو منطقی انجام تک پہنچائے جس کی داغ بیل اس کے پیشرو ریذیڈنٹ اولیور سینٹ جون اور پلوڈن ڈال چکے تھے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button