سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(سید مبشر احمد ایاز)

باغ میں ملّت کے ہے کوئی گلِ رعنا کھلا

حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحبؒ

جیساکہ ذکر ہواہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب اندازاً 1853ء میں پیدا ہوئے۔آپ حضرت اقدس علیہ السلام کے سب سے بڑے فرزندتھے۔

تعلیم

مرزا سلطان احمد صاحبؒ نے آج کل کی اصطلاح میں جسے باقاعدہ یا سکول کی تعلیم کہا جاتا ہے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔البتہ آپ کی مشرقی طریق پر تعلیم ہوئی تھی۔ بچپن میں آپ نے اپنے والد ماجد یعنی حضرت مسیح موعودؑ سے بھی چند کتب سبقا ًپڑھی تھیں جن میں تاریخ فرشتہ، نحو میر اور گلستان و بوستان شامل ہیں۔ آپ خود بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب پچھلا پڑھا ہوا سبق بھی سنا کرتے تھے مگر پڑھنے کے متعلق مجھ پر کبھی ناراض نہیں ہوئے، حالانکہ میں پڑھنے میں بے پروا تھا…

( ماخوذاز سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 186)

اردو تو خیر آپ کی اپنی زبان تھی۔ فارسی میں بھی ادیبانہ شان تھی۔ یوں نہیں کہ عربی سے بیگانہ تھے۔ بلکہ اس زبان کی ادبیات پر بھی عبور تھا۔ انگریزی زبان سے بھی ضروریات زمانہ کے لحاظ سے بہت حد تک واقف تھے۔

تحصیلداری کا امتحان اور کامیابی

1884ء میں آپ نے تحصیلداری کا امتحان دیا۔ اس موقع پر آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں دعا کے لئے ایک رقعہ بھی لکھ کر بھیجا۔گو کہ حضرت اقدسؑ کو ان کا دنیاوی امورمیں اتنا دلچسپی لینا اچھا نہیں لگتا تھا اسی لئے دعاکے لئے بھی شرح صدرکچھ ایسا نہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کونہ جانے کون سی اداپسندتھی کہ اس وقت یہ الہام ہوا ’’پاس ہو جائے گا۔‘‘

حضور علیہ السلام نے اس واقعہ اور الہام کی تفصیل انہیں دنوں نواب علی محمدصاحب آف جھجر کے نام ایک خط میں تحریر فرمائی یہ خط 11مئی 1884ء کولکھاگیاتھا۔اس خط میں آپؐ رقم فرماتے ہیں :

’’مجھ کو یاد ہے اور شاید عرصہ تین ماہ یا کچھ کم و بیش ہوا ہے کہ اس عاجز کے فرزندنے ایک خط لکھ کر مجھ کو بھیجا کہ جو میں نے امتحان تحصیلداری کا دیا ہے۔ اُس کی نسبت دعا کریں کہ پاس ہوجاؤں۔ اور بہت کچھ انکسار اور تذلّل ظاہر کیا کہ ضرور دعا کریں۔ مجھ کو وہ خط پڑھ کر بجائے رحم کے غصہ آیا۔ کہ اس شخص کو دنیا کے بارے میں کس قدر ہم اور غم ہے۔ چنانچہ اس عاجز نے وہ خط پڑھتے ہی بہ تمام تر نفرت و کراہت چاک کردیا اور دل میں کہا کہ ایک دنیوی غرض اپنے مالک کے سامنے کیا پیش کروں۔ اس خط کے چاک کرتے ہی الہام ہوا کہ

’’پاس ہوجاوے گا۔‘‘

اور وہ عجیب الہام بھی اکثر لوگوں کو بتلایا گیا۔ چنانچہ وہ لڑکا پاس ہوگیا۔فَالْحَمْدُلِلّٰہِ۔‘‘

[تذکرہ ص 95 (ا ز مکتوب مؤرخہ11؍مئی 1884ء بنا م نواب علی محمد خانصاحب جھجر۔ الحکم جلد3نمبر34مؤرخہ 23؍ستمبر1899ء صفحہ 2،1)]

جس آدمی کے ہاتھ یہ رقعہ بھیجا گیا تھا اس نے صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو آ کر سارا واقعہ بتا دیا۔ چنانچہ اسی طرح ہوا اور آپ امتحان میں پاس ہو گئے۔

(ماخوذاز سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر208)

ای اے سی کا امتحانE.A.C

مشہور صحافی حضرت سید شفیع احمد صاحب محقق دہلوی کی ایک قدیم روایت کے مطابق حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جب ای۔ اے۔ سی [ایکسٹرااسسٹنٹ کمشنر]کا امتحان دینے کے لئے قادیان سے لاہور تشریف لے گئے تو دوسرے امیدواروں نے آپ کا خوب مذاق اڑایا کہ ان کو بھی امتحان کا شوق چرایا ہے۔ گویا یہ تاثر قائم کیا کہ آپ کی کامیابی سراسر محال ہے یہ سن کر آپ نے دل میں کہا کہ میں حضرت والد صاحب کی خدمت میں دعا کی درخواست کر کے آیا ہوں اور آپ نے دعا کا وعدہ بھی کیا ہے خدا کرے کہ میں کامیاب ہو جاؤں۔ انہی خیالات کے ہجوم میں آپ سو گئے اور قریباً چار بجے صبح خواب دیکھا کہ حضرت صاحب تشریف لائے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کرسی پر بٹھا دیا۔ اس خواب کی آپ نے یہ تعبیر فرمائی کہ میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا اور یہی بات آپ نے تحدّی کے ساتھ مذاق اڑانے والوں سے بھی کہہ ڈالی چنانچہ آپ بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہو گئے۔

(ماخوذاز سیرت المہدی جلد اول روایت 834)

علم طب

علم طب آپ کا خاندانی علم تھا۔ آپ کے باپ دادا علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے اورہمیشہ مفت علاج کرتے تھے۔ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے بھی طب پڑھی تھی لیکن اسے بطور پیشہ اختیار نہیں فرمایا۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنی اولاد کو علم طب پڑھنے کی بطور خاص تاکید فرمایا کرتے تھے۔

(ماخوذاز سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر50)

تعلیم ومطالعہ کاشوق

حضرت صاحبزادہ صاحب کو بچپن ہی سے مطالعہ اور کتب بینی کا بے حد شوق تھا۔ آپ کی ایک روایت ہے کہ ’’دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے پٹاروں میں رہتی تھی اور اس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں۔ میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب کی کتابیں……لے جایا کرتا تھا۔ چنانچہ والد صاحب اور دادا صاحب بعض وقت کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کو یہ ایک چوہا لگ گیا ہے۔‘‘( سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 227)

مزیدتعلیم

’’نیرنگ خیال‘‘ جوبلی نمبر کی مئی و جون 1934ء کی اشاعت میں آپ کے حصول تعلیم کی مزید تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کچھ دنوں تک دیوبند میں بھی پڑھتے رہے اور دیوبند ہی سے نکل کر گھر والوں کو اطلاع کیے بغیر آپ نے سرکاری نوکری بھی کر لی تھی۔ دہلی میں بھی اسی سلسلہ حصول تعلیم میں آپ کا قیام رہا۔ 1899ء میں جب آپ پہلی بار بسلسلہ ملازمت لاہور وارد ہوئے ان دنوں میں آپ نے حصول تعلیم کے بارہ میں کہا تھا کہ آپ نے شاہی طریقہ سے تعلیم نہیں پائی بلکہ طالب علمی کی ہے۔ آپ دہلی کی کسی مسجد میں رہتے تھے اور تعلیم پاتے تھے۔

(ماخوذاز نیرنگ خیال جوبلی نمبر مئی جون 1934ء ص 286،285)

خاکسار نیرنگ خیال رسالہ میں تحریر اس بات سے کہ 1899ء میں آپ پہلی بار بسلسلہ ملازمت لاہور میں وارد ہوئے، متفق نہیں ہے۔کیونکہ اس سے بہت پہلے آپ لاہورمیں بسلسلہ ملازمت مقیم رہ چکے تھے۔اوراس زمانے میں آپ نائب تحصیلدار تھے اورآپ کی رہائش چونہ منڈی لاہورمیں ہواکرتی تھی۔اوران دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب لاہور تشریف لاتے تواپنے انہی صاحبزادے کے ہاں قیام فرماتے۔چنانچہ3مئی 1890ء میں ایک مکتوب میں حضرت اقدسؑ تحریرفرماتے ہیں :’’میں بمقام لاہور بغرض علاج کرانے کے آیا ہوں…… والسلام خاکسار غلام احمد۔ازلاہور۔مکان مرزا سلطان احمد نائب تحصیلدار لاہور۔‘‘

(مکتوبات احمدجلد2۔ص576مکتوب نمبر179بنام منشی رستم علی صاحبؓ)

شادی اور اولاد

حضرت صاحبزادہ صاحب نے دوشادیاں کیں۔پہلی بیوی ایمہ ضلع ہوشیارپور کی تھیں۔یہ شادی نومبر1884ء میں ہوئی۔اسی مہینہ میں جب حضرت اقدسؑ نے خدائی الہامات اورپیشگوئیوں کے مطابق دوسری شادی کی تھی۔بلکہ انہیں دنوں میں یہ شادی ہوئی۔چنانچہ حضرت ام المومنین ؓ کی ایک روایت ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سیرت المہدی میں تحریر فرماتے ہیں:

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جس دن میں قادیان بیاہی ہوئی پہنچی تھی اسی دن مجھ سے چند گھنٹے قبل مرزا سلطان احمد اپنی پہلی بیوی یعنی عزیز احمد کی والدہ کو لے کر قادیان پہنچے تھے اور عزیز احمد کی والدہ مجھ سے کچھ بڑی معلوم ہوتی تھیں…‘‘ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 211) واضح ہو کہ یہ شادی 17؍نومبر1884ء بروز سوموار ہوئی تھی۔(ماخوذازسیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 69)اس بیوی سے حضرت صاحبزادہ عزیزاحمدصاحب ؓ کی ولادت ہوئی۔

حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمدصاحب نے اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہی ایک اَورشادی بھی کی۔یہ شادی مرزاامام الدین صاحب کی بیٹی خورشیدبیگم صاحبہ سے ہوئی۔چنانچہ ایک روایت اس کے متعلق یہ بیان ہوئی ہے :

’’…مرزاسلطان احمدکی پہلی بیوی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھی اور حضرت صاحب اس کو اچھا جانتے تھے۔ مرزا سلطان احمد نے اسی بیوی کی زندگی میں ہی مرزا امام الدین کی لڑکی خورشید بیگم سے نکاح ثانی کر لیا تھا اس کے بعد عزیز احمد کی والدہ جلد ہی فوت ہو گئی…‘‘

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 212)

اولاد

حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اولاد نرینہ سے نوازا۔ پہلی بیوی سے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ اور دوسری بیوی سے صاحبزادہ مرزارشیداحمدصاحب۔

حضرت صاحبزادہ مرزاعزیزاحمدصاحب3؍اکتوبر 1890ء کو پیدا ہوئے۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے دست مبارک پربیعت کاشرف پایا اور اعلیٰ دینی ودنیاوی عہدوں پرفائزرہے۔ایک لمبے عرصے تک ایک محنتی فرض شناس اور دیانتدار افسر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت میں رہے اوربالآخر 1945ء میں اے ڈی ایم کے اعلیٰ عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اس کے بعد بقیہ ساری زندگی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کے لئےو قف رکھی۔ قیام پاکستان اور ہجرت کے بعد 16 جولائی 1949ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔ اس عہدہ پر20 سال تک فائز رہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزاعزیزاحمدصاحب کی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد مارچ 1930ء میں دوسری شادی حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ کی صاحبزادی محترمہ نصیرہ بیگم سے ہوئی جن کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے چار صاحبزادیاں اور دو صاحبزادے عطا فرمائے۔

آپ کے دونوں صاحبزادوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سلسلہ احمدیہ کی بیش ازپیش خدمات کرنے کی سعادت حاصل کی یعنی محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ایم اے مرحوم جو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کے مسندِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ناظر اعلیٰ وامیرمقامی نیز صدر صدر انجمن احمدیہ کے عہدے پر تاوقتِ وفات خدمات بجا لاتے رہے اور محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ناظر دیوان جو اپنے بھائی صاحب کی وفات کے بعد ناظراعلیٰ وامیرمقامی کے عہدہ پرفائزہوئے اور چند ہی روز بعد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد ؓصاحب کا وجود باجود اپنے نہایت اعلیٰ اوصاف اور اہم دینی خدمات کے علاوہ اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نشان تھا۔ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو بذریعہ خواب آپ کے قبول احمدیت کا نظارہ دکھایا گیا تھا جو کہ حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے والد بزرگوار سے پہلے یعنی 1906ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ بیعت سے سات برس قبل 20؍ اکتوبر 1899ء کو حضورؑ کو یہ خواب دکھایا گیا کہ

’’ایک لڑکا ہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام کے سر پر سلطان کا لفظ ہے۔ وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سا لڑکا گورے رنگ کا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد15صفحہ 505وتذکرہ صفحہ284 ایڈیشن چہارم)

سو اس خواب کے عین مطابق آپ کو حضوؑر کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرنے اور صحابہؓ میں شامل ہونے کا خصوصی فخر حاصل ہوا۔ 25؍جنوری 1973ء کوآپ کی وفات ہوئی۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں تدفین ہوئی۔

حضرت صاحبزادہ مرزاسلطان احمدصاحب کی دوسری بیوی سے صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب15؍جون 1905ء کو تولدہوئے۔ان کی شادی حضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمدصاحبؓ کی سب سے بڑی صاحبزادی امۃ السلام صاحبہ سے جون 1924ء میں ہوئی۔

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close