متفرق شعراء

اُس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

وہ جو احمدؐ بھی ہے اور محمدؐ بھی ہے

وہ مؤیَّد بھی ہے اور مؤیِّد بھی ہے

وہ جو واحد نہیں ہے پہ واحد بھی ہے

اک اُسی کو تو حاصل ہوا یہ مقام

اُس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

سوچا جب وجہِ تخلیق دنیا ہے کیا؟

عرش سے تب ہی آنے لگی یہ نِدا

مصطفیٰ، مصطفیٰ، مصطفیٰ، مصطفیٰ

وہ ہے خیرالبشر وہ ہے خیرالانام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

قطبِ روحانیت، ذاتِ قبلہ نما

ہادی و پیشوا، رہبر و رہنما

مرشد و مقتدا، مجتبیٰ مصطفیٰ

حق کا پیارا نبی اور چنیدہ امام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

اس کی سیرت حسیں ، اس کی صورت حسیں

کوئی اس سا نہ تھا ، کوئی اس سا نہیں

اس کا ہر قول ہر فعل ہے دلنشیں

خوش وضع ، خوش ادا ، خوش نوا ، خوش کلام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

وہ صدوق و امین و رؤف و رحیم

وہ نذیر و بشیر و رسولِ کریم

ذات اس کی ہے تفسیر خُلقٍ عظیم

اس کے اخلاق کامل ہیں خلقت ہے تام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

رحمتِ تام بہرِ صغیر و کبیر

وہ مہِ ضوفشاں اور مہرِ منیر

بحرِ ظلمات میں روشنی کا سفیر

اس کے دم سے ہوا روشنی کا قیام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

وہ محبت کا نادی محبت اتم

وہ مروت کا پیکر وہ رحمت اتم

عفو اور درگذر اور اخوت اتم

ہر خوشی کا وہ منبع مسرت تمام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

مرد کے بس میں تھی عورتوں کی حیات

اس نے ہر ظلم سے ان کو دی ہے نجات

اس نے عورت کی تکریم کی کر کے بات

کہہ دیا میں ہوں رحم و کرم کا امام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

زندہ رہنے کا عورت کو حق دے دیا

اس کے اُلجھے مقدر کو سلجھا دیا

خُلد کو اس کے قدموں تلے کر دیا

اس نے عورت کو بخشا نمایاں مقام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

درس ضبط و تحمّل کا یوں بھی دیا

وہ کہ جو آپ کی جان لینے چلا

ایسے دشمن سے بھی درگذر کر دیا

ہاتھ میں گرچہ تلوار تھی بے نیام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

اہلِ ثروت کو ثروت کا حق دے دیا

عَبد کو بھی قیادت کا حق دے دیا

ہر کسی کو شریعت کا حق دے دیا

وہ سکونِ خواص و قرارِ عوام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

ہے صفاتِ الٰہی کا مظہر وہی

آئندہ سے گذشتہ سے برتر وہی

نوعِ انسان کا ہے مقدّر وہی

ختم اس پر نبوت شریعت تمام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

وہ محمدؐ ہے احمدؐ ہے محمود ہے

وہ شہادت ہے شاہد ہے مشہود ہے

وہ جو مقصد ہے قاصد ہے مقصود ہے

اس کی خاطر ہوا اس جہاں کا قیام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

ہر حسیں خُلق اُس میں ہی موجود ہے

وہ جو روزِ ازل سے ہی موعود ہے

ماسوا اس کے ہر راہ مسدود ہے

میری ہر سانس کا اس کو پہنچے سلام

اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام

(کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم صاحبہ سلمہا اللہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close