متفرق شعراء

گلاب سے اے دلبرم

سُخنوروں کے شہر میں وہ باسُخن کمال است

گلاب تو ہزار ہیں وہ گُل بدن کمال است

مرے لئے وہی تو ہے متاعِ جاں جمالِ زیست

سنو اگر نہیں ہے وہ مرے لئے جہان نِیست

سُنو گے اس کی گفتگو کہو گے بات ختم شُد

ملے جو آفتاب سے کہو گے رات ختم شُد

یونہی عطا نہیں ہوا اسے مقام دلبری

مجھے دکھائو نہ کبھی کرے جو اس کی ہمسری

اُسی پہ جاں فریفتہ یہ دل بصد نیاز ہے

دُعا دُعا سا شخص وہ جو سر تا پا نماز ہے

اے شاہ گُل مرے لئے تری رضا ہے تاج و تخت

یہی ہے میری داستاں یہی ہے میری سرگزشت

تو پیار سے جو دیکھ لے تو ساغر و شراب کیا

ہو محو گفتگو جو تو تو نغمہ و رُباب کیا

دِلم ہے درِ فراق تُو جوں طفلِ اشکبار ہو

آذاں کے انتظار میں جوں گوشِ روزہ دار ہو

اگر ملے نہ یار تو گُہر تمام سنگ و خِشت

کہ عاشقوں کے واسطے وصالِ یار ہے بہشت

سدا رہے تو شادماں گلاب سے اے دلبرم

میں اپنا حال کیا کہوں میں جان و دل سے تُو شُدم

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button