سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائلِ مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام

(سید مبشر احمد ایاز)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے علاج معالجہ اور ادویات کا بیان(حصہ دوم)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں :

’’ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورہ یٰسین سنائی۔جب تیسری مرتبہ سورہ یٰسین سنائی گئی تو میں دیکھتاتھا کہ بعض عزیز میرے جو اب وہ دنیا سے گذر بھی گئے دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے۔اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا۔اور بار بار دمبدم حاجت ہوکر خون آتا تھا۔سولہ دن برابر ایسی حالت رہی۔اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اَور شخص بیمار ہوا تھا وہ آٹھویں دن راہی ملک بقا ہوگیا۔حالانکہ اُس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو سولھواں دن چڑھا تو اُس دن بکلّی حالاتِ یاس ظاہر ہوکر تیسری مرتبہ مجھے سورہ یٰسین سنائی گئی۔اور تمام عزیزوں کے دِل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہوگا۔تب ایسا ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کرکے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے۔

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمّدٍ وَّآلِ مُحَمّد۔

اور میرے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ اِس سے تو شفا پائے گا۔چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا او رمیں نے اسی طرح عمل کرنا شروع کیا جیسا کہ مجھے تعلیم دی تھی۔اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں دردناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اِس حالت سے نجات ہو۔مگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلّی مجھے چھوڑ گئی۔اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا

وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِشِفَاءٍ مِّن مِّثْلِہٖ۔

یعنی اگر تمہیں اِس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔یہ واقعہ ہے جس کی پچاس آدمی سے زیادہ لوگوں کو خبر ہے۔بعض ان میں سے مرگئے اور بعض ابھی تک زندہ ہیں جو حلفاً بیان کرسکتے ہیں ۔لیکن حلف اسی قسم کی ہوگی جس کا نمونہ نمبر دو (2) میں مفصل ہے۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15صفحہ208-209)

نیز آپؑ مزید فرماتے ہیں :

’’اوریہ خواب اُن ایّام میں آئی تھی کہ جب میں بعض اعراض اور امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گذر چکا تھا جبکہ مجھے دِق کی بیماری ہوگئی تھی اور بباعث گوشہ گزینی اور ترکِ دنیا کے اہتمامات تأہّلسے دِل سخت کَارِہ تھا اور عیال داری کے بوجھ سے طبیعت متنفّر تھی…‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15صفحہ202)

آپؑ نے فرمایا:

’’غرض اِس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں ۔اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔چنانچہ وہ دوا میں نے طیار کی۔اور ا س میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دِلی یقین سے معلوم کرلیا کہ وہ پُر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے۔اگردنیا اِس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اِس جگہ اس واقعہ حقّہ کو جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لئے مجھے عطا کیا گیا بہ تفصیل بیان کرتا تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیّوم کے نشان ہررنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہوسکتے۔میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خدا داد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔اس لئے میرا یقین ہے کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15صفحہ204)

ایک اَور جگہ آپؑ فرماتے ہیں :

’’ایک مرتبہ میں ایسا سخت بیمار ہوا کہ میرا آخری وقت سمجھ کر مجھ کو مسنون طریقہ سے تین دفعہ سورئہ یٰسین سنائی گئی اور میری زندگی سے سب مایوس ہو چکے تھے۔اور بعض عزیز دیواروں کے پیچھے روتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے الہاماً مجھے یہ دعا سکھلائی

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ

اور القا ہوا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینے اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ تو اس سے شفا پائے گا چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اور ابھی پیالہ ختم نہ ہونے پایا تھا کہ مجھے بکلّی صحت ہو گئی۔پھر یہ الہام ہوا۔

وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِشِفَاءٍ مِّن مِّثْلِہٖ

یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو ہم نے شفا دے کر دکھایا ہے تو تم اس کی نظیر پیش کرو۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ585-586)

آپؑ ایک اَور جگہ یوں فرماتے ہیں :

’’ایک دفعہ میں خود سخت بیمار ہو گیا اور حالت ایسی بگڑی کہ بیماری سے جانبر ہونا مشکل معلوم ہوتا تھا تب یہ الہام ہوا۔

مَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق عین ناامیدی کی حالت میں شفا بخشی اور یوں تو ہزارہا لوگ شفا پاتے ہیں مگر ایسی ناامیدی کی حالت میں سینکڑوں انسانوں میں دعویٰ سے یہ پیش کرنا کہ شفا ضرور حاصل ہو جائے گی یہ انسان کا کام نہیں۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ599)

ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں :

’’جب میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو 16؍ اکتوبر 1903ء کو بمقام گورداسپور ایک مقدمہ پر جاؤں جو ایک مخالف کی طرف سے فوجداری میں میرے پر دائر ہے یہ رسالہ تالیف کرلوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں ۔تو ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گردہ سخت پیدا ہوا۔میں نے خیال کیا کہ یہ کام ناتمام رہ گیا صرف دو چار دن ہیں ۔اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے۔تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گا۔تب خدا تعالیٰ نے مجھے دُعا کی طرف توجہ دلائی۔مَیں نے رات کے وقت میں جبکہ تین گھنٹے کے قریب بارہ بجے کے بعد رات گزر چکی تھی اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ اب میں دُعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔سو میں نے اُسی دردناک حالت میں صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کے تصور سے دُعا کی۔کہ یا الٰہی اس مرحوم کے لئے میں اس کو لکھنا چاہتا تھا۔تو ساتھ ہی مجھے غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔

سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِیْم۔

یعنی سلامتی اور عافیت ہے یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔پس قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہوگیا۔اور اُسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20صفحہ74-75)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے بیان فرماتے ہیں :

’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مفصلہ ذیل ادویات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے صندوق میں رکھتے تھے۔اور انہی کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔انگریزی ادویہ سے کونین، ایسٹن سیرپ، فولاد، ارگٹ، وائینم اپی کاک، کولا اور کولا کے مرکبات، سپرٹ ایمونیا۔ بیدمشک، سٹرنس وائن آف کاڈلِور آئل۔کلوروڈین کاکل پل، سلفیورک ایسڈ ایرومیٹک، سکاٹس ایملشن رکھا کرتے تھے۔اور یونانی میں سے۔مُشک، عنبر، کافور، ہینگ، جدوار۔اورایک مرکب جو خودتیار کیاتھایعنی تریاق الٰہی رکھا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ ہینگ غرباء کی مُشک ہے۔اور فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب وغریب فوائد ہیں۔ اسی لئے اسے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے۔ان میں سے بعض دوائیں اپنے لئے ہوتی تھیں اور بعض دوسرے لوگوں کے لئے کیونکہ اور لوگ بھی حضور کے پاس دوا لینے آیا کرتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی جلداول روایت نمبر 929)

(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close