سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شجاعت علمی اور غیرت دینی

(طارق محمود بلوچ۔مربی سلسلہ ربوہ)

’’پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہو ایسی شجاعت کبھی نہیں دکھاتا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہوجائے‘‘

قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میںمعلوم ہوتا ہے کہ اسلام پر ایک بہت ہی کمزوری کا زمانہ آئے گا جب اندرونی طور پر بھی خرابیاں اسے تباہ حال کر دیں گی اور بیرونی حملوں سے بھی وہ نڈھال ہو گا۔ایسے زمانے میں خدا تعالیٰ اسلام کی حمایت میں ایک عظیم پہلوان کو کھڑا کرے گا جو اپنی روحانی طاقت سے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ ایمان اگر ثریا پربھی جا چکا ہو گا تو اسے وہاں سے واپس کھینچ لائے گا اوراسلام کو تمام ادیان پرغالب کر دے گا۔

چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ۔ وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔(سورۃ الجمعۃ:2تا4)

ترجمہ: وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔ اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔

ھُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہٗ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ۔(سورۃ الصف:10)

ترجمہ: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اُسے دین (کے ہر شعبہ) پر کلیۃً غالب کردے خواہ مشرک برا منائیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک ایسے وقت میں دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کی مہم لے کر کھڑے ہوئے جب بظاہر یہ دین کس مپُرسی کی حالت میں تھا اور دین کے حامی شعراء اس کی موجودہ حالت پر نوحے لکھ رہے تھے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک فارسی شعر میں فرمایا کہ

ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواجِ یزید

دینِ حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدیں

اپنے اردو منظوم کلام میں فرماتے ہیں:

ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دین احمدؐ پر تبر

کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور ان کے وہ وار

کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج

اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار

ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے کے اسلام کا پر شوکت منظر تھا اور ایک طرف یہ بھیانک تصویر تھی مردار بتوں کے پجاریوں کو بھی یہ مجال ہوئی کہ بڑھ بڑھ کر اسلام پر حملہ آور ہونے لگے اور ان کے حوصلے یہاں تک بلند ہوئے کہ سیوا جی نے راجا سنگھ کے نام اپنے خط میں لکھا:

‘‘میری تلوار مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے۔افسوس صد ہزار افسوس کہ یہ تلوار مجھے ایک اور ضرورت کے لیے میان سے نکالنی پڑی۔اسے مسلمانوں کے سر پر بجلی بن کر گرنا چاہیے تھاجن کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ انہیں انصاف کرنا آتا ہے۔میری بادلوں کی طرح گرجنے والی فوجیں مسلمانوں پر تلواروں کا وہ خونی مینہ برسائیں گی کہ دکن کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سارے مسلمان اس خون میں بہہ جائیں گے اور ایک مسلمان کا نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔’’

(منقول از اخبار الجمیعہ دہلی۔بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ15)

ہندوؤں کے احیائے نو کی ایک تحریک آریہ سماج کے نام سے اٹھی جس کا اولین مقصد ہندو مت کو اسلام پر اس طرح غالب کرنا تھا کہ ہندوستان میں بھولے سے بھی کوئی مسلمان نہ ملے۔چنانچہ اخبار پرکاش نے لکھا کہ

‘‘ہندوستان میں سوائے ہندو راج کے دوسرا راج قائم نہیں رہ سکتا۔ایک دن آئے گاکہ ہندوستان کے سب مسلمان ایک دن شدھی کے ذریعہ آریہ سماجی ہو جائیں گے۔یہ بھی ہندو بھائی ہیں آخر صرف ہندو ہی رہ جائیں گے۔یہ ہمارا آدرش ہے یہ ہماری آشا ہے۔سوامی جی مہاراج نے آریہ سماج کی بنیاد اسی اصول کو لے کر ڈالی۔’’

(پرکاش۔لاہور26؍اپریل1925ء بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ16)

ایک طرف ہندوؤں کی یہ کیفیت تھی تو دوسری طرف پنجاب کی سرزمین میں سکھ راج نے مسلمانوں پر آفت ڈھا رکھی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کی قوم کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور ان کے دستِ تعدّی سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا ہی تباہ تھی بلکہ ان کی دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔دینی فرائض کا ادا کرنا تو درکناربعض اذان کے کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے۔’’

(روئیداد جلسہ دعا،روحانی خزائن جلد15صفحہ624)

اس حالتِ زار کے وقت انگریزی حکومت کے آجانے سے اگرچہ امن و امان کا دور دورہ ہوا لیکن افسوس کے ان کے ساتھ آنے والا عیسائیت کا پیغام مسلمانوں کے لیے تباہی کا پیغام بن کر آیا۔اور اسلام پر عیسائیت نے بھر پور یلغار کی اور ہندوستان میں اس قدر ان کو کامیابی حاصل ہونے لگی کہ فتح کے نشے میں بدمست عالمی شہرت یافتہ عیسائی پادری یہ بلند بانگ دعوے کرنے لگے کہ

‘‘دنیائے عیسائیت کا عروج آج اس درجہ زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ اس درجہ عروج اس سے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ذرا ہماری ملکہ عالیہ وکٹوریہ کو دیکھوجو ایک ایسی سلطنت کی سربراہ ہے جس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔’’

(بیروزلیکچرز۔صفحہ20،19)

پھر ڈاکٹر بیروز خاص اسلامی ملکوں میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا بڑے فاتحانہ انداز میں ذکر کرتا ہے۔وہ کہتا ہے:

‘‘اب میں اسلامی ملکوں میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں اس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی چمکار اگر ایک طرف لبنان پر جلوہ فگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کے نور سے جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورتحال اس آنے والے انقلاب کا پیش خیمہ ہے جب قاہرہ، دمشق اور تہران خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گے، حتی کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی خداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کے ذریعہ مکہ اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہو گی اور بالآخر وہاں صداقت کی منادی کی جائے گی کہ ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ حقیقی اور واحد خدا کو اور یسوع مسیح کو جانیں جس کو تو نے بھیجا ہے۔’’

(بیروز لیکچرز۔صفحہ42)

غرض اس مذہبی جنگ کے میدان میں یہ نقشہ تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس میدانِ کارزار میں قدم رکھا۔آپؑ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:

جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا

دل گھٹا جاتا ہے یا رب سخت ہے یہ کارزار

اے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ

وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار

جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے

میں غریب اور ہے مقابل پر حریفِ نامدار

پس خدا نے اپنی رحمت سے آپؑ کی تائید و نصرت فرمائی اور آپؑ نے اس شان اور قوت اور فنی مہارت اور بے مثال فراست کے ساتھ اہل اسلام کی کمان سنبھالی کہ گذشتہ تیرہ سو سالوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔آپؑ کا جہاد فی سبیل اللہ بارگاہ الٰہی میں اس قدر مقبول ہوا کہ الہاماً آپ کو جَرِی اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ(تذکرہ صفحہ 63)کا لقب عطا کیا گیایعنی فرمایا گیاکہ دیکھو خدا کا پہلوان نبیوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے میدانِ کارزار میں اترا ہے۔

آپ نے اس شجاعت اور جوانمردی اور کاری وار سے اس دفاع کا آغاز کیا کہ غیر بھی پکار اٹھے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اول کے بعد آپ کے علاوہ کسی کو ایسی توفیق نہیں ملی۔

اس سلسلہ میں آپؑ کی سب سے پہلی تصنیف لطیف براہین احمدیہ گویا اہل اسلام کے لیے جدید اور مضبوط ہتھیاروں کا ایک اسلحہ خانہ ثابت ہوئی جس نے دشمن کے کیمپ میں ایک کھلبلی مچا دی۔عیسائیت اور آریہ کی جڑوں پر تبر رکھ دیا۔ اور اپنوں کو نئی جرأت اور اعتماد اور طاقت حاصل ہوئی۔آپؑ نے للکارا کہ کسی میں جرأت ہے تو اس کتاب کے دلائل کے پانچویں حصے کا ہی جواب لکھ کر دکھا دے۔اسی کتاب پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے وہ تاریخی خراج عقیدت پیش کیاجو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔مولوی صاحب موصوف نے لکھا:

‘‘ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانے میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں۔’’

(اشاعۃ السنۃ جلد7نمبر6صفحہ:348۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 1صفحہ172)

مولوی صاحب موصوف نے تو یہ کہا کہ آج تک اس کتاب کی نظیر نہیں اور آئندہ کی خبر نہیں،مگر جناب مولانا محمدشریف بنگلوری مدیر اخبار منشور محمدی نے لکھا کہ

‘‘لَا الہ الا اللّٰہ حق اور محمد رسول اللہ برحق ہم توفخریہ یہ کہتے ہیں کہ جواب ممکن نہیں ہاں قیامت تک محال ہے۔’’

(منشور محمدی بنگلور۔25رجب المرجب1300ھ۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد1صفحہ176)

غرض اس براہین احمدیہ جیسی عظیم کتاب کے ساتھ اس غلبہ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے بعد تمام بڑے بڑے مذاہب عیسائیت،ہندومت،وغیرہ کو جو اسلام پر حملہ آور تھے،اسی طرح مغربی فلسفہ کے زہریلے اثر کو آپؑ نے نہ صرف آسمانی نشانوں سے پارہ پارہ کیا بلکہ دلائل و براہین قاطعہ کےساتھ بھی ان کا ایسا منہ توڑ جواب دیا اور ان کا ایسا ناطقہ بندکیا اور اس دفاع کے بعد اسلام کی طرف سے ایسے زور دار حملے کیے کہ انہیں میدان سے بھاگنے کے سوا چارہ نہ رہااور جو پہلے فتح کے شادیانے بجا رہے تھے اچانک سوگوار ہو کراپنی ناکامیوں پر ماتم کرنے لگے اور ان کی حالت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کے مطابق ہو گئی کہ

ایک دم میں غم کدے ہو جائیں گے عشرت کدے

شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہو کر سوگوار

آپؑ نے اس روشنی کے زمانہ میں دلائل اور براہین کے ہتھیاروں سے ہر مذہب کے ہر باطل عقیدے کو خواہ اس کی جڑیں سینکڑوں سال سے دلوں اور دماغوں میں پیوست تھیں، جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔اور پھر ہر مذہب کے پیروکار کو نہایت شجاعت و بہادری سےعلمی مقابلہ کے لیے بھی پکارا کہ اگر ہمت ہے تو میرے پیش کردہ علمی دلائل کو رد کر کے دکھا دو۔اور آسمانی نشانوں کے مقابلہ کے لیے بھی پکارا کہ اگر اسلام کے سوا کوئی اور بھی زندہ مذہب ہے تو اس کی زندگی ثابت کرو۔مگرشیرخدا کے آگے کھڑے ہونے کی کسے جرأت ہو سکتی ہے۔کیونکہ مقابلہ کے وقت خدا کی نصرت مومنوں کے ہی شاملِ حال ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر ایسی شجاعت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر میدان میں بے خوف اور نڈر ہو کر اتر پڑتے ہیں، خواہ علمی مقابلہ کا میدان ہو، خواہ روحانی مقابلہ کا، کیونکہ ان کی غیرت دینی ایسے موقع پر جوش میں ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘کیا انہوں نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا کہ عندالمقابلہ نصرت الہی مومنوں کے ہی شاملِ حال ہوتی ہے۔ اللہ جلشانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے

وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْن

اے مومنو! مقابلہ سے ہمت مت ہارو اور کچھ اندیشہ مت کرو اور انجام کار غلبہ تمہیں کا ہے اگر تم واقعی طور پر مومن ہو۔ اور فرماتا ہے

لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکَافِریْنَ عَلی الْمُؤمِنِیْنَ سَبِیْلًا

یعنی خدا تعالیٰ ہر گز کافروں کو مومنوں پر راہ نہیں دے گا۔’’

(آسمانی فیصلہ،روحانی خزائن جلد 4صفحہ333تا334)

یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت دینی کا جوش ہی تھا جس نے اسلام کی نازک حالت دیکھ کر آپ کو اس کے دفاع کے لیے کھڑا کیا ۔اس لحاظ سے آپؑ کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک عمل آپ کی غیرت دینی کا گواہ ہے۔آپ کے اس فطری نور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے تائیدات کا نور نازل ہوا جس نے آپ کو دشمن کے مقابلے کے لیے بے شمار طاقتیں بخشیں اور آپ کے اندر ایسی شجاعت پیدا کر دی جس کے آگے ہر دشمن خس و خاشاک کی طرح اڑ گیا۔اگرچہ آپؑ اسلام کے سپہ سالار کے طور پر دوسرے مذاہب کے خلاف برسر پیکار تھے اور دینی غیرت رکھنے والے مسلمان نہ صرف آپ کے مداح بلکہ شکر گزار تھے مگر کوتاہ اندیش طائفہ مولوی آپ کے معاون و مددگار بننے کی بجائے آپ کے مخالف بن کر کھڑے ہو گئے۔چنانچہ آپؑ نے دیگر مذاہب کے مخالفین کے ساتھ ساتھ مولویوں کو بھی اپنی شجاعت علمی کے نمونے دکھاکر ان کو شرم سار اور کالمیت کر دیا۔

آپ علیہ السلام کی شجاعت علمی اور دینی غیرت کا اظہار آپؑ کے الفاظ میں ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔اگرچہ آپ کا سارا لٹریچر ہی آپ کی شجاعت علمی پر گواہ ہے تاہم مضمون کی طوالت کی مناسبت سے چند ایک حوالہ جات پیش ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘ چونکہ میں حق پر ہوں اور دیکھتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر میری ساری قوم کیا پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا روم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام اوراُن کے علماء اور اُن کے فقراء اور اُن کے مشائخ اوراُن کے صلحاء اور اُن کے مرد اور اُن کی عورتیں مجھے کاذب خیال کر کے پھرمیرے مقابل پر دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا اُن میں۔ اور آسمانی دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر۔ اور وہ محبوب حقیقی اپنی خاص عنایات اور اپنے علوم لدؔنیہ اور معارف روحانیہ کے القاء کی وجہ سے میرے ساتھ ہے یا اُن کے ساتھ۔ تو بہت جلد اُن پر ظاہرہوجائے گا کہ وہ خاص فضل اور خاص رحمت جس سے دل مورد فیوض کیاجاتا ہے اسی عاجز پر اس کی قوم سے زیادہ ہے۔کوئی شخص اس بیان کو تکبّر کے رنگ میں نہ سمجھے بلکہ یہ تحدیث نعمت کی قسم میں سے ہے وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ۔

(ازالہ اوہام،روحانی خزائن جلد3صفحہ478تا479)

ایک موقع پر آپؑ اپنی محمدی اور عیسوی شان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دنیا کی مشکلات کے لئے میری دُعائیں قبول ہو سکتی ہیں دوسروں کی ہر گز نہیں ہوسکتیں۔ اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہر گز نہیں لکھ سکتا۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی۔ اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اُٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہو گا۔دیکھو میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانو! تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسّر اور محدّث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اوربلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں ۔ اُٹھو! اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔ پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شانیں یعنی شانِ عیسوی اور شانِ محمدی مجھ میں جمع ہیں ۔ اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہوں گی اور ذوالبروزین ہو گا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا۔ مجھے ؔ خدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی نشان دکھلاؤں یا شانِ محمدی کی طرز سے حقائق و معارف اور نکات اور اسرارِ شریعت بیان کروں اور میدانِ بلاغت میں قوتِ ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اُسی کے ارادے سے زمین پر بجز میرے ان دونوں نشانوں کا جامع اور کوئی نہیں ہے ۔اور پہلے سے لکھا گیا تھا کہ ان دونوں نشانوں کا جامع ایک ہی شخص ہو گا جو آخر زمانہ میں پیدا ہو گا اور اُس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہوگا اور آدھا حصہ محمد ی شان کا سو وہی مَیں ہوں جس نے دیکھنا ہو دیکھے جس نے پرکھنا ہو پرکھے مبارک وہ جو اب بخل نہ کرے۔ اور نہایت بدبخت وہ جو روشنی پا کر تاریکی کو اختیار کرے۔’’

(ایام الصلح،روحانی خزائن جلد14صفحہ407تا408)

قرآن اور زبان قرآن کا خارق عادت علم

اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص طور پر قرآن کے حقائق و معارف سکھائےتھے۔چنانچہ آپؑ نے نہ صرف بےشمار حقائق و معارف بیان فرمائے بلکہ نہایت شوکت اور شجاعت سے ہر منکر کومقابلہ کی دعوت بھی دی۔آپؑ فرماتے ہیں:

‘‘اگر اس امر میں شک ہو کہ قرآن شریف کیونکر تمام حقائق الٰہیات پر حاوی ہے تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب طالبِ حق بن کر یعنی اسلام قبول کرنے کا تحریری وعدہ کر کے کسی کتاب عبرانی، یونانی، لاطینی، انگریزی، سنسکرت وغیرہ سے کسی قدر دینی صداقتیں نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الٰہیات کا باریک دقیقہ پیدا کر کے دکھلاویں تو ہم اس کو قرآن شریف میں سے نکال دیں گے۔’’

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ272تا277)

آپ نے خاص طور پر قرآن مجید کی تفسیر کے مقابلہ کے لیے بھی بار بار للکارا مگر کسی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔آپؑ نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو بھی بالمقابل عربی میں تفسیر لکھنے کا چیلنج دیا مگر اس نے گریز کی راہ اختیار کی۔ملاحظہ فرمائیں کہ حضور علیہ السلام نےکس شجاعت اور تحدی سے اس چیلنج کے حوالے سے درج ذیل الفاظ بیان فرمائے:

‘‘پیر صاحب دلگیر نہ ہوں۔ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لیے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسین بھین وغیرہ کو بلا لیں۔ بلکہ اختیار دیتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔’’

( اربعین نمبر4،روحانی خزائن جلد 17صفحہ484)

عربی زبان کا خارق عادت نشان

جیسا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشان کے طور پر قرآن کا خاص علم دیا گیا ویسے ہی آپ کو خارق عادت طور پر عربی زبان کا بھی علم دیا گیا اور ہر دو میں مقابلہ کا آپ کا بہادرانہ چیلنج کسی کو قبول کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘مجھے ایک دفعہ یہ الہام ہوا کہ الرَّحمٰن علّم القراٰن۔ یَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔ یعنی خدا نے تجھے اے احمد قرآن سکھلایا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ اور اس الہام کی تفہیم مجھے اِس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبان قرآن کی نسبت دو ؔ طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ معارف عالیہ فرقان حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جن میں دُوسرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ (۲) دوسرے یہ کہ زبانِ قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی کہ اگر تمام علماء مخالفین باہم اتفاق کرکے بھی اِس میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو ناکام اور نامراد رہیں گے اور وہ دیکھ لیں گے کہ جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسان عربی مع التزام حقائق و معارف و نکات میری کلام میں ہے وہ ان کو اور ان کے دوستوں اور ان کے استادوں اور ان کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔ اس الہام کے بعد میں نے قرآن شریف کے بعض مقامات اور بعض سورتوں کی تفسیریں لکھیں اور نیز عربی زبان میں کئی کتابیں نہایت بلیغ و فصیح تالیف کیں اور مخالفوں کو ان کے مقابلہ کے لئے بلایا بلکہ بڑے بڑے انعام ان کے لئے مقرر کئے اگروہ مقابلہ کرسکیں اور ان میں سےجو نامی آدمی تھے جیسا کہ میاں نذیر حسین دہلوی اور ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹراشاعۃ السُّنہ ان لوگوں کو بار بار اس امر کی طرف دعوت کی گئی کہ اگر کچھ بھی ان کو علم قرآن میں دخل ہے یا زبان عربی میں مہارت ہے یا مجھے میرے دعویٰ مسیحیت میں کاذب سمجھتے ہیں تو ان حقائق و معارف پُر از بلاغت کی نظیر پیش کریں جو میں نے کتابوں میں اِس دعویٰ کے ساتھ لکھے ہیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بالاتر اور خدا تعالیٰ کے نشان ہیں مگر وہ لوگ مقابلہ سے عاجز آگئے ۔نہ تو وہ ان حقائق معارف کی نظیر پیش کرسکے جن کو میں نے بعض قرآنی آیات اور سورتوں کی تفسیر لکھتے وقت اپنی کتابوں میں تحریر کیا تھا اور نہ اُن بلیغ اور فصیح کتابوں کی طرح دو سطر بھی لکھ سکے جو میں نے عربی میں تالیف کرکے شائع کی تھیں۔ چنانچہ جس شخص نے میری کتاب نورالحق اور کرامات الصادقین اور سرّالخلافۃ اور اتمام الحجّۃ وغیرہ رسائل عربیہ پڑھے ہوں گے اور نیز میرے رسالہ انجام آتھم اور نجم الھُدیٰ کی عربی عبارت کو دیکھا ہوگا وہ اِس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ ان کتابوں میں کس زور شور سے بلاغت فصاحت کے لوازم کو نظم اور نثر میں بجا لایا گیا ہے اور پھر کس زور شور سے تمام مخالف مولویوں سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ علم قرآن اور بلاغت سے کچھ حصہ رکھتے ہیں تو ان کتابوں کی نظیر پیش کریں ورنہ میرے اس کاروبار کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میری حقّیت کا نشان اس کو قرار دیں لیکن افسوس کہ ان مولویوں نے نہ تو انکار کو چھوڑا اور نہ میری کتابوں کی نظیر بنانے پر قادر ہوسکے۔ بہرحال ان پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہوگئی اور وہ اُس الزام کے نیچے آگئے جس کے نیچے تمام وہ منکرین ہیں جنہوں نے خدا کے مامورین سے سرکشی کی۔’’

(تریاق القلوب،روحانی خزائن جلد 15صفحہ 230تا231)

آپؑ کے درج ذیل الفاظ میں کیا ہی شوکت پائی جاتی ہے۔فرماتے ہیں:

‘‘میں عربوں کے دعویٰ ادب و فصاحت و بلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں۔یہ لوگ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے آپ کو اہل زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں ۔ان کے قلم توڑ دیئے جائیں گے اور اگر ان میں کچھ طاقت ہے اور قوت ہےتو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔ پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ ناواقف کہا کرتے ہیں کہ عربوں کو ہزار ہا روپے کے نوٹ دے کر کتابیں لکھائی جاتی ہیں۔اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے جو ایسی فصیح و بلیغ کتاب اور ایسے حقائق و معارف سے پر لکھ سکتا ہے۔ جو کتابیں یہ ادب و انشا کا دعویٰ کرنے والے لکھتے ہیں ان کی مثال پتھروں کی سی ہے کہ سخت، نرم ، سیاہ، سفیدپتھر جمع کر کے رکھے جائیں مگر یہ تو ایک لذید اور شیریں چیز ہے جس میں حقائق اور معارف قرآنی کے اجزا ترکیب دیے گئے ہیں۔ غرض جو بات روح القدس کی تائید سے لکھی جاوے اور جو الفاظ اس کے القا سے آتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک حلاوت رکھتے ہیں اور اس حلاوت میں ملی ہوئی شوکت اور قوت ہوتی ہے جو دوسروں کو اس پر قادر نہیں ہونے دیتی۔ ’’

(ملفوظات جلد دوم صفحہ375،ایڈیشن1984ء)

دعاوی اور تحقیقات علمی

آپ اپنے دعاوی پر بھی نہایت شجاعت سے قائم تھے اور ان کو ہر طرح سے ثابت کرنے کے لیے ہر وقت مستعد اور تیار تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے دارالندوہ کے علما ءکومخاطب کر کے فرمایا:

‘‘…میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلبِ ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں پھر اگر سنّت انبیاء علیہم السلام کے مطابق مَیں نے پورا ثبوت نہ دیا تو مَیں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں’’(تحفۃ الندوہ،روحانی خزائن جلد 19صفحہ101)

حیات مسیح کا عقیدہ جو سینکڑوں سالوں سے مسلمانوں کے دلوں میں میخ کی طرح گڑا ہوا تھا اور جس کے بل بوتے پر عیسائیوں نےایک عاجز انسان کو خدا بنانے کی تمام عمارت کھڑی کی ہوئی تھی آپ نےاللہ تعالیٰ سے علم پا کر اس باطل عقیدہ کو جڑ سے اکھیڑ پھینکا اور بے شمار عقلی و نقلی دلائل اس پر جمع کر دیے۔اس میدان میں آپ کی شجاعت علمی درج ذیل الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔آپ مولوی سید نذید حسین دہلوی کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:

‘‘اگر آپ یا حضرت!! ایک جلسہ بحث مقر ر کر کے میرے دلائل پیش کردہ جو صرف قرآن اور احادیث صحیحہ کی رو سے بیان کروں گا توڑ دیں۔ اور ان سے بہتر دلائل حیات مسیح ابن مریم پر پیش کریں اور آیات صریحہ بینہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کےمنطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا بجسدہ العنصری زندہ ہونا ثابت کردیں تو میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کروں گا اور تمام کتابیں جو اس مسئلے کے متعلق تالیف کی ہیں جس قدر میرے گھر میں موجود ہیں سب جلا دوں گا۔’’

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ242،ایڈیشن1989ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے میدان میں اترنے سے قبل پادریوں کے غرور سے بھرے الفاظ کا ذکر ابتدا میں کیا گیا۔حضورؑ کی بعثت کےبعد ان کی حالت حضورؑ کے اپنے الفاظ میں پیش ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری ٹھہر نہیں سکتا اور میرا رُعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ اُن کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آسکیں۔ چونکہ خدا نے مجھے رُوح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے اس لئے کوئی پادری میرے مقابل پر آہی نہیں سکتا یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور اب بُلائے جاتے ہیں پر نہیں آتے اس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اورکچھ نہیں۔’’

(تحفہ گولڑویہ،روحانی خزائن جلد17صفحہ149تا150)

غرض ہر ایک کے لیے یہ مقام غور کے لائق ہے کہ دین اسلام کی حالت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل کیسی تھی اور جب آپ غیرت دینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تن تنہا اسلام کے دفاع کے لیے سینہ سپر ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے آپ نے اس کو کس طرح تمام ادیان پر غالب کر دکھایا اور کجا وہ حالت کس مپرسی اور کجابعد کی حالتِ شوکت و شجاعت۔کوئی جھوٹا جس کے ساتھ آسمان کا خدا نہ ہو ہر گز ایسی شجاعت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘ اس نے آپ اپنے مکالمہ میں اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا اور میں کبھی امید نہیں کرسکتا کہ وہ حملے بغیر ہونے کے رہیں گے گو ان کا ظہور میرے اختیار میں نہیں۔ میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سچا ہوں۔ پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہو ایسی شجاعت کبھی نہیں دکھاتا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور ان باتوں کا دعویٰ کرے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں جو شخص قوت اور استقامت کے ساتھ ایک دنیا کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے کیا وہ آپ سے کھڑا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اس ذات قدیر کی پناہ سے اور ایک غیبی ہاتھ کے سہارے سے کھڑا ہوتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام زمین وآسمان اور ہر ایک روح اور جسم ہے سو آنکھیں کھولو اور سمجھ لو کہ اس خدا نے مجھ عاجز کو یہ قوت اور استقامت دی ہے جس کے مکالمہ سے مجھے عزت حاصل ہے۔’’

(آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد 4صفحہ333)

اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا

اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close