سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائل مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام

(سید مبشر احمد ایاز)

آپؑ کے پھل کھانے کا بیان (حصہ دوم آخر)

حضرت مصلح موعودؓ کی ایک روایت کے مطابق حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرانسیسی سیب بھی تناول فرمایا۔ چنانچہ آپؓ بیان فرماتے ہیں :

“خدا تعالیٰ بغیر اسباب کے بھی کام کر سکتا ہے۔اس کی مثال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ایک واقعہ پیش کر تا ہوں ۔ایک دفعہ آپ کو کھانسی کی شکایت تھی۔مبارک احمد کے علاج میں آپؑ ساری ساری رات جاگتے تھے۔میں ان دنوں بارہ بجے کے قریب سوتا تھااور جلدی ہی اٹھ بیٹھتا تھا لیکن جب میں سو تا اس وقت حضرت صاحب کو جاگتے دیکھتا اور جب اٹھتا تو بھی جا گتے دیکھتا اس محنت کی وجہ سے آپ کو کھانسی ہو گئی۔ان دنوں مَیں ہی آپ کو دوائی وغیرہ پلایا کر تا تھا اور چونکہ دوائی کا پلانا میرے سپرد تھا اس لیے ڈاکٹروں کے مشورہ کے مطابق ایسی باتوں پر جو کھانسی کے لیے مضر ہوں ٹوک بھی دیا کرتا۔ایک دن ایک شخص آپ کے لیے تحفہ کے طور پر کیلے لایا۔حضرت صاحبؑ نے کیلا کھانا چاہا مگر میرے منع کرنے پر کہ آپ کو کھانسی ہے آپ کیوں کیلا کھاتے ہیں آپ نے کیلا مسکرا کر رکھ دیا۔غرض چونکہ میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کراتا تھا اور تیماردار تھا آپ میری بات بھی مان لیتے تھے۔انہی دنوں ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حضرت صاحبؑ کے لیے فرانسیسی سیب لائے جو اتنے کھٹے تھے کہ کھانسی نہ بھی ہو تو ان کے کھانے سے ہوجائے لیکن حضرت صاحبؑ نے تراش کر ایک سیب کھانا شروع کر دیا۔میں نے منع کیا لیکن آپ نے نہ مانا اور کھاتے چلے گئے میں بہت کڑھتا رہا کہ اس قدر کھانسی کی آپ کو تکلیف ہے مگر پھر بھی آپ ایسا ترش میوہ کھا رہے ہیں لیکن آپ نے پرواہ نہ کی اور سیب کی پھانکیں کرکے کھاتے گئے اور ساتھ ساتھ مسکراتے بھی گئے۔جب سیب کھا چکے تو فرمایا۔تمہیں نہیں معلوم مجھے الہام ہؤا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی ہے اور اب کسی احتیاط کی ضرور ت نہیں اس لیے میں نے اﷲ تعالیٰ کے کلام کے ادب کے طور پر یہ سیب باوجود ترش ہو نے کے کھا لیا ہے۔چنانچہ اس کے بعد آپ کی کھانسی اچھی ہو گئی اور کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔”

(تقدیر الٰہی۔انوار العلوم جلد 4 صفحہ579-578)

حضرت اقدسؑ نے اپنے ایک مکتوب میں ایک پھل (گلاس)کا ذکر کچھ یوں فرمایا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

31 جون 1906ء

محبی اخویم سید ناصر شاہ صاحب سلمہٗ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کے دو عنایت نامہ پونچے (پہنچے)۔ میں بباعث بیماری نقرس اور تکلیف درد جواب نہیں لکھ سکا۔ گِلاس پونچے (پہنچ)گئے ہیں ۔ مگر سخت تُرش تھے۔ کھانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ اس لیے ان کا اچار ڈال دیا۔ کسی دوسرے پھل کی تلاش رکھیں ۔ جو اس ملک میں نہ ہوتا ہو اور میں انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ہمیشہ دعا کرتا رہوں گا۔ اب میری طبیعت بہ نسبت سابق روبصحت ہے۔ مگر چل نہیں سکتا۔ چلنے سے سخت درد ہوتی ہے۔ باقی خیریت ہے۔

والسلام

مرزا غلام احمد عفی عنہ

(رجسٹر روایات اصحاب احمد غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ نمبر376، 377 روایات حضرت ملک عزیز احمد صاحبؓ)

…………………………………………………………………………

آپؑ کے مشروبات پینے کا بیان

حضرت مسیح موعودؑ کھڑے ہوئے تھے۔آپؑ نے پانی مانگا۔جب پانی آیا تو اُسے بیٹھ کر آپؑ نے پِیا اور بھی کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ پانی وغیرہ آپؑ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیتے ہیں ۔

(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ 111-110)

حضور ؑنے فرمایا کہ

“اس سے مجھے سخت تکلیف تھی۔ڈاکٹروں نے اس میں شیرینی کو سخت مضر بتلایا ہے۔آج میں اس پر غور کر رہا تھا تو خیال آیا کہ بازار میں جو شکر وغیرہ ہوتی ہے اسے تو اکثر فاسق فاجر لوگ بناتے ہیں اگر اس سے ضرر ہو تا ہے تو تعجُّب کی بات نہیں۔ مگر عسل (شہد)تو خدا تعالیٰ کی وحی سے تیار ہوا ہے۔اس لیے اس کی خاصیّت دوسری شیرینیوں کی سی ہر گز نہ ہو گی۔اگر یہ ان کی طرح ہو تا تو پھر سب شیرینی کی نسبت شِفَاء لّلِنَّاس۔فرمایا جاتا۔مگر اس میں صرف عسل ہی کو خاص کیا ہے۔پس یہ خصوصیت اس کے نفع پر دلیل ہے اور چونکہ اس کی تیاری بذریعہ وحی کے ہے اس لیے مکھی جو پھولوں سے رس چوستی ہو گی تو ضرور مفید اجزاء کو ہی لیتی ہو گی۔اس خیال سے میں نے تھوڑے سے شہد میں کیوڑا ملا کر اُسے پیا تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بہت فائدہ حاصل ہوا حتّی کہ میں نے چلنے پھرنے کے قابل اپنے آپ کو پایا اور پھر گھر کے آدمیوں کو لے کر باغ تک چلا گیا اور وہاں دس رکعت اشراق نماز کی ادا کیں ۔”

(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ249-248)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“عموما ًصبح کو دودھ پی لیتے تھے۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہو جاتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا مگر پی لیتے تھے … ایک زمانے میں سکنجبین کا شربت بہت استعمال فرمایا تھا مگر پھر چھوڑ دی … ایک زمانہ میں آپ نے چائے کا بہت استعمال فرمایاتھامگر پھر چھوڑدی۔”

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ روایت نمبر56)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی مُنہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کی تازہ ٹِنڈیا تازہ آبخورہ میں پانی پینا آپؑ کو پسند تھا… سکنجبین بھی پسند تھی۔میاں جان محمد مرحوم آپکے واسطے سکنجبین تیا ر کیا کرتا تھا … ابتدا میں چائے میں دیسی شکر (جو گُڑ کی طرح ہوتی ہے)ڈال کر استعمال فرماتے تھے …”

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر167)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“اسی طرح جب تازہ شہد معہ چھتہ کے آتا تھا تو آپؑ اسے پسند فرما کر نوش کرتے تھے۔شہد کا چھتہ تلاش کرنے اور توڑنے میں بھائی عبدالعزیز صاحب خوب ماہر تھے۔”

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر424)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“علاوہ اس کے چائے وغیرہ ایک پیالی صبح کو بطور ناشتہ بھی پی لیا کرتے تھے …آپ اکثر صبح کے وقت مکی کی روٹی کھایا کرتے تھے۔اور اس کے ساتھ کوئی ساگ یاصرف لسّی کا گلاس یا کچھ مکھن ہوا کرتا تھا یا کبھی اچار سے بھی لگا کر کھا لیا کرتے تھے …

کبھی کبھی آپ پا نی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کرپیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ابتدائی عمر میں دائیں ہاتھ پر ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بوجھل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی۔اکڑوں بیٹھ کر آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا بائیں ٹانگ بٹھا دیتے اور دایاں گھٹنا کھڑا رکھتے…

جن دنوں میں تصنیف کا کام کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے تھے اور وہ بھی کبھی ایک وقت ہی صرف اور دوسرے وقت دودھ وغیرہ سے گذارہ کر لیتے۔دودھ، بالائی،مکھن یہ اشیاء بلکہ بادام روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں …

دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے۔کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ اِدھر دودھ پیا اور اُدھر دست آگیا اس لیے بہت ضعف ہو جاتا تھا۔اس کے دور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم کرنے کو پی لیا کرتے تھے۔

دن کے کھانے کے وقت پانی کی جگہ گرمی میں آپ لسّی بھی پی لیا کرتے تھے اور برف موجود ہو تو اس کو بھی استعمال فرما لیتے تھے۔ان چیزوں کے علاوہ شیرہ ٴبادام بھی گرمی کے موسم میں جس میں چند دانہ مغز بادام اور چند چھوٹی الائچیاں اور کچھ مصری پیس کر چھن کر پڑتے تھےپیا کرتے تھے۔اور اگر چہ معمولاً نہیں مگر کبھی کبھی رفع ضعف کے لیے آپ کچھ دن متواتر یخنی گوشت یا پاوٴں کی پیا کرتے تھے یہ یخنی بھی بہت بدمزہ چیز ہوتی تھی یعنی صرف گوشت کا ابلا ہوا رس ہوا کرتا تھا…

چائے کا میں پہلے اشارہ کر آیا ہوں آپ جاڑوں میں صبح کو اکثر مہمانوں کے لیے روزانہ بنواتے تھے اور خود بھی پی لیا کرتے تھے۔مگر عادت نہ تھی۔سبز چائے استعمال کرتے اور سیاہ کو نا پسند فرماتے تھے۔اکثر دودھ والی میٹھی پیتے تھے۔

زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے۔بلکہ شدّت گرمی میں برف بھی امرتسر۔لاہور سے خود منگوا لیا کرتے تھے …”

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر447)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خاکسار نے 1904ء میں بمقام گورداسپور بارہا حضرت احمد علیہ السَّلام کو دیکھا ہے کہ آپ عدالت میں پیشی کے واسطے تیزی سے سڑک پر جا رہے ہیں اور سامنے سے کوئی شخص دودھ یا پانی لایا تو آپ نے وہیں بیٹھ کر پی لیا اور کھڑے ہو کر نہ پیا۔”

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر522)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیاکہ ایک دفعہ کرم دین جہلمی کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام گورداسپور تشریف لائے ہوئے تھے۔کچہری کے وقت حضور احاطہٴ کچہری میں ایک جامن کے درخت کے نیچے کپڑا بچھا کر مع خدّام تشریف فرما تھے۔حضور کے لیے دودھ کا ایک گلاس لایا گیا۔چونکہ حضور کا پس خوردہ پینے کے لیے سب دوست جدوجہدکیا کرتے تھے۔میرے دل میں اس وقت خیال آیا۔کہ مَیں ایک غریب اور کمزور آدمی ہوں۔اتنے بڑے بڑے آدمیوں میں مجھے کس طرح حضور کا پس خوردہ مل سکتا ہے۔اس لیے مَیں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔حضور نے جب نصف گلاس نوش فرما لیا تو بقیہ میرے ہاتھ میں دے کر فرمایا۔میاں عبدالعزیز بیٹھ کر اچھی طرح سے پی لو۔”

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر600)

……………………………(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close