خطاب حضور انور

خدام الاحمدیہ کا ایک کام، بہت بڑا کام خلافتِ احمدیہ کی حفاظت بھی ہے

خلافتِ احمدیہ کی حفاظت یہ ہے کہ خلیفۂ وقت کے الفاظ کو پھیلایا جائے۔ ان پر عمل کیا جائے۔ ان پر عمل کروایا جائے۔ اور نئی نسل کو سنبھالا جائے۔

خطاب سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزبر موقع تقریب الوداع سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی فرمودہ25؍ اکتوبر 2019ء بمقام مہدی آباد، جرمنی

اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

تشہد اور تعوذ کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

آج کی یہ تقریب جانے والے صدر خدام الاحمدیہ کے اعزاز میں ہے۔ انہوں نے صدارت کا چھےسال کا اپنا دَور مکمل کیا، گو کہ ابھی خدام الاحمدیہ میں ہیں۔ اور گزشتہ سال سے موجودہ صدر کو صدارت کا کام سنبھالے ہوئے ایک سال ہو چکا ہے۔ خدام الاحمدیہ میں کام کرنے والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں بڑا اچھا کام کرنے والے ہیں۔ جانے والے صدر صاحب کو میں صرف یہ کہوں گا کہ اب بھی جو بعض جماعتی ذمہ داریاں ان پر ڈالی گئی ہیں ان جماعتی ذمہ داریوں کی وجہ سے ان میں ایک خادم کی حیثیت سے پہلے جو خدمت کا ایک جذبہ تھا وہ ختم نہیں ہو جانا چاہیے۔ یہ نہ سمجھیں کہ بعض عہدے ان کو مل گئے تو عُہدے کی وجہ سے میرا کوئی اونچا مقام ہو گیا ہے۔ بلکہ ہر عہدیدار کو یہ سمجھنا چاہیے۔ آنحضرت ؐ نے فرمایا کہ سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُھُمْ کہ قوم کا سردار اس کا خادم ہوتا ہے۔ یہ روح اگر ہمارے ہر عہدیدار میں پیدا ہو جائے تو ایک انقلاب پیدا ہو سکتا ہے۔ نظمیں آپ پڑھتے ہیں۔ پُرجوش تقریریں بھی کر لیتے ہیں۔ بڑے اظہار بھی کر لیتے ہیں۔ ترانے بھی پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن عملاً فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب آپ کی سوچ آپ کے ان الفاظ کا ساتھ دے رہی ہو۔ آپ کا عمل آپ کے ان الفاظ کا ساتھ دے رہا ہو۔ پس آنے والے صدر کو بھی خیال رکھنا چاہیے اور جسے ایک لمبا عرصہ خدمت کرنے کا موقع ملا اور دوسری جگہ خدمت کا موقع مل رہا ہے اس کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور ہر عہدیدار کو امیر سے لے کے نچلی سطح تک ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ وہ خدمتِ دین کی توفیق عطا فرما رہا ہے اور یہ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ پس اس فضل کو ہمیشہ یاد رکھیں۔

قائدین بھی یہاں بیٹھے ہیں ان کو بھی خدام الاحمدیہ کے حوالے سے بتا دوں کہ خدام الاحمدیہ کا ایک کام، بہت بڑا کام خلافتِ احمدیہ کی حفاظت بھی ہے اور اس کے لیے وہ عہد بھی کرتے ہیں۔ اور حفاظت یہ نہیں ہے کہ صرف عمومی کی ڈیوٹی دے دی یا حفاظتِ خاص کی ڈیوٹی دے دی۔ یہ کام تو اور دوسرے بھی کر سکتے ہیں۔ اصل حفاظت یہ ہے کہ خلیفۂ وقت کے الفاظ کو پھیلایا جائے۔ ان پر عمل کیا جائے۔ ان پر عمل کروایا جائے۔ اور نئی نسل کو سنبھالا جائے۔ صرف یہ دعویٰ کر لینا کافی نہیں کہ ہم دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔ یہ لڑائی کا تو مسئلہ نہیں ہے۔ آج کل کی لڑائی،آج کل کا جہاد یہ ہے کہ باتوں پر عمل کیا جائے۔ اور یہی وہ اصل کام ہے جو خدام الاحمدیہ نے کرنا ہے۔ ہر قائد کا کام ہے، ہر زعیم کا کام ہے، ہر ناظم کا کام ہے، ہر مہتمم کا کام ہے اور صدر صاحب کا کام ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ جو باتیں کہی جاتی ہیں۔ آپ تقاریر میں سنتے ہیں یا جو خطبات سنتے ہیں ان پر عمل کریں اور ان پر عمل کروائیں۔ اپنے نمونے پیش کریں گے تو دوسرے بھی اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مجھے یاد ہے میری خلافت کے شروع میں مبشر ایاز صاحب نے مجھے لکھا کہ خلفاء کے خطبات اور تقاریر کا مجموعہ شائع ہوتا ہے۔ اور ان کے جانے کے بعد شائع ہوتا ہے جبکہ ان کی زندگی میں ہونا چاہیے۔ اس لیے انہوں نے لکھا، اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ میری خواہش ہے کہ خلافتِ خامسہ کے دور کے جو میرے خطبات ہیں وہ ساتھ ساتھ ہر سال شائع ہوتے رہیں۔ میں نے اجازت دے دی اور بات بھی یہی ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جماعتِ احمدیہ کے خلفاء میں، اور آئندہ بھی ان شاء اللہ خلفاء آتے رہیں گے، ہر ایک کا ایک دور رکھا ہوا ہے۔ اور ہر دور کے مطابق خود رہ نمائی فرماتا رہتا ہے۔ اور جو موجودہ وقت کے تقاضے ہیں اس کے مطابق خلیفۂ وقت رہ نمائی کرتا ہے۔ اس لیے وہ دور جب ختم ہو جائے اور جب نئے خلیفہ کا انتخاب ہو جائےاور نئے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز عطا فرما دے تو پھر اس کے مطابق ہی چلنا ہوگا جس طرح وہ رہ نمائی کرے نہ کہ پرانی کتابیں شائع کرنے سے۔ ٹھیک ہے بعض تاریخی چیزیں بھی ان میں مل جاتی ہیں۔ بعض علمی باتیں بھی مل جاتی ہیں۔ وہ شائع ہونی چاہئیں۔ لیکن عمل کے لیے ضروری ہے کہ خلیفۂ وقت کی بات کو سنو۔ اس پر عمل کرو۔ نہ یہ کہ اس سے منشاء یہ تھا یا وہ تھا۔ بعض لوگ آپس میں جب بات کر رہے ہوں تو عہدیداروں کی طرف سے یہ ہوتا ہے کہ نہیں خلیفۂ وقت نے جو یہ الفاظ کہے تو ان کا منشاء یہ تھا۔ اگر منشاء یہ تھا یا وضاحت کی ضرورت ہے تو خلیفۂ وقت موجود ہے اس سے پوچھو۔ اور اگر سابق خلفاء کی باتیں تھیں اور ان کا منشاء تھا تو اس کا فیصلہ کرنا بھی خلیفۂ وقت کاکام ہے کہ اُس بات کی کیا تشریح ہوگی یا حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے ہیں یا ان کی باتیں ہیں تو اس کی کیا وضاحت ہوگی۔ یہ کام ہر عہدیدار کا نہیں ہے۔ یہ باتیں کہ اس کی تشریح کیا ہونی ہے یہ فیصلہ کرنا خلیفۂ وقت کا کام ہے۔ اس لیے خدام الاحمدیہ ہمیشہ یاد رکھے، ہر عہدیدار ہمیشہ یاد رکھے کہ آپ نے خلیفۂ وقت کے الفاظ کو دیکھنا ہے، اس کی باتوں کو سننا ہے۔ اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اور پرانے منشاء اور پرانی باتیں کھنگالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالیٰ جب تک بہتر سمجھتا ہے ایک خلیفہ کو زندگی دیتا ہے اور اس کے کام کو جاری رکھتا ہے۔ اور جب وہ بہتر سمجھتا ہے تو ایک دور ختم ہو جاتا ہےاور اگلا دور شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس بات کو، اس حقیقت کو سمجھنے کی ہر ایک عہدیدار کو کوشش کرنی چاہیے۔ اور خدام الاحمدیہ کا خاص طور پر یہ کام ہے کہ جب خلافت کے نظام کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر ہے تو حفاظت اسی طرح ہے کہ اپنے نوجوانوں میں، اپنے بچوں میں یہ روح پیدا کریں کہ تم نے خلیفۂ وقت کی باتوں کو سننا ہے اور ان پر عمل کرنا ہے۔ اور یہی حقیقت ہے جو خلافت کی حفاظت کا اہل بناتی ہے ورنہ اس کے علاوہ سب باتیں ہی ہیں۔ پس میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق عطا فرمائےکہ حقیقی رنگ میں خلافت کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ اور خلیفۂ وقت کے حقیقی مددگاروں میں سے ہوں، سلطانِ نصیر ہوں۔ اور خلافت احمدیہ کا جو ادارہ ہے اس کی حقیقی رنگ میں حفاظت کرنے والے ہوں اور وہ یہی ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ خلیفۂ وقت کے الفاظ پر عمل ہو اور عمل کروانے کی کوشش ہو اور اس کو پھیلایا جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close