حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزخطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ ۲۴ مارچ ۲۰۱۷ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24مارچ 2017ء بمطابق24؍امان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

23؍مارچ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے کیونکہ اس دن حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بیعت کے ذریعہ سے بنیاد رکھی۔ آپ نے فرمایا کہ آنے والا مسیح موعود اور مہدی معہود جس کے آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی وہ مَیں ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا کہ توحید کا قیام کر کے محبت الٰہی دلوں میں پیدا کروں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ مقام و مرتبہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ سے سچے عشق کی وجہ سے ملا ہے۔

ظالم ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے ماننے والے نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کم کرتے ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود؈ کے ارشادات اور آپ کی سیرت کے واقعات سے آپ کی محبت الٰہی، عشق رسول ﷺ اور ہمدردیٔ بنی نوع انسان کا نہایت روح پرور تذکرہ اور اس حوالہ سے احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے کی پُر زور تاکید۔

یہ باتیں سن کر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرتا ہے وہ ظالم اور جاہل اور فتنہ پرداز ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ پر ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد جہاں توحید کا قیام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو واضح کر کے دنیا کو آپ کے جھنڈے تلے لانا تھا وہاں حقوق العباد کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت کا اِدراک دلوانا اور اس پر عمل کروانا بھی تھا۔

آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے بہت سارے مسلمان علماء نے کوششیں کیں۔ بیشمار نام نہاد علماء نے آپ کی مخالفت کی۔ آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور اب تک لگاتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں، مسلمان ممالک میں ہماری مخالفت ہوتی ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا ہم پر اثر ہے کہ آج بھی ہم ان مخالفین کے جواب میں ان کے خلاف اخلاقی معیاروں کو نہیں چھوڑتے اور قانون کو بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔ کاش ان لوگوں کو سمجھ آ جائے کہ اس زمانے کے حَکم اور عدل اور مسیح اور مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں اور اسلام کی اشاعت اور توحید کا قیام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی حکومت جو دلوں پر قائم ہونی ہے۔ زمینوں پر نہیں، دلوں پر قائم ہونی ہے وہ مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی قائم ہونی ہے اور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے ہی قائم ہونی ہے نہ کہ کسی تلوار یا بندوق یا طاقت سے یا دہشتگردی پھیلانے سے اور اسلام کے نام پر مظلوموں کو قتل کرنے سے۔

یورپ میں جو واقعات ہو رہے ہیں، اسلام کے نام پر افراد یا تنظیمیں کر رہی ہیں یا یہاں لندن میں دو دن پہلے ظالمانہ طور پر معصوموں کو قتل کیا گیا ہے۔ راہ چلتے راہگیروں پر کار چڑھا دی۔ ایک پولیس والے کو قتل کیا۔ تو یہ اسی وجہ سے ہے کہ ان نام نہاد علماء نے لوگوں کی غلط رہنمائی کر کے ان کے دلوں میں بجائے اسلام کی خوبصورت تعلیم ڈالنے کے ظلم و بربریت کے خیالات پیدا کر دئیے ہیں۔

قتل و غارت کی، معصوموں کو قتل کرنے کی جو یہ حرکتیں ہو رہی ہیں، ان حرکتوں کو ہمیں سختی سے ہر جگہ ردّ کرنا چاہئے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے اور متأثرین سے ہمدردی کرنا بھی ہمارا کام ہے۔

اللہ تعالیٰ کے مسیح کا لگایا ہوا یہ بیج اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھل پھول اور بڑھ رہا ہے۔ ہم نے اگر اس کی سبز شاخیں بننا ہے تو ہمارا کام ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں اور عمل سے ثابت ہے ہم اللہ تعالیٰ سے محبت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور اپنے اعمال اور نوع انسان سے ہمدردی اور محبت کو اس طرح بنائیں کہ ہمارے ہر عمل سے یہ نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔


کل 23؍مارچ تھی اور 23؍مارچ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے کیونکہ اس دن حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بیعت کے ذریعہ سے بنیاد رکھی۔ آپ نے فرمایا کہ آنے والا مسیح موعود اور مہدی معہود جس کے آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی وہ مَیں ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا کہ توحید کا قیام کر کے محبت الٰہی دلوں میں پیدا کروں۔

آپ نے فرمایا کہ ’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے مَیں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔‘‘ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306-307)

پھر آپ نے فرمایا کہ یہ مقام و مرتبہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ سے سچے عشق کی وجہ سے ملا ہے۔ اس لئے تمام دنیا کے لئے یہ پیغام ہے کہ اس رسول سے محبت کرو اور اس کی پیروی کرو۔ اس سے خدا تعالیٰ سے بھی تعلق قائم ہو گا اور حقیقی موحّد بھی بن سکو گے۔

آپ فرماتے ہیں کہ ’’تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پرتم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔ اور یاد رکھو نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔ اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے۔ اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13-14)

یہ ہے وہ مقام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جس کا آپ نے ہمیشہ بھرپور اظہار کیا اور اپنے ماننے والوں کو بھی اس بات کی تلقین کی کہ وہ اس محبت اور مقام کو اپنے سامنے رکھیں۔ ظالم ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے ماننے والے نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کم کرتے ہیں اور آجکل الجیریا میں بھی احمدیوں پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے اور الزام لگا کر انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اب عورتوں پر بھی انہوں نے ہاتھ ڈالنے شروع کر دئیے ہیں۔ ان پر مقدمے قائم کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ کئی کئی گھنٹے سفر کروا کر دودھ پیتے چند مہینوں کے بچوں کے ساتھ عورتوں کو دوسرے شہروں میں لے جایا جاتا ہے اور مقدمہ قائم کیا جاتا ہے اور جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ لیکن عورتیں بھی یہی پیغام مجھے بھجوا رہی ہیں کہ ہم نے مسیح موعود کو مانا ہے اور اس ماننے کے بعد ہی ہمیں حقیقی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور آپ سے سچی محبت کی حقیقت پتا چلی ہے۔ ہم کس طرح اپنے ایمان سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔

جہاں ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان احمدیوں کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے وہاں ہماری یہ بھی دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق توحید کے قیام اور اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کے لئے آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے محبت اور توحید کے قیام کے لئے آپ کی تڑپ کی ایک جھلک آپ کے ان الفاظ سے ملتی ہے۔

آپ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ:

’’دیکھ! میری روح نہایت توکّل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانے کی طرف آتا ہے۔ سو مَیں تیری قدرت کے نشان کا خواہشمند ہوں لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئےبلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں اور جس کو تُو نے بھیجا ہے اس کی تکذیب کر کے ہدایت سے دُور نہ جا پڑیں۔‘‘ فرمایا کہ ’’مَیں گواہی دیتا ہوں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے اور میری تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ یہاں تک کہ سورج اور چاند کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں پیشگوئی کی تاریخوں کے موافق گرہن میں آویں۔ …… مَیں تجھے پہچانتا ہوں کہ تُو ہی میرا خدا ہے۔ اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اچھلتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے۔ لیکن اکثر لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ قبول کیا۔‘‘ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 511)

اس بات سے جہاں آپ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی عظمت قائم کرنے کے لئے تڑپ نظر آتی ہے وہاں انسانیت کو بچانے کے لئے بے چینی کا بھی شدید اظہار نظر آتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ آپ ہی تو آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو دلوں میں قائم کرنے والے اور نہ صرف خود قائم کرنے والے ہیں بلکہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ آپ کو کس قدر تڑپ تھی کہ اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کی یہ چنگاری دوسروں کے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے۔ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں:

’’کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑوکہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَف سے مَیں باز اروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں۔ اور کس دوا سے مَیں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں‘‘۔ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 21-22)

ان الفاظ کی تہہ میں کس قدر درد ہے۔ بلکہ کہنا چاہئے کہ ہر ہر لفظ میں درد کے کئی پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ ہر لفظ کے کئی پَرت ہیں اور ہر پرت میں درد ہے اور ان کی گہرائی میں ہر ایک اپنے فہم اور ادراک کے لحاظ سے جاسکتا ہے لیکن جس حد تک بھی کوئی اپنی استعداد کے مطابق پہنچے گا روحانیت میں غیرمعمولی بلندی اور غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والا ہو گا۔ پھر خدا تعالیٰ کی عبادت اور خدا تعالیٰ سے محبت کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :

’’اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا۔ تم دشمن سے غافل ہوگے اور خدا اسے دیکھے گا اور اُس کے منصوبے کو توڑے گا۔ تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔ اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتاکہ تم دنیا کے لئے سخت غمگین ہو جاتے۔ ایک شخص جو ایک خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے کیا وہ ایک پیسہ کے ضائع ہونے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا ہے اور ہلاک ہونے لگتا ہے؟ پھر اگر تم کو اُس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لئے ایسے بے خود کیوں ہوتے۔ خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارامددگار ہے۔ تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں‘‘۔ فرماتے ہیں ’’غیرقوموں کی تقلید نہ کرو کہ جو بکلّی اسباب پر گرگئی ہیں‘‘ (دنیا داری اور مادیت کے علاوہ ان میں کچھ نہیں) ’’اور جیسے سانپ مٹی کھاتا ہے انہوں نے سفلی اسباب کی مٹی کھائی۔ اور جیسے گِدھ اور کُتّے مردار کھاتے ہیں انہوں نے مردار پر دانت مارے۔ وہ خدا سے بہت دور جا پڑے۔…….‘‘ ۔

فرمایا کہ ’’……مَیں تمہیں حدِّ اعتدال تک رعایت اسباب سے منع نہیں کرتا‘‘۔ (کام کرنے سے، چیزوں سے فائدہ اٹھانے سے، مادی چیزوں کے استعمال سے منع نہیں کرتا)’’ بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ تم غیرقوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جاؤ اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیا کرتا ہے‘‘ (یہ وسائل جو ہیں، جو مادی چیزیں ہیں یہ وہی مہیا کرتا ہے۔ ان پر نہ گرو بلکہ خدا کی طرف دیکھو جو یہ چیزیں مہیا کرتا ہے) فرمایا کہ ’’اگر تمہیں آنکھ ہو تو تمہیں نظر آجائے کہ خدا ہی خدا ہے اور سب ہیچ ہے۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 21-22)

پس یہ تعلق ہے خدا تعالیٰ سے جس کو ہم نے حاصل کرنا اور قائم کرنا ہے۔ جو آپ اپنے ماننے والوں سے چاہتے ہیں کہ یہ معیار حاصل ہوں۔

جیسا کہ مَیں ابھی ذکر کر چکا ہوں کہ توحید کے قیام اور اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کا کام آپ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ سے عشق و محبت کی وجہ سے ملا۔ اس عشق و محبت کے نظارے ہمیں آپ کی ذات میں کس طرح نظر آتے ہیں اس کے بیشمار واقعات ہیں۔

ایک واقعہ کو راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مسجد مبارک میں اکیلے ٹہل رہے تھے اور کچھ گنگنا رہے تھے اور ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ جب اس شخص نے عرض کی کہ کون سا صدمہ حضور کو پہنچا ہے؟ تو فرمایا کہ مَیں حضرت حسّان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ رہا تھا جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا تھا۔ شعر یہ ہے :

کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیْکَ النَّاظِرُ
مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ

یعنی اے خدا کے پیارے رسول! تُو میری آنکھ کی پتلی تھا جو آج تیری وفات کی وجہ سے اندھی ہوگئی ہے۔ اب تیرے بعد جو چاہے مَرے مجھے تو تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں یہ شعر جب پڑھ رہا تھا تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا‘‘۔ یہ شعر پڑھتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے بے انتہا آنسوؤں کا نکلنا آپ کے دل کی کیفیت کا حال بتا رہا تھا۔ پس وہ لوگ اس عشق و محبت کے اظہار کے قریب بھی کہاں پہنچ سکتے ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے اونچا درجہ دیا ہوا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی اس جذباتی حالت کی جو کیفیت تھی اس کا بڑے درد انگیز انداز میں اس طرح نقشہ کھینچا ہے کہ وہ شخص جس نے ہر قسم کی سختی اور تنگی کا سامنا کیا جس پر مخالفتوں کی بے شمار آندھیاں چلیں، بیشمار تکلیفوں اور ایذاؤں سے گزرے۔ قتل کے مقدمات آپ پر بنے۔ عزیزوں اور قریبیوں اور دوستوں حتی کہ بچوں کی موت کے نظارے دیکھے۔ لیکن آپ کے قریب رہنے والوں نے کبھی آپ کے چہرے اور آنکھوں پر آپ کے دلی جذبات کا اظہار نہیں دیکھا۔ لیکن اس موقع پر جہاں عشق رسول کے اظہار کا موقع آیا تو آپ کی آنکھیں سیلاب کی طرح بہہ نکلیں۔

(ماخوز از سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 28 تا 30)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے نظارے آپ کی تحریروں اور ملفوظات میں بھی بیشمار ملتے ہیں۔ ایک جگہ مخالفین اسلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ہنسی ٹھٹھا کرنے کی باتیں سن کر اپنی دلی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ’میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے ہنسی ٹھٹھا نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔ خدا کی قسم! اگر میری ساری اولاد اَور اولاد کی اولاد اَور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئیے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور مَیں اپنی تمام مُرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی آقا! تُو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔ ‘‘ ( آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 15۔ عربی عبارت کا اردو ترجمہ) ( سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 43-44)

کیا کوئی ہے جو اس طرح کے جذبات کا اظہار کر سکے۔ عشق و محبت کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہیں۔ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے نام پر فتنہ و فساد اور قتل و غارت کرنے والے تو بہت لوگ ہیں۔ لیکن کیا کوششیں کی ہیں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو دنیا سے منوانے کے لئے اور اسلام اور قرآن کو دنیا میں پھیلانے کے لئے۔ آپ کے الفاظ صرف منہ کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ آپ کے ساتھ تعلق رکھنے والے بھی اور غیر بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت کا اظہار آپ کے دل کی آواز اور آپ کے ہر عمل سے ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا اظہار کرتے ہوئے امرتسر کے ایک اخبار جس کا نام ’’وکیل‘‘ تھا جو غیر احمدیوں کا اخبار تھا اس نے آپ کی وفات پر لکھا کہ :

’’مرزا صاحب کی رحلت نے ان کے بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مخالفین اسلام کے مقابلے پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا بھی جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا ہے‘‘۔ پھر کہتا ہے ’’مرزا صاحب کے لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے‘‘۔ لکھتا ہے کہ ’’آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے‘‘ (دفاع جو اسلام کا دفاع ہے کسی درجہ تک وسیع ہو جائے) ’’ناممکن ہے کہ مرزا صاحب کی تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔‘‘ ( بحوالہ سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 45-46) ۔ ان تحریروں کے بغیر اسلام کا دفاع ممکن ہی نہیں۔

پس یہ سب کچھ جو آپ نے کیا تو اسلام کو اللہ تعالیٰ کا آخری دین اور کامل اور مکمل دین ثابت کرنے کے لئے کیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی وجہ سے آپؐ کے مقام کا لوہا منوانے کے لئے کیا۔ دنیا کو بتانے کے لئے کیا کہ اصل مقام آپ کا ہی ہے۔ تمام دنیا کو اور دنیا کے مذاہب پر یہ واضح کیا کہ دین محمدؐ جیسا کوئی دین نہیں ہے۔

اعتراض کرنے والے آپ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے اظہار کو تو پڑھیں، اس پر غور کریں ورنہ اعتراض برائے اعتراض تو جہالت کی نشانی ہے۔ آپ ایک وفاشعار شاگرد اور ایک احسانمند خادم کی طرح ہمیشہ فرماتے تھے کہ یہ سب کچھ مجھے میرے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کی پیروی سے ہی ملا ہے۔ چنانچہ اس کا اظہار کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :

’’مَیں اسی (خدا) کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ و مخاطبہ کیا اور پھر اسحاقؑ سے اور اسماعیلؑ سے اور یعقوبؑ سے اور یوسفؑ سے اور موسیٰ ؑسے اور مسیحؑ ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی، ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔ مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔ اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔ ‘‘ (تجلیاتِ الٰہیہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411-412)

یہ باتیں سن کر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرتا ہے وہ ظالم اور جاہل اور فتنہ پرداز ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ جو بڑے بڑے علماء بنے پھرتے ہیں ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ پر ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد جہاں توحید کا قیام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو واضح کر کے دنیا کو آپ کے جھنڈے تلے لانا تھا وہاں حقوق العباد کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت کا اِدراک دلوانا اور اس پر عمل کروانا بھی تھا۔ چنانچہ آپ نے شرائط بیعت میں بھی یہ شرط رکھی بلکہ دو شرائط براہ راست اس تعلق سے ہیں۔

شرط نمبر 4 میں آپ نے فرمایا کہ ’’عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا‘‘۔ (بیعت کرنے والا یہ عہد کرے) ’’نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے‘‘ ۔ پھر نویں شرط ہے کہ ’’عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض لِلّٰہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا‘‘۔

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ564)

چنانچہ اس کے مطابق اسلامی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :

’’ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا‘‘۔ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 464)

پھر آپ فرماتے ہیں ’’اسلامی تعلیم کے رُو سے دین اسلام کے حصے صرف دو ہیں۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دو بڑے مقاصد پر مشتمل ہے۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ’’ اوّل (یہ کہ) ایک خدا کو جاننا جیسا کہ وہ فی الواقعہ موجود ہے اور اس سے محبت کرنا اور اس کی سچی اطاعت میں اپنے وجود کو لگانا جیسا کہ شرط اطاعت و محبت ہے‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’دوسرا مقصدیہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا‘‘۔ (تمام تر طاقتیں اور استعدادیں اور صلاحیتوں کو خرچ کرنا) ’’اور بادشاہ سے لے کر ادنیٰ انسان تک جو احسان کرنے والا ہو شکر گزاری اور احسان کے ساتھ معاوضہ کرنا۔ ‘‘

(تحفہ قیصریہ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 281)

پس یہ ہے وہ تعلیم جو خدا تعالیٰ کی محبت کے بعد مخلوق سے معاملہ کرنے کی ہے۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے اس کی مخلوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتی ہے۔

اس بارے میں آپ کی اپنی حالت اور عمل کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی حالت اس بارے میں کیا تھی؟ آپ کس طرح عمل فرماتے تھے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:

’’مَیں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے‘‘۔ (یعنی مَیں کسی کو بھی، ان مخالفت کرنے والوں کو بھی دشمن نہیں سمجھتا۔) فرمایا ’’میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے، بلکہ اس سے بڑھ کر‘‘۔ فرمایا کہ ’’مَیں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔ انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور ناانصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔ ‘‘

(اربعین، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 344)

پھر آپ ایک جگہ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز اپنے نوع سے محبت کرتی ہے۔‘‘ (جو اس کی جنس ہو، قسم ہو اسی سے محبت کرتی ہے) ’’یہاں تک کہ چیونٹیاں بھی (چیونٹیوں سے) اگر کوئی خود غرضی حائل نہ ہو ۔ پس جو شخص کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اس کا فرض ہے۔‘‘ فرمایا کہ جو شخص کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے (آپ خدا تعالیٰ کی طرف بلا رہے ہیں) اس کا فرض ہے ’’کہ سب سے زیادہ محبت کرے۔ سو میں نوع انسان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ ہاں ان کی بدعملیوں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور فسق اور بغاوت کا دشمن ہوں۔ کسی کی ذات کا دشمن نہیں۔ اس لئے وہ خزانہ جو مجھے ملا ہے جو بہشت کے تمام خزانوں اور نعمتوں کی کنجی ہے وہ جوش محبت سے نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہوں اور یہ امر کہ وہ مال جو مجھے ملا ہے وہ حقیقت میں از قسم ہیرا اور سونا اور چاندی ہے کوئی کھوٹی چیز نہیں ہیں بڑی آسانی سے دریافت ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ان تمام درہم اور دینار اور جواہرات پر سلطانی سکّہ کا نشان ہے۔‘‘ (یعنی سلطانی بادشاہ کے سکّہ کا نشان ہے۔ کون سا بادشاہ؟) ’’یعنی وہ آسمانی گواہیاں میرے پاس ہیں جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ہیں‘‘۔ (اللہ تعالیٰ میری تائید کرتا ہے۔ میری گواہی دیتا ہے)۔ فرمایا کہ ’’مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دین اسلام ہی سچا ہے۔ مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔ مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُرحکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور مجھے خدا کی پاک اور مطہّر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ مَیں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حَکم ہوں۔ یہ جو میرا نام مسیح اور مہدی رکھا گیا ان دونوں ناموں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرف فرمایا اور پھر خدا نے اپنے بلا واسطہ مکالمہ سے یہی میرا نام رکھا اور پھر زمانے کی حالت موجودہ نے تقاضا کیا کہ یہی میرا نام ہو۔ ‘‘

(اربعین نمبر 1، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 345)

یہ باتیں صرف آپ نے لکھنے کے لئے نہیں لکھ دیں یا صرف دعویٰ ہی نہیں کیا کہ آپ کو بنی نوع سے محبت ہے اور سب سے زیادہ محبت ہے۔ اس کے عملی اظہار بھی آپ کی زندگی میں ہمیں نظر آتے ہیں۔ ایک طرف آپ کے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ ہے اور اس دعوے کی تصدیق کے لئے اللہ تعالیٰ جب لوگوں کے لئے بعض نشان ظاہر فرماتا ہے، ایسے نشان جو آفات کے رنگ میں ہیں تو آپ بے چین ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے ایک حصہ میں رہتے تھے بیان کرتے ہیں کہ طاعون کی وبا پھیلنے کے دنوں میں جب ایک ایک دن میں بیشمار لوگ اس کا شکار ہو رہے تھے اور موت کے منہ میں جا رہے تھے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کہتے ہیں کہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعا کرتے ہوئے سنا جسے سن کر مَیں حیران رہ گیا۔ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’اس دعا میں آپ کی آواز (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز) میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والوں کا پِتّہ پانی ہوتا تھا۔‘‘ (سن کے بھی عجیب جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی تھی)۔ ’’اور آپ اس طرح پر آستانہ الٰہی پر گریہ و زاری کرتے تھے (اس طرح رو رہے تھے اور ایسی تکلیف سے آپ کی آواز نکل رہی تھی) جیسے کوئی عورت دردِ زہ سے بیقرار ہو‘‘۔ (مولوی صاحب کہتے ہیں کہ) میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق الٰہی کے لئے طاعون کے عذاب سے نجات کے لئے دعا کرتے تھے کہ الٰہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہوجائیں گے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا‘‘۔

(ماخوذ از سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 54)

پس غور کریں کہ ایک پیشگوئی کے مطابق مخالفوں پر یہ عذاب آ رہا ہے لیکن آپ اس کے دُور ہونے کی دعا مانگ رہے ہیں اور اس عذاب کے ٹلنے کی وجہ سے عین ممکن ہے بلکہ مخالفین نے شور بھی مچانا تھا۔ آپ کی پیشگوئی مشکوک ہو سکتی تھی۔ لیکن بنی نوع انسان کی ہمدردی نے اس کی پرواہ نہیں کی اور دعا یہ کرتے ہیں کہ ان کو عذاب سے بچا لے اور ایمان کی سلامتی کے لئے کوئی دوسرا راستہ دکھا دے۔ آپ کے مخالف بھی کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے ہمدردی کے موقع پر ان سے ہمدردی نہیں کی۔ اس کے بیشمار واقعات آپ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔

جب منارۃ المسیح کی تعمیر شروع ہونے لگی تو ہندوؤں نے شور مچایا کہ اس سے ہمارے گھروں کی بے پردگی ہو گی۔ اس پر حکومت کی طرف سے ایک مجسٹریٹ تحقیق کے لئے آیا۔ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام تفصیل بیان کی۔ بتایا کہ یہ تو ایک نشان کے طور پر ہے۔ اس پر روشنی لگائی جائے گی۔ علاقہ روشن ہو گا۔ بے پردگی بالکل نہیں ہو گی۔ اور اگر ان کی بے پردگی ہے تو ہمارے گھروں کی بھی ہو گی۔ تو یہ بالکل غلط تأثر ہے کہ بے پردگی ہو گی۔ یہ سب فضول عذر ہیں ۔ مجسٹریٹ کے ساتھ وہاں کے ایک ہندو لالہ بڈھا مل بھی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ یہاں رہتے ہیں۔ قادیان میں ہمارے ہمسائے ہیں۔ اس شہر کے رہنے والے ہیں۔ ان کو پتا ہے کہ میں نے ہمیشہ ہمسایوں کا اور مخلوق کا خیال رکھا ہے۔ یہ لالہ بڈھا مل آپ کے ساتھ ہیں۔ ان سے پوچھیں کہ کبھی کوئی ایک ایسا موقع بھی آیا ہے جب ان کو میری مدد کی ضرورت ہوئی اور میں نے اس میں کوئی کمی کی ہو یا کسی بھی قسم کا فائدہ انہیں پہنچانے میں میری طرف سے کبھی روک ہوئی ہو۔ اور پھر ان سے یہ بھی پوچھ لیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ انہیں (لالہ صاحب کو) مجھے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ملا ہو اور یہ نقصان پہنچانے سے رکے ہوں۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے نقصان پہنچایا اور مَیں نے ہمیشہ ان کو فائدہ پہنچایا۔ اس وقت لالہ صاحب وہاں مجسٹریٹ کے ساتھ تھے ان کو جرأت نہیں ہوئی کہ اس بات کا انکار کریں بلکہ شرم اور ندامت کا اظہار تھا۔ (ماخوذ از سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 61تا 63)

پس یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نمونے کہ نقصان پہنچانے والوں کو بھی ہمدردیٔ مخلوق کے تحت فائدہ پہنچایا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جنہوں نے مخالفت کی انتہا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا اور دجّال اور ضال قرار دیا، نعوذ باللہ۔ سارے ملک میں آپ کے خلاف نفرت اور دشمنی کی آگ بھڑکائی لیکن مقدمے میں جب آپ کے وکیل نے مولوی محمد حسین کے خاندان کے بارے میں بعض طعن آمیز سوالات کرنے چاہے تو آپ علیہ السلام نے سختی سے روک دیا۔ وکیل مولوی فضل دین صاحب غیر احمدی تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب انسان ہیں، عجیب اخلاق کے مالک ہیں کہ ایک شخص ان کی عزّت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے اور اس کے جواب میں جب اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے بعض سوالات کئے جاتے ہیں تو آپ فوراً روک دیتے ہیں کہ مَیں ایسے سوالات کی اجازت نہیں دیتا۔ انہی مولوی محمد حسین کے بارے میں اپنے ایک عربی شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایاہے کہ

قَطَعْتَ وِدَادًا قَدْ غَرَسْنَاہُ فِی الصَّبَا وَلَیْسَ فُؤَادِیْ فِی الْوَدَادِ یُقَصِّرٗ

یعنی تُو نے اس محبت کے درخت کو اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا جو ہم نے جوانی کے زمانے میں اپنے دل میں نصب کیا تھا مگر میرا دل کسی صورت میں محبت کے معاملے میں کمی اور کوتاہی کرنے والا نہیں۔

(ماخوذ از سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 57 تا 59)

بہر حال یہ تو ایک مثال ہے کہ آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے بہت سارے مسلمان علماء نے کوششیں کیں۔ بیشمار نام نہاد علماء نے آپ کی مخالفت کی۔ آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور اب تک لگاتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں، مسلمان ممالک میں ہماری مخالفت ہوتی ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا ہم پر اثر ہے کہ آج بھی ہم ان مخالفین کے جواب میں ان کے خلاف اخلاقی معیاروں کو نہیں چھوڑتے اور قانون کو بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔ کاش ان لوگوں کو سمجھ آ جائے کہ اس زمانے کے حَکم اور عدل اور مسیح اور مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں اور اسلام کی اشاعت اور توحید کا قیام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی حکومت جو دلوں پر قائم ہونی ہے، زمینوں پر نہیں، دلوں پر قائم ہونی ہے وہ مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی قائم ہونی ہے اور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے ہی قائم ہونی ہے نہ کہ کسی تلوار یا بندوق یا طاقت سے یا دہشتگردی پھیلانے سے اور اسلام کے نام پر مظلوموں کو قتل کرنے سے۔ یورپ میں جو واقعات ہو رہے ہیں یہ اسلام کے نام پر افراد یا تنظیمیں کر رہی ہیں یا یہاں لندن میں دو دن پہلے ظالمانہ طور پر معصوموں کو قتل کیا گیا ہے۔ راہ چلتے راہگیروں پر کار چڑھا دی۔ ایک پولیس والے کو قتل کیا۔ تو یہ اسی وجہ سے ہے کہ ان نام نہاد علماء نے لوگوں کی غلط رہنمائی کر کے ان کے دلوں میں بجائے اسلام کی خوبصورت تعلیم ڈالنے کے ظلم و بربریت کے خیالات پیدا کر دئیے ہیں۔

پس ایسے میں ہم احمدیوں کا کام ہے جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اکثر کہتا ہوں کہ اسلام کے حسن کو دنیا کے سامنے پیش کریں جہاں تک احمدیت کی مخالفت کا تعلق ہے یہ احمدیت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، اس لئے ہی بھیجا ہے کہ آپ کو کامیاب کرنا ہے اور اسلام اب آپ کے ذریعہ ہی پھیلنا ہے۔ پس ہم نے اس اسلام کو پھیلانا ہے۔ قتل و غارت کی، معصوموں کو قتل کرنے کی جو یہ حرکتیں ہو رہی ہیں ان حرکتوں کو ہمیں سختی سے ہر جگہ ردّ کرنا چاہئے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے اور متأثرین سے ہمدردی کرنا بھی ہمارا کام ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :

’’اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلاوے گا اور حجت اور برہان کے رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور سلسلہ میں نہایت درجہ فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔ اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔ پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ (یٰس31:) پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے۔ مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے رُو برو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں اس سے کون ٹھٹھا کرے گا۔ پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اُترنا محض جھوٹا خیال ہے۔ یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ ہمارے سب مخالف جو اَب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسیٰ ؑبن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔ اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔ تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسیٰ اب تک آسمان سے نہ اترا۔ تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدے سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔ مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ‘‘ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66-67)

اللہ تعالیٰ کے مسیح کا لگایا ہوا یہ بیج اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھل پھول اور بڑھ رہا ہے۔ ہم نے اگر اس کی سبز شاخیں بننا ہے تو ہمارا کام ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں اور عمل سے ثابت ہے ہم اللہ تعالیٰ سے محبت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور اپنے اعمال اور نوع انسان سے ہمدردی اور محبت کو اس طرح بنائیں کہ ہمارے ہر عمل سے یہ نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button