متفرق

اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے

علامہ نیاز فتح پوری نے حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیرکا جب مطالعہ کیا تو آپ کی خدمت میں خط لکھا:

’’تفسیرِ کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور مَیں اسے بڑی نگاہِ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے۔ اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حُسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپ کی تبحرِ علمی، آپ کی وسعتِ نظر،آپ کی غیر معمولی فکر و فراست، آپ کا حسنِ استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ مَیں کیوں اس وقت تک اس سےبے خبر رہا۔ کاش کہ مَیں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔ کل سورۂ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط [علیہ السلام] پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا۔ آپ نے هٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِيْ کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے، اُس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔‘‘

(الفضل 17؍نومبر 1963ءصفحہ 3)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button