احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
۱۸۸۴ء میں جب براہین احمدیہ کے چارحصے شائع ہوچکے تھےکہ پردۂ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَکی آوازدینے والا اس کتاب کاظاہراً وباطناً خودمہتمم ومتولی بن چکاتھا۔ اب اس نے ارادہ کیاکہ ساری دنیاپر اس قطبی ستارے کی چمک اور طلوع ہونے کا مشتہرکیاجائے ۔چنانچہ اس امرِ ربی کی تعمیل میں آپؑ نے ایک اشتہار دیا جوکہ دنیابھرکے تمام ملکوں بڑے شہروں کے ہرامیروزیر،مذہبی وسیاسی کو بھیجاگیا
باب دہم: براہین احمدیہ کادنیابھرمیں اشتہاراوراثرات
براہین احمدیہ کے چارحصے جوکہ ۵۹۲صفحات پرمشتمل تھے اب شائع ہوچکے تھے۔ گویا کہ یہ قطبی ستارہ تھا جوکہ عالم روحانیت کے افق پر طلوع ہوچکاتھا۔لیکن اہل دنیا کی اکثریت تو غافل تھی اوران کا سارا ہم وغم دنیاہی دنیا تھا۔ان کی نگاہیں زمین کی طرف ہی تھیں آسمان کی طرف شاذ ہی کسی کی نگاہ ہو۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے غفلت کے لحافوں میں پڑے ہوئے ان دنیاداروں کوبیدارکرتے ہوئے جوکہ کرم شب تاب کوہی ساری روشنی اور نورسمجھ رہے تھے اسلام کے اس آفتاب عالمتاب کی طرف متوجہ کیا۔
چنانچہ براہین احمدیہ میں حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ مکالمات مخاطبات کاذکرکرنے کے بعد فرماتے ہیں :’’اس جگہ یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنیٰ امتی آں رسول مقبول کے اسماء یا صفات یا محامد میں شریک ہوسکے۔ بلاشُبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالاتِ قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں۔ چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالبِ حق ارشدک اللّٰہ تم مُتوجّہ ہوکر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں۔ اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کررکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑکر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پاکر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہےیاکچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ حقیقت میں مرجع ِتام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں۔ اور وہی ان کا مصداق اَتَم ہوتا ہے۔ مگر چونکہ متبع سنن آں سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے کہ جو وجود باجود حضرت نبوی ہے مثل ظل کے ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار الٰہیہ پیدا اور ہویدا ہیں۔ اُس کے اس ظل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں۔ اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اُس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہؔ جو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ ہاں سایہ اپنی ذات میں قائم نہیں اور حقیقی طور پر کوئی فضیلت اس میں موجود نہیں بلکہ جو کچھ اس میں موجود ہے وہ اس کے شخص اصلی کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے۔ پس لازم ہے کہ آپ یا کوئی دوسرے صاحب اس بات کو حالت نقصان خیال نہ کریں کہ کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار باطنی ان کی امت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں اور سمجھنا چاہئے کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضہ دائمی نفوس صافیہ امت محمدیہ پر ہوتا ہے۔
دو بزرگ امر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہےکیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوسکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔ وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہوسکے۔ دوسرے اس امت کی کمالیت اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائمی سے ثابت ہوتی ہے اور حقیت دین اسلام کا ثبوت ہمیشہ تروتازہ ہوتا رہتا ہے۔ صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ گذشتہ زمانہ پر حوالہ دیا جائے۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس سے قرآن شریف کی حقانیت کے انوار آفتاب کی طرح ظاہر ہوجاتے ہیں اور دین اسلام کے مخالفوں پر حجت اسلام پوری ہوتی ہے اور معاندین اسلام کی ذلّت اور رُسوائی اور رُوسیاہی کامل طور پر کھل جاتی ہے کیونکہ وہ اسلام میں وہ برکتیں اور وہ نور دیکھتے ہیں جن کی نظیر کو وہ اپنی قوم کے پادریوں اور پنڈتوں وغیرہ میں ثابت نہیں کرسکتے۔ فتدبر ایّھا الصادق فی الطلب ایدک اللّٰہ فی طلبک۔‘‘ (براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲تا ۲۴۴ ح ح۱،روحانی خزائن جلد۱صفحہ ۲۶۸تا۲۷۰ح ح۱)
الہام وکلام کے نوراورروشنی کے جس منبع پرآپؑ کواطلاع ہوئی اورجس کاوارث اب اس صدی اور زمانے میں آپؑ کوبنایاگیا اس کے ضمن میں آپؑ نے ساری دنیاکودعوت اور چیلنج دیتے ہوئے فرمایاکہ آؤ لوگوکہ یہیں نورِ خداپاؤگے…:
’’اعجاز اثر کلام قرآن کی نسبت ہم یہ ثبوت رکھتے ہیں کہ آج تک کوئی ایسی صدی نہیں گزری جس میں خدائے تعالیٰ نے مستعد اور طالب حق لوگوں کو قرآن شریف کی پوری پوری پیروی کرنے سے کامل روشنی تک نہیں پہنچایا۔ اور ابؔ بھی طالبوں کے لئے اس روشنی کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے۔ یہ نہیں کہ صرف کسی گزشتہ صدی کا حوالہ دیا جائے۔ جس طرح سچے دین اور ربانی کتاب کے حقیقی تابعداروں میں روحانی برکتیں ہونی چاہئیں اور اسرار خاصہ الٰہیہ سے ملہم ہونا چاہئے وہی برکتیں اب بھی جویندوں کے لئے مشہود ہوسکتی ہیں جس کا جی چاہے صدق قدم سے رجوع کرے اور دیکھے اور اپنی عاقبت کو درست کرلے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہریک طالب صادق اپنے مطلب کو پائے گا اور ہریک صاحب بصارت اس دین کی عظمت کو دیکھے گا۔ مگر کون ہمارے سامنے آکر اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ وہ آسمانی نور ہمارے کسی مخالف میں بھی موجود ہے۔ اور جس نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور افضلیت اور قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے سے انکار کیا ہے۔ وہ بھی کوئی روحانی برکت اور آسمانی تائید اپنی شامل حال رکھتا ہے۔ کیا کوئی زمین کے اس سرے سے اس سرے تک ایسا متنفّس ہے کہ قرآن شریف کے ان چمکتے ہوئے نوروں کا مقابلہ کرسکے۔‘‘(براہین احمدیہ صفحہ ۲۶۲،۲۶۱،ح ح ۱،روحانی خزائن جلد۱ صفحۃ ۲۹۲،۲۹۱،ح ح۱)
۱۸۸۴ء میں جب براہین احمدیہ کے چارحصے شائع ہوچکے تھےکہ پردۂ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَکی آوازدینے والا اس کتاب کاظاہراً وباطناً خودمہتمم ومتولی بن چکاتھا۔ اب اس نے ارادہ کیاکہ ساری دنیاپر اس قطبی ستارے کی چمک اور طلوع ہونے کا مشتہرکیاجائے ۔چنانچہ اس امرِ ربی کی تعمیل میں آپؑ نے ایک اشتہار دیا جوکہ دنیابھرکے تمام ملکوں بڑے شہروں کے ہرامیروزیر،مذہبی وسیاسی کو بھیجاگیا۔
یہ اشتہار اردوانگریزی میں شائع کیاگیا تھا اور اس کے ساتھ ایک خط بھی تھا۔یہ تینوں درج ذیل ہیں۔
حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ ؑکاان اشتہاروں کے ساتھ لکھاجانے والاخط:
“بعد ماوجب گزارش ضروری یہ ہے کہ عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جلشانہٗ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح)کی طرز پر کمال مسکینی فروتنی و غربت و تذلل و تواضع سے اصلاح خلق کے لیے کوشش کرےاور ان لوگوں کو جو راہ راست سے بے خبر ہیں صراط مستقیم (جس پر چلنے سے حقیقی نجات حاصل ہوتی ہے اور اسی عالم میں بہشتی زندگی کے آثار اور قبولیت اور محبوبیت کے انوار دکھائی دیتے ہیں) دکھاوے۔ اسی غرض سے کتاب براہین احمدیہ تالیف پائی ہے جس کی ۳۷ جز چھپ کر شائع ہو چکی ہیں اور اس کا خلاصہ مطلب اشتہار ہمراہی خط ہذا میں مندرج ہے لیکن چونکہ پوری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ بالفصل بغرض اتمام حجت یہ خط (جس کی ۲۴۰ کاپی چھپوائی گئی ہے۔)معہ اشتہارانگریزی (جس کی آٹھ ہزار کاپی چھپوائی گئی ہے شائع کیا جائے اور اس کی ایک ایک کاپی بخدمت معزز پادری صاحبان پنجاب و ہندوستان و انگلستان بلادجہاں تک ارسال خط ممکن ہو) جو اپنی قوم میں خاص طور پر مشہور اور معزز ہوں ۔ اور بخدمت معزز برہموں صاحبان و آریہ صاحبان و نیچری صاحبان و حضرات مولوی صاحبان جو وجودخوارق و کرامات سے منکر ہیں اور اس وجہ سےاس عاجز پر بد ظن ہیں ارسال کی جاوے۔
یہ تجویز نہ اپنے فکرو اجتہاد سے قرار پائی ہے بلکہ حضرت مولیٰ کریم کی طرف سے اس کی اجازت ہوئی ہے اور بطور پیشگوئی یہ بشارت ملی ہے کہ اس خط کے مخاطب ( جو خط پہنچنے پر رجوع بحق نہ کریں گے) ملزم و لاجواب و مغلوب ہو جائیں گے۔ بنا بر علیہ یہ خط چھپوا کر آپ کی خدمت میں اس نظر سے کہ آپ اپنی قوم میں معزز اورمشہور اور مقتدا ہیں ارسال کیا جاتا ہے اور آپ کے کمال علم اور بزرگی کی نظر سے امید ہے کہ آپ حسبۃلِلّٰہ اس خط کے مضمون کی طرف توجہ فرما کر طلب حق میں کوشش کریں گے۔ اگر آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو آپ پر حجت تمام ہوگی اور اس کارروائی کی ( کہ آپ کو رجسڑی شدہ خط ملا۔ پھر آپ نے اس کی طرف توجہ کو مبذول نہ فرمایا)حصہ پنجم کتاب میں پوری تفصیل سے اشاعت کی جائے گی۔ اصل مدعا خط جس کے ابلاغ سے میں مامور ہوا ہوں۔یہ ہے دین حق جو خدا کی مرضی کے موافق ہے صرف اسلام ہے اور کتاب حقانی جو منجانب اللہ محفوظ اور واجب العمل ہے صرف قرآن ہے اس دین کی حقانیت اور قرآن کی سچائی پر عقلی دلائل کے سوا آسمانی نشانوں (خوارق و پیشین گوئیوں )کی شہادت بھی پائی جاتی ہے۔جس کو طالب صادق اس خاکسار (مؤلف براہین احمدیہ)کی صحبت اور صبر اختیار کرنے سے بمعاینہ چشم تصدیق کر سکتا ہے۔آپ کو اس دین کی حقانیت یا اُن آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لاویں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر اُن آسمانی نشانوں کا بچشم خود مشاہدہ کر لیں و لیکن اس شرط نیت سے (جو طلب صادق کی نشانی ہے)کہ بمجرد معائنہ آسمانی نشانوں کے اسی جگہ (قادیان میں)شرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جائیں گے۔اس شرط نیت سے آپ آویں گے تو ضرور انشاء اللہ تعالیٰ آسمانی نشان مشاہدہ کریں گے۔ اس امر کا خدا کی طرف سے وعدہ ہو چکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں ۔ اب آپ تشریف نہ لائیں تو آپ پر خدا کا مواخذہ رہا۔ اور بعد انتظار تین ماہ کے آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب ہوگا۔ اور اگر آپ آویں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ دیا جائے گا۔ اس دو سو روپیہ ماہوار کو آپ اپنے شایان شان نہ سمجھیں تو اپنے حرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے ہم اس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔طالبان حرجانہ یا جرمانہ کے لئے ضروری ہے کہ تشریف آوری سے پہلے بذریعہ رجسٹری ہم سے اجازت طلب کریں اور جو لوگ حرجانہ یا جرمانہ کے طالب نہیں ان کو اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ بذاتِ خودتشریف نہ لا سکیں تو آپ اپنا وکیل جس کے مشاہدہ کو آپ معتبر اور اپنا مشاہدہ سمجھیں روانہ فرما ویں مگر اس شرط سے کہ بعد مشاہدہ اس شخص کے آپ اظہار اسلام یا (تصدیق خوارق میں)توقف نہ فرمائیں۔آپ اپنے شرط اظہار اسلام یا (تصدیق خوارق )ایک سادہ کاغذ پر جس پر چند ثقات مختلف مذاہب کی شہادتیں ہوں تحریر کر دیں جس کو متعدد اردو انگریزی اخباروں میں شائع کیا جائے گا۔ ہم سے اپنی شرط دو سوروپیہ ماہوار جرمانہ یا حرجانہ (یا جو آپ پسند کریں اور ہم اس کی ادائیگی کی طاقت بھی رکھیں )عدالت میں رجسٹری کرالیںاوراس کے ساتھ ایک حصہ جائیداد بھی بقدر شرط رجسٹری کرالیں۔بالآخر یہ عاجز حضرت خداوند کریم جلّشانہ کا شکر ادا کرتا ہے جس نے اپنے سچے دین کے براہین ہم پر ظاہر کئے اور پھر ان کی اشاعت کے لئے ایک آزاد سلطنت کی حمایت میں جو گورنمنٹ انگلشیہ ہے ہم کو جگہ دی۔ اس گورنمنٹ کا بھی…حق شناسی کی رو سے یہ عاجز شکریہ ادا کرتا ہے۔وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی
الراقم
خاکسار غلام احمداز قادیان ضلع گورداسپورملک پنجاب
(مطبوعہ مرتضائی پریس لاہور)(مجموعہ اشتہارات جلداوّل صفحہ ۳۰تا۳۲،اشتہارنمبر۱۳)
(جاری ہے)
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ کا پیغام—جماعت کے نام




