الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں۔

…………………………

مکرم آفتاب احمد خان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍اکتوبر 2012ء میں مکرم ڈاکٹر عبدالباری ملک صاحب کا مضمون شامل اشاعت ہے جس میں مکرم آفتاب احمد خان صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کا ذکرخیر کیا گیا ہے۔

مکرم آفتاب احمد خان صاحب کا شمار ان چند خوش نصیب احمدیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے وطن عزیز کی خدمت کر کے دنیا میں بھی خوب نام کمایا اور جماعت کی شاندار خدمات کا اعزاز پا کر دین میں بھی خوب عزت پائی۔ آپ انتہائی دھیمی مگر گرمجوش طبیعت کے مالک، بڑے ہی خوش اخلاق، خوش لباس اور دلکش شخصیت کے مالک تھے۔ جس شخص سے بھی ملتے پہلی ملاقات میں ہی اس کو اپنا گرویدہ بنا لیتے۔ہر کسی کے ساتھ ہمدردی اور خلوص سے پیش آتے، ہر شخص کی بات کو توجہ سے سنتے اور جہاں تک ممکن ہوتا مدد کرنے کی کوشش کرتے۔ انگریزی اور اردو زبانوں پر ان کوپورا عبور حاصل تھا۔

آپ 24ستمبر 1924ء کو لاہور میں مکرم ثناء اللہ صاحب اورمحترمہ امۃالمجیدبیگم صاحبہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ چونکہ والد انسپکٹر آف سکولز تھے اس لئے آپ نے مختلف مقامات پر ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی سے 1945ء میں تاریخ میں ایم اے کیا۔ پھر گورڈن کالج راولپنڈی میں 1947 ء تک تاریخ اور انگریزی کے استاد رہے۔ 1947ء میں آ پ انکم ٹیکس کے محکمہ سے منسلک ہوئے اور 1948ء میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے افسروں کے پہلے گروپ میں شامل ہوگئے۔ پاکستان کے سفراء کا جو پہلا گروپ بیرونی ممالک میں بھجوایا گیا آپ ان میں شامل تھے۔ آپ کا تقرر واشنگٹن، نیویارک، جکارتہ، لندن، دہلی، اٹلی اور یوگوسلاویہ میں رہا۔ آپ 1984ء میں فارن سروس سے ریٹائر ہوئے۔ آپ کا شمار پاکستان کے سینئر ترین سفیروں اور کامیاب ڈپلومیٹس میں ہوتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لندن میں قیام پذیر ہو گئے۔ آپ کی شادی محترمہ عطیہ اسلم صاحبہ سے ہوئی جو مشہور ماہرتعلیم، گورنمنٹ کالج لاہور اورتعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل محترم قاضی محمد اسلم صاحب کی بیٹی ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے لندن ہجرت کے بعد جب محترم انور کاہلوں صاحب کو امیر جماعت یُوکے مقرر فرمایا تو محترم آفتاب خان صاحب کو نائب امیر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد آپ روزانہ مسجد فضل آتے، لوگوں کے مسائل کو بڑی توجہ سے سنتے اور بڑے پیار سے رہنمائی کرتے۔ آپ میں عاجزی کی صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ امیر صاحب کی اس طرح اطاعت اور احترام کرتے جس طرح کوئی شاگرد اپنے استاد کا کرتا ہے۔ نائب امیر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دینے کے علاوہ حضورؒ کے ارشادات کے مطابق بعض دوسری انتہائی اہم ذمہ داریاں بھی سرانجام دیتے۔

محترم آفتاب خان صاحب جب امیر جماعت یُوکے مقرر ہوئے تو خاکسار کے مبارکباد پیش کرنے پر بڑے ہی جذباتی ہوکر بار بار دعا کی درخواست کرتے جاتے۔ کہتے کہ مَیں تو ایک ناچیز بندہ ہوں ، جماعتی کاموں کا اتنا تجربہ اور علم بھی نہیں لیکن حضور انور نے اعتماد فرماتے ہوئے اتنی بھاری ذمہ داری ڈالی ہے۔

جب پہلی بار بریڈفورڈ تشریف لائے تو خاکسار وہاں کا ریجنل قائد خدام الاحمدیہ تھا۔ چونکہ حاضرین کی اکثریت اردو سمجھنے والوں کی تھی اس لئے میری درخواست پر آپ نے زندگی میں پہلی بار اردو میں تقریر کی۔ خلافت کے ساتھ آپ کا عشق مثالی تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الر ابعؒ کی شفقتوں کے باوجود آپ ہمیشہ نظر جھکاکر بات کرتے۔ خلیفۂ وقت کے ہر حکم پر لبیک کہتے اور ہر ہدایت پر فوراً لفظاً لفظاً عمل کرتے اور کرواتے۔ اگر حضور سٹیج پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے قدموں میں بیٹھنے کو ہی سعادت سمجھتے۔ اکثر حضور خود حکم دیتے کہ امیر صاحب کے لئے کرسی رکھیں ورنہ خود کبھی اپنے لئے کرسی ساتھ نہیں رکھوائی۔ اپنی مجلس عاملہ کے ممبران ، مربیان اورخدام کا خا ص طور پر بہت خیال رکھتے تھے۔ کئی مواقع پر خود پیچھے ہو کر دیگر افراد کو حضور انور کی قربت حاصل کرنے کا موقع دیتے۔ حضور انور کے پاس خدمت کرنے والوں کھلے دل سے تعریف فرماتے اور اگر کسی شخص کے متعلق حضور انور خوشنودی کا اظہار فرماتے تو ضرور اس شخص کو خود خوشخبری دیتے۔آپ کی امارت کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ دو بار بریڈفورڈ تشریف لائے۔ دونوں مواقع پر آپ نے مقامی جماعت کے افراد کو حضور انور کی قربت حاصل کر نے کا خوب موقع دیا۔ اسی طرح حضورؒ کے قادیان کے تاریخی سفر کے دوران آپ نے درخواست کرکے خاکسار کو بھی خدمت کی سعادت حاصل کرنے کا موقع دیا۔ قادیان میں قیام کے دوران بھی آپ دوسروں کا بہت خیال رکھتے رہے۔ اکثر مٹھائی اور پھل کی شکل میں حضورانور کا تبرّک لاکر ہمارے ساتھ شیئر کرتے جو حضورؒ آپ کو ازراہ شفقت بھجوایا کرتے تھے۔ ایک روز نماز عشاء کے بعد خاکسار کو ہمراہ لے کر پیدل ہی یُوکے گیسٹ ہائوس میں تشریف لے گئے جو کچھ فاصلے پر واقع تھا۔ وہاں ہر کمرہ میں جا کر آپ نے ہر شخص کا فرداً فرداً حال دریافت فرمایا۔ ایک عورت کی صحت ٹھیک نہیں تھی۔ آپ نے خود اُن کے لئے مناسب بستر، دوائی، گرم چائے اور کمرے کا انتظام کروایا اور سب انتظامات ہونے کے بعدرات گئے دارالمسیح لَوٹے۔ چونکہ حضورؒ کے دورے کے انتظامات کے سلسلہ میں آپ نے حضورانور کی ہدایات کے مطابق خود بہت محنت کی تھی اس لئے قادیان میں قیام کے دوران آپ حضورانور کے قریب ہی رہتے تاکہ حضورؒ اگر کوئی نئی ہدایت دیں تو اس پر فوری عمل کیا جا سکے۔ لیکن اس ڈیوٹی کے باوجود بھی وقت نکال کر روزانہ خدام سے ملنے چلے آتے اور سب کا خیال رکھتے ۔

محترم آفتاب خان صاحب کا نصیحت کا انداز بھی بڑا پرُ اثر ہوتا تھا۔ موقع محل کے مطابق اور حاضرین کی سمجھ کے مطابق سادہ زبان میں نصائح فرماتے۔ مثلاً ایک بار فرمایا کہ آجکل جن چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاقیں ہوجاتی ہیں اگر ہمارے گھر میں ایسا ہوتا تو میری اور میری بیگم کی پچاس بار طلاق ہو چکی ہوتی۔

1987ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے سفرِ یورپ میں خاکسار کو بھی قافلہ میں شامل ہو نے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک کے Nova Park Hotel میں حضورانور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور رائٹرز کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیا۔ بعدازاں خاکسار کو پریس کانفرنس کے اردو میں ترجمہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔ خاکسار نے کوشش شروع کی تو معلوم ہوا کہ حضورؒ کے استعمال فرمودہ بعض انگریزی الفاظ اتنے مشکل تھے کہ ڈکشنری کی مدد سے ترجمہ کرنا بھی مشکل تھا۔ اس موقع پر محترم خان صاحب نے ایسے خوبصورت اردو الفاظ بتائے جو اُن مشکل انگریزی الفاظ کے ترجمہ میں خوبصورتی سے سج گئے۔

ایک دفعہ پاکستان سے نوابزادہ نصراللہ خانصاحب (بحیثیت چیئرمین کشمیر کمیٹی) بریڈفورڈ آئے تو پاکستان قونصلیٹ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں خاکسار بھی مدعو تھا۔ جب تعارف میں اُن کو میرے احمدی ہونے کا بتایا گیا تو انہوںنے حال احوال پوچھنے کے بعد دریافت کیا کہ آفتاب خان صاحب کا کیا حال ہے اور کیا وہ آج کل لندن میں ہی ہوتے ہیں۔ خاکسار نے بتایا کہ وہ لندن میں ہی ہیں اور آجکل ہمارے امیر جماعت ہیں۔ نوابزادہ صاحب نے آپ کو خاص طور پر سلام پہنچا نے کا حکم دیا۔

ایک دفعہ سابق وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو صاحبہ بھی بریڈفورڈ کسی تقریب میں شمولیت کے لئے آئیں اور خاکسار کی جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی دریافت کیا کہ ’’انکل آفتاب خان‘‘ کیسے ہیں؟ اُن سے اگر ملاقات ہو تو میرا سلام پہنچا دینا!۔

اسی طرح ایک دفعہ خاکسار کو مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب مرحوم کو بریڈفورڈ سے لندن لے جانے کا موقع ملا۔ انہوں نے خاص طور دریافت کیا کہ کیایہ ممکن ہے کہ محترم آفتاب خانصاحب سے بھی ملاقات ہو جائے۔ جب ان کو اثبات میں جواب ملا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ جب یہ ملاقات ہوئی تو جالب صاحب بہت خوش ہوئے اور باربارمحترم خان صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے بڑی محنت اور حبّ الو طنی سے ملک کا نام دنیاکے بہت سے ممالک میں روشن کیا۔

سینئر برطانوی سیاسی و سفارتی رہنمائوں سے محترم آفتاب خان صاحب کے ذاتی تعلقات تھے۔ جناب کینتھ کلارک (سابق وزیر انصاف) کے ساتھ بڑے دوستانہ تعلقات تھے۔ اسی طرح جناب ڈیوڈ میلر (وزیرکھیل) کا حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ساتھ بڑے احترام اور عقیدت کا تعلق تھا اور اُن کے بھی محترم آفتاب خان صاحب کے ساتھ بڑے قریبی اور بے تکلّفانہ تعلقات تھے۔ مذکورہ دونوں برطانوی وزیر اکثر آپ سے ملنے آتے اور کھانے میں بھی شامل ہوتے۔ اسی طرح کئی سرکردہ پاکستانی اور انگریز سیاستدان، سفارتکار اور اکابرین بھی محترم خانصاحب کا نام بڑے ادب سے لیتے اور ان کی مادروطن کے لئے خدمات کا ضرور تذکرہ فرماتے۔

…………

تبت۔ دنیا کی چھت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اکتوبر 2012ء میں تبّت کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ مغربی تبّت کا علاقہ KA-ERH دنیا کا بلند ترین علاقہ قصبہ خیال کیا جاتا ہے جس کی سطح سمندر سے بلندی 15ہزار فٹ ہے۔ تبّت کو ’’دنیا کی چھت ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑوں اور دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع پر مشتمل تبّت سے ایشیا کے بڑے دریا نکل کر چین اور پاک وہند کی طرف آتے ہیں ان میں برہما پترو (بنگلہ دیش) اور دریائے سندھ بھی شامل ہے۔

تبّت کے شمال مشرق میں چین، مشرق میں سکّم، بھوٹان، نیپال اور بھارت جبکہ مغرب میں کشمیر کا ضلع لدّاخ ہے۔ جنوب میں کوہ ہمالیہ ہے۔ تبّت کا کُل رقبہ 12لاکھ 21ہزار 600مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 20لاکھ ہے جن میں 96فیصد تبتی اور باقی چینی ہیں۔ تبّت کی تجارت پہلے ہندوستان کے ساتھ تھی مگر جب اس پر چین کا قبضہ ہوا تو یہ تجارت بند ہوگئی۔ 1957ء میں چین نے تبّت تک ایک سڑک تعمیر کرلی۔ تبّت کا دارالحکومت لہاسہ (Lhasa)ہے۔ تبّت میں وسیع سبزے کے میدان اور جنگلات بھی ہیں۔ یہاں سینکڑوں جھیلیں اور ندیاں قدرت کے حسن کو دوبالا کرتی ہیں۔ چونکہ بارش کم ہوتی ہے اسی لئے کھیتی باڑی صرف دریائوں کے کناروں پر ہوتی ہے جہاں پھل، جَو اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ یاک (yalk) یہاں کا پالتو جانور ہے۔

7ویں صدی عیسوی میں تبّت میں طاقتور بادشاہت تھی۔ بھارت کی طرف سے بدھ مت کو یہاں فروغ ملا۔ 18ویں صدی میں یہ چین کے کنٹرول میں چلاگیا۔ اس کے بعد تبّت پر چین کے قبضے اور اس سے آزادی کی آنکھ مچولی کافی دیر تک چلتی رہی۔ یہاں روایتی مذہبی بادشاہت بھی قائم ہے جس کا بادشاہ دلائی لامہ کہلاتا ہے۔ چینی کنٹرول سے پہلے تبّت پر بدھ راہبوں کی ایک مضبوط حکمرانی قائم تھی۔د لائی لامہ بدھ مت کا سردار کاہن ہے جو کرۂ ارض پر خدا کا مجسّم اوتار خیال کیا جاتا ہے۔ تبتی روایات کے مطابق جس وقت کوئی دلائی لامہ فوت ہونے لگتا ہے تو وہ اپنی وفات سے قبل یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ آئندہ جنم میں وہ کس گھرانے میں پیدا ہو گا۔ چنانچہ اہل تبّت اُس خاندان کے نوزائیدہ بچے کو متوفی دلائی لامہ کی مسند اقتدار پر لا بٹھاتے ہیں۔

…………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button