ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر۱۶۲)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

خدا یابی سے محروم رہنے کے اسباب

’’بہت لو گ ہیں کہ سیدھی نیت سے طلب نہیں کرتے۔تھوڑا طلب کرکے تھک جا تے ہیں۔ دیکھو اگر ایک زمین میں چالیس ہاتھ کھو دنے سے پانی نکلتا ہے تو تین چا ر ہاتھ کھود کر جو شکا یت کر ے کہ پانی نہیں نکلا اسے تم کیا کہو گے؟اس قسم کے بد قسمت انسا ن ہو تے ہیں کہ وہ دو چا ر دن دعا کر کے کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ کیو ں نہ لگا اور اس طرح ایک دنیا گمراہ ہو گئی ہے۔وظیفے اور مجاہدے کر تے رہے مگر جس حد تک کھودنے سے پانی نکلنا تھا اس حد تک نہ کھو دایعنی نہ پہنچے تو خدا کی ذات سے منکر ہو گئے اور آخر کار خلقت کا رجوع اپنی طرف دیکھ کر ٹھگ بن گئے۔ اس کا باعث یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی طرف جس رفتار سے چلنا چا ہیے تھا اس رفتار سے نہ چلے اور اس کے عطاکردہ دوسرے قویٰ اور اعضاء سے کام نہ لیا اور طوطے کی طرح وظیفوں پر زور لگاتے رہے۔ آخر کار لعنتی ہو گئے۔ ؎

گرنباشد بدوست راہ بردن

شرط عشق است در طلب مُردن

اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کی راہ پرچلا جاوے یہانتک کہ مر جاوے۔‘‘(ملفوظات جلد ششم صفحہ ۴۰۹-۴۱۰، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

تفصیل :اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر سے ملتا جلتا ایک شعر شیخ سعدی کی کتاب گلستان سعدی کے پانچویں باب بعنوان ’’عشق وجوانی ‘‘میں اس طرح آتاہے۔

گَرْنَشَایَدْ بِہْ دُوْست رَہْ بُرْدَنْ

شَرْطِ یَارِیْ اَسْت دَرْ طَلَبْ مُرْدَنْ

ترجمہ: اگرچہ دوست تک رسائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی دوستی کاتقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو شعر استعمال فرمایا ہے اس میں اور شیخ سعدی کے شعر میں صر ف دو الفاظ کا فرق ہے پہلے مصرع میں ’’نباشد‘‘کی بجائے ’’نشاید‘‘اور دوسرے مصرع میں ’’عشق ‘‘کی بجائے’’یاری‘‘۔جن کے معنی میں کوئی خاص فرق نہیں اس لیے دونوں اشعار کا ایک ہی ترجمہ ہے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button