ادبیات

درّثمین اردو کی پہلی نظم: نصرتِ الٰہی

(حافظ نعمان احمد خان ۔ استاد جامعہ احمدیہ ربوہ)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا ساراکلام نظم و نثر آفاقی ہے۔ ہر زمانے اور خطےّ کےلیے آپؑ کےفرمودات زندگی بخش پیغام لیے ہوئے ہیں۔ حضورؑ کے اردومنظوم کلام کا یہ مطالعہ ،ان نظموں پر غور کرنے کی ایک کوشش ہے۔

درِّثمین میں شامل پہلی نظم ‘‘نصرتِ الٰہی’’سیّدناحضرت اقدس مسیح موعودؑکی تصنیفِ لطیف‘‘براہینِ احمدیہ’’حصّہ دوّم،

مطبوعہ 1880ء سے ماخوذ ہے۔ چار اشعار کی اس مختصر نظم کی بحر، ہزج مثمن سالم ہے۔

براہینِ احمدیہ حصّہ دوّم میں اس نظم سے پیشتر حضورؑ آریہ سماج کے اس غلط عقیدے کی نفی فرماتے ہیں کہ سچی رسالت اور پیغمبری صرف برہمنوں کی وراثت اور انہی کے بزرگوں کی جاگیر ہے۔ یہ عقیدہ خدا کے اُن مقبول بندوں پر بدظنی ہے کہ جنہوں نے آفتاب کی طرح ظہور کیا اور اُس اندھیرے کو دُور کیا جو دنیا پر چھارہا تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ، حضرت مسیح ؑ اور آنحضر تﷺ کو مفتری ٹھہرانا، اُن کے ادوارِمبارک کو قسمت یا اتفاق پر محمول کرنا ، بےوقوفی ہے۔ اِن پاک ہستیوں کو جو کامیابیاں ملیں وہ تائیدِ الٰہی کے بڑے نمونے ہیں۔

اس کے بعد حضورؑ نے پنڈت دیانند صاحب کی نسبت فرمایا کہ پنڈت صاحب توریت،انجیل اور قرآن شریف کی نسبت سخت زبان استعمال کرتے ہیں۔وید کے علاوہ باقی تمام کتبِ سماویہ کو اپنی بےعلمی، تعصّب اور فطری کجی کے سبب کھوٹا سونا قرار دیتےہیں۔براہینِ احمدیہ کے ذریعے حضورؑ نے قرآن شریف کی حقیت و افضلیت اور اصولِ وید کے بطلان پر صدہا دلائل پیش کیے ۔ حضور ؑفرماتے ہیں : ‘‘ اگر پنڈت صاحب کا کچھ مادّہ ہی ایسا ہے کہ وہ ناحق خدا کے مقدس رسولوں کی توہین کرکے خوش ہوتے ہیں اور کچھ خُو ہی ایسی ہے کہ سنبھلی نہیں جاتی تو اس سے بھی وہ خدا کے پاک لوگوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ پہلے اس سے نبیوں کے دشمنوں نے اُن روشن چراغوں کے بجھانےکے لیے کیا کیا نہ کیا۔ اور کون سی تدبیر ہے جو عمل میں نہ لائے۔لیکن چونکہ وہ راستی اور صداقت کے درخت تھے۔ اس لیے وہ غیبی مدد سے دمبدم نشوونما پکڑتے گئے’’

(براہینِ احمدیہ حصہ دوم،روحانی خزائن جلد1،صفحہ 105)

چار اشعار کی اس مختصر نظم کا پہلا شعر تمہیدی ہے۔ اگلے دو اشعار میں حضورؑ نے عناصرِ اربعہ یعنی آگ،ہوا ،مٹی اور پانی کے ذریعے مخالفین ِحق پر آنے والی تباہیوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ خدا کی نصرت کے یہ نظارے، گذشتہ اقوام مشاہدہ کرتی رہی ہیں۔ چوتھا یعنی آخری شعر نتیجہ لیے ہوئے ہے:

غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے
بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے

خدا کے پاک لوگوں کی نصرت کے یہ نشانات حضورؑ کے لیے بھی عجیب شان سے پورے ہورہے ہیں۔حقیقۃ الوحی میں حضورؑ فرماتے ہیں:

‘‘میری تائید میں خداتعالیٰ کے نشانوں کا ایک دریا بہہ رہا ہے جس سے یہ لوگ بےخبر نہیں ہیں اور کوئی مہینہ شاذونادر ایسا گذرتا ہوگاکہ جس میں کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ ان نشانوں پر کوئی نظر نہیں ڈالتا۔ نہیں دیکھتے کہ خدا کیا کہہ رہا ہے…خدا عناصرِ اربعہ میں سے ہر ایک عنصر میں نشان کے طور پر ایک طوفان پیدا کرے گا اور دنیا میں بڑے بڑے زلزلے آئیں گے یہاں تک کہ وہ زلزلہ آجائے گا جو قیامت کا نمونہ ہے تب ہرقوم میں ماتم پڑے گا کیونکہ انہوں نے اپنے وقت کو شناخت نہ کیا یہی معنی خدا کے اس الہام کے ہیں کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پردنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زورآور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔یہ پچیس برس کا الہام ہے جو براہینِ احمدیہ میں لکھا گیا۔ اور ان دنوں میں پورا ہوگا۔ جس کے کان سننے کے ہیں وہ سنے۔’’
(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد 22صفحہ 199۔200)

اردو لغت (تاریخی اُصول پر)کی روشنی میں چند محاورات و الفاظ کے تلفظ و معنی ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔

نظم کے پہلے شعر میں ‘‘عالَم دکھانا’’ محاورہ استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی بہار،رونق یا جوبن دکھانے کے ہیں۔ اسی طرح تماشا دکھانا ،کیفیت ظاہر کرنے کے لیے بھی ‘‘عالَم دکھانے ’’کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔

یاتوبن بن اپناعالَم ہم کو دکھلاتے تھے تم
یا بگڑ کر اور ہی عالَم دکھایا آپ نے

جرأتؔ کے اس شعر میں یہ محاورہ مصیبت میں ڈالنے یا آفت سے دوچار کرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

آخری شعر میں ‘‘پیش جانا’’ محاورہ ہے۔ جس کے معنی قابو چلنا،کارگر یا مؤثر ہونے کے ہیں۔غالؔب کے ایک خط کا جملہ ہے ‘‘لغت اور محاورے اور اصطلاح میں قیاس پیش نہیں جاتا۔’’ اس محاورے کے ایک معنی سبقت لے جانے ،آگے نکل جانے کے بھی لکھے ہیں۔
آخری شعر میں لفظ ‘‘غَرَض’’بروزن مَرَض ہے۔ اس لفظ کو غَرْض بروزن فَرْض پڑھاجاتا ہےجو غلَط ہے۔ اس کے معنی خلاصۂ کلام،حاصلِ کلام،قصّہ مختصر کے ہیں ۔ میؔر کا مطلع ہے :

تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close