ایشیا (رپورٹس)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے طلباء جامعہ احمدیہ قادیان کی تاریخی(آن لائن) ملاقات

امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 17؍اپریل 2021ء کو جامعہ احمدیہ قادیان کے 19 طلبہ کے ساتھ ہونے والی آن لائن کلاس میں رونق افروز ہوئے۔ اس کلاس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کچھ زائد رہا۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ حضورِ انور نے جامعہ احمدیہ قادیان کے طلبہ کےساتھ ہونے والی کلاس میں انہیں سرفراز فرمایا۔ اس سے قبل 2005ء میں حضور انور کے دورۂ قادیان کے دوران ایسی ہی ایک کلاس منعقد ہوئی تھی۔ اور اس طرح اس ابتدائی اور تاریخی جامعہ احمدیہ (جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بابرکت ہاتھوں سے آپ کی بستی میں قائم ہوا تھا) کے طلبہ کو ایک مرتبہ پھر اجتماعی طور پر اپنے پیارے امام سے راہنمائی اور دعاؤں بھری ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔

حضورِ انور نے اس ملاقات میں اپنے دفتر اسلام آباد (ٹلفورڈ) سے شمولیت فرمائی جبکہ جامعہ احمدیہ کے طلبہ نے قرآن کریم کی نمائش کے ہال واقع قادیان، انڈیا سے آن لائن شرکت کی۔

ملاقات کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد حدیثِ نبویؐ پیش کی گئی، پھر ایک نظم پیش کی گئی جس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کیا گیا۔ پھر پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ قادیان نے جامعہ احمدیہ کی سرگرمیوں پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی جس میں مذکور تھا کہ اس وقت جامعہ احمدیہ قادیان میں 238 طلبہ تحصیل علم میں مشغول ہیں جبکہ 25اساتذہ کرام خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔

دورانِ ملاقات حضور انور کی خدمتِ اقدس میں جامعہ احمدیہ کے احاطہ اور قادیان کے دیگر تاریخی مقامات کی چند تصاویر اور ویڈیوز بھی پیش کی گئیں۔ بعد ازاں طلبہ کو اپنے پیارے امام سے سوالات پوچھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ چنانچہ انہوں نے چند سوالات پوچھے۔

ایک طالب علم نے سوال کیا کہ ہم کس طرح مؤثر رنگ میں ہندوؤں کو تبلیغ کر سکتے ہیں؟

حضور انورایدہ اللہ نے فرمایا کہ تبلیغ کے حوالہ سے بھارت میں کافی کام ہو رہا ہے اور اچھے نتائج بھی نکل رہے ہیں تاہم انہیں اپنی کوششوں کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ یہ ایک مبلغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی لوکل جماعت کے حالات کا جائزہ لے اور اس کے مطابق اپنے تبلیغی کاموں میں وسعت پیدا کرے اور لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آ گاہ کرے۔ آپ کے دیگر مذاہب کے لوگوں سے اچھے تعلقات ہونے چاہئیں جن میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر شامل ہیں۔

حضور انور نے مزید فرمایا: جب آپ شاہد پاس کرنے کے بعد بطور مربیان فیلڈ میں جائیںتو مستقل کوشش کریں کہ اپنے روابط بڑھاتے رہیں اور لوگوں کو اسلام کی پر امن تعلیمات کے بارے میں بتائیں… تو یہ سب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کس قدر محنت سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ میرا کام تو راہنمائی کرنا اور ہدایات دینا اور اسلام کی تعلیمات کے بارے میں مواد فراہم کرنا ہے اور میں نے یہ کام کافی حد تک کر دیا ہے، اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کو استعمال میں لائیں۔

حضورِ انور کے گزشتہ دورۂ قادیان 2005ء کے دائمی فوائد اور ثمرات کا ذکر کرنے کے بعد ایک طالب علم نے پوچھا کہ حضور انور کب قادیان کا دورہ فرمائیں گے؟

حضور انور نے قادیان کا دورہ کرنے کے متعلق اپنے دلی جذبات کا اظہار یوں فرمایا کہ میری تو خواہش ہے کہ میں آؤں، شاید میں پچھلے سا ل بھی آجاتا یا اس سے پچھلے سال بھی آجاتا لیکن حالات کی وجہ سے موقع نہیں ملا۔ 2008ء میں آنے کی کوشش کی تھی تو ساؤتھ انڈیا کا دورہ کرکے ہی واپس چلا گیا اور یہی مشورہ ہوا تھا کہ حالات کی وجہ سے فی الحال قادیان نہیں جانا چاہیے۔ دیکھیں،کب اجازت ہوتی ہےاور کب دورہ ہوتا ہے ۔ پھر آپ کے پاس آکر دیکھ لیں گےا س وقت آپ فیلڈ میں ہوتے ہیں یا طالب علم ہی ہوتے ہیں جامعہ احمدیہ کے، اور پھر آپ سے کلاس ہوتی ہے یا فیلڈ کے مربیان کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے، دیکھیں، جس طرح اللہ موقع پیدا کرے گا تو انشاء اللہ آئیں گے۔

ایک طالب علم نے پوچھا کہ وہ کس طرح حضور انور سے ذاتی تعلق پید اکر سکتا ہے۔

اس طالب علم کو خلیفۂ وقت کےساتھ قریبی تعلق پیدا کرنے کے بارے میں حضور انور نے از راہ شفقت فرمایا:

(جو خط آپ مجھے لکھتے ہیں) اس کے ایک کونے پر اپنی ایک تصویر لگا دیاکریں تو مجھے پتہ لگ جائے گا کہ آپ (اس موقع پر حضور انور نےطالب علم کا نا م لے کر فرمایا) کا خط آیا ہے، اور آہستہ آہستہ یاد ہوجائے گا۔ مختلف جامعات کے کئی ہوشیار طالب علم اسی طرح ہی کرتے ہیں، اپنی تصویریں لگا دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ان سے تعارف ہوجاتا ہے۔ اور یوکے میں رہنے والے تو ویسے ہی میں ان سے ملاقات کرتا رہتا ہوں اس لیے ان کو پہچان لیتاہوں۔ اور ساتھ یہ دعا کریں کہ صرف تعلق ہونا اور پہچان لینا تو کوئی بات نہیں ہے، جو خلیفۂ وقت کے منصوبے ہیں، باتیں ہیں، ان پر عمل کرنا اور عمل کروانا، یہ اصل چیز ہے۔ مربی کا کام اور ایک جامعہ کے طالب علم کا کام، جامعہ رہتے ہوئے اور پھر جب مربی بن جائے اس وقت اس سوچ کو مزید mature ہوجانا چاہیے کہ اس نے خلیفۂ وقت کا سلطان نصیر بننا ہے۔ اور اگر آپ سلطان نصیر بنیں گے اور کاموں کو سرانجام دیں گے اور تقویٰ پر چلتے رہیں گے اور دعا بھی کریں گے تو اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی نہ کوئی موقع پیدا کردیتا ہے اور کوئی خاص بات پیدا ہوجاتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ قرب کا موقع پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن اصل چیز یہی ہے ، اصل قربت یہی ہے کہ خلیفۂ وقت کے سلطان نصیر بنیں اور اس کے کاموں کو اور اس کے منصوبوں کو آگے پھیلائیں۔

ایک طالب علم نے سوال کیا کہ وہ کس طرح دیہات میں رہنے والوں کو تبلیغ کر سکتے ہیں جہاں لوگ کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور دیگر محنت مزدوری کرتے ہیں، اس لیے ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔

اس بارے میں ہدایات سے نوازنے کے بعد کہ دیہات میں کس طرح تبلیغ کی جا سکتی ہے حضور انور نے تبلیغ کا اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان فرمایا جب آپ خود ایک طالب علم تھے۔

حضور ا نور نے فرمایا:

جن کو تبلیغ کا شوق ہو وہ خود نئے نئے راستے explore کرتے ہیں، تلاش کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، تو ہمیں خدام الاحمدیہ نے کہا تبلیغ کے لیے باہر جاؤ، تو ہم لڑکے سائیکلوں پر جاتے تھے دیہات میں اور وہاں زمینداروں کے پاس بیٹھے ہوئے، مثلاً کوئی زمیندار اپنی فصل کو پانی لگا رہا ہے (ایگریکلچر یونیورسٹی کے طلبہ ہونے کی وجہ سے شوق تھا) تو اس زمیندار کو کہہ دیا کہ ہم پانی لگا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ مدد کردی۔ اور اس نے بھی (courtesy) مروت میں ہم سے کچھ باتیں کرلیں پھر احمدیت کا تعارف ہوگیا۔

حضور انور نے مزید فرمایا

’’تو کھیتوں میں جا کر بھی، اگر شوق ہو تو ذرائع نکل آتے ہیں اور مواقع پیدا ہو جاتے ہیں… یہ آپ پر dependکرتا ہے کہ آپ کو کتنا شوق ہے اور کتنے efficient ہیں، اگر شوق نہ ہو تو بندہ سوچتا ہے کہ کیا کام کرنا ہے، اگر شوق ہے تو پھر وہ چھوٹے سے موقع سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔

حضورِ انور سے سوال ہوا کہ کیا آپ کو کبھی کوئی ایسی مشکل پیش آئی جس کا سامنا کرنے میں آپ بے حد پریشان ہوئے ہوں اور کس طرح اس پریشانی سے نجات ملی؟

حضور انور نے فرمایاکہ اللہ کے فضل سے کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آئی جس سے میں کہوں بہت پریشان ہوں۔ طالب علمی کے زمانہ میں، ایک طالب علم کو یہی ہوتا ہے ناں کہ میں پاس ہو جاؤں …تو ایسا ہی ہوا، جب اللہ کے سامنے جھکے، اللہ سے رو رو کر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے راستے اور سبیل پیدا کردی کہ اس مشکل میں سے گزار دیا۔ میرے ساتھ تو یہی تجربہ ہوا اور جب بھی کوئی پریشانی آتی تھی تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے پڑھائی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا تھا…آپ لوگوں کو بھی اگر کوئی ایسی مشکلات پیش آجائیں تو اللہ تعالیٰ سے مانگیں، جب خالص ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان جھکتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو قبول بھی کر لیتا ہے۔ دعا اور صدقہ و خیرات مشکلات کو دور کردیتے ہیں۔ یہی ہمیں اسلام کی تعلیم نے سکھایا ہے، میں نے تو اسی پر عمل کیا ہے جب کوئی چھوٹی موٹی مشکلات پیش آئی ہیں۔

ایک اَور سوال یہ ہوا کہ نمازوں میں لذت اور دعاؤں میں سوز کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا:بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موٹا نسخہ بتایا کہ اگر تمہاری ایسی حالت نہیں ہوتی تم رونی صورت بنا لو۔ آدمی کی جو ظاہری حالت ہے اس کا اثر دل پہ بھی ہوتا ہے۔ بس پھر کبھی رونی شکل بنا لو، کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہوتو کبھی کبھی اس تکلیف کو سامنے رکھ کر دعا کر لیا کرو تو پھر بھی رقت پید اہو جاتی ہے۔ پھر باقی دعاؤں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ پھر اگر دوسروں کے لیے درد ہو تو ان کے درد کو سامنے رکھ کے دعا کرو تو اس سے بھی دعا کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔ تو اپنی حالت کو اس حالت کے مطابق کرو۔ شکل ایسی بناؤ تو رقت اور سوز پیدا ہو جاتا ہے اور جب پیدا ہو جائے تو ٹھیک ہے۔ آج کل ایک مربی کاکام یہ ہے، ایک مبلغ کا کام یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی وقف کی ہے اور سب سے بڑا چیلنج جو اس کے سامنےہے وہ یہ ہے کہ ساری دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروانا ہے، آشنا کروانا ہے۔ اس کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جب اس چیلنج پر غور کرتے ہوئے انسان اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور مانگتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے کہ مَیں نے اپنے آپ کو وقف کیا کہ میں اس کام کو پورا کروں اور میں سلطان نصیر بنوں خلیفۂ وقت کا اور مَیں نے ایک عہد کیا ہوا ہے مَیں کس طرح عہد پورا کروں گا تو دل میں ایک درد پیدا ہو گا۔ اس درد کو پیدا کریں گے تو دعاؤں کی طرف آپ کی توجہ پیدا ہو جائے گی۔ صرف ذاتی درد کے لیے دعائیں نہ کیا کریں بلکہ جماعتی درد پیدا کر کے بھی دعائیں کریں تو اللہ تعالیٰ پھر ذاتی مسائل کو بھی حل کر دیتا ہے ۔ اور بار بار اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُکا ورد کیا کریں۔ ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے قادیان میں ہی غالباً مولانا مولوی سرور شاہ صاحب تھے یا مولوی شیر علی صاحب تھے تو کہتے ہیں مَیں نے دیکھا کہ وہ مسجد مبارک قادیان میں کھڑے ہیں اور کھڑے کھڑے ہی نفل پڑھ رہے ہیں اور رکوع میں نہیں جا رہے۔ نیت باندھی ہوئی ہے، ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں میں قریب گیا تو ہلکا ہلکا whisperکر رہے تھے، اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہہ کہہ کر اتنی زیادہ رقت طاری ہوئی ہوئی تھی ان پر کہ اسی فقرے کو وہ پندرہ منٹ دہراتے رہے۔ تو یہ تو نماز میں جو مختلف حالتیں ہیں آپ لوگ اگر اس پہ غور کریں، ماشاء اللہ جامعہ میں پڑھنے والے ہیں اور دین کا علم بھی ہے اور جو نماز کے الفاظ ہیں ان کا ترجمہ اور مطلب بھی آتا ہے، اس کی تشریحیں اور تفسیریں بھی پڑھی ہوئی ہیں تو جب اس پہ غور کرتے ہوئے آپ پڑھیں گے اور بار بار دہرائیں گے تو پھر انسان میں بار بار دہرانے سے ایک ایسی حالت اور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ خود ہی رقت طاری ہو جاتی ہے۔

ایک دوسرے طالب علم نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ بعض باقاعدہ نمازیں پڑھنے والے بد اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں؟

حضور انور نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ آپ کو لازماً حقوق العباد ادا کرنے چاہئیں اور اپنے اخلاق بہتر بنانے چاہئیں۔ ایک عمل اسی وقت اچھا عمل بن سکتا ہے جب آپ کی عبادت کے ساتھ آپ کے اخلاق بھی اچھے ہوں۔ کسی کو حقیقی عابد اسی وقت کہا جا سکتا ہے اگر وہ اللہ کی عبادت کرے اور اس سے ڈرے۔ اس لیے جب آپ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے احکامات پر عمل نہ کریں۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب ہم عبادت کرتے ہیں تو ہماری عبادت کا عکس ہمارے اخلاق میں نظر آنا چاہیے۔ اگر ہم اس (اخلاق) میں نہیں بڑھ رہے تو ہماری عبادت بے سود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے متعلق فرمایاہے کہ ’ایسے نمازیوں پر ہلاکت ہو‘۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ اس لیے ہے کہ وہ اخلاقی طور پر کمزور ہیں اور اور وہ حقوق العباد ادا نہیں کرتے۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے کہ آپؑ دو مقاصد لے کر آئے ہیں ۔ پہلا تو یہ کہ لوگوں کو خدا سے جوڑیں تاکہ وہ اس کے حق ادا کریں اور دوسرا یہ کہ لوگوں کو حقوق العباد ادا کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔

ایک طالب علم نے سوال کیا کہ جامعہ احمدیہ میں یہ ہمارا آخری سال ہے یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ہمیں کس طرح جماعتوں میں تعلیم و تربیت کے کاموں کی شروعات کرنی چاہئیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ پہلی بات تو یہی ہے کہ دعا سے اپنا کام شروع کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے؟ جب آپ کسی بھی میدان میں جا رہے ہیں، پوسٹنگ ہوتی ہے تو پہلے صدقہ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جس جگہ میدانِ عمل میں بھیج رہا ہے وہاں میں صحیح رنگ میں جو مَیں نے عہد کیا ہے زندگی وقف کرنے کا اور اپنے آپ کو مربی اور مبلغ کے طور پہ پیش کرنے کا اس کو پورا کر سکوں۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ جو آپ نے عہد کیا ہے اس عہد کو نبھاناہے۔ امانتوں کا حق ادا کرنا قرآن کریم کا حکم ہے یہ امانت ہے آپ کے پاس۔ ٹھیک ہے؟ امانت کیا ہے کہ آپ نے احمدیت اور اسلام کے حقیقی پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس کے لیے صحیح راستے تلاش کرنے ہیں، نئے نئے راستے تلاش کرنے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ ہمیں مرکز سے ہدایت آئے گی کہ تم نے یہ لٹریچر تقسیم کرنا ہے تو کرو، مرکز سے ہدایت آئے گی کہ اتنے آدمیوں کو داعین الی اللہ بناؤ تو ہم نے بنانا ہے، مرکز سے ہدایت آئے گی کہ فلاں جگہ جا کے تبلیغ کرو تو ہم نے کرنی ہے۔ نہیں۔ خود آپ لوگوں کو رستے تلاش کرنے ہوں گے۔

حضورِ انور نے مزید فرمایا :آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ آپ کے مقامی حالات کے مطابق کیا ضروری چیزیں ہیں جن کو کرنا چاہیے۔ کس طرح بہتر رنگ میں افرادِ جماعت کی تربیت کر سکتے ہیں، کس طرح ہم بوڑھوں کی تربیت کر سکتے ہیں، کس طرح ہم نوجوانوں کی تربیت کر سکتے ہیں، کس طرح ہم عورتوں کی تربیت کر سکتے ہیں، کس طرح ہم بچوں کی تربیت کر سکتے ہیں۔

ایک مربی کی حیثیت سے اختلافات کو دور کرنے کے بارے میں راہنمائی دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:

اگر کہیں جماعتوں میں دیکھیں کہ فریقین میں آپس میں رنجشیں ہیں ان رنجشوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ مربی کا یہ کام ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی طرف جھکاؤ نہ رکھنے والا ہو۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فریق سے اس کا تعلق اچھا ہو۔ اگر کسی فریق میں صلح کرانے جا رہے ہیں تو جس کے گھر میں بھی صلح کروانے جا رہے ہیں جب تک ان لوگوں کی صلح نہیں ہو جاتی اور وہ آپس میں ایک نہیں ہو جاتے سب رنجشیں اور کدورتیں دور نہیں ہو جاتیں اس وقت تک صلح کرانے کے پراسیس کے دوران نہ آپ نے ایک فریق کے گھر سے چائے پینی ہے، پانی پینا ہے نہ دوسرے فریق کے گھر سے چائے پینی ہے یا پانی پینا ہے۔ گھر سے چائے پی کے، پانی پی کے جائیں اور کہہ دیں بھئی میں تو صلح کروانے کے لیے آیا ہوں تم لوگوں کو سمجھانے کے لیے آیا ہوں اور تم لوگوں میں بھائی چارہ، محبت پیدا کروانے کے لیے آیا ہوں جس طرح کہ قرآن کریم کا حکم ہے۔ تو اس لیے میں تمہارے گھر سے کھانا پینا اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک تم اللہ اور رسول کی یہ بات نہیں مان لیتے۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ پھر دوسرے یہ کہ ہر گھر میں جا کے ان سے ایک ذاتی تعلق پید اکریں۔ جس جماعت میں بھی آپ تعینات ہوتے ہیں وہاں جائیں اور اس جماعت کے ہر گھر کے ساتھ ایک ذاتی تعلق ہو۔ آنا جانا ہو، اٹھنا بیٹھنا ہو، اس کے نوجوانوں سے، ان کے بوڑھوں سے، ان کے بزرگوں سے آپ کا تعلق ہو۔ وہ سمجھیں کہ مربی صاحب جو آئے ہیں یہ ہمارے ہمدرد ہیں اور اتنا اعتماد پیدا ہو جائے کہ ہر شخص آپ سے راز کی بات کرنے والا ہو اور پھر اس راز کو آپ اپنے دل میں دفن کرنے والے ہوں۔ یہ نہیں ہے کہ ایک جگہ کا راز سنا اور دوسری جگہ جا کے بیان کر دیا۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے۔ تو اس طرح اَور بہت ساری چیزیں ہیں جب یہ ذاتی تعلق پیدا ہو جائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی بات کا اثر بھی ہو گا۔ جماعت کا ہر فرد پھر آپ کی بات مانے گا اور وہ جماعت آپس میں بھی پیار اور محبت سے تعلقات قائم کرنے والی بن جائے گی۔

اس ملاقات کا اختتام ایک ترانہ پر ہوا جو جامعہ احمدیہ قادیان کے طلبہ نے پڑھی اور اس دوران سکرین پر قادیان کے مختلف مقامات کی تصاویر دکھائی جا تی رہیں۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close