متفرق مضامین

بحر علم و عرفان

(ابو سدید)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے الٰہی معارف اور علمی نکات سے پُر خطبات جمعہ پر ایک مختصر اور طائرانہ نظر

بحر علم و عرفان کے جواہرات اور انمول موتی …روحانی زندگی کی معراج حاصل کرنے کے لیے نسخہ کیمیا

جماعت احمدیہ کو عطا ہونے والا خلافت کا یہ آسمانی نظامِ ہدایت ایک شجرہ طیبہ ہے جو سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے روحانی فیضان کا ایک تسلسل ہے

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام یعنی عصرحاضر کے امام موعودؑ نے اپنی معرکہ آرا تصنیف ’’الوصیت‘‘ کے صفحہ 6-7پر قدرت ثانیہ کی نسبت یہ مہتم بالشان بشارت دی تھی کہ

’’تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔‘‘

حضرت مصلح موعودؓ نے8؍ستمبر1950ءکووکٹوریہ روڈ میگزین لین،کراچی میں نئی تعمیر شدہ مسجد میں پہلا خطبہ جمعہ دیتے ہوئے نہایت پرشوکت انداز میں قدرت ثانیہ کی بشارت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں تو جاتا ہوں۔لیکن خدا تمہارے لئے قدرتِ ثانیہ بھیج دے گا۔مگر ہمارے خدا کے پاس قدرتِ ثانیہ ہی نہیں۔اس کے پاس قدرت ثالثہ بھی ہے اور اس کے پاس قدرتِ ثالثہ ہی نہیں۔اس کے پاس قدرتِ رابعہ بھی ہے۔قدرتِ اولیٰ کے بعد قدرتِ ثانیہ ظاہر ہوئی۔اور جب تک خدا اس سلسلہ کو ساری دنیا میں نہیں پھیلا دیتا۔اس وقت تک قدرتِ ثانیہ کے بعد قدرتِ ثالثہ آئے گی۔اور قدرتِ ثالثہ کے بعد قدرتِ رابعہ آئے گی۔اور قدرتِ رابعہ کے بعد قدرتِ خامسہ آئے گی…اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ لوگوں کو معجزہ دکھاتا چلا جائے گا۔اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت اور زبردست سے زبردست بادشاہ بھی اس سکیم اور مقصد کے راستہ میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔جس مقصد کے پورا کرنے کےلئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو پہلی اینٹ بنایا اور مجھے اس نے دوسری اینٹ بنایا۔رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ فرمایاکہ دین جب خطرہ میں ہوگاتو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کےلئے اہلِ فارس میں سے کچھ افراد کھڑا کرے گا۔حضرت مسیح موعودؑ ان میں سے ایک فرد تھے۔اور ایک فرد میں ہوں۔لیکن رجالٌ کے ماتحت ممکن ہے کہ اہل فارس میں سے کچھ اور لوگ بھی ایسے ہوں۔جو اسلام کی عظمت قائم رکھنے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کےلئے کھڑے ہوں۔‘‘

(الفضل 8؍ستمبر1950ء صفحہ 6)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے اس روح پرور خطاب کے صرف چند روز بعد ہمارے امام عالی مقام سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد (خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)کی 15؍ستمبر 1950ء کو ولادت ہوئی۔

(قلمی نوٹ بک مرتبہ : مولانا عبدالرحمٰن صاحب انور سابق پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح صفحہ 9غیر مطبوعہ)

آپ کا اسم گرامی مسرور احمد رکھا گیا جو حضرت مسیح موعودؑ کا الہامی نام ہے۔چنانچہ دسمبر 1907ء کو الہام ہوا:

’’میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔انی معک یا مسرور (یعنی اے مسرور میں تیرے ساتھ ہوں۔)‘‘

(بدر 19؍دسمبر1907ء صفحہ 4تا5والحکم 24؍دسمبر1907ء صفحہ 4تذکرہ طبع چہارم صفحہ 744)

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے خلافت خامسہ کا بابرکت آغاز18سال قبل ہوا۔اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں سے قائم ہونے والی جماعت احمدیہ اس کی رحمتوں کے سایہ میں ایک بار پھر عزم وایقان کی شمعیں دلوں میں روشن کیے،غلبہ اسلام کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ جماعت احمدیہ کو عطا ہونے والا خلافت کا یہ آسمانی نظامِ ہدایت ایک شجرہ طیبہ ہے جو سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے روحانی فیضان کا ایک تسلسل ہے۔یہ ایسا پاکیزہ اورمقدس شجر ہے جو قرآن مجید کے بیان کے مطابق اپنے اندر یہ امتیازی شان رکھتا ہے کہ ایک طرف اس کی جڑیں خلیفۃ المسیح کی سرکردگی میں آپ کے خطبات،خطابات اور تعلیمات و نصائح ہر احمدی تک پہنچ کرجماعت مومنین کے دلوں کی سرزمین میں نہایت پختگی سے راسخ ہیں اور دوسری طرف اس کی شاخیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارشوں کے نتیجہ میں اور اپنی عالمگیر نیک تاثیرات اور فتوحات کے اعتبار سے آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ وہ عظیم الشان عالمگیر نظام ہے جس کی برکت سے جماعت احمدیہ اپنی تعداد کی کمی اور وسائل کی کمیابی اور ہر نوع کی شدید مخالفت اور مزاحمت کے باوجود دنیا بھر میں پھیلتی جا رہی ہے اوردشمنوں کی سر زمین ہر طرف سے سکڑتی جا رہی ہے۔یہ خلافت احمدیہ کا الٰہی نظام جس کے تار اللہ کی تائیدات اور مددو نصرت کے ساتھ بندھے ہیں۔اسی نظام میں حضرت خلیفۃ المسیح کے پاکباز ذہن کی پاکیزہ سوچوں اور صاف ستھرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراست اُتاری جاتی ہے جس کی روشنی میں وہ اُن موضوعات پر سیر حاصل خطبات عطا فرماتے ہیں اور روحانی امور کو کھول کھول کر جماعت احمدیہ کے سامنے رکھتے ہیں جن کی اس وقت اشد ضرورت ہوتی ہے۔یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا جماعت احمدیہ کے ساتھ یہ پیارا اور دل موہ لینے والا سلوک خلافت اولیٰ یعنی خلافت احمدیہ کے پہلے مبارک دَور سےہی جاری ہے۔اور اب ہم خلافت احمدیہ کے سو سال سے زائد عرصہ بعد خلافت خامسہ میں بھی رحیم و کریم خدا کا یہی سلوک مشاہدہ کررہے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ خلافت خامسہ بھی قدرت ثانیہ کے اسی شجرہ ٔ طیبہ کی ایک شاخ ہے۔جس طرح اس سے قبل اس شجرۂ طیبہ کی ہر شاخ سرسبز اور ثمر آور ہوئی اسی طرح ان شاء اللہ اب بھی ہوتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعودؑ کے بعد آپ کے خلفاء ہیں جو روحانی خزائن کو دنیا کے سامنے لُٹا رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خلیفہ وقت کی آوازکوسنیں،اس کی ہدایات پر کان دھریں اور ان پرعمل کریں۔کیونکہ اس ربانی شخص کی آوازکوسنناباعثِ ثواب اوراس کی باتوں پرعمل کرنادین ودنیاکی بھلائی کاموجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آوازہوتی ہے،زمانے کی ضرورت کے مطابق یہ الٰہی بندے بولتے ہیں۔خدائی تقدیروں کے اشاروں کودیکھتے ہوئے وہ راہ نمائی کرتے ہیں۔روحانی اسرار و رموز سے پردہ اٹھاتے ہیں۔الٰہی تائیدات ونصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے۔خدائی صفات ان کے اندرجلوہ گرہوتی ہیں۔خلفائے سلسلہ کے خطبات ہماری تربیت و تعلیم اور اخلاق کو سنوارنے کا کام کرتے ہیں۔اس دَور کی اقوام کے لیے نجات کا ذریعہ یہی خطبات ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہ نمائی اور مدد و نصرت کے نتیجے میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آغاز خلافت سے ہی علمی نکات پر مشتمل اپنے پُر تاثیر اور پُر معارف خطبات کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کوئی وقفہ آئے بغیر آپ مسلسل ولولہ انگیز خطبات جمعہ کے ذریعہ جماعت کی تعلیم و تربیت کا اہم فرض بجا لائےاور احباب جماعت کو ایسی برموقع نصائح عطا فرمائیں جن کی اس زمانہ میں اشد ضرورت تھی۔ان خطبات ہی نے تربیت کے اعلیٰ تقاضوں کے مطابق جماعت کو صراط مستقیم پر رکھا۔ مرد احباب کے ساتھ ساتھ خواتین سے متعلق تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی اور ضروری ہدایات سے نوازا۔ جھوٹ، لغویات سے پرہیز، چغل خوری، بدظنی اور خیانت جیسے بداخلاق سے روکنے کے لیے ہمارے پیارے امام ہمام نے بیشتر خطبات سے نوازا۔ اعلیٰ اخلاق کو سنوارنے کے لیے پنجوقتہ باجماعت نمازادا کرنے اور تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالنے نیز تقویٰ اختیار کرنے اور نیکیاں بجا لانے جیسے عظیم موضوعات کو اپنے خطبات میں سمودیا۔یہ دَور ہمارے لیے بہت انقلاب انگیز ہے،اس دَور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی عظیم نعمت سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اس کے ذریعے سے ہم اپنے محبوب امام کے خطبات،ارشادات اور ملفوظات سےمسلسل فائدہ اٹھاتے ہیں اور لمحہ لمحہ اس روحانی و بابرکت وجود کا دیدار کرتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح کے یہ خطبات جمعہ احباب ِجماعت احمدیہ کے ہر حصہ تک پہنچ کر آب حیات کا کام کرکے ہر احمدی کے جسم میں نئی روح پھونک کر وہی کام کرتے ہیں جیسے دل خون کو پمپ کرکے جسم کے کونے کونے تک پہنچا کرہر عضو کو فعال رکھتا ہے۔

گذشتہ 18؍سال سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دقیق علوم اور مفید روحانی امورپر مشتمل خطبات کےکئی سلسلے جماعت کو عطا فرمائے ہیں۔ان خطبات کے سلسلوں کا تعارف ان شاء اللہ آئندہ اقساط میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:

’’خداتعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے…اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔‘‘

(الفرقان، مئی وجون1967ء صفحہ37)

پھر فرماتے ہیں:

’’خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں،سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفۂ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ء مطبوعہ الفضل 31؍جنوری 1936ء)

اس مضمون میں اور اس کے بعد اسی نوعیت کے مضامین کا ایک سلسلہ بعنوان ’’بحر علم و عرفان‘‘ میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے خطبات جمعہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنی مقصود ہے۔یہ علم وعرفان کا ایسا عظیم سمندر ہے جس میں غوطہ لگا کر ڈھیروں جواہرات اور سچے موتی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے روحانی خزائن سے لبالب بھرے ان پرمعارف خطبات جمعہ پر کچھ بھی کہنا ایسا ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے جیسا چمکتے سورج کی روشنی میں چراغ جلا کر راستہ دکھانے کے کام کی دل میں سوچ رکھی جائے۔کہاں چمکتا دمکتا آفتاب اور کہاں ایک ناچیز غلام کے ہاتھ میں معمولی چراغ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بحر علم و عرفان کا دائرہ صرف خطبات جمعہ تک ہی محدود نہیں ہے۔بلکہ آپ کی زبان مبارک سے نکلا ہر لفظ بھی ہمارے لیے ایک روحانی بحر بے کراں کی حیثیت رکھتا ہے۔دربارِ خلافت سے جاری ہونے والے ایک لفظ سے لے کربابرکت نصائح کے گلدستہ تک اور پھر ذیلی تنظیموں کو دیے جانے والےقیمتی لائحہ عمل پر مشتمل خطابات سے لے کر جلسہ ہائے سالانہ کے مواقع کےروحانی خزائن سے پُر خطابات تک سب اس وسیع و عریض سمندر کا حصہ ہے،صرف یہی نہیں ہر پروگرام،ہر تقریب اور ہر موقع پر عطا ہونے والے کلمات یا خطاب بھی اسی بحر علم وعرفان کا حصہ ہیں۔ان تقریبات اور مواقع کی فہرست بھی بنانے لگیں تو کافی وقت اور بہت سے صفحات کی ضرورت ہوگی۔اور پھر اردو اور انگریزی زبانوں میں الگ الگ دیے گئے خطابات بھی تو اسی بے کراں سمندرکاحصہ بنیں گے۔جس میں ہیرے جواہرات اور انمول سچے موتی ڈھونڈنا بھی ایسا کام ہے جو کرنے والے ہی کر سکتے ہیں۔آئیے آپ کوخطبات جمعہ کے اس بحر علم و عرفان میں غوطہ زن ہوکر سیرکو لیے چلتے ہیں اور روحانی زندگی کے رازوں سے روشناس کراتے ہیں۔اس قسط میں سرِدست چند خطبات جمعہ پر ہی ایک نظر ڈال سکیں گے۔وَمَاتَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ۔

بحر علم وعرفان کی سیر کا آغاز حضور انور کے پہلے خطاب سے کرتے ہیں۔

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مقدس وجود کو اللہ تعالیٰ نے جب منصب خلافت پر فائز فرمایا تو آپ نےانتخاب خلافت کے معاً بعد احباب جماعت سے خطاب فرمایا۔اس بہت مختصر مگر جامع اور تاریخی خطاب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’احباب جماعت سے صر ف ایک درخواست ہے کہ آج کل دعاؤں پہ زور دیں،دعاؤں پہ زور دیں،دعاؤں پہ زوردیں۔بہت دعائیں کریں،بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں ۔اللہ تعالیٰ اپنی تائید ونصرت فرمائے اور احمدیت کا یہ قافلہ اپنی ترقیات کی طرف رواں دواں رہے۔آمین‘‘

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل25؍اپریل2003ءصفحہ1)

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دَور خلافت کا پہلا خطبہ جمعہ مورخہ 25؍اپریل 2003ءخلافت کی اہمیت اور دعاؤں کی تحریک پر مشتمل تھا۔

خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ البقرۃ کی آیت 187کی تلاوت کی جس میں اللہ کی صفت مجیب کا ذکر ہے۔فرمایا کہ دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ پر بے شمار احسان اور فضل ہوئے ہیں۔آیت استخلاف کے حوالے سے آپ نے خلافت کی اہمیت اور اس کے قیام کا مضمون بیان فرمایا کہ خلافت کے ذریعہ ہی توحید کامل قائم ہوتی ہے۔خطبے کے آخر پرحضور انور نے احباب جماعت کو اپنے لیے دعا کی تحریک کی نیز اس بات کی تلقین کی کہ افرادجماعت ہمیشہ خلافت کے تقدس کا خیال رکھیں۔

٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعاؤں کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کے چند ارشادات پیش فرمائے۔ان میں سے ایک یہ تھا:

’’میں ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہتا ہوں اور سب سے مقدّم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو ہموم اور غموم سے محفوظ رکھے۔کیونکہ مجھے تو ان کے ہی اَفکار اور رنج،غم میں ڈالتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مجموعی ہیئت سے کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو کوئی رنج اور تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو نجات دے۔ساری سرگرمی اور پورا جوش یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کروں۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ 66۔ایڈیشن1988ء)

٭…خلافت کے قیام،اس کی برکات اور اللہ کی طرف سے ترقیات کے وعدے اور فتوحات کی خوشخبریوں کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ،حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ارشادات کی روشنی میں بیان فرمایا۔حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ اقتباس احباب کے سامنے رکھا:

’’اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرکے دکھلادے۔سو اب ممکن نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنی قدیم سنّت کو ترک کردیوے۔…تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے۔اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔… جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے۔اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پَیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔… ہمارا خدا وعدوں کا سچّا اور وفادار اور صادق خدا ہے۔وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گاجس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اوربہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے،پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہوجائیں جن کی خدا نے خبر دی۔‘‘

(الوصیت،روحانی خزائن جلد20صفحہ305)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا تھا کہ

’’میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں کہ… اب آئندہ انشاء اللہ خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔جماعت بلوغت کے مقام کو پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔اور کوئی دشمن آنکھ،کوئی دشمن دل،کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گی اور خلافت احمدیہ انشاءاللہ تعالیٰ اسی شان کے ساتھ نشوونما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے وعدے فرمائے ہیں۔کم ازکم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔تو دعائیں کریں،حمد کے گیت گائیں اور اپنے عہدوں کی پھر تجدید کریں۔‘‘

(الفضل 28؍جون 1982ء)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ اقتباس پیش کرنے کے بعد بڑے جوش سے فرمایا:

’’آج ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اے جانے والے تو نے اس پیاری جماعت کو جو خوشخبری دی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔اور یہ جماعت آج پھر بنیان مرصوص کی طرح خلافت کے قیام و استحکام کے لئے کھڑی ہوگئی اور اخلاص اور وفا کے وہ نمونے دکھائے جن کی مثال آج روئے زمین پر ہمیں نظر نہیں آتی۔اے خدا اے میرے قادر خدا تو ہمیشہ کی طرح اپنی جماعت پر اپنے کئے ہوئے وعدوں کے مطابق اپنے پیار کی نظر ڈالتا رہ۔‘‘

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دَور خلافت کا دوسرا خطبہ جمعہ مورخہ 2؍مئی 2003ء کو تھا۔

٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ کے آغاز میں سورۃ الاعراف آیت 44کی تلاوت فرمائی اور پھر حمد باری تعالیٰ اور کامیابیوں اور کامرانیوں کے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے کے مضمون کی تشریح احادیث نبویہؐ اور تحریرات حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں بیان فرمائی۔

٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 9؍مئی کے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت الخبیر کے حوالے سے قرآن کریم اور آنحضرتؐ کی پیشگوئیوں کا تذکرہ فرمایا جو بڑی شان سے پوری ہوئیں۔اسی طرح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیان فرمودہ بعض پیشگوئیاں بیان فرمائیں۔

٭…قرآنی پیشگوئیوں میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جن پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا ان میں اجرام فلکی کی تحقیقات،ہولناک تابکاری تباہیاں اور ایٹمی جنگوں کےنقشے پر مشتمل پیشگوئیاںشامل تھیں۔

٭…آنحضرتؐ کی فرمودہ بعض پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعودؑ کی بعض پیشگوئیاں کا ذکر فرمایا جن میں کفالت الٰہی کا وعدہ، ڈاکٹر ڈوئی کی ہلاکت،جاپان و روس کی شکست اورجماعت کی ترقی کی خبریں شامل تھیں۔

٭…حضور انور ایدہ ا للہ تعالیٰ نے انسانیت کوآئندہ آنے والی ایٹمی جنگ کی تباہیوں سے بچانے کے لیے دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:

’’دوسری جنگ عظیم میں یہ(تباہی کے۔ناقل) نظارے دیکھے گئے حالانکہ وہ بہت کم طاقت کے ایٹم بم تھے اور اب تو اس سے کئی گنا زیادہ طاقت کے ایٹم بم تیار ہو چکے ہیں اور اس وقت جو دنیا کے حالا ت ہیں وہ یہی نظر آ رہے ہیں کہ دنیا بڑی تیزی سے تباہی کے کنارے کی طرف بڑھ رہی ہے۔پس آج ہمیشہ کی طرح جماعت احمدیہ کا فرض ہے،جس کے دل میں انسانیت کا درد ہے کہ انسانیت کو بچانے کے لئے دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔دنیا خدا کو پہچان لے اور تباہی سے جس حد تک بچ سکتی ہے بچے۔‘‘

خطبہ کے آخر پر حضور انور نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی وفات پر جماعت برطانیہ اور ایم ٹی اے نے جو شاندار خدمات سرانجام دیں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا۔حضور انور نے فرمایا:

’’آخر پر مَیں جماعت انگلستان اور یہاں کے مخلصین کی غیر معمولی خدمات پر ان کا دلی شکریہ ادا کرتاہوں۔اس پیاری جماعت نے خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے دوران بے انتہا خدمت کی توفیق پائی۔اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔جہاںتک میرا علم ہے حضوررحمہ اللہ تعالیٰ بھی آپ سے خوش ہی گئے ہیں۔الحمدللہ۔پھر حضور رحمہ اللہ کی وفات پر جس نظم وضبط اور جس وفا اور اخلاص اور منجھے ہوئے کارکنان کی طرح تمام عہدیداران اور کارکنان نے حالات کو سنبھالا اوراندازہ سے کئی گنا زیادہ مہمان آنے پر ان کو خوشی سے ہر سہولت جو اس موقع کی مناسبت سے دی جاسکتی تھی دی۔یہ کوئی چھوٹی چیز نہیں،کم حیرت کی چیز نہیں۔واقعی حیرت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی اس فدائی جماعت پر،اس کے کاموں پر۔بہرحا ل جب نیت نیک ہو تو الٰہی تائید ات بھی شامل حال ہوتی ہیں۔اور ہرکارکن نے اس دوران میں الٰہی تائیدات کے نظارے بھی دیکھے،الحمدللہ۔اب کثرت سے لوگوں کے خطوط آ رہے ہیں کہ سارے منظم انتظام کا ہماری طرف سے جماعت انگلستان کو اور ایم ٹی اے کو شکریہ ادا کریں۔جو لوگ یہاں نہیں آ سکے انہوں نے جس تفصیل سے ایم ٹی اے کے ذریعہ اپنے دلوں کی تسکین کے سامان پائے اس پر دنیا میں کروڑوں احمدی ایم ٹی اے کے کارکنان کے ممنون احسان ہیں کہ انہوں نے نہ آنے والے مجبوروں کو بھی تشنہ نہیں رہنے دیا۔میری اطلاع کے مطابق تو مجھے پتہ چلاہے کہ بعض کارکنان مسلسل 48گھنٹے تک ڈیوٹی دیتے رہے اور پھر تھوڑا سا آرام کرتے تھے۔یہ سب یقیناً ہماری دعائوں کے مستحق ہیں۔تمام جماعت کو ان تمام کارکنان کے لئے جنہوںنے انتظامی لحاظ سے خدمت کی یا ایم ٹی اے میں خدمات سرانجام دیں،دعا کی خصوصی درخواست کرتاہوں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزا دے اور آئندہ بھی اسی وفا اوراخلاص کے ساتھ اسی طرح قربانیاں دیتے ہوئے یہ کام کرتے چلے جائیں۔ آمین‘‘

٭…16؍مئی کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اللہ تعالیٰ کی صفت الخبیر کا ذکر جاری رکھا اور قرآن کریم میں موجود آئندہ زمانے کی پیش خبریوں کا تذکرہ فرمایا۔نیز آنحضرتؐ نے کئی ایسی خبریں دیں جو آئندہ زمانے کے حالات کے متعلق تھیں۔اپنی امت کی حالت کی خبر دی۔حضرت مسیح موعودؑ نے قادیان کی وسعت،پسر موعود،اسلامی اصول کی فلاسفی کے مضمون کے بالا رہنےکی پیشگوئی کی جو بڑی شان سے پوری ہوئی کابھی تذکرہ اس خطبے میں فرمایا۔

جماعت پرعائد ہونے والی بہت بڑی ذمہ داری کے بارے میں حضور نے فرمایا:

’’آ ج ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں ہمارے اوپر بہت بڑھ کر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں پید ا کریں۔اپنے گھروں کو بھی جنت نظیر بنائیں،اپنے ماحول میں بھی ایسا تقویٰ قائم کریں جو اللہ تعالیٰ ہم سے توقع رکھتاہے۔اور ہم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اس خدائی بشارت کو ہم سے دور کردے۔پس ہم پریہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دعائوں پر بہت زور دیں کیونکہ آج عالم اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر جماعت احمدیہ پر ہے۔ہمارے پاس کوئی طاقت تو نہیں،کوئی نمونہ حکومت کا نہیں لیکن دعائوں کے ذریعہ جس طرح حضرت مصلح موعود ؓنے فرمایا کہ سب مراحل انشاء اللہ طے ہوں گے۔‘‘

حضرت مسیح موعود ؑکے حق میں بڑی شان سے پوری ہونے والی پیشگوئیوں کی تفصیلات بیان کرنے کے بعدحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ کے آخر پر فرمایا:

’’اب آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک انتباہ پڑھتاہوں۔حضورؑفرماتےہیں:

’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم … امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ہرگز نہیں۔انسانی کا موں کا اس دن خاتمہ ہوگا… اے یوروپ تُو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیںاور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں و ہ سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔‘‘(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد22صفحہ 269)

٭…مورخہ 23؍مئی کے خطبہ جمعہ میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے صفت الخبیر کی ایمان افروز تشریحات جاری رکھیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے مضمون کی بھی تشریح فرمائی۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تکریم اور عزت کا معیار ذاتیں نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔بعض لوگ رشتوں کے طے ہونے کے بعد ذاتوں کا طعنہ دیتے ہیں یہ رشتہ سے قبل سوچنے والی باتیں ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ پوری دنیا کی اصلاح اور لوگوں کو دین واحد پراکٹھے کرنے کی ذمہ داری جماعت پر ہے۔اس لیے نیک نمونہ سب سے بڑی دعوت الیٰ اللہ ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس خطبہ میں بھی جماعت احمدیہ کو اپنی ذمہ داریوں یعنی اصلاح کرنے اور اپنا نیک نمونہ قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا:

’’جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب جماعت ہے اور جو سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کے محبت اور عشق کی دعویدار ہے اور ا س زمانہ میں مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر یہ ثابت کر دیاہے کہ ہم صرف دعویٰ ہی نہیں کررہے بلکہ حقیقت میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے حکم کے مطابق ہم نے امام کوپہچانا اور مانا اور ہم اس جماعت میں داخل ہو گئے ہیں جس پرذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے کہ وہ آئندہ بھی دنیا کی اصلاح کی کوشش کرتی رہے گی،ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ ہم اس عشق کو سچ کردکھائیں اور امت مسلمہ کو خصوصاً کہ وہ ہمارے محبوب ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور تمام انسانیت کو عموماً آنحضور ﷺکی حقیقی تعلیم کے جھنڈے تلے لے آئیں۔اور اس کے ساتھ سب سے بڑھ کر ہمیں خود بھی اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔اس طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ نیک نمونہ سب سے بڑی تبلیغ ہے۔اللہ کرے ہمارا شمار ان خوش قسمت لوگوں میں ہو جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی فکر کو دیکھ کر یہ وعدہ کیاتھا کہ تیرے راستہ پر چل کر میرا قرب حاصل کرنے والے ہوں گے۔‘‘

٭…مورخہ30؍مئی کے پرمعارف اور علمی عجائبات پر مبنی خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات کی تلاوت ترجمہ اور تشریح فرمائی۔اس کے بعد قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعودؑ کی بعض پیش خبریوں کا بھی تذکرہ فرمایا۔حضرت مسیح موعودؑ نے سلسلہ کی ترقی کی پیشگوئی فرمائی اور فرمایا کہ صادق ضائع نہیں ہو سکتا۔حضور نے کامیابیوں کا گر بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ دنیا اور عقبیٰ میں کامیابی کا گر یہ ہے کہ انسان ہر قول وفعل میں یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ میرے کاموں سے خبردار ہے۔یہی تقویٰ کی جڑ ہے۔فرمایا خدا تعالیٰ کی ذات غیب در غیب ہے کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی۔مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ مومن کو چاہیے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے۔اس خطبے میں بچیوں پر سسرال یا خاوند کی طرف سے ظلم و زیادتی کا مسئلہ اور اس کا غلط ردِّ عمل حضور انور نے کھول کر جماعت کے سامنے رکھا۔اللہ تعالیٰ کی صفتِ بصیر،علیم اور خبیر کا آپس میں تعلق حضور نے پر حکمت طریق پر بیان کیا۔آئندہ زمانہ کی بابت قرآنی خبریں نئی نئی ایجادات کے حوالے سے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اب دیکھیں اس زمانہ میں ٹیلی فون،ٹی وی،انٹرنیٹ وغیرہ پہ کمپیوٹر کے ذریعہ سے آپ گھر بیٹھے ایک ہی وقت میں باتیں بھی کر رہے ہوتے ہیں،تحریر بھی پہنچا رہے ہوتے ہیں،تصویر یں بھی پہنچا رہے ہوتے ہیں۔تویہ سب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی دلیلیں ہیں یہ ایجادات۔‘‘

حضور انور نے اسی تسلسل میں حضرت مسیح موعودؑ کا یہ اقتباس بھی پڑھا:

آپؑ فرماتے ہیں:

’’…وَاِذَاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ بھی میرے ہی لئے ہے … پھر یہ بھی جمع ہے کہ خداتعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کردیئے ہیں۔چنانچہ مطبع کے سامان،کاغذ کی کثرت،ڈاکخانوں،تار،ریل اور دخانی جہازوں کے ذریعہ کُل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اَور بھی بڑھا رہے ہیں کیونکہ اسبابِ تبلیغ جمع ہورہے ہیں۔اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیںاور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔اخباروں اور رسالوں کا اجراء۔غرض اِس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانے میں ہم کو نہیں ملتی۔‘‘

(الحکم۔جلد 6۔نمبر 43۔بتاریخ 30؍ نومبر 1902ءصفحہ1تا2)

آج ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم سب اپنے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہر لفظ اور ایک ایک حکم کو ہر قیمت پر بجا لانے والے بنیں گے۔آپ کی امیدوں،خواہشات اورامنگوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں گے۔الغرض ہم آپ کے ایک اشارے پر آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے ان شاءاللہ۔

اللہ کرے کہ ہم خطبات جمعہ سننے کے بعد اپنے پیارے آقا کی ایسی اطاعت کرنے والے ہوں کہ ہمارے دلوں کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہوکے بہ نکلیں۔ہم اپنے امام کی ایسی پیروی کریں کہ جس طرح نبض حرکتِ قلب کی پیروی کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور انور کے ہر علمی نکتہ کو سمجھنے اور جملہ ارشادات و نصائح اور تحریکات پر عمل کرنے اوران پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close