حاصل مطالعہ

نئی دُنیا

(ازآنریبل سر محمد ظفر اللہ خاں )

ماہنامہ ’’ادیب‘‘ دہلی کا آغاز مئی 1941ء میں ہوا۔ اس کے ایڈیٹرز سید محمد ارتضیٰ واحدی اور فصیح الدین احمد ایم اے تھے۔ مؤخر الذکر اس رسالے کی پالیسی کے متعلق لکھتے ہیں: ’’ادیب کبھی ایسے مضامین تو شائع نہیں کرے گا جن میں کسی جماعت سے نفرت دلانی یا کسی جماعت کی حمایت کرنی مقصود ہو البتہ ادیب سے ایسے مضامین ضرور شائع ہوں گے جن میں ادبی بحث چھڑ جانے کے امکانات ہوں۔‘‘ (ادیب، دہلی۔ جولائی 1941ء صفحہ 2)

حضرت چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ ’لاممبر گورنمنٹ آف انڈیا‘ نے ’’نئی دنیا‘‘کے سلسلے میں 26؍ مئی 1941کو آل انڈیا ریڈیو دہلی سے تقریر کی جسے ’ادیب‘ کے شمارہ جولائی 1941ء میں صفحہ 37 تا 39 پر ایک مضمون کی صورت شائع کیا گیا۔ ادیب، ستمبر 1941ء میں حضرت چودھری صاحبؓ کی تصویر بھی شائع ہوئی جو اغلبًا نشرگاہ یعنی آل انڈیا ریڈیو پر تقریر کے موقع کی ہے۔ حضرت چودھری صاحبؓ کا مضمون افادۂ عام کے لیے ذیل میں دیا جاتا ہے۔(ناقل)

نئی دُنیا

’’اس وقت مشرق و مغرب میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ موجودہ جنگ کے بعد ایک نئی دنیا کی بنیا د ڈالی جائے۔ ایک طرف محوری طاقتیں دعویدار ہیں کہ وہ ایک نئے نظام کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ دوسری طرف جمہوریتیں اس بات کا اعلان کر رہی ہیں کہ اس جنگ کے بعد وہ ایک نئی دنیا بسانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ کیا موجودہ نظام کسی خارجی طاقت نے دنیا کے سر زبردستی منڈھ دیا تھا کہ اب اس کے بدلنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ یا دنیا غفلت و نسیان کی گھڑیوں میں اپنے پہلے اچھے راستے کو بھول کر کسی ایسے راستے پر چل پڑی تھی جو خرابی پیدا کرنے والا تھا اور اب اُسے دوبارہ اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ کر آنے کی خواہش پیدا ہورہی ہے۔ یا یہ کہ جس مقصد کو اس زمانے کے لوگوں نے اپنے لئے چُنا تھا۔ اُس کی خرابی اب ان پر واضح ہوگئی ہے اور اب وہ ایک نئے مقصد کی تلاش کے درپے ہورہے ہیں۔

جہاں تک علمی اور مادّی تر قی کا سوال ہے آج کی دنیا سابق دو تین سو سال کی دنیا سے یقیناً بڑھ کر ترقی یافتہ ہے۔ علم پہلے سے زیادہ ہے۔ صنعت و حرفت کی ترقی پہلے سے زیادہ ہے۔ تجارت پہلے سے زیادہ ہے۔ ایجادات کا باب وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ غربا٫کے حقوق کا پہلے سے بہت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ زمین کے مخفی خزانوں پر پہلے سے کہیں زیادہ انسان کو تصرّف حاصل ہے۔ غرض دولت اور حصولِ دولت اور تقسیمِ دولت تینوں امور میں آج کا انسان آج سے دو سو سال پہلے کے انسان سے بہتر حالت میں ہے۔ پھر تبدیلی کی خواہش دنیا میں کیوں پیدا ہو رہی ہے۔

برسرِ پیکار قوموں ہی کو دیکھ لو۔ کیا آج کا جرمنی علم، آزادی، دولت، اور طاقت میں گذشتہ صدی کے جرمنی سے کم ہے۔ کیا آج کا اٹلی گذشتہ صدی کے اٹلی سے ان باتوں میں پیچھے ہے۔ کیا آج کا جاپان گذشتہ صدی کے جاپان سے ان باتوں میں پس ماندہ ہے۔ یقیناً نہیں۔ ان ممالک کی گذشتہ تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ گذشتہ صدی کے جرمنی، اٹلی اور جاپان موجودہ جرمنی، اٹلی اور جاپان کے مقابلہ میں ایسے ہی تھے جیسے کہ ایک سمندر کے مقابل پر تالاب۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ترقی یافتہ ممالک کو کیا بے چینی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اُلجھنا چاہتے ہیں۔ ان ممالک کی اندرونی حالت تو بتا رہی ہے کہ اس کی درستی کی خاطر یہ شوروشر نہیں مچایا جا رہا۔ یہ بے کلی یقیناً اپنی گذشتہ حالت پر نظر کرتے ہوئے پیدا نہیں ہورہی۔ بلکہ بعض ان دوسرے ممالک کو دیکھ کر پیدا ہو رہی ہے۔ جو گذشتہ سوسال میں ترقی کر کے عالمگیر وسعت حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں یہ شکوہ نہیں، جیسا وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کے لئے رہنے کو جگہ نہیں۔ بلکہ یہ گلہ ہے کہ اُنہیں دوسری اقوام پر حکومت کرنے یا اُن کے حالات میں تصرف کرنے کے ویسے سامان میسر نہیں، جیسے کہ بعض دوسری اقوام کو حاصل ہیں۔ اگر محض رہنے کی جگہ کا سوال ہوتا تو ایک ہی وقت میں جگہ کی تنگی کی شکایت اور افزائشِ نسل کی تدابیر پر زور نہیں دیا جاتا۔ جن اقوام کے پاس جگہ تنگ ہوتی ہے وہ نسل کو کم کرنے کی تدبیریں نہ کریں تو نہ کریں۔ لیکن وہ نسل کو بڑھانے کے لئے غیر معمولی ذرائع کبھی اختیار نہیں کرتیں، مگر یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جرمنی اور اٹلی نہایت زور سے اور جاپان ایک حد تک اپنی آبادی کے بڑھانے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

یہ افزائش ِنسل کی کوششیں بتاتی ہیں کہ ان ممالک کی اصل تکلیف یہ نہیں کہ اُن کے پاس رہنے کو جگہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ بعض دوسری اقوام کی طرح وہ بھی بعض اور اقوام پر حکومت کرنے کی خواہشمند ہیں۔ اور ان اقوام کی سیاسیات میں اپنے اثر اور رسوخ کو بڑھانا چاہتی ہیں۔

جن قوموں میں علم، طاقت اور بیداری پیدا ہوچکی ہےاُن کو موجودہ حالات میں اس خواہش سے روکنا نا ممکن ہے۔ طاقت کے ساتھ یہ خواہش دبائی تو جاسکتی ہے۔ مٹائی نہیں جاسکتی۔ گذشتہ عالمگیر جنگ کے بعد لوگوں نے خیال کیا تھا کہ شاید جنگ کے امکانات ایک لمبے عرصہ تک کے لئے مٹادیے گئے ہیں۔ لیکن واقعات نے اس کے اُلٹ ثابت کیا۔ اور جب تک دماغوں میں علوم، دلوں میں خواہشات اور افکار میں جبر و زبردستی کی لہریں اُٹھ رہی ہیں۔ اور جب تک ان بیدار طاقتوں کو نظر آرہا ہے کہ بعض حکومتیں بعض دوسرے ممالک کو اپنے تابع فرمان رکھ کر اقتصادی اور سیاسی فوائد حاصل کر رہی ہیں۔ اس وقت ان سے یہ امید کرنا کہ وہ نِچلی بیٹھی رہیں، اور اپنے خوش قسمت ہمسایوں کی تقلید سے بازرہیں ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شر مندہ تعبیر نہ ہوگا۔

پس ایک ایسی دنیا کی تعمیر جو گذشتہ سے مختلف ہو اور جو امن و سکون کی بہاریں دکھائے۔ مادّی تبدیلیوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لئے قانون کی نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ معاہدات کی درستی سے اس بارے میں کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ یہ کام تو اخلاق کی صفائی کا محتاج ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکوں اور قوموں کے حالات میں خرابی اسی وقت پیدا ہونی شروع ہوتی ہےجب وہ اپنے آپ کو اخلاقی ذمہ داریوں سے آزاد سمجھنے لگ جاتی ہیں۔ حالانکہ جس طرح افراد پر اخلاقی ذ مہ داری ہے۔ ویسے ہی قوموں پر بھی ہے۔ جس طرح ایک فرد کے لئے لالچ، حِرص، ظلم، جھوٹ نقصان دہ ہیں اسی طرح قوموں ملکوں اور حکومتوں کے لئے بھی یہ اُمور ناپسندیدہ ہیں۔ جس طرح ایک فرد کے لئے اگر وہ اچھے اخلاق پیدا کرنا چاہے اور سوسائٹی کا مفید رکن بننا چاہےیہ ضروری ہے کہ وہ کمزوروں کی امداد کرےاور ان کے لئے ترقی کے سامان پیدا کرےاور اپنے بھائی کو حقیر نہ سمجھے اسی طرح قوموں اور ملکوں اور حکومتوں کے لئے بھی ان امور کی ویسی ہی ضرورت ہے، اور جب تک دنیا کی اقوام اور حکومتیں اس اصل کو مد نظر نہ رکھیں گی کبھی دنیا میں امن قائم نہ ہوگا، اور نئی دنیا جس کے بنانے کی خواہش دلوں میں پیدا ہو رہی ہے کبھی وجود میں نہ آئے گی۔ اس جنگ کو دیکھ لو جو اس وقت لڑی جارہی ہے اس کی وجہ سوائے اس کے کیا ہے کہ بعض ملک اپنی ذاتی ترقی پر قانع نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے ملکوں اور اپنی سرحدوں سے پار اور دُور جا کر دوسرے ملکوں اور دوسری قوموں پر حکومت کریں اور ان کی دولت اور مال سے فائدہ اُٹھا ئیں۔ اس خواہش کو سوائے دلوں کی اصلاح اور اخلاق کی درستی کے کون سی چیز دبا سکتی ہے۔ طاقت سے اگر یہ خواہش دبا دی جائے تو پھر کچھ سال کے بعد دوبارہ کسی اور شکل میں اور شاید کسی اور قوم میں یہی خواہش پھر ظاہر ہوجائے گی۔ لیکن اگر دنیا یہ فیصلہ کرلےکہ سب کی سب اقوام انسانی افراد کی طرح اپنے آپ کو اصول اخلاق کے تابع سمجھیں گی اور ان پر اس طرح کاربند ہوں گی جس طرح کہ انسانی افراد کی نسبت اُمید کی جاتی ہے کہ وہ کاربند ہوں تو یقیناً ملک گیری کی ہوس نہ صرف ایک قوم کے دل سے بلکہ سب قوموں کے دل سے اور نہ صرف ایک وقت کے لئے بلکہ ایک لمبے عرصہ تک کے لئے نکل جائے گی۔

وہ مقدس کتاب جس کے پیرو ہونے کا مجھے فخر حاصل ہےاس بارے میں نہایت لطیف تعلیم دیتی ہے۔ وہ فرماتی ہے:

لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوٰجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ۚ وَرِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی (طٰه:132)

یعنی چاہیے کہ کوئی قوم اس دولت اور طاقت اور سامانوں کی فراوانی کی طرف جو دوسری بعض اقوام کو حاصل ہوں۔ آنکھیں اُٹھا اُٹھا کر نہ دیکھے۔ یہ تو سب کچھ ورلی زندگی کی زیبائش کی اشیا٫ہیں۔ اور اُن کی پیدائش کی غرض صرف یہ ہے کہ اُن کے ذریعے سے اقوام کی اندرونی قابلیتوں کو ظاہر کیا جائے۔ اور خدائے تعالیٰ نے جس ملک کی ترقی کےلئے جس رنگ میں سامان پیدا کئے ہیں، وہی ان کے لئے اچھے اور دیرپاہیں۔ یعنی ہر قوم اور ہر ملک کے لئے الگ الگ سامان ذاتی قابلیتوں کے اظہار کے لئے موجود ہیں، تو پھر قوموں کو ایک دوسرے پر تصرف پیدا کر کے ان کے معاملات میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔

اسی طرح وہی مقدس کتاب فرماتی ہے:

وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکٰثًا تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمٰنَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرۡبٰی مِنۡ اُمَّۃٍ (النّحل:93)

یعنی اس عورت کی طرح مت بنو جو سُوت کات کات کر ڈھیر کرتی رہی، اور جب ایک اچھی مقدار سُوت کی جمع ہوگئی تو بجائے اس سے کپڑا بنانے کے اس نے اس سُوت کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اور سُوت کے فائدے سے بھی گئی، اور روزی کا نفع بھی اُسے حاصل نہ ہوا۔ گویا اُس کی کوشش اور محنت اور مال سب ہی اکارت گئے۔ یہ مقدّس کتاب فرماتی ہے کہ یہ مثال اُن قوموں اور ملکوں کی ہے جو آپس میں معاہدات کرتے ہیں۔ اور بظاہر دنیا میں امن قائم کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں ان معاہدات اور جدید تعلقات کے ذریعے سے اپنی معاہد قوم سے نا جائز فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔ اور اُس کے اندرونی نظام میں رسوخ اور نفوذ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے دلوں میں کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے۔ اور گو ایک قوم طاقتور اور دوسری کمزور ہوجاتی ہے۔ مگر وہ اتحاد جو معاہدات کی اصل غرض ہے پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اُس کے پیدا ہونے کا امکان بھی مٹ جاتا ہے۔ جس طرح تا گے کو اگر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے تو اس سے گرہ باندھنے کا کام ناممکن ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا میں امن قائم رہے تو اس قسم کے معاہدات بالکل نہ کرو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارے معاہدات کی غرض اقوام کے رشتہ کو مضبوط کرنا ہو، اور کمزور قوموں کو اُبھارنا ہو، ان کو اور کمزور کرنا اور اُن سے فائدہ اُٹھانا مدّ نظر نہ ہو۔

یہ دونوں ایسے زرّیں اصول ہیں کہ ان کو مدّ نظر رکھتے ہوئے دنیا فسادات سے بالکل محفوظ ہو جاتی ہے۔ اور ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھی جاتی ہے کہ جو موجودہ دنیا سے بالکل نئی، فتنوں سے پاک اور امن اور صلح کے سامانوں سے پُر ہو۔

غرض ایک نئی دنیا صرف سیاسیات اور موجودہ حالات کی معمولی درستی سے کسی صورت میں پیدا نہیں کی جاسکتی۔ ایسی تمام کو ششیں رائیگاں جائیں گی۔ اور فساد اگر آج مٹایا جائے گا تو کل پھر پیدا ہوگا۔

اس نئی دنیا کی بنیاد صرف اور صرف اخلاق فاضلہ پر ہی رکھی جاسکتی ہے۔ اور اُس وقت رکھی جاسکتی ہے جب کہ بنی نوع انسان یہ فیصلہ کرلیں کہ اقوام اور حکومتیں بھی اخلاق کی حکومت کے تابع رہیں گی۔ اور مختلف ناموں اور مختلف بہانوں سے غیر قوموں اور غیر ملکوں کو کمزور کر کے اپنی قوت بڑھانے کی کوششوں کو کلیّ طور پر ترک کردیں گی۔ جب تمام بنی نوع انسان اس مسلک کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیں گےاور جن سے یہ غلطی ہوچکی ہے وہ اس کی اصلاح کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے تب یقیناً ایک ایسا نظام دنیا میں قائم ہو گا جو پائدار بھی ہوگا اور پُر امن بھی اور جس میں چھوٹی چھوٹی اور بڑی قومیں اور کمزور اور زبردست قومیں یکساں امن سے بسر کرسکیں گی۔

پھر یہ بھی ضروری ہے کہ حرص اور لالچ جو اس وقت دنیا کے امن کو برباد کررہے ہیں ان کا قلع قمع کرنے کے لئے مناسب تدابیر کی جائیں۔ ان تدابیر کو اختیار کر کے ہی دلوں کے اندر وہ صفائی پیدا کی جاسکتی ہے جس کا پیدا ہونا نئی دنیا کے ظہور کے لئے ضروری ہے۔ یہ تدابیر مندرجہ ذیل ہیں۔

اوّل۔ چاہیےکہ سُود کو دنیا سے بالکل مٹادیا جائے، کیونکہ ایک تو سُود کے کار و بار نے مال جمع کرنے اور بڑھانے کی حرص کو حد سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جب حرص بڑھ جائے تو پھر اُس کو حد میں رکھنا نا ممکن ہوتا ہے۔ اور ایسی بڑھتی ہوئی حرص ہی قوموں پر قوموں کی چڑھائیوں اور ظلمتوں کا موجب ہوتی ہے۔ پھر سُود کے ذریعے سے دنیا کی دولت چند ہوشیار لوگوں کے ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے، اور ایک تو خود اُن کے ملک کا بہت سا حصّہ غربت اور افلاس میں مبتلا ہو جاتاہے۔ اور دوسرے جب اُن کے اپنے ملک میں ترقی کے ذرائع محدود ہو جاتے ہیں، تو پھر سُود خور لوگ اپنی اپنی حکومتوں پر تصرّف حاصل کر کے غیر قوموں کو لوٹنے کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور اس طرح فساد اور جنگ کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔

میرے نزدیک دنیا کے تاریک ترین دنوں میں سے ایک وہ دن بھی تھا، جبکہ مختلف اقوام نے یہ قرار دیا کہ سود دو قسم کا ہوتا ہے۔

ایک وہ جو غریبوں سے لیا جاتاہے۔ یہ تو ناجائز ہے، اور دوسرا وہ جو تجارتی کاروبار کے لئے ہو۔ یہ البتہ جائز ہے۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ دونوں قسم کے سُود ناجائز ہیں اور لعنت ہیں۔ جو سُود غریبوں سے لیا جاتا ہے، وہ افراد کے لئے لعنت ہے۔ اور جو تجارتی کاروبار کے لئے لیا جاتا ہے، وہ قوموں اور حکومتوں کے لئے لعنت ہے۔ اس سُود کی وجہ ہی سے موجودہ زمانے کی اکثر جنگیں لڑی گئی ہیں۔ اور یہی سود جنگ کو مالداروں کا مشغلہ بنائے رکھتا ہے۔ اسلام نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے ان دونوں قسموں کو الگ الگ بیان کرکے فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ سُود بھی حرام ہے جو غریبوں سے لیا جاتا ہے اور وہ بھی جوتاجروں، کارخانہ داروں اور دیگر بڑے لوگوں کو روپیہ دے کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ قرآن کریم نے صاف فرما دیا تھا کہ ایسے سُود کا نتیجہ جنگ ہوتاہے۔ چنانچہ اس زمانے کے حالات نے اس سچائی کو روز روشن کی طرح ثابت کردیا ہے۔

میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اسلام تجارتی کاروبار سے نہیں روکتا، بلکہ تجارتی کاروبار اور شراکتوں کے لئے ایسے اصول اسلام نے وضع کردیے ہیں جن پر عمل کرنے سے افراد اور قومیں سود کی مضرتوں سے محفوظ رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ انفرادی اور قومی فائدہ اُٹھا سکتی ہیں۔

دوسرے۔ چاہیے کہ روپیہ جمع کرنے کے امکانات کو کم کیا جائے۔ کیونکہ ان سے بھی حرص بڑھتی ہے۔ اور چند افراد کو قوموں اور ملکوں پر بغیر ذاتی قابلیت کے حکومت کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ اس کا طریق یہ ہے کہ جس شخص کے پاس روپیہ کی صورت میں دولت ہو۔ اس کے رأس المال پر نہ کہ اس کے نفع پر حکومت ایک ٹیکس لگا دے اس طرح ایک طرف تو لوگ روپیہ جمع کرنے کی عادت کو چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔ اور روپیہ بیکار پڑا رہ کر ملک کی مالی حالت کی خرابی کا اور چند افراد کی ناجائز طاقت کا موجب نہ ہوگا۔ اور دوسری طرف اس ٹیکس کی آمد قوم کے کمزور حصّہ کو ترقی دینے میں صَرف ہو کر تمام قوم کی ترقی اور مضبوطی کا باعث ہوگی۔

تیسرے۔ یہ قانون جو بعض ممالک میں رائج ہے کہ ورثہ صرف بڑے لڑکے کو ملتا ہے۔ اس سے بھی مصنوعی ذرائع سے بعض افراد کو طاقتور بنا دیا جاتا ہے۔ اور ایک طرف تو چھوٹے تفرّق کا خیال بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دیا جاتا ہے، اور دوسری طرف چند افراد کو نسلاً بعد نسلٍ ایسی قوّت دے دی جاتی ہے جو اُن کو دوسرے بنی نوع انسان پر نا جائز حکومت کرنے کا موقعہ دیتی ہے۔ یہ اور اس قسم کے تمام قانون جو وراثت کو محدود کرتے ہیں بالکل منسوخ ہونے چاہئیں تا کہ مال اور طاقت بعض خاص افراد کا حق بن کر نہ رہ جائیں۔ اور اگر کسی وقت کوئی شخص مال اور دولت میں ترقی کرے، تو اس کی دولت اور اس کا مال اس کے بعد لازماً اس کی تمام اولاد اور دیگر ورثا میں تقسیم ہو کر اس خاندان کو دوبارہ اپنے سے چھوٹے خاندانوں کی صف میں لا کھڑا کرے۔ یہاں تک کہ ایک دو نسلوں میں وہ باقی لوگوں کی طرح ہو جائیں۔ اور ان میں سے وہی لوگ ترقی کریں جو ذاتی قابلیت رکھتے ہوں۔ اور اُ ن کی ترقی ان کے ملک اور باقی دنیا کے لئے مفید ہو۔

چوتھے۔ تمام بنی نوع انسان کو برابر قرار دیا جائے اور کسی نسل اور قوم کو دوسری نسلوں اور قوموں سے برتر تسلیم نہ کیا جائے۔ کیونکہ اس کے نتیجہ میں بھی ایک قوم کو دوسری قوم پر اور ایک نسل کو دوسری نسل پر حکومت کرنے یا حاصل شدہ حکومت کو قائم رکھنے کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔

پانچویں۔ سب حکومتوں کا فرض قرار دیا جائے کہ وہ تمام افراد ملک کے کھانے، کپڑے، مکان اور تعلیم کی ذمہ وار ہوں تاکہ وہ ہزاروں قابل روحیں جو پہاڑ کی وادیوں میں پیدا ہونے والے پُھولوں کی طرح بغیر اپنی قابلیت کا جوہر دکھائے دنیا سے گزر جاتی ہیں انہیں اپنی قابلیتوں کے جوہر دکھانے کے مواقع حاصل ہوں، اور دنیا فطرت کے ان قیمتی خزانوں سے فائدہ اُٹھا سکے۔ اور حکومت، طاقت اور اختیارات صرف چند خاندانوں یا افراد کا حق نہ بنے رہیں۔

چھٹے۔ نقد روپےکے عوض تجارت کے طریق کو جہاں تک ہوسکے محدود کیا جائے۔ اور تبادلہ اشیا٫کے طریق کو زیادہ سے زیادہ رائج کیا جائے۔ تاکہ مالدار اقوام غریب ملکوں کی دولت کو سستے داموں نہ لوٹ سکیں۔

اگر اِن چھ اصولوں پر عمل کیا جائے تو اس سے انسانی ذہن میں ایسی تبدیلی پیدا ہونی ممکن ہے جو اسے لالچ اور حرص سے آزاد کردے۔ اور اقوام آپس میں محبّت اور پیار سے رہ سکیں۔

لیکن چونکہ باوجود پوری احتیاط کے پھر بھی بعض دفعہ خرابی کہیں نہ کہیں سے پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس نئی دنیا کو دوام اور ثبات عطا ٫کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آئندہ سب حکومتیں اور قومیں اس نفسا نفسی کی پالیسی کو جو اَب رائج ہے ترک کردیں۔ اور سب مل کر اس بات کا عہد کریں کہ بعید ترین اور کمزور ترین ملک پر بھی اگر کوئی اور ملک حملہ کرے گا تو وہ اوّل تو بیچ بچاؤ کر کے صلح کرانے کی کوشش کریں گی۔ اور اگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو اپنی ساری فوجی طاقت کے ساتھ ظالم کو ظلم سے روکنے کی کوشش کریں گی۔ جب تک تمام یا اکثر حکومتیں اس ذمہ واری کو قبول نہ کریں گی ظلم دُور نہ ہوگا۔ اگر منچور یا اور ایبےسینیا کی جنگوں کے موقعہ پر دنیا کی حکومتیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتیں اور ادا کرتیں تو آج کی جنگ کبھی نہ ہوتی۔ اور جو نقصان دنیا کو آج ہو رہا ہے اس وقت اس سے ہزاروں حصّے کم نقصان اُٹھا کر امن ایک لمبے عرصہ کے لئے قائم کردیا جاتا۔

بغیر ان تدابیر پر عمل کرنے کے ایک نئی دنیا کے بنانے کا خیال محض ایک وہم ہے جو کسی صورت میں پورا نہیں ہوسکتا۔ مگر اصل اور یقینی ذریعہ جس سے ایک نئی دنیا پیدا کی جاسکتی ہے۔ اور جس میں یہ سب تدابیر اور ان کی تمام تفاصیل شامل ہیں یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان اُس خدا ئے قدیر و حکیم کی طرف جھکیں جو دنیا کا پیدا کرنے والا ہے، اور جو انسان کی پیدائش کی غرض کو خوب جانتا ہے، اور اس سے عرض کریں کہ اے رحمتوں اور فضلوں والے خدا تو نے ہم کو ہر قسم کے آرام اور راحت کے سامان بخشے تھے مگرہم نے اُن سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور اُن ہی سامانوں کو اپنے لئے زحمت اور عذاب کا سبب بنالیا۔ اب تو ہم کو رحمت کی نظر سے دیکھ۔ ہم اپنے ہاتھوں کے کئے سے بیزار ہو کر تیری طرف اور صرف تیری طرف جھکتے ہیں۔ اور تیری خالص توحید کا اقرار کرتے ہوئے تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو ہم پر اپنا فضل اور رحم فرما۔ اور اس دنیا کو ہمارے لئے آرام اور سکون کی جگہ بنادے۔ اور وہ نیا نظام قائم کردے جس سے ہمارے یہ دُکھ دُور ہوجائیں۔ اور اگر اس نظام کے قیام کا سامان تُو نے پیدا کردیا ہے تو ہماری توجہ اس طرف پھرادے۔ اور ہمیں اس کے قبول کرنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق بخش۔ آمین‘‘

(منشوراز نشر گاہ دہلی)

(مرسلہ : جنید اسلم متعلم جامعہ احمدیہ کینیڈا)

٭…٭…٭

(تصاویر بشکریہ https://www.rekhta.org/)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close