متفرق مضامین

پولوسی مذہب

(ثاقب احمد)

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی اصلی تعلیم سے عالم عیسائیت کا انحراف ایک تدریجی عمل تھا۔ لیکن اس تبدیلی اور انحراف کی ابتدا ایک مخصوص شخص پولو س (Saint Paul)کے ہاتھوں ہوئی۔ پولوس حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے بارہ تربیت یافتہ حواریوں میں شامل نہ تھا۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ پولوس کی حضرت مسیح علیہ السلام سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت وہ یروشلم میں موجود بھی نہ تھا۔ واقعہ صلیب کے بعد ڈرامائی طور پہ عیسائی ہو گیا۔ اور اپنے نظریات کو مسیحیت کی طرف منسوب کر کے دنیا میں پھیلانا شروع کر دیا۔ پولوس نے مسیحیت پر کس قدر اثرات مرتب کیے؟عیسائیت میں اس کی اہمیت کس قدر ہے؟ اس کا اندازہ مذاہب عالم کے مؤرخین کے درج ذیل اقتباس سے بخوبی ہو جاتا ہے۔

’’Of all the people associated with the beginning of Christianity, Paul was the most responsible for the turn its beliefs took. He added a new note that determined its future course.‘‘

(Floyd H.Ross and Tynette Hills: Great Religions by Which Men live,New York,1966, page 137)

یعنی ان سب لوگوں میں جن سے مسیحیت کی ابتدا وابستہ ہے۔ پولوس اس تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار تھا جو اس کے عقائد میں آئی۔ اس نے (ان عقائد میں )ایک نئی طرح ڈالی جس نے عیسائیت کےمستقبل کی راہیں متعین کیں۔

پولوس کن خیالات کا حامی تھا؟اس کا طرز عمل کیا تھا؟اس کے مذہب کے اصول و قواعد کیاتھے؟ اس کا اندازہ پولوس کے اپنے اقرار سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ کرنتھیوں کے نام خط میں پولوس لکھتاہے:

’’میں یہودیوں کے لئے یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو کھینچ لاؤں۔ جولوگ شریعت کے ماتحت ہیں ان کے لئے میں شریعت کے ماتحت ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو کھینچ لاؤں۔ اگرچہ خود شریعت کے ماتحت نہ تھا۔ بے شرع لوگوں کے لئے بے شرع بنا تاکہ بے شرع لوگوں کو کھینچ لاؤں (اگرچہ خدا کے نزدیک بے شرع نہ تھا بلکہ مسیح کی شریعت کے تابع تھا)کمزوروں کے لئے کمزور بنا تاکہ کمزوروں کو کھینچ لاؤں۔ میں سب آ دمیوں کے لئے سب کچھ بنا ہوا ہوں۔ تاکہ کسی طرح سے بعض کو بچاؤں۔‘‘

(ا۔ کرنتھیوں باب 9آیات 20تا 22، کتابِ مقدس، بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور، ایڈیشن 2006ء)

پولوس کے اپنے اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ مرغ باد نما ہے جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ بدل لیتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پولوس چاہتا تھاجیسے بھی ممکن ہو لوگوں کو اپنی خود ساختہ کلیسیا میں لے آئے۔

محدود مشن کو عالمگیر بنا دیا

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مشن بنی اسرائیل تک محدود تھا۔ اناجیل اس بات کی اچھی طرح عکاسی کرتی ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے تھے۔ چنانچہ انجیل متی میں آپ کا ایک قول کچھ یوں درج ہے:

’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا‘‘

(متی باب 15آیت 24)

آپ کے ماننے والے سب یہودی مسیحی تھے۔ اس بات کی تائید میں انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن لکھتا ہے:

’’His own immediate followers were all jews.‘‘

(Encyclopedia of Religion, volume 3, page 348, New York, edition 1993)

یعنی (یسوع مسیح) آپ کے ابتدائی پیروکار سب کے سب یہودی (مسیحی )تھے۔

آپ نے اپنے حواریوں کو تبلیغ کے لیے جاتے وقت تاکیدی نصیحت فرمائی تھی کہ صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا اور غیر اقوام کی طرف بالکل متوجہ نہ ہونا۔ چنانچہ متی کا انجیل نویس بیان کرتا ہے:

’’ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور انہیں حکم دے کر کہا غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘

(متی باب 10آیات5تا6)

آپ کے نصائح کی روشنی میں حواریوں نے آپ کے فرمودات پر پوری طرح عمل کیا۔ چنانچہ حواریوں کے بارے میں درج ہے کہ

’’یہودیوں کےسوا اور کسی کو کلام نہ سناتے تھے‘‘

(اعمال باب 11آیت 19)

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے اپنے اسوہ، فرمودات اور حواریوں کے طرز عمل کے برعکس پولوس نے غیر اقوام میں اپنی خود ساختہ انجیل کی تبلیغ شروع کردی۔ اور آپ کے واضح ارشادات کو پس پشت ڈال دیا۔ اسی وجہ سے پولوس (Apostle to the Gentiles)یعنی غیر قوموں کا رسول کے نام سے مشہور ہے۔

رومیوں کے نام خط میں پولوس لکھتا ہے کہ اسے غیر اقوام کی طرف بھیجا گیا ہے:

’’دیکھو ہم غیر قوموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ خداوند نے ہمیں حکم دیا ہے کہ میں نے تجھ کو غیر قوموں کے لئے نور مقرر کیا۔ ‘‘

(اعمال باب 13آیت 46)

اسی طرح اعمال کی کتاب میں پولوس کا ایک قول کچھ یوں درج ہےکہ

’’خدا نے ہماری طرف کیا کچھ کیا اور یہ کہ اُس نے غیر قوموں کے لیے ایمان کا دروازہ کھول دیا‘‘

(اعمال باب 14آیت 27)

غرض یہ پولوس ہی تھا جس نے سب سے پہلے غیر اقوام میں تبلیغ شروع کی۔ چنانچہ پادری ولیم جی بلیکینے اپنی کتاب بائبل ہسٹری (Bible History)میں پولوس کو غیر اقوام کا رسول اور غیر قوموں کی کلیسیا کا بانی قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

’’ہم غیر قوموں کے رسول کے ابتدائی حالات سے بہت کم واقف ہیں ‘‘

( تاریخ بائبل از پادری ولیم جی بلیکی، صفحہ 505، پنجاب ریلیجئس سوسائٹی، انارکلی لاہور، 1935)

چنانچہ Book of Knowledge میں زیر لفظ Paulلکھا ہے:

’’It was Paul who established the principal that Christianity was infinitely more than a mere sect of the Jewish people. He made it a world religion.‘‘

(The book of Knowledge, volume 1, page 121, The Waverley Book Company, London)

غرض یہ پولوس ہی تھا جس نے یہ تصور قائم کیا کہ عیسائیت کی حیثیت یہود کے محض چھوٹے سے ایک فرقہ کی نہیں، بلکہ بہت بڑھ کرہےاور اسے ایک عالمگیر مذہب بنا دیا۔

شریعت کو لعنت قرار دینا

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اپنی ساری زندگی خود بھی شریعت موسوی پر عمل کرتے رہے اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی تعلیم دیتے رہےکہ خد ا کے حکموں پر عمل کرو، شریعت کے احکامات بجا لاؤ، درج ذیل حوالہ جات اس کے ثبوت کے طور پر پیش ہیں:

’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا۔ جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ ‘‘

(متی باب 5آیات 17تا18)

اسی طرح انجیل لوقا میں آپؑ فرماتے ہیں:

’’زیادہ مبارک وہ ہیں جوخدا کا کلام سنتے اور اس پر عمل کرتےہیں۔‘‘

(لوقا باب 11آیت 28)

حضرت مسیح علیہ السلام کے بھائی یعقوب جو فلسطین میں بشپ اور عیسائیت کےانچارج بھی تھے لکھتے ہیں:

’’انسان صرف ایمان ہی سے نہیں بلکہ اعمال سے راستباز ٹھہرتا ہے۔‘‘

(یعقوب باب 2آیت 24)

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ توریت کا ایک نقطہ یا شعشہ بھی ہر گز نہ ٹلے گا۔ لیکن پولوس نے آپ کے اس قدر واضح ارشاد کے باوجود شریعت کو لعنت قرار دے دیا۔ چنانچہ رومیوں کے نام خط میں پولوس لکھتا ہے:

’’شریعت کے اعمال سے کوئی بشر اس کے حضور راستباز نہیں ٹھہرے گا۔ اس لیے کہ شریعت کے وسیلے سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے۔‘‘

(رومیوں باب 3آیت 20)

اسی طرح گلتّیوں کے نام خط میں پولوس لکھتاہے:

’’مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔‘‘

(گلتّیوں باب 3 آیت 13)

پادری ڈومیلوصاحب اپنی تفسیرِبائبل میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے تربیت یافتہ حواریوں کے طرزعمل اور اس کے برعکس پولوس کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’Certain Judaising converts of the original apostles maintained that the promises of the gospel only belonged to those who observed the Mosaic Law. St Paul has asserted the justification of all Gentiles who believed on Jesus Christ,without the Law.‘‘

(A Commentary on the Bible by Rev Dummelow, New York,1909, The life and work Of Saint Paul,The Macmillan Company)

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے اصل یہودی حواری اس بات پر مُصر رہے کہ انجیل کی بشارات صرف انہی لوگوں کے حق میں پوری ہوں گی جو موسو ی شریعت کی پیروی کریں گے۔ اس کے برعکس پولوس اس بات پر زور دیتا رہا کہ غیریہودی مسیحیوں کونجات کے لیے صرف یسوع مسیح پر ایمان لانا ہے۔ اس کے لیے شریعت کی پابندی کی ضرورت نہیں ہے۔

اعمال صالحہ اور توبہ کی بجائے کفارہ

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام بھی دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کی طرح اپنے گناہوں کی خدا کے حضور معافی مانگنے اور نیک اعمال بجا لانے کی تلقین کرتے رہے۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:

’’ابن آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا اس وقت ہر ایک کو اس کے کاموں کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔‘‘

(متی باب 16آیت 27)

ایک شخص کے سوال پر آپ نے اسے خدا کے حکموں پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

’’اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر اس نےاس سے کہا کون سے حکموں پر؟یسوع نے کہا یہ کہ خون نہ کر، زنا نہ کر، چوری نہ کر، جھوٹی گواہی نہ دے، اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔‘‘

(متی باب 19، آیات 17تا 19)

اسی طرح آپ نے گناہوں کی تلافی کے لیے توبہ پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

’’میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گناہ گاروں کو توبہ کے لیے بلانے آیا ہوں۔ ‘‘

(لوقا باب 5آیت 32)

انجیل لوقا میں آپ ایک جگہ تمثیل کے ذریعہ توبہ کا مضمون واضح کرتے ہیں کہ جس طرح ایک گڈریا ایک گمشدہ بھیڑ کو واپس پا کر خوش ہوتا ہے:

’’میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ننانوے راستبازوں کی نسبت جو توبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گناہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہو گی۔‘‘

(لوقا باب 15آیت 7)

لیکن پولوس نے کہا اعمال سے تو کوئی بخشا ہی نہیں جا سکتا، اس لیے نجات صرف اس عقیدہ کے رکھنے میں ہے کہ یسوع مسیح صلیب پر مر کر ہمارے گناہوں کی سزا لے چکا ہے۔ اب اعمال صالحہ کی کوئی ضرورت باقی نہ ہے۔ رومیوں کے نام خط میں پولوس لکھتا ہے:

’’لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گناہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطرمُؤا۔ پس جب ہم اس کے خون کے باعث اب راستباز ٹھہرے تو اس کے وسیلے سے غضبِ الہیٰ سے ضرور ہی بچیں گے۔‘‘

(رومیوں باب5آیات8تا9)

پولوس کی خود ساختہ عیسائیت کے مطابق کوئی خواہ کتناہی گناہ گار کیوں نہ ہو، اسے پھر بھی اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نجات کے لیے سادہ اور آسان حل ہے کہ فقط یسوع مسیح پر ایمان لے آؤ۔ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اب ساری زندگی نیکیاں کرنے اور شریعت کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

پادری جان ڈیوس صاحب لکھتے ہیں:

’’Salvation is by faith alone, he said…..Christ by dying has met all the obligations of the law for his people, and therefore nothing more than faith in Christ can be made the condition of any one‘s becoming a Christian.‘‘

(A Dictionary of the Bible by John D.Davis page 551,552 second edition revised, The Westminister Press 1903)

(پولوس ) نے کہا کہ اس کے مطابق نجات فقط(مسیح پر) ایمان لانے سے ہوگی۔ یسوع مسیح نے اپنے لوگوں کی خاطر، صلیب پر جان دے کرشریعت کے تمام تقاضوں کو پورا کر دیا ہے۔ اس لیے عیسائی ہونے کے لیے اب فقط یسوع مسیح پر ایما ن لانا ہی واحد شرط ہے۔ (اس کے لیے اعمال ِ صالحہ اور شریعت کی کسی پابندی کی ضرورت نہیں ہے۔ )

خدائے واحد کی بجائےتثلیث کا عقیدہ

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے بھی دیگر انبیاء بنی اسرائیل کی طرح خدائے واحد کی عبادت کی تلقین کی۔ اور فرمایا ہمارا خدا صرف ایک ہی ہے۔ لہٰذا ہمیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ چنانچہ انجیل مرقس میں آپ کا ایک قول کچھ یوں درج ہے:

’’اے اسرائیل سن! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا وندہے۔ ‘‘

(مرقس باب 12آیت 30)

اسی طرح انجیل متی میں آپؑ فرماتے ہیں:

’’تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر‘‘

(متی باب 4آیت 10)

اناجیل کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے عیاں ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے خدائے واحد کی عبادت کی تلقین کی۔ لیکن پولوس نے یہاں بھی خدائے واحد کی جگہ نظریہ تثلیث متعارف کروا دیا۔ فلپیوں کے نام خط میں پولوس لکھتا ہے:

’’اس مسیح نے اگرچہ خدا کی صورت پر تھا۔ خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا، بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دیا۔ اور خادم کی صورت اختیار کی۔ اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو پست کر دیا۔ اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔ اسی واسطے خدا نے بھی اسے بہت سربلند کیا…اور خدا باپ کے جلال کے لیے ہر ایک زبان اقرار کرے کہ یسوع مسیح خداوند ہے۔ ‘‘

(فلپیوں باب 2آیات 6 تا 11)

الغرض مسیحیت میں عقیدہ تثلیث متعارف کروانے کا سہرا بھی پولوس کو جاتا ہے۔

Catholic Encyclopediaلکھتا ہے:

’’The doctrine of the Holy Trinity is not taught in the O.T. In the N.T. the oldest evidence is in the Pauline epistles.‘‘

(New Catholic Encyclopedia,page 306, Trinity in the Bible,1965)

یعنی مقدس تثلیث کا عقیدہ عہدنامہ قدیم میں نہیں سکھایا گیا۔ عہدنامہ جدید میں اس کی اولین شہادت پولوس کے خطوط میں ملتی ہے۔

ختنے کےابدی عہد کو توڑنا

یہود میں ختنہ کی رسم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے ایک علامت کے طور پر قائم کی گئی تھی اور اسے ابدی عہد قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ پیدائش کی کتاب میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:

’’ مَیں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان اُن کی سب پُشتوں کے لیے اپنا عہد جو ابدی عہد ہو گا باندھوں گا تاکہ مَیں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خُدا رہوں۔ …اور میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اورجسے تُم مانو گے سو یہ ہے کہ تُم میں سے ہر ایک فرزندِ نرِینہ کا ختنہ کیا جائے۔ اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کاختنہ کیاکرنا۔ او ر یہ اُس عہد کا نشان ہو گا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ …اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہ ہوا ہو اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے کیونکہ اس نے میرا عہد توڑا۔‘‘

( پیدائش باب 17آیات 7، 10، 11، 14)

غرض یہ ابدی عہد تھا جو بنی اسرائیل میں رائج تھا اسی ابدی عہد کے نشان کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی ختنہ کیا گیا۔ انجیل لوقا کا بیان ہے:

’’جب آٹھ دن پورے ہوئے اور اس کے ختنہ کا وقت آیا تو اس کا نام یسوع رکھا گیا۔‘‘

(لوقا باب 2آیت21)

پولوس جب غیر اقوام کی طرف متوجہ ہوا تو وہاں ختنہ کا سوال پیدا ہوا۔ چونکہ اس حکم پر عمل کرنا بہت مشکل لگا۔ لہٰذا پولوس نے ان کی آسانی کے لیے اس حکم کو خود ہی منسوخ کر دیا۔ اور اس کی عجیب و غریب فلاسفی پیش کی:

’’دیکھو میں پولوس تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم ختنہ کراؤ گے تو مسیح سے تم کو کچھ فائدہ نہ ہو گا بلکہ میں ہر ایک ختنہ کروانے والے شخص پر پھر گواہی دیتا ہوں کہ اسے تمام شریعت پر عمل کرنافرض ہے۔ تم جو شریعت کے وسیلے سے راست باز ٹھہرنا چاہتے ہو مسیح سے الگ ہو گئے اور فضل سے محروم۔ کیونکہ ہم روح کے باعث ایمان سے راست بازی کی امید بر آنے کے منتظر ہیں اور مسیح یسوع میں نہ تو ختنہ کچھ کا م کا ہے نہ نامختونی مگر ایمان جو محبت کی راہ سے اثر کرتا ہے۔ ‘‘

(گلتیوں باب 5آیات 2تا6)

اس حوالے سے ثابت ہوتا ہے کہ پولوس نے غیر اقوام کو اپنی خو دساختہ کلیسیا میں داخل کرنے کی غرض سے اس ابدی عہد کی بھی قربانی دے دی۔

تاریخ بائبل کےمصنف ولیم جی بلیکیاس صورت حال کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں:

’’اس وقت تک یہی خیال مروج تھا کہ مسیحی ہونے سے پہلے لازم ہے کہ لوگ ختنہ کروائیں۔ اور پہلے یہودی بنیں۔ کئی یہودی مسیحی ایسے موجود تھے جو موسوی شریعت کے اختیار پر شک کرنے کی بجائے اپنی جان دینے کو تیار تھے۔ پس قبل اس کے غیر قوموں کے داخل ہونے کے لئے ایسے طور پر دروازہ کھولا جائے کہ کوئی بات سدراہ نہ ہو، کلیسیا کو ایک سخت جنگ میں سے گزرنا تھا۔ ‘‘

(تاریخ بائبل از پادری ولیم جی بلیکی، صفحہ510، پنجاب ریلیجئس سوسائٹی، انار کلی لاہور، 1935ء)

پولوس کے مذہب میں داخل ہونے کے لیے کسی قسم کی پابندیوں کی ضرورت نہ تھی۔ Encyclopedia Britannicaلکھتا ہے:

’’Paul did not require circumcision and observance of the Law for Christian fellowship.

(Encyclopedia Britannica, volume 25, page 463, London, edition 2003)

پولوس کے مطابق عیسائیت میں داخل ہونے کے لیے ختنہ اور شریعت موسوی پر عمل پیرا ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔

حلت و حرمت کی تنسیخ

غیر اقوام میں تبلیغ کے دوران پولوس کو ایک دقّت یہ پیش آئی کہ موسوی شریعت میں حلال و حرام کے متعلق واضح احکامات تھے۔ مگر غیر اقوام ان کو اپنانے کے لیے تیار نہ تھیں۔ لہٰذا پولوس نے اس مشکل کا حل بھی آسانی سے نکال لیا اور انہیں اس معاملے میں بالکل آزادی دے دی۔ چنانچہ رومیوں کے نام خط میں پولوس لکھتا ہے:

’’مجھے معلوم ہے بلکہ خداوند یسوع مسیح میں مجھے یقین ہے کہ چیز بذاتہٖ حرام نہیں لیکن جوا س کو حرام سمجھتا ہے اس کے لیے حرام ہے…کیونکہ خدا کی بادشاہی کھانے پینے پر نہیں۔ ‘‘

(رومیوں باب 14آیات 14و17)

پال لارنس لکھتا ہے:

’’1 Corinthians 10: 25 Paul urges the Corinthian Christians to eat anything sold in the meat market without raising questions of conscience.‘‘

(The Lion Atlas of Bible History by Paul Lawrence page 165, edition 2006, Lion Hudson, Oxford)

یعنی کرنتھیوں کے نام خط میں پولوس کرنتھ کے عیسائیوں کو تاکید کرتا ہےکہ وہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والا ہر قسم کا گوشت (حلال وحرام کی تمیز کیے بغیر) بلا جھجک کھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں اپنے ضمیر سے (حلال وحرام کا) فتویٰ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عشائے ربانی

عالم مسیحیت کی ایک اہم رسم عشائے ربانی ( Lord‘s Supper)ہے۔ جسے رسم تشکر(Eucharist)بھی کہا جاتا ہے۔ یہ رسم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں کے ساتھ آخری کھانے کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ مسیحی اس رسم کو ہر سال بڑی شد ومد سے مناتے ہیں۔ حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کو جاری رکھنے کا ہر گز حکم نہیں دیا تھا۔ عالم مسیحیت میں اس رسم کو جاری رکھنے کا سہرا بھی پولوس کو ہی جاتا ہے۔ چنانچہ Encyclopedia Britannica لکھتا ہے:

’’The synopses date the supper on the night of the Passover and they omit the command to continue it. The Textus receptus of Luke indeed includes the command but the passage in which it occurs is an interpolation from the Pauline account and whatever view be taken of the problem of the Lucan text, the command is no part of the original.The evidence therefore does not warrant the attribution to Jesus of the words This do in memory of me.‘‘

(Encyclopedia Britannica volume 18, page 973, London,1951)

اناجیل عشائے ربانی کی تاریخ کو عید فسح کی رات کو بتاتی ہیں اور یہ اس کے تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا حکم نہیں دیتیں۔ انجیل لوقا میں اگرچہ اس حکم کو شامل کیا گیا ہے لیکن وہ حصہ جہاں پر یہ بات درج ہے وہ حصہ پولوس کے خطوط سے نقل کیا گیا ہے۔ لوقا کے اس مسئلے سے جو مرضی نظریہ مراد لیا جائے یہ حکم اصل (انجیل لوقا ) میں شامل نہیں تھا۔ اس لیے اس حکم کا ان الفاظ سے کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں کہ مسیحؑ نے ایسا کہا تھاکہ ’’اسے میری یاد میں منایا کرو‘‘۔

یاد رہے کہ مشہور عیسائی فرقہ Salvation Army بھی عشائے ربانی کی اس رسم کا قائل نہیں۔ جوا س بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ بعد کے اضافے ہیں جو مسیحیت میں شامل کر دیے گئے۔

انہی حقائق کی بنا پر محققین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ عیسائیت دراصل پولوسیت ہے۔ اس مسیحیت کا حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی زندگی بخش تعلیمات سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

موجودہ عیسائیت کے بارے Gerald Berry اپنی کتاب Religions of the World میں لکھتے ہیں:

’’Paul was the real founder of Christian Religion.‘‘

(Religions of the World by Gerald Berry, page 71, New York, edition 1956, Barnes and Noble)

یعنی عیسائی مذہب کا حقیقی بانی پولوس ہے۔

اسی طرح W.Wredeلکھتے ہیں:

’’Paul so changed Christianity as to become its second founder. The founder of ecclesiastical Christianity as distinct from the Christianity of Jesus.‘‘

(Encyclopedia Britannica, volume 17, page 393, London, 1951)

یعنی پولوس نے اس قدر مسیحیت کو بدل دیا کہ وہ اس کا دوسرا بانی بن گیا۔ اس کلیسیائی عیسائیت کا بانی جو یسو ع مسیح کی عیسائیت سے بہت مختلف ہے۔

حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائیت میں رائج تما م بدعات، بدعقائد کا ذمہ دار پولوس کو ٹھہراتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ مذہب نصاریٰ جس میں شریعت کا کوئی پاس نہیں اور سؤر کھانااور غیر مختون رہنا وغیرہ تما م باتیں شریعت موسوی کے مخالف ہیں۔ یہ باتیں اصل میں پولوس کی ایجا دہیں۔ اور اس واسطے ہم اس مذہب کو عیسوی مذہب نہیں کہہ سکتے بلکہ دراصل یہ پولوسی مذہب ہے اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ حواریوں کو چھوڑ کر اور ان کی رائے کے برخلاف کیوں ایسے شخص کی باتوں پر اعتبار کر لیا گیا تھا، جس کی ساری عمر یسوع کی مخالفت میں گزری تھی۔ مذہب عیسوی میں پولوس کا ایسا ہی حال ہے جیسا کہ باوا نانک صاحب کی اصل باتوں کو چھوڑ کر قوم سکھ گرو گوبند سنگھ کی باتوں کو پکڑ بیٹھی ہے۔ کوئی سند ایسی نہیں مل سکتی جس کے مطابق عمل کر کے پولوس جیسے آدمی کے خطوط اناجیل اربعہ کے ساتھ شامل کئے جا سکتے تھے۔ پولوس خواہ مخواہ معتبر بن بیٹھا تھا ہم اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا آدمی نہیں پاتے جو خواہ مخواہ صحابی بن بیٹھا ہو۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم، صفحہ 207، ایڈیشن1988ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close