یادِ رفتگاں

مشرق و مغرب کا حسین امتزاج محترم سلیم ملک صاحب کی یاد میں

(آصف محمود باسط)

ابھی چند لمحے قبل ایک بہت ہی محترم بزرگ سلیم ملک صاحب کی وفات کی خبر ملی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انسان اس دنیا میں اپنی کتنی جگہ بناتا ہے، یہ اس کے جسمانی حجم پر نہیں، بلکہ اس کے کردار پر منحصر ہوتا ہے۔ اس بات کی سمجھ اور سلیم ملک صاحب کے انتقال کی خبر ساتھ ساتھ آئیں۔ اور یہ بات بھی منکشف ہوئی کہ کسی شخص سے محبت اس بات پر موقوف نہیں کہ اس کے ساتھ کتنا وقت گزرا۔ بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس شخص نے آپ کی شخصیت پر کیا نقش چھوڑا۔

مجھے سلیم ملک صاحب کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہ ملا۔ کل دورانیہ اس صحبت کا دیکھا جائے تو شاید مل ملا کر چند گھنٹے ہی بنتا ہو۔ لیکن یہ چند گھنٹے میرے دل و دماغ پر ایک گہرا نقش چھوڑ گئے۔ میرے دل میں ان کے لیے ادب اور احترام اور گہری محبت کے جذبات پیدا کر گئے۔

پہلا تعارف کب ہوا، ٹھیک سے یاد نہیں۔ لیکن انہیں پہلی دفعہ روہیمپٹن یونیورسٹی کے اس لیکچر کے دوران دیکھا جو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2005ء میں ارشاد فرمایا تھا۔ لندن کے اس تعلیمی ادارے میں پہلی مرتبہ اس شخص کو دیکھا اور پھر رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ تعلیم و تدریس ہی اس آدمی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو دیکھے، مگر جو نقش سب سے گہرا رہا وہ ہمیشہ ایک ماہرِ تعلیم کا رہا۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک ماہرِ تعلیم تھے۔ استاذی المکرم چوہدری محمد علی صاحب مرحوم کے علاوہ اگر کوئی شخص ہر لحاظ سے ماہرِ تعلیم کی تعریف پر پورا اترتا نظر آیا، وہ سلیم ملک صاحب تھے۔

دونوں بزرگوں میں یہ قدرِ مشترک بھی تھی کہ دونوں علم کی محبت میں بڑھتے بڑھتے وہاں پہنچے کہ انہیں تعلیم اور تدریس سے شغف پیدا ہوگیا۔ یعنی حصولِ علم کی تمنا کا گہرا دریا ابلاغِ علم کے جذبے کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں بدل گیا۔ یہی جذبہ آدمی کو حقیقی معنوں میں مدرس یا معلم بناتا ہے۔ ورنہ مجبوریٔ روزگار کے ہاتھوں تو دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر ایم ٹی اے کے پروگراموں میں معاونت کے لیے جامعہ احمدیہ یوکے کے طلبا کی ٹیمیں بنائی گئیں، تو ان طلبا سے اکثر سلیم ملک صاحب کا ذکر سننے کو ملا۔ ملک صاحب مرحوم انہیں انگریزی پڑھاتے تھے۔ یہ سبھی طلبا بڑے بھلے مانس تھے اور اپنے سبھی اساتذہ کا احترام کرتے، مگر سلیم ملک صاحب کے لیے ان کے دل میں موجود احترام ان کی آنکھوں میں نظر آنے لگتا۔ یہ سب ان کی علمی لیاقت کے قائل تو تھے ہی، مگر ان کی شفقت اور محبت کے بھی دل و جان سے معترف تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو بتاتے تھے کہ سلیم ملک صاحب ہم سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں۔ مگر یہ بتاتے ہوئے بھی ان طلبا کے لب و لہجہ میں تاسف اور افسردگی نظر آتی۔ جو بجائے خود ان طلبا کی سلیم ملک صاحب کے لیے قدردانی کی غماض تھی۔

سلیم ملک صاحب آغاز سے ہی جامعہ احمدیہ یو کے سے وابستہ تھے۔ اور آغاز سے مراد 2005ء نہیں جب یہ ادارہ وجود میں آیا، بلکہ نوے کی دہائی کے آخر سے جب اس ادارے کا ارادہ وجود میں آیا۔ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے زمانے کی بات ہے۔ حضور ؒ نے برطانیہ میں جامعہ احمدیہ قائم کرنے کا ارادہ فرمایا تو ساتھ ہی ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ سلیم ملک صاحب اس کمیٹی کے سرگرم رکن تھے۔یوں اس ادارے کے معرضِ وجود میں آنے کی منصوبہ بندی کے تمام مراحل میں سلیم ملک صاحب کو خدمت کی توفیق ملی۔ پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت دور میں یہ خواب تکمیل کے مرحلے پر پہنچا تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سلیم ملک صاحب کواس کے ابتدائی اساتذہ میں شامل فرمایا۔ میری ان سے بیشتر ملاقاتیں جامعہ احمدیہ یوکے کے ابتدائی کیمپس واقع Colliers Wood, London میں ہی ہوئیں۔ لاٹھی ٹیک کر چلتے، مگر ان کی آواز، ان کی گفتگو اور جامعہ کے لیے محبت کے اظہار میں کبھی بڑھاپے کا شائبہ بھی نظر نہ آیا۔ یہ جس دور کی بات ہے، تب وہ ستر سے متجاوز تھے۔ عمر کی اس منزل پر اکثر بزرگ ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو جایا کرتے ہیں۔ مستقبل میں جب کوئی امید، کوئی ارادہ، کوئی انگ باقی نہ رہے، تو بزرگ بے چارے کریں بھی کیا۔ مگر سلیم ملک صاحب کی خاص بات یہ تھی کہ وہ خود کو مستقبل سے وابستہ رکھے ہوئے تھے۔ جامعہ احمدیہ کے مستقبل سے۔ اگر کبھی ماضی کے عقبی صحن میں جا بھی نکلتے، تو مستقبل کی بہتری کی کوئی امید تلاش کرنے یا ماضی، حال اور مستقبل کی زنجیر کی کوئی کڑی ڈھونڈ نکالنے کے لیے۔ ورنہ میں نےانہیں کبھی naustalgic نہ پایا۔ ان کے سامنے جامعہ احمدیہ تھا، اس کے نوجوان طلبا تھے اور ان کا مستقبل جو جماعت کے مستقبل سے جڑا ہوا تھا۔

جامعہ کے مستقبل سے اس محبت میں انہیں کبھی مایوس نہ دیکھا۔ ہاں بعض اوقات دکھ کا شکار ضرور نظر آئے۔ ان کی شدید تمنا رہتی کہ ان طلبا کو ایسے طریق پر پڑھایا جائے کہ اُن کے علم میں اضافہ ہو۔ اور یہ کہ اُنہیں علم حاصل کرنے کا شوق بھی پیدا ہو۔ جہاں انہیں یہ نظر آتا کہ کچھ طلبا ’’رٹّا‘‘ لگا کر امتحان پاس کرلیتے ہیں، تو سخت رنج کا شکار ہوتے۔

ایک مرتبہ کسی کام سے ان کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا تو انگریزی کے سالانہ امتحانات کے پرچے دیکھ رہے تھے۔ سامنے پڑا ایک پرچہ اٹھا کر کہنے لگے کہ کتنی دیر سے اس ایک پرچے کو دیکھ رہا ہوں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں۔ ایک سال تک اِس طالبِ علم نے مربی بن جانا ہے(نام بتائے بغیر)۔ مغربی اقوام کے لوگوں سے کیا بات چیت کرے گا؟ اسے تو انگریزی کے بنیادی جملے بنانے بھی نہیں آتے۔ میں نے عرض کی کہ اگر طالبِ علم انگلستان کا رہنے والا نہیں اور کسی اور یورپی ملک سے آیا ہے، تو پھر تو ایسے طلبا کے لیے انگریزی زبان کی تدریس اور امتحان دونوں ہی الگ طرز پر ہونے چاہئیں۔ یعنی English as a foreign language۔ کہنے لگے بات تو درست ہے۔ چلیں دیکھیں گے۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کی صحت بہت گر چکی تھی اور وہ جامعہ کا سفر اختیار کر کے باضابطہ تدریس کے لیے جانےسے قاصر ہوچکے تھے۔

لیکن یہ ’’قاصر‘‘ ہونے کی اصطلاح میں نے استعمال کرلی، خود ملک صاحب نے تو شاید کبھی مشکل ہی سے تسلیم کیا تھا کہ وہ کسی بھی جماعتی خدمت سے قاصر ہوچکے ہیں۔مغربی لندن میں واقع ہونسلو، کہ وہ وہیں سکونت رکھتے تھے، سے پہلے Colliers Wood والے کیمپس میں باقاعدگی سے حاضر ہوتے رہے۔ پھر جب جامعہ کا کیمپس لندن سے بہت باہر Haslemere منتقل ہوگیا، تو وہاں تشریف لے جاتے رہے اور طلبا جامعہ ان کے علم سے مستفید ہوتے رہے۔ جامعہ سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ شاید ہی کوئی ملاقات ایسی ہوئی ہو جس میں انہوں نے جامعہ کے طرزِ تعلیم کے حوالہ سے محبت اور ہمدردی کا اظہار نہ کیا ہو۔ وہ جامعہ کے طلبا کے لیے ایک بہت ہی روشن مستقبل کے خواہاں تھے۔

انگریزی زبان سے بہت محبت رکھتے تھے۔ اتنی کہ مجھے ایک لمبا عرصہ تو یہی لگا کہ ان کی اپنی تعلیم بھی شاید انگریزی ادب میں تھی۔ بعد میں انہی سے معلوم ہوا کہ وہ تو جیالوجی (علمِ ارضیات) میں تعلیم یافتہ ہیں اور یہی مضمون انگلستان کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے بھی رہے ہیں۔ انگریزی ادب شوق سے پڑھ رکھا ہے۔ اور خاصا غور و فکر کے ساتھ پڑھ رکھا ہے۔ بلکہ ہر مضمون میں ہی ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ جامعہ کے طلبا کے مقالہ جات متنوع موضوعات پر ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی جس کے بھی نگران بنائے گئے، بہت محنت اور لگن سے اپنی یہ ذمہ داری ادا کرتے۔ ایسے کہ مضمون کا حق بھی ادا ہوجائے اور انگریزی زبان کا معیار بھی اعلیٰ ہو۔

محترم سلیم ملک صاحب مرحوم سے زیادہ رابطہ تب رہنے لگا جب ہم نے ایم ٹی اے پراتوار کی صبح ایک لائیو پروگرام ’’عصرِ حاضر‘‘ کے نام سے کیا۔ اس پروگرام میں جدید دور کے مسائل پر گفتگو ہوتی اور یہ دیکھا جاتا کہ ہم عصرِ جدید کے تقاضوں کو اسلامی تعلیمات کے اندر رہتے ہوئے بھی پورا کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے دین کو خیرباد کہہ دینا ضروری نہیں۔

اس پروگرام میں شامل ہونے والے مہمانوں میں سب سے پہلا نام جو ذہن میں آیا، وہ سلیم ملک صاحب کا تھا۔ انہیں پہلے پروگرام میں مدعو کیا گیا۔ پھر دوسرے میں بھی کیا گیا۔ دونوں مرتبہ ان کو دعوت دی اور ہفتہ بھر کے دوران ان سے فون پر گفتگو بھی ہوتی رہی کہ کیا سوال ہوگا اور اس کے لیے کتنا وقت ہوگا وغیرہ۔ تیسرے پروگرام میں کسی اور مہمان کو مدعو کیا گیا۔

یہ پروگرام صبح کے وقت ہوتا تھا۔ ہم ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں تیاری میں مصروف تھے کہ سلیم ملک صاحب بدقت سیڑھیاں چڑھ کر دفتر میں تشریف لے آئے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس پروگرام میں بھی مدعو ہیں۔ خدمت کے جذبہ سے سرشار ملک صاحب بہت صبح اپنے گھر سے ایم ٹی اے سٹوڈیوز کا سفر کر کے پہنچ گئے۔ عام طور پر جس مہمان کو مدعو کرنا ہوتا ہے، اسے اطلاع دی جاتی ہے۔ جسے نہیں کرنا ہوتا اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ آپ پروگرام میں نہیں آئیں گے۔ مگر یہ میری کوتاہی تھی کہ میں نے اسے آفاقی اصول سمجھ لیا۔ اس روز ملک صاحب کی تکلیف کا سوچ کر میرا بہت سا وقت اس ملال میں گزرا کہ میں بتا ہی دیتا۔ یونہی انہیں صبح سویرے تکلیف اٹھانا پڑی۔ لیکن جب انہیں بتایا آج کے پروگرام میں بطور مہمان کوئی اور صاحب ہیں، تو بھی بڑی محبت سے کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں۔ اس بہانے ملاقات ہو گئی۔ اس پروگرام میں معاونت کروانے والے نوجوان سبھی ان کے شاگرد تھے یا شاگرد رہ چکے تھے۔ ان میں سے ایک ڈیوٹی لگائی کہ پروگرام کے دوران چونکہ مجھے سٹوڈیو میں ہونا پڑے گا، لہذا وہ ملک صاحب کے ساتھ بیٹھیں اور ان کی باتوں سے مستفید ہوں۔ پروگرام کے بعد بھی انہوں نے کچھ وقت ہمیں دیا اور پھر رخصت ہوگئے۔

’’عصرِ حاضر‘‘ ہی کے سلسلہ کے ایک پروگرام میں نوجوانوں کی فیشن کے لیے بڑھتی ہوئی رغبت اور celebrity culture سے متاثر ہونے پر گفتگو کرنا تھی۔ ملک صاحب نے بتایا کہ ’’ہمارا بچپن اور نوجوانی کا زمانہ تو قادیان میں گزرا۔ ہمارے رول ماڈل اور ہمارے celebrity تو حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ جیسے بزرگ تھے۔ ہم نے خود یہ دیکھا ہے کہ مولوی صاحبؓ سلام میں ہمیشہ پہل کرتے۔ ہم بچے ان کی اس عادت سے اس قدر متاثرتھے کہ ہم بھی اسی طرح پہل کرنے کی کوشش کرتے‘‘۔

ان کی یہ بات گہرا اثر کرنے والی تھی۔ والدین کے لیے بھی اس میں رہنمائی ہے۔ جب بچوں کو کہا جائے کہ دنیوی مشاہیر کی اندھی تقلید نہیں کرنی، تو ساتھ انہیں ان حقیقی مشاہیر سے بھی متعارف کروایا جائے جو ان کے لیے رول ماڈل کا کام کریں۔ اس سلسلہ میں ان دنوں جاری بدری صحابہؓ پر سیدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات ایک ایسا اثاثہ ہیں کہ اگر ہم اپنے بچوں کو یہ خطبات توجہ سے سننے کی عادت ڈال دیں، تو انہیں دنیا میں کسی اور رول ماڈل کی تلاش ہی نہ رہے۔

ایک بات جو ملک صاحب مرحوم کی شخصیت میں نمایاں نظر آتی وہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔ مغربی ممالک میں سکونت اختیار کرلینے والے تارکین وطن بالعموم اپنی تمام عادات و اطوار بلکہ اقدار کو بھی ترک کر کے کلیۃً مغربی طرزمعاشرت کو اختیار کرلیتے ہیں۔سالہاسال انگلستان میں مقیم رہنے کے باعث ملک صاحب نے انگریزوں کی تمام اچھی عادات اپنا لیں مگر اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر حرف نہ آنے دیا۔ اپنی مذہبی وابستگی پر کبھی شرمندہ نہ ہوئے لیکن وقت کی پابندی، نظم و نسق، علم دوستی اور صاف گوئی میں انگریزوں کی طرز کو اپنا لیا۔ یوں ان کی شخصیت مشرق اور مغرب دونوں ہی سے خیر کے پہلو لیے ہوئے تھی۔

انگریز اپنے مزاح کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے لیے British humourکی اصطلاح رائج ہے اور اس کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ ثقیل سے ثقیل صورتحال کو بھی مزاح کے ذریعے ہلکا پھلکا بنا لینا۔ سلیم ملک صاحب کی شخصیت میں انگریزی کا یہ خیر کا پہلو بھی خوب نمایاں تھا۔ ایک مرتبہ پروگرام سے پہلے انہیں چائے پیش کی گئی۔ یہ چائے ان کے ایک شاگرد بڑی محبت سے ان کے لیے بنا کر لائے۔ پیش کرتے وقت اسے ان کے پاس پڑے میز پر رکھ دینے کی بجائے سیدھی ملک صاحب کے ہاتھ میں پکڑائی اور پکڑائی بھی ایسے کہ کنڈہ خود ان کے ہاتھ میں تھا۔ ملک صاحب کو چائے کا یہ mug  ناچار گرم مقام سے پکڑنا پڑا۔ میں ابھی کچھ کرنا چاہتا ہی تھا کہ ملک صاحب پیالی کو تھام چکے تھے اور اب اسے کہیں رکھنے کی جگہ ڈھونڈ رہے تھے۔ ملک صاحب اس تکلیف سے اور میں ان کی اس تکلیف کو دیکھ کر کوفت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کیفیت کو دیکھ کر وہ عزیز بہت سخت شرمندہ ہوئے مگر ملک صاحب نے انگریزی مزاح کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا کہ ’’بعض چیزوں کا درجہ حرارت معلوم کرنے کے لیے انہیں چھونا ہی پڑتا ہے‘‘۔ یوں برٹش مزاح کے ذریعہ اس نوجوان کی شرمندگی اور میری خجالت کو گویا دور کر دیا۔

جب بھی اُن سے مشورہ کے لیے فون کیا، بڑی محبت سے فرمایا کہ گھر آجائیں، بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ اگر مجبوری ہوتی اور میں حاضر نہ ہوسکتا، تو فون پر بھی مشورہ عنایت فرماتے مگر گھر مدعو ضرور کرتے۔ جب بھی ان کے یہاں حاضر ہوا، بہت ہی محبت سے پیش آئے۔ انہیں گھر جا کر ملنے میں ایک خاص بات قابلِ ذکر ہے کہ کبھی بھی اس حالت میں نہیں ملے کہ لباسِ شب زیبِ تن کیا ہو، یا بال سلیقے سے بنے نہ ہوں۔ ہمیشہ صاف ستھرے لباس میں اہتمام سے تیار ہو کر ملے۔ بال بھی بڑے سلیقے سے بنائے ہوتے۔ کبھی یہ بھی نہیں دیکھا کہ خط بے طرح بڑھا ہو۔ بڑے وضع دار آدمی تھے۔

مہمان نواز بھی بہت تھے۔ ہمیشہ اصرار سے چائے یا کھانا پیش کرتے۔ ایک مرتبہ اپنی شرمندگی میں میں نے عرض کی کہ آئندہ آؤں گا تو کھانا لے کر آؤں گا۔ ساتھ کھائیں گے۔ کہنے لگے کہ ’’ایسا کرنا ہے تو پھر نہیں آنا۔ ہم کون سا تکلف کرتے ہیں۔ جو ہوتا ہے رکھ دیتے ہیں‘‘۔ ملک صاحب نے کہا تو ہم نے مان لیا کہ جو ہوتا ہے رکھ دیتے ہیں۔ مگر اس میں بھی سلیقہ ایسا ہوتا کہ بہت اہتمام کا گمان گزرتا۔

ایک روز حاضر ہوتے ہی میں نے عرض کر دی کہ آج کوئی اہتمام نہیں۔ کھانا کھا کر حاضر ہوا ہوں۔ کہنے لگے کہ چلیں کم از کم چائے ہی سہی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کی چائے میں بھی ’’کم از کم‘‘ والی کوئی بات نہ ہوتی۔

میں آخری مرتبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے کہا کہ ملک صاحب ہم نے آپ کی لائبریری شعبہ آرکائیو میں محفوظ کر لینی ہے۔ کہنے لگے بڑے شوق سے کریں۔ کسی وقت آجائیں کر لیں گے۔ ویسے میں نے جامعہ کو بھی کہا ہوا ہے۔ نکلتے وقت اقبال کی کتاب ’’زبورِ عجم‘‘ کے انگریزی ترجمہ کی کتاب عنایت فرمائی۔

ملے تو ہمیشہ ہی ایسی محبت سے کہ میں ان سے ہر لحاظ سے چھوٹا ہونے کے باعث شرمندہ ہو کر رہ جاتا۔ مگر ایک مرتبہ کسی یونیورسٹی کے ساتھ ایک معاملہ تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر ان سے مشورہ کے لیے حاضر ہوا۔ اس روز جس محبت، توجہ اور انہماک سے ہر بات سنی اور جس باریکی سے مشورے عنایت فرمائے، وہ ان کی خلافت سے محبت کا ثبوت تھا۔ بلکہ جب فون پر بتایا کہ حضور رانور کا ارشاد ہے کہ آپ سے مشورہ کر لوں اور پھر پوچھا کہ کب حاضر ہو جاؤں، تو فرمایا ’’حضرت صاحب کا ارشاد ہے تو یہ سوال کیسا۔ ابھی آجائیں۔ اسی وقت آجائیں۔ جب آسکتے ہیں آجائیں۔ میں حاضر ہوں!‘‘

میری ان سے آخری گفتگو اس سال فروری میں ہوئی۔ الفضل انٹرنیشنل نے ’’مصلح موعودؓ نمبر‘‘ شائع کرنے کا منصوبہ بنایا تو خاکسار کو بھی کچھ لکھنے کا حکم دیا۔ اسی روز سلیم ملک صاحب کا فون آیا۔ مضمون پر حوصلہ افزائی فرمائی۔ میں پہلے ہی شرمندہ تھا کہ فرمایا: ’’اس مضمون کا انگریزی میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ ہماری نوجوان نسل کو حضرت مصلح موعودؓ کی عظمت کے اس پہلو سے ضرور واقف ہونا چاہیے‘‘

میں نے عرض کی کہ جی ملک صاحب۔ انشا اللہ۔ کہنے لگے کہ ’’نہیں۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر اجازت ہو تو میں ترجمہ کردوں؟‘‘

مجھے یاد ہے کہ میں اس وقت گاڑی چلا رہا تھا۔ یہ بھی یاد ہے کہ کس سڑک پر تھا اور کہاں سے گزر رہا تھا۔ یہ سب اس لیے یاد ہے کہ زندگی میں شرمندگی کے ایسے مواقع کم کم آئے ہیں۔ میں نے نہایت ادب سے عرض کی کہ ’’ملک صاحب۔ اجازت کیسی۔ یہ تو میرے لیے بہت ہی اعزاز کی بات ہوگی‘‘۔

ملک صاحب نے ترجمہ کیا۔ اور ایسا کیا کہ ترجمہ کے لحاظ سے مثالی بنا دیا۔ یوں لگتا کہ اصل مضمون انگریزی میں ہے اور اس کا ترجمہ اردو میں کیا گیا ہے۔

یہ ملک صاحب کا آخری تحفہ تھا۔ انہوں نے مجھے شفقت اور محبت کی شکل میں اور معلومات کی صورت میں بہت سے تحائف دیے۔ انہیں دیکھ کر اور ان کے ساتھ وقت گزار کر انسان میں علم کی لگن پیدا ہوتی۔ اور یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو بہت نایاب ہے اور نایاب تر ہوتا جاتا ہے۔

میں ملک صاحب کو وقت بے وقت زحمت کے علاوہ کچھ بھی نہ دے سکا۔ دیتا بھی کیا۔ وہ علم دوست تھے۔ اور مجھ جیسے ان کے سامنے تہی دامن۔ علم کے معاملہ میں وہ تھوک مال کی دوکان تھے۔ مجھ جیسے چھوٹی موٹی چھابڑی لگانے والے انہیں کیا دیتے۔ بس ان کے احسانات کے تلے دبتے رہے۔ یہاں تک وہ ہم سے رخصت ہوگئے۔

مضمون کے آغاز میں خاکسار نے عرض کی تھی کہ مجھے ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ماہرِ تعلیم ہونا لگا۔ اس لیے آج جب ان کی وفات کی خبر آئی تو عبید اللہ علیم صاحب کا یہ شعردرس و تدریس کے چمن کے حوالہ سے یاد آگیا کہ:

صبحِ چمن میں ایک یہی آفتاب تھا

اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا

اللہ تعالیٰ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو ایک کی جگہ سینکڑوں علم دوست ماہرینِ تعلیم عطا فرماتا رہے۔ ایک سلطان نصیر کی جگہ کئی سلطانان ِ نصیر عطا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پیارے سلیم ملک صاحب کے درجات بلند فرمائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close