متفرق مضامین

ڈاکٹرBrubakerکی کتاب Corrections in Early Quran Manuscripts: Twenty Examples پر مثالوں کی روشنی میں تبصرہ

(رانا ودود احمد)

مکرم شہود آصف صاحب نے الفضل انٹرنیشنل کے شمارہ 28؍ جولائی 2020ء میں اپنے ایک مضمون میں اس کتاب پر قراءت کے اختلاف کے سیاق وسباق میں روشنی ڈالی ہے۔ ذیل کے مضمون میں ڈاکٹر Brubaker صاحب کی پیش کردہ مثالوں کو مد نظر رکھ کر تبصرہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر Brubakerکااپنی کتاب Corrections in Early Quran Manuscripts: Twenty Examples میں تنقید متن (Textual Criticism) کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کرقرآن کریم کے قدیم نسخہ جات کو جدید اشاعتی اصولوں پرپرکھنا نہایت حیران کن ہے۔ موصوف کی ’’تحقیق‘‘ غلطیوں سے پُرہے۔ قدیم نسخہ جات کی تصحیح کا موازنہ قاہرہ ایڈیشن سے کرنا مضحکہ خیز امر ہے۔ موصوف کی تحقیق کا ماحصل یہ ہے کہ متن قرآن آہستہ آہستہ اس شکل میں وجود میں آیا ہے جو ہمارے پاس اب موجود ہے۔ موصوف کا یہ دعویٰ کسی قدر قابل اعتنا ہو سکتا تھا اگر وہ یہ دکھاتے کہ تمام قدیم نسخوں میں لفظ یا آیت یا حرف ایک صورت میں تھا جو بعد کے نسخوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ مگر جیسا کہ قارئین آگے دیکھیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ قرآن کا متن شروع سے آج تک ایک ہی ہے۔ موصوف کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس تحقیق کی غرض سے ہزاروں قدیم مخطوطات دیکھے ہیں۔ اگر ان کا یہ دعویٰ ٹھیک ہے تو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ وہ عمدا ًحق کو چھپا رہے ہیں۔

موصوف نے اپنی کتاب میں مخطوطات قرآنی میں تصحیح کی 20مثالیں دی ہیں۔ اگر ضمنی مثالوں کو بھی ملا لیا جائے تو ان کی تعداد31 بن جاتی ہے۔ ذیل میں خاکسار موصوف کی دی ہوئی ترتیب کے مطابق ہر مثال قرآن کریم کے قدیم ترین نسخہ جات سے دکھائے گا۔ اس سے ثابت ہو گا کہ موصوف نے ہزاروں مخطوطات میں سے صرف اسی کو چنا جس میں تحریر کنندہ سے لکھتے ہوئےغلطی ہوئی اور بعد میں درست کر لی گئی۔ اگر ایسے نہ ہوتا تو ان نسخہ جات کے ہم عصر یا پرانے نسخوں میں وہ آیت اصل شکل میں موجود نہ ہوتی۔ ایسے نسخہ جات بہت زیادہ ہیں۔ خاکسار ذیل میں ہر ایک کی صرف ایک مثال پیش کرے گا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close