الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ ا لصلوٰۃوالسلام کی نظر میں اکابرین ملّتِ اسلام کا احترام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل جہاں اسلام غیروں کے حملوں کی زَد میں تھا وہاں مسلمانوں کے اندرونی تنازعات کی وجہ سے بھی کمزوری کا شکار تھا۔ مختلف فرقے دوسرے فرقوں کے اکابرین کو سبّ و شتم کرنے سے بھی باز نہیں آتے تھے چنانچہ ان کے غیر ضروری مباحثات کا بڑا نشانہ اُمّتِ مسلمہ کے وہ صلحاء اور بزرگانِ سلف تھے جنہوں نے اپنے زمانے میں اسلام کی بڑی خدمات کی ہیں۔ حضور علیہ السلام نے جہاں اَور باتوں میں اُمّت ِمسلمہ کی اصلاح کی وہاں اکابرینِ دین کے ادب و احترام کو بھی دلوں میں زندہ کیا۔ ماہنامہ ‘‘احمدیہ گزٹ’’ کینیڈا مارچ 2012ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شاملِ اشاعت ایک مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں اکابرین ملّتِ اسلام کے مقام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریرات اور آپؑ کی زندگی میں عملاً عشق رسولؐ کے جو نظارے نظر آتے ہیں، حق یہ ہے کہ آپؑ سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی ﷺ کا سچا عاشق اور محبّ کوئی پیداہی نہیں ہوا۔ آپؑ فرماتے ہیں: ‘‘ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوان مرد نبیؐ اور زندہ نبیؐ اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبیؐ صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار اور رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفیٰ و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی۔’’ (سراج منیر)

اصحاب رسول

آنحضرت ﷺ کے پاک صحابہ کی فضیلت کے متعلق بھی حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات بھری پڑی ہیں۔ ایک جگہ حضورؑ فرماتے ہیں: ‘‘صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آنحضرتﷺ کی سیرت کے روشن ثبوت ہیں، اب کوئی شخص ان ثبوتوں کو ضائع کرتا ہے تو وہ گویا آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ضائع کرنا چاہتا ہے۔ پس وہی شخص آنحضرت ﷺ کی سچی قدر کر سکتا ہے جو صحابہ کرامؓ کی قدر کرتا ہے، جو صحابہ کرام ؓ کی قدر نہیں کرتا وہ ہرگز ہرگز آنحضرت ﷺ کی قدر نہیں کرتا، وہ اس دعویٰ میں جھوٹا ہے اگر کہے کہ میں آنحضرت ﷺ سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت ﷺ سے محبت ہو اور پھر صحابہؓ سے دشمنی۔’’ (ملفوظات ، جلد سوم، صفحہ 527)

ایک اَور جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘…وہ نہایت سرگرمی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسے فدا تھے کہ گویا ہر ایک ان میں سے ابراہیم تھا۔’’(ملفوظات، جلد سوم، صفحہ 428)

حضرت مسیح موعودؑنے صحابہ کے پاک نفوس کے متعلق عربی زبان میں ایک شعر میں فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سورج کی طرح روشن تھے انہوں نے ساری دنیا کو اپنے نور سے روشن کر دیا۔

سادات کا احترام

حضرت سید تاج حسین صاحب بخاریؓ کی روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا:‘‘ہم اولادِ رسول کو اپنی عزیز متاع تصور کرتے ہیں اور ان کے لیے ہمارے دل میں بڑا احترام ہے۔’’ (رجسٹر روایات نمبر12)

شیعہ بزرگان کے متعلق رائے

اہل تشیع کی طرف سے بزرگان سلف خصوصًا اُمّہات المومنین اور صحابہ کرام کے متعلق بہت ہی دل آزار باتیں منظر عام پر آئی ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس سلسلے میں اہل تشیع حضرات کو باز رکھنے کے لیے کتاب ‘‘سِرُّالخلافۃ’’ تصنیف فرمائی جس میں مطاعنِ شیعہ اور ان کے ردّ کے حوالے سے سیر حاصل بحث فرمائی اور خلافت راشدہ کے حوالے سے ان کو مباہلہ کی بھی دعوت دی لیکن ان سب باتوں کے باوجود شیعہ بزرگان کے خلاف کوئی بات تحریر نہ فرمائی۔

حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساویؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مجلس میں کسی دوست نے شیعوں کا ذکر کر دیا کہ ان میں سے بعض ایسے بد مزاج ہیں کہ صحابہ کرام کا نام بھی اچھے الفاظ میں نہیں لیتے۔ اس پر آپؑ نے فرمایا ایسے لوگوں کا مقابلہ تو اسی طرح ہوسکتا ہے کہ ان کی گفتگو کسی خارجی سے کرا دی جائے۔

پھر فرمایا: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم تو ان کے بزرگوں کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کو راستباز ہی یقین کرتے ہیں مگر یہ ایسے بد قسمت لوگ ہیں جو دوسرے راستبازوں کی عزت نہیں کرتے۔ ایسے لوگ در حقیقت دہریہ طبیعت ہوتے ہیں جو راستبازوں کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے اندر عیب دیکھتے ہیں اور اپنے عیبوں پر کبھی نظر بھی نہیں کرتے۔

(الحکم 14/21 جنوری 1943ء )

ایک اور جگہ فرمایا: ‘‘یہ تو سچ ہے کہ بارہ امام کامل اور بزرگ اور سید القوم تھے۔’’ (مکتوبات احمدیہ)

غیر مقلد فرقہ بھی بُرا نہیں ہے

حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مَیں سخت متعصّب حنفی تھا تو ایک روز حضرت اقدسؑ سے یوں عرض کیا کہ ‘یہ وہابی غیرمقلد ناپاک فرقہ جو ہے اس کی نسبت آپ کیا فرماتے ہیں؟’ آپؑ سن کر اور ہنس کر خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہ دیا۔ دوسرے روز پھر مَیں نے ذکر کیا، فرمایا کہ یہ فرقہ بھی خدا کی طرف سے ہے، بُرا نہیں ہے۔ جب لوگوں نے تقلید اور حنفیت پر یہاں تک زور دیا کہ ائمہ اربعہ کو منصب نبوت دے دیا تو خدا نے اپنی مصلحت سے اس فرقہ کو پیدا کیا تاکہ مقلد لوگ راہ راست اور درمیانی صورت میں رہیں، صرف اتنی بات ان میں ضرور بُری ہے کہ ہر ایک شخص بجائے خود مجتہد اور امام بن بیٹھا اور ائمہ اربعہ کو بُرا کہنے لگا۔

ائمہ اربعہ

ائمہ اربعہ نے اپنے ادوار میں اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے لیکن مسلمانوں کا ایک گروہ ان ائمہ کو تحقیر سے یاد کرنے لگا۔ حضرت مسیح موعودؑائمہ اربعہ کی فضیلت اور مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(1) ‘‘ائمہ اربعہ برکت کا نشان تھے ان میں روحانیت تھی کیونکہ روحانیت تقویٰ سے شروع ہوتی ہے اور وہ لوگ درحقیقت متقی تھے اور خدا سے ڈرتے تھے اور اُن کے دل کِلاب الدنیا سے مناسبت نہ رکھتے تھے۔’’

(ملفوظات ،جلد اول، صفحہ 544 )

(2) ‘‘میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چار دیواری۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے واسطے ایسے اعلیٰ لوگ پیدا کیے جو نہایت متقی اور صاحب تزکیہ تھے۔ آج کل کے لوگ جو بگڑے ہیں اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اماموں کی متابعت چھوڑ دی گئی ہے۔’’

(ملفوظات ،جلد اول ،صفحہ 534 )

(3 ) ‘‘امام شافعی اور حنبل وغیرہ کا زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس وقت بدعات شروع ہوگئی تھیں اگر اس وقت یہ نام نہ ہوتے تو اہل حق اور ناحق میں تمیز نہ ہوسکتی ہزارہا گندے آدمی ملے جلے رہتے۔ یہ چار نام اسلام کے واسطے مثل چار دیواری کے تھے اگر یہ لوگ پیدا نہ ہوتے تو اسلام ایسا مشتبہ مذہب ہوجاتا کہ بدعتی اور غیربدعتی میں تمیز نہ ہوسکتی۔’’ (ملفوظات، جلد چہارم، صفحہ 501)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپؑ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں یہ ذکر فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔ اس پر حاضرین میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ ‘‘حضور! کیا سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی؟’’ آپؑ نے فرمایا ‘‘نہیں نہیں ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ حنفی فرقہ کے کثیرالتعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں اور ہم ہرگز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی۔’’ (سلسلہ احمدیہ)

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام تمام گزشتہ مشہور بزرگانِ اسلام کا نام ادب سے لیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص کسی پر اعتراض کرتا کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے یا ایسا فعل کیا ہے تو فرمایا کرتے کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ہمیں کیا معلوم کہ اصلیت کیا ہے اور اس میں کیا سِر تھا، یہ لوگ اپنے زمانے کے بڑے بزرگ ہوئے ہیں ان کے حق میں اعتراض یا سوئِ ادبی نہیں کرنی چاہیے۔ حضرت جنید، حضرت شبلی، حضرت بایزید بسطامی، حضرت ابراہیم ادھم، حضرت ذوالنون مصری، چاروں ائمہ فقہ، حضرت منصور، حضرت ابوالحسن خرقانی وغیرہم صوفیاء کے نام بڑی عزت سے لیتے تھے اور بعض دفعہ ان کے اقوال یا حال بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ حال کے زمانہ کے لوگوں میں آپ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو بزرگ سمجھتے تھے، اسی طرح آپ شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی، حضرت مجدد سرہندی، سید احمد صاحب بریلوی اور مولوی اسماعیل صاحب شہید کو اہل اللہ اور بزرگ سمجھتے تھے مگر سب سے زیادہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کا ذکر فرماتے تھے اور ان کے مقالات بیان کیا کرتے تھے۔

ہمارے بھائی حضرت مجدد الف ثانی ؒ

حضرت میاں عبدالعزیز صاحبؓ المعروف مغل کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضورؑ لاہور تشریف لائے ہوئے تھے تو حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد نے جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کا شوق ظاہر کیا، اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا: ‘‘میاں! تم جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کے لیے بے شک جاؤ لیکن اس کی قبر پر نہ کھڑے ہونا کیونکہ اس نے ہمارے ایک بھائی حضرت مجد ّد الف ثانی کی ہتک کی تھی۔’’

(تاریخ احمدیت لاہور صفحہ119 )

ٹیپو سلطان۔ ایک صادق مسلمان

حضرت مصلح موعودؓ اپنے بچپن کا ایک واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک کتّا ہمارے دروازے پر آیا۔ میں وہاں کھڑا تھا، اندر کمرے میں صرف حضرت صاحبؑ تھے۔ میں نے اس کتّے کو اشارہ کیا اور کہا ‘‘ٹیپو! ٹیپو!’’ حضرت صاحب بڑے غصے سے باہر نکلے اور فرمایا ‘‘تمہیں شرم نہیں آتی کہ انگریز نے تو دشمنی کی وجہ سے اپنے کتوں کا نام ایک صادق مسلمان کے نام پر ٹیپو رکھ دیا ہے اور تم اُن کی نقل کر کے کتے کو ٹیپو کہتے ہو، خبردار! آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔’’ میری عمر شاید آٹھ نو سال کی تھی، وہ پہلا دن تھا جب سے میرے دل کے اندر سلطان ٹیپو کی محبت قائم ہوگئی۔ (روزنامہ الفضل ربوہ یکم اپریل 1958ء)

مولوی ۔ اسلام کی ایک پاک اصطلاح

حضرت مولوی محمد الدین صاحبؓ سابق مبلغ امریکہ بیان کرتے ہیںکہ ایک دفعہ ایک دیسی پادری گُل محمد صاحب قادیان آئے۔ مگر وہ اپنے آپ کو مولوی گل محمد کہلواتا تھا۔ وہ عربی صرف و نحو پڑھا ہوا تھا اور بلا روک ٹوک اسلام اور نبی کریمﷺ کے سوانح پر عنیدانہ رنگ میں اعتراض کیا کرتا تھا۔ اُس کی خواہش پر حضرت قاضی امیر حسین صاحب مرحوم کی کوشش سے ایک دن مسجد میں ہی نماز ظہر یا عصر کے بعد حضورعلیہ السلام سے اس کی ملاقات کا انتظام ہوا۔ حضور نے اسلام کی صداقت اور اپنے دعوے کے متعلق کچھ گفتگو فرمائی اس پر اس نے کچھ اعتراض کیا حضور نے اس کا مفصل جواب دیا۔ اُس نے تعریفی رنگ اختیار کرتے ہوئے دبی زبان سے حضرت نبی کریمﷺ کے چال چلن پر اعتراض کر دیا اس پر حضرت مسیح موعودؑ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپؑ نے انجیلی یسوع کے متعلق بہت سی باتیں ایک ایک کرکے گنوانی شروع کردیں۔

دورانِ تقریر میں حضورؑاس کو مخاطب کرتے ہوئے پادری گل محمد یا مسٹر گل محمد پُکارتے تو وہ کہتا کہ مجھے لوگ مولوی گل محمد کرکے پکارتے ہیں۔ اس پر آپؑ نے فرمایا کہ اسلام کی ایک پاک اصطلاح ‘مولوی’ مَیں ایک ناپاک شخص کو کیسے دے سکتا ہوں۔ اُس نے مولوی کے لفظ کو کئی دفعہ دوہرایا مگر آپؑ نے وہی جواب دیا کہ مَیں اسلام کی پاک اصطلاح ایک غیر مسلم اور اسلام کو حقارت سے دیکھنے والے کو کیسے دے سکتا ہوں۔

آج جن مولویوں نے اسلام کے نام پر فتنہ انگیزی شروع کررکھی ہے اور اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ اس حوالے سے فرماتے ہیں:

‘‘اور مسلمان کو لازم ہے کہ ان نادانوں کو جو نام کے مَولوی ہیں اور اپنے وعظوں اور رسالوں کو معاش کا ذریعہ ٹھہرا رکھا ہے خوب پکڑیں اور ہر یک جگہ جو ایسا مولوی کہیں وعظ کرنے کے لئے آوے اُس سے نرمی کے ساتھ یہی سوال کریں کہ کیا آپ درحقیقت مولوی ہیں یا کسی نفسانی غرض کی وجہ سے اپنا نام مولوی رکھا ہے۔ … اور یقینًا یاد رکھیں کہ یہ لوگ مولوی نہیں ہیں مسلمانوں کو لازم ہے کہ … ان کی پردہ دری کرکے اسلام کو اُن کے فتنہ سے بچاویں اور خوب سوچ لیں کہ یہ وُہی لوگ ہیں جنہوں نے دھوکا دہی کی راہ سے مولوی کہلاکر صدہا مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا اور اسلام میں ایک سخت فتنہ برپا کردیا۔

وَالسَّلام علیٰ من اتّبع الھُدیٰ۔’’ (سِرالخلافہ)

………٭………٭………٭………

دعاؤں کی تاثیرات

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ اکتوبر 2011ء میں مکرم فضل الرحمٰن ناصر صاحب کے قلم سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی تاثیرات کے حوالے سے ایک مضمون رقم کیا ہے۔ حضورؑ نے اپنی کتب ‘برکات الدعا’، ‘تریاق القلوب’، ‘براہین احمدیہ جلد پنجم’ اور ‘حقیقۃالوحی’ میں قبولیتِ دعا کے متعدد تجربات کا نہایت تفصیل سے ذکر کیا ہے جن میں بعض ایسی وسیع الاثر دعائیں ہیں جن کی قبولیت نے بڑی بڑی دہریہ اور مشرک اقوام پر اثر ڈالا۔ ایک دعا پنڈت لیکھرام کی موت کے حوالے سے تھی اور ایک امریکی پادری ڈوئی کی ہلاکت سے متعلق تھی۔ نیز متعدد ذاتی حوالوں سے نشانات ظاہر ہوئے۔ مثلاً ایک دوست نے اپنے کسی عزیز کے سنگین مقدمہ میں ماخوذ ہوجانے کا پُردرد ماجرا لکھا کہ کوئی سبیل رہائی کی نظر نہیں آتی۔ حضورؑ نے دعا کی اور قبل از وقت قبولیت کے آثار سے اطلاع دے دی۔ چند روز بعد خبر ملی کہ مدعی ایک ناگہانی موت سے مرگیا اور ماخوذ نے خلاصی پائی۔

حضورؑ بیان فرماتے ہیں کہ ایک ہندو آریہ باشندہ طالب علم مدرسہ قادیان جس کی عمر بیس یا بائیس برس ہوگی ایک مدّت سے بہ مرض دق مبتلا تھا اور رفتہ رفتہ آثار مایوسی کے ظاہر ہوگئے۔ ایک دن وہ میرے پاس آکر بہت بیقرار ی سے رویا کہ میرا دل اُس کی عاجزانہ حالت پر پگھل گیا اور مَیں نے حضرتِ احدیّت میں اس کے حق میں دعا کی۔ چونکہ حضرت احدیّت میں اُس کی صحت مقدّر تھی اس لئے دعا کرنے کے ساتھ ہی الہام ہوا: قُلْنَا یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ تُو سر د اور سلامتی ہوجا۔ چنانچہ اُسی وقت کئی ہندوؤں کو اس الہام سے اطلاع دی گئی اور خدا پر کامل بھروسا کرکے دعویٰ کیا گیا کہ وہ ہندو ضرور صحت پاجائے گا اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا۔ چنانچہ بعد اس کے ایک ہفتہ نہیں گزرا ہوگا کہ وہ اس جاں گداز مرض سے بکلّی صحت پاگیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانونِ قدرت مقرر کردیا ہے کہ اس کی دعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا دخل ہے۔ جو لوگ اپنی مہمّات میں دلی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے تو ضرور فیضانِ الٰہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے۔’’

(براہین احمدیہ)

………٭………٭………٭………

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نسخہ جات

ماہنامہ ‘‘خالد’’ جنوری 2011ء میں مکرم اویس احمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعض طبّی نسخے ہدیۂ قارئین کئے ہیں:

1۔ مچھلی کی ہڈی گلے میں پھنس جائے تو دہی سرکہ ملاکر پلایا جاوے۔

2۔ دانت درد کے لیے بارہا آزمایا ہے کہ بوٹی ‘کارابارا’ دانت کے نیچے رکھ کر چبائی جائے تو کیسا بھی درد ہو آرام آجاتا ہے۔

3۔ نماز مغرب کے بعد حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے سردرد اور متلی کی شکایت کی تو فرمایا: ‘‘آج شب کھانا نہ کھانا اور کل روزہ نہ رکھنا۔ سکنجبین پی کر اس سے قَے کردو۔’’

4۔ سردرد کے لئے ہڈیوں کا شوربہ پیا کرو۔ ہڈیاں ایسی لیں جن میں کچھ گوشت چمٹا ہوا ہو۔ اُن کو اُبال کر شوربہ ٹھنڈا کرو کہ چربی جم جائے۔ اس چربی کو نکال دو اور باریک رومال پانی میں تر کرکے شوربہ اس میں چھانو کہ چربی اس میں لگ جائے اور خالص شوربہ رہ جائے۔ وہ پیا کرو۔

5۔ اگر دودھ ہضم ہونے لگ جاوے تو بخار اس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

6۔ دوسری تمام شیرینیوں کو تو اطباء نے عفونت پیدا کرنے والی لکھا ہے مگر شہد ان میں سے نہیں ہے۔ آم وغیرہ اور دیگر پھل اس میں رکھ کر تجربے کئے گئے ہیں کہ وہ سالہاسال بالکل خراب نہیں ہوتے۔ ریاضت کش اور مجاہدہ کرنے والے اکثر اسے استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں وغیرہ کو محفوظ رکھتا ہے۔

7۔ جائفل اور سونٹھ منہ میں رکھنے سے کھانسی کا بہت فائدہ معلوم ہوتا ہے۔

………٭………٭………٭………

حضرت مسیح موعودؑ کی پاکیزہ زندگی

قرآن کریم کی رُوسے اللہ تعالیٰ کے ماموروں کی سچائی کی بہت بڑی دلیل اُن کی دعویٰ سے پہلے کی پاک زندگی ہے۔ ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ دسمبر 2011ء میں مکرم تنویر احمد تبسم صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل ہے جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی سے متعلق بعض نامور مشاہیر کے اقوال پیش کیے گئے ہیں۔

حضور علیہ السلام خود فرماتے ہیں:

‘‘تم کوئی عیب افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگاسکتے۔ تا تم خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں سے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کرسکتا ہے جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لیے یہ ایک دلیل ہے۔’’ (تذکرۃالشہادتین۔ روحانی خزائن جلد20 صفحہ64)

حضرت اقدسؑ مزید فرماتے ہیں:

‘‘میری ایک عمر گزر گئی ہے مگر کون ثابت کرسکتا ہے کہ کبھی میرے منہ سے جھوٹ نکلا ہے۔ پھر جب مَیں نے محض لِلّٰہ انسانوں پر جھوٹ بولنا متروک رکھا اور بارہا اپنی جان و مال کو صدق پر قربان کیا تو پھر مَیں خداتعالیٰ پر کیوں جھوٹ بولتا۔’’

(حیات احمد جلد اوّل صفحہ 126)

چند ایسے افراد کی گواہیاں درج ذیل ہیں جو احمدی نہیں تھے بلکہ اکثر تو حضور علیہ السلام کے سخت مخالف تھے۔

٭……مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں: مؤلف ‘‘براہین احمدیہ’’ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رُو سے شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیزگار اور صداقت شعار ہیں۔

٭……مولانا ابوالکلام آزاد صاحب لکھتے ہیں: کریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا ایک چھوٹا سا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔ وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔ غرض کہ مرزا صاحب کے ابتدائی پچاس سالوں نے کیا بلحاظ اخلاق و عادات اور پسندیدہ اطوار، کیا بلحاظ مذہبی خدمات و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز، برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچادیا۔

٭……منشی سراج الدین صاحب (والد مولانا ظفرعلی خان صاحب) لکھتے ہیں: ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔ …مگر آپ بناوٹ اور افتراء سے بری تھے۔

٭……مولوی سید میرحسن صاحب لکھتے ہیں: آپؑ عزلت پسند اور پارسا اور فضول و لغو سے مجتنب اور محترز تھے۔ ادنیٰ تامّل سے بھی دیکھنے والے پر واضح ہوجاتا تھا کہ حضرت اپنے ہر قول و فعل میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔

٭……حکیم مظہر حسین صاحب کا بیان ہے: ثقہ صورت، عالی حوصلہ اور بلند خیالات کا انسان۔

٭……ایک ہندو کا اقرار ہے: مَیں نے بچپن سے مرزا غلام احمد کو دیکھا ہے مَیں اور وہ ہم عصر ہیں اور قادیان میرا آنا جانا ہمیشہ رہتا ہے اور اب بھی دیکھتا ہوں جیسی عمدہ عادات اب، ایسی ہی نیک خصلتیں اور عادات پہلے تھیں۔ سچا امانت دار نیک، مَیں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پرمیشور مرزا صاحب کی شکل اختیار کرکے زمین پر اتر آیا ہے۔

٭……اُس دَور کے ایک بزرگ مولوی غلام رسول صاحب نے بچپن میں حضور علیہ السلام کی پاکیزہ فطرت کو دیکھ کر فرمایا: اگر اس زمانے میں کوئی نبی ہوتا تو یہ لڑکا نبوت کے قابل ہے۔

٭……کئی مقدمات میں حضور علیہ السلام کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل جناب فضل الدین صاحب کہتے ہیں: مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا مَیں قائل ہوں۔ مَیں انہیں کامل راستباز یقین کرتا ہوں۔

٭……حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانویؓ نے حضورؑ کے خدمت دین کے بے پایاں جذبات کو دیکھ کر فرمایا:

ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر

تم مسیحا بنو خدا کے لیے

………٭………٭………٭………

صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

(ائمۃ الکفرکے انجام کی روشنی میں)

اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کاظہور اُس کے مامورین کے منکرین و مخالفین کی تباہی و بربادی، ذلّت اور ہلاکت کے ذریعہ ہوتا چلا آیا ہے۔ ہفت روزہ ‘‘بدر’’ قادیان 15 تا 22 مارچ 2012ء (مسیح موعودؑ نمبر) میں مکرم سید آفتاب احمد صاحب کی اس حوالے سے ایک تقریر شامل اشاعت ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

زُعم میں اُن کے مسیحائی کا دعویٰ میرا

افتراء ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے

کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں

نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے

تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ

تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے

تاریخ گواہ ہے کہ خداوند ذوالجلال کے مامورین باموسم آتے ہیں اور باموسم ہی جاتے ہیں۔ یہ ایسے کونے کے پتھر کی مانند ہوتے ہیںکہ جس پر یہ گرے اُنہیں پیس ڈالتا ہے اور جو اِن پر گرے وہ چکناچور ہوجایاکرتا ہے۔ البتہ بعض جگہ مہلت بھی ملتی ہے مگر بالآخر تباہی و بربادی ہی مقدّر ہوتی ہے۔ اور محض عبرت کے لیے بعض کے نام اور عبرتناک انجام کا ذکر محفوظ رکھا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کی باتوں کو جھٹلاوے۔

نیز فرمایا : تجھ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں اُن کے ساتھ بھی ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا مگر آخر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو اُن میں خاص طور پر ٹھٹھا کرنے والے تھے اُن کو اُن چیزوں نے گھیر لیا جن سے وہ ہنسی کرتے تھے۔ تُو کہہ دے کہ جاؤ زمین میں خوب پھرو اور دیکھو کہ خدا کے نبیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی خدا کے مامورین کے سلسلے کی ایک کڑی تھے جو اپنے پیشرو مامورین کی طرح دونوں خوبیاں رکھتے تھے اوّل تعلق باللہ اور دوم مخلوق سے گہری شفقت۔ اسی وجہ سے منکرین کو ہلاکت سے محفوظ اور عافیت کے حصار میں رکھنے کے لئے آپؑ نے فرمایا:

‘‘مَیں بکمال ادب و انکسار حضرات علمائِ مسلمانان و علمائِ عیسائیان و پنڈتانِ ہندوان و آریان یہ اشتہار بھیجتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ میں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دُنیا میں بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے۔ اِنہی معنوں سے میں مسیح موعود کہلاتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں پھیلاؤں۔…… اور مَیں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہوسکے اُن تمام غلطیوں کو مسلمانوں سے دُور کردوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راستبازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلاؤں۔ مَیں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دُنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ مَیں بنی نوع انسان سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اُس سے بڑھ کر۔ مَیں صرف اُن باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔ انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور ناانصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اُصول۔’’ (اربعین صفحہ 2-1)

پھر بحیثیت نذیر آپؑ نے یہ بھی فرمایا :

‘‘میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلّی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں۔ اگرچہ جو لوگ دل کے پاک ہیں مرنے کے بعد خدا کو دیکھیں گے۔ لیکن مجھے اُس کے منہ کی قسم ہے کہ مَیں اب بھی اُس کو دیکھ رہا ہوں۔ دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بدقسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ مَیں وہ درخت ہوں جس کو مالکِ حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے جو شخص مجھے کاٹنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اِسکریوطی اور ابوجہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے۔’’

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 8، 9)

حقیقت یہ ہے کہ مامورین کا انکار و استہزاء کرنے والوں کا عبرتناک انجام ہوتا چلا آیا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ اگر خود کو سچا نہ سمجھتے تو اپنی ایک فارسی نظم میں یہ دعا نہ کرتے کہ اَے میرے قادر! …اَے دلوں کے بھیدوں کو جاننے والے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں! اگر تُو مجھے شر اور فسق و فساد سے بھرا ہوا پاتا ہے اور اگر تو یہ دیکھتا ہے کہ میں ایک بدطینت اور گندہ آدمی ہوں تو اَے خدا تو مجھ بدکار کو پارہ پارہ کرکے ہلاک و برباد کردے۔

(حقیقۃُالمہدی روحانی خزائن جلد 14)

پھر امرتسر کی عید گاہ میں بھی ایک موقع پر بندگانِ خدا کے سامنے اپنے متعلق خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اگر مَیں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں تو مجھے ہلاک کردے اور پھر اپنے معتقدات پر ایک مؤثر تقریر فرمائی جسے سُن کر مولوی عبداللہ غزنوی کے ایک شاگرد منشی محمد یعقوب صاحب سابق اووَرسِیَر محکمہ نہر نے مجمع عام میں بیعت کرلی۔

تاہم جو بدنصیب پھر بھی انکار اور استہزاء دکھاتے رہے اُن کے بارے میں حضورعلیہ السلام نے فرمایا کہ بڑے بڑے مکفرین کو خدا تعالیٰ ہمارے سامنے ہی اس زمین سے ناکام اُٹھا رہا ہے اور اُن کی مرادوں کے برخلاف دن بدن اس سلسلہ کو ترقی دے رہا ہے۔ ابتداء میں جن لوگوں نے بہت زور شور سے مخالفت کا بیڑا اُٹھایا تھا اُن میں سے کوئی چودہ پندرہ ایسے یاد ہیں جو ہماری مخالفت کے معاملے میںناکام مرچکے ہیں۔اُن میں مولوی غلام دستگیر قصوری تھا جو مکّہ سے کفر کا فتویٰ لایا تھا۔ نواب صدیق حسن خان لکھوکے کا،مولوی محمد اور عبدالحئی، رشید احمد گنگوہی، لدھیانہ کے تین مولوی، سید احمد خان جو کہتا تھا کہ ہماری تحریریں بے فائدہ ہیں۔ محمد عمر، مولوی شاہ دین لدھیانوی، نذیر حسین دہلوی، محمد حسین بھینی، مولوی محمد اسماعیل علیگڑھی، رُسُل بابا امرتسری۔جس نے جلد معجزہ دیکھنا ہو اُسے چاہئے کہ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرے یا تو سخت مخالف بنے یا محبت کا کمال تعلق پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو تیری اہانت کرے گا اُس کی میں اہانت کروں گا اور جو تیری عنایت کرے گا اُس کی مَیں عنایت کروں گا۔ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 363-362)

الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا چیلنج عام مخالفین کے لئے تو تھا ہی مگر خاص مخاطب مولوی محمد حسین بٹالوی تھے جو فرقہ اہل حدیث کے لیڈر تھے اور حضورؑ کے بچپن کے واقف تھے اور جنہوں نے ‘‘براہین احمدیہ’’ کی اشاعت پر ریویو لکھتے ہوئے آپؑ کی اسلام کے لیے خدمات کو بے نظیر قرار دیا تھا۔ لیکن دشمنی میں اُنہوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ یہ میرے ریویوپر نازاں ہے۔ میں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اب اس کو گرادوں گا۔ یہ عزم کر کے مولوی صاحب نے ہندوستان بھر کے بیسیوں علماء سے آپؑ کے کفر کا فتویٰ لیا۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد مولوی صاحب کی ہی عزّت لوگوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے یوں مٹانی شروع کی کہ پہلے لاہور کے بازار میں وہ نکلتے تو تاحدنظر لوگ ان کے احترام میں کھڑے نظر آیا کرتے تھے، غیر مذہب کے لوگ بھی مسلمانوں کو دیکھ کر ان کا ادب کرتے تھے۔ اور گورنر و گورنرجنرل اُن سے عزّت سے ملتے تھے۔ مگر فتویٰ شائع کروانے کے بعد نوبت پہنچی کہ خود اہل حدیث کے لوگوں نے بھی اُن کو چھوڑ دیا جن کے وہ لیڈر کہلاتے تھے۔ اور دیکھا گیا کہ اسٹیشن پر اکیلے اپنا اسباب اپنی بغل اور پیٹھ پر اُٹھائے ہوئے چلے جارہے ہیں اور کوئی پوچھتا نہیں۔ لوگوں میں بے اعتباری اس قدر بڑھ گئی کہ بازار والوں نے سودا تک دینا بند کردیا۔ گھر والوں نے قطع تعلق کرلیا۔ بعض لڑکوں نے اور بیویوں نے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ ایک لڑکا اسلام سے مُرتد ہوگیا۔ غرض تمام قسم کی عزتوں سے ہاتھ دھوکر اور عبرت کا نمونہ دکھاکر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 1991ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے یہ تحقیق کروائی کہ محمد حسین بٹالوی کا بٹالہ میں بھی کوئی نام و نشان ہے یا نہیں۔ تب کوئی واقف کار ملا اور نہ قبر کا پتہ لگا۔

حیران کُن امر یہ ہے کہ جن معاندین نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے اُن کو آپؑ کی زندگی میںہی ہلاک کردیا گیا۔ اور جن لوگوں نے یوں کہا کہ جھوٹے کا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجانا کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ جھوٹے کو لمبی مہلت دی جاتی ہے جیسا کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ ﷺ کے بعد ہلاک ہوا، اُن کو اللہ تعالیٰ نے مہلت دی۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ امرتسری جو اخبار اہل حدیث کے ایڈیٹر اور فرقہ اہل حدیث کے لیڈر کہلاتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی دعوت مباہلہ کے جواب میں اپنے اخبار میں متواتر لکھنے لگے کہ یہ ہرگز کوئی معیار نہیں کہ سچے کی زندگی میں جھوٹا مرے۔ اور اُنہوں نے مسیلمہ کذاب کی مثال دے کر کہا کہ خدا تعالیٰ کا فعل بھی اسی کی شہادت دیتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُن کو اُن کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق پکڑا اور وہ حضورؑ کی وفات کے بعد زندہ رہے اور اپنی تحریر کے مطابق مسیلمہ کذاب کے مثیل ثابت ہوئے۔ اُن کی لمبی زندگی کی کہانی تب ختم ہوئی جب قیام پاکستان کے وقت فسادات میں ان کا اکلوتا بیٹا ان کی نظروں کے سامنے قتل کیا گیا اور نایاب کتب کا ذخیرہ نذرِ آتش کیا گیا۔ ان کے سیرت نگار مولانا عبدالمجید سوہدروی کے مطابق یہ دونوں صدمات اُن کی موت کا سبب بنے۔

معاندِ احمدیت مولوی عبد الرحیم اشرف تلخ انجام کے سلسلے کو دیکھ کر حسرت سے لکھتے ہیں: ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم ہوتی گئی۔ مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا اُن میں سے اکثر تقویٰ، تعلق باللہ، دیانت، خلوص،علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیت رکھتے تھے۔ سید نذیر حسین دہلوی، مولانا انور شاہ دیوبندی، مولانا قاضی سلیمان منصورپوری، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا عبد الجبار غزنوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکابر رَحِمَھُمُ اللّہ وَ غَفَرَلَھُمْ کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر و رسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔ اگرچہ یہ الفاظ سُننے اور پڑھنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخی پر مجبور ہیں کہ اِن اکابر کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔

(اخبار ‘‘اَلمُنِیر’’ لائل پور 23فروری 1956ء)

حضرت مسیح موعودؑ نے ‘‘انجام آتھم’’ میں تمام علماء گدّی نشینوں اور پیروں کو‘‘آخری فیصلہ’’ (مباہلہ) کی دعوت دے کر فرمایا کہ فریقین ایک دوسرے کے حق میں بددُعا کریں کہ فریقین میں سے جو جھوٹا ہے، اَے خُدا تو اُس کو ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دُکھ کی مار میں مبتلا کر، کسی کو اندھا کردے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگِ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔ اور اس کے بعد لکھا : ‘‘گواہ رہ اَے زمین اور اَے آسمان! کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ توہین و تکفیر کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔’’

پس خداوندذوالجلال نے سن لیا اور دنیا نے یہ عجیب کرشمۂ قدرت دیکھا کہ آپؑ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ بے اثر ثابت نہیں ہوئے ۔ چنانچہ مولوی رشید احمد گنگوہی اندھے ہوئے پھر سانپ کے ڈسنے سے مرے۔ مشہور مکفّرین مولوی عبدالعزیز اور مولوی محمد لدھیانوی صرف تیرہ دن کے وقفے سے مر گئے اوران کا پورا خاندان اُجڑ گیا۔ مولوی سعداللہ نومسلم اور رُسُل بابا طاعون کا شکار ہوئے۔ مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب ‘‘فتح رحمانی’’ میں حضور علیہ السلام کے خلاف بددُعا کی اور وہ کتاب کی اشاعت سے قبل ہی لقمۂ اجل بن گیا۔

غرض اکثر معاندین آپؑ کی زندگی میں تباہ و برباد ہوچکے تھے اور جو زندہ تھے وہ بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار تھے۔ آپؑ کی وفات کے بعد مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ امرتسری سلسلہ احمدیہ کے عروج کا مشاہدہ کرنے کے لئے دیر تک زندہ رہے اور بالآخر اوّل الذکر پے درپے صدمات میں مبتلا ہوکر فالج سے راہیٔ ملک عدم ہوئے۔

پھر حضرت اقدسؑ کی صداقت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے طاعون کا نشان بھیجا گیا اور امر واقعہ یہ ہے کہ

(1) مولوی رُسُل بابا امرتسری جس نے حضورؑ کے خلاف گندی کتاب لکھی اور بدزبانی سے کام لیا تھا طاعون کا شکار ہوا۔

(2) موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد میں ایک شخص نور احمد رہتا تھا جس نے تعلّی کی کہ طاعون ہمیں نہیں مرزا صاحب کو ہلاک کرنے آئی ہے۔ اس پر ایک ہی ہفتہ گزرا تھا کہ وہ مرگیا۔

(3) مولوی زین العابدین نے ایک احمدی سے مباہلہ کیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد وہ خود اور اس کی بیوی اور داماد وغیرہ سمیت گھر کے 70؍افراد طاعون کا شکار ہوگئے۔

(4) حافظ سلطان سیالکوٹی اپنے خاندان کے نو دس افراد سمیت طاعون کے باعث دنیا سے رخصت ہوا۔

(5) حکیم محمد شفیع سیالکوٹی طاعون کا شکار ہوا اور اس کی بیوی اس کی والدہ اور اس کا بھائی سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرگئے ۔

(6) مرزا سردار بیگ سیالکوٹی جو اپنی گندہ دہنی اور شوخی میں بڑھ گیا تھا طاعون میں مبتلا ہوا۔

(7) چراغ دین جمونی اپنی گستاخیوں کی پاداش میں ہلاک ہوا۔

(8) مولوی محمد ابوالحسن نے حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف ایک کتاب بعنوان ‘‘بجلی آسمان برسردجال قادیانی’’ لکھی جس میں کئی مقامات پر کاذب کی موت کے لیے بد دُعا کی۔ آخر جلد ہی طاعون سے مرگیا۔

(9) ابوالحسن عبد الکریم نے جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا چاہا تو وہ بھی طاعون کا شکار ہوگیا۔

(10) فقیر مرزا آف دوالمیال ضلع جہلم نے آپؑ کے خلاف بدزبانی کر کے 7رمضان المبارک 1321ہجری کو یہ تحریری پیشگوئی کی کہ حضورؑ کا سلسلہ 27رمضان تک ٹوٹ پھوٹ جاوے گا اور بڑی سخت درجہ کی ذلّت وارد ہوگی۔

تب وہ رمضان تو گزر گیا لیکن اگلے سال کا رمضان آیا تو اُس کے محلہ میں طاعون نمودار ہوئی اور پہلے اس کی بیوی پھر خود فقیر مرزا سخت طاعون میں مبتلا ہوکر (اپنی پیشگوئی کے عین ایک سال بعد) 7؍رمضان (16؍نومبر 1904ء) کو ناکامی اور نامُرادی کا منہ دیکھتے ہوئے مر گیا۔ الغرض ؎

تُو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے

تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار

حضرت اقدسؑ کی تکذیب انفرادی طور پر بھی کی گئی اور اجتماعی رنگ میں بھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر بھی آپ کی صداقت کے لیے اسی طرح چلی یعنی انفرادی عذاب کی شکل میں بھی اور اجتماعی عذاب کی شکل میں بھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ بستیاں جن کو ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کر دیا ہے۔ اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے پہلے سے ایک میعاد مقرر کر دی تھی تا وہ چاہیں تو توبہ کرلیں۔ (الکہف: 60)۔ چنانچہ اس تقدیر کے مطابق حضورؑ کی زندگی میں ہی 1896ء سے 1906ء تک ہندوستان میں زلزلے اور طاعون کے عذاب سے 38لاکھ 68ہزار 124؍اموات ہوئیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کو ملنے والی کچھ ایسی اخبار غیبیہ تھیں جن کے پوراہونے کا تعلق مستقبل سے تھا۔ مثلاً کتاب ‘‘ازالہ اوہام’’ میں تحریر فرمایا کہ : ایک شخص کی موت کی نسبت خدائے تعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ کَلْبٌ یَمُوْتُ عَلٰی کَلْبٍ یعنی وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا جو 52سال پر دلالت کررہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر 52سال سے تجاوز نہیں کرے گی۔ جب 52سال کے اندر قدم دھرے گا تب اس سال کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوگا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 1956ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا : ‘‘مَیں ایسے شخص کو جسے خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاکر کھڑا ہوجائے گا تو …اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گی۔’’ (خلافت حقہ اسلامیہ)

چنانچہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ جب خلیفۃالمسیح الثالث منتخب ہوئے تو معاندینِ احمدیت نے عام ہجوم اور جتھوں سے اُوپر اُٹھ کر منتخب حکومت کو احمدیت کی مخالفت پر انگیخت کیا۔ المختصر یہ کہ نوّے سالہ مسئلے کو حل کرنے کا کریڈٹ لینے والا خود اپنی ہی قوم کے ہاتھوں بدکار اور قاتل قرار دے کر 5؍اپریل 1979ء کو تختۂ دار پر لٹکادیا گیا جب کہ اُس نے 52سال کی عمر میں قدم ابھی رکھا ہی تھا۔

احمدیت کا قافلہ تو فتح کی منزلیں طے کرتا ہوا آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا لیکن مخالفین کی دشمنی میں شدّت آتی گئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کے دَور میں اٹھنے والے ایک اور فرعون نے احمدیہ جماعت کو کینسر قرار دیتے ہوئے کچل دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو حضورؒ نے للکارتے ہوئے فرمایا :

‘‘اَے مذہب کے پاک سرچشمہ سے پھوٹنے والی لازوال محبت کو نفرت اور عناد میں تبدیل کرنے والو! اَے ہر نُور کو نار میں اور ہر رحمت کو زحمت میں بدلنے کے خواہاں بدقسمت لوگو جو انسان کہلاتے ہو! یاد رکھو کہ تمہاری ہر سفلی تدبیر خدائے برتر کی غالب تقدیر سے ٹکرا کر پارہ پارہ ہوجائے گی۔ تمہارے سب ناپاک ارادے خاک میں ملادئیے جائیں گے اور رب اعلیٰ کی مقدر چٹان سے ٹکراکر اپنا ہی سر پھوڑو گے۔ تمہاری مخالفت کی ہر جھاگ اٹھاتی ہوئی لہر ساحل اسلام سے ٹکراکر ناکام لوٹے گی اور بکھر جائے گی اور اسے پیش قدمی کی اجازت نہیں ملے گی۔ اَے اسلام کے مقابل پر اٹھنے والی ظاہری اور مخفی،عیاں اور باطنی طاقتو سنو کہ تمہارے مقدر میں ناکامی اور پھر ناکامی اور پھر ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ اور دیکھو کہ اسلا م کے جاں نثار اور فدائی ہم وہ مردانِ حق ہیںجن کی سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔’’ (خطبات طاہر جلد دوم صفحہ 423-422)

پھر دنیا نے دیکھا کہ احکم الحاکمین کے حضور ایک مردِ حق کی طرف سے دُعائے مباہلہ سے ٹکرانے کے بعد اُس مضبوط ترین آمرِ وقت کا وجود آگ میں جل کر اُس کے سارے بدعزائم سمیت آسمان کی فضاؤں میں راکھ کی طرح بکھیردیا گیا۔ اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر بھی ظاہر ہوئی کہ مُردہ قرار دیا جانے والا اسلم قریشی (جس کے مزعومہ ناکردہ قاتل کو ‘گرفتار کرو’ کے نعرے لگ رہے تھے) وہ زندہ ہوکر معاندینِ احمدیت کے باب میں ایک اَور شکست رقم کرگیا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍اکتوبر 2011ء میں فرماتے ہیں:

ہمارا خدا سچے وعدوں والا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ سے لے کر اب تک مخالفتوں کی آندھیاں چلتی رہیں یہاں تک کہ خلافت ثانیہ کے وقت احرار نے قادیان کی اینٹ سے اینٹ اُکھاڑنے کی بڑ ماری۔ کسی نے حکومت کے نشے میں احمدیوں کو کشکول پکڑانے کی بات کی۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا ؟ آج احمدیت 200 ممالک میں قائم ہوچکی ہے۔ یہ سلسلہ خدا کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔ ہم ہر آن خدا کی تائید و نصرت کے حوالے دیکھ رہے ہیں۔ بس فکر اس بات کی ہے کہ ہم انابت الی اللہ کر رہے ہیں یا نہیں۔ اللہ کے حضور عاجزی کے ساتھ جھک رہے ہیں یا نہیں۔ ہم اپنے دلوں میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے خلاف ظالمانہ الفاظ پڑھ اور سن کر صرف بے چینی محسوس کرنے والے نہ ہوں بلکہ راتوں کی دعاؤں میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کو کھینچنے والے ہوں۔ اپنی سجدہ گاہوں کو تر کریں۔ ہم آنحضرت ﷺ کے خدا کو پکاریں، جس نے کمزوروں کو حاکم بنادیا۔ پس اَے خدا ہم تیری رحمت کا واسطہ دے کر آج تجھ سے مانگتے ہیں کہ یہ زمین جو ہمارے لئے تنگ کی جارہی ہے ہمارے لئے گل وگلزاربنادے۔ ہمیں تقویٰ میں ترقی کرنے والا بنا۔ اَے اَرحم الراحمین خدا تُو ہم پر رحم کرتے ہوئے فضل نازل فرما۔ آمین

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button