متفرق مضامین

نشہ، جنسی بے راہ روی اورسوشل میڈیا کے بد اثرات سے بچنے کا ذریعہ

(محمد طاہر ندیم۔مربی سلسلہ عربک ڈیسک یوکے)

جب بھی کسی قوم میں فحاشی اور عریانی کا رواج بڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کرنے پر تل جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے درمیان طاعون اور اس جیسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے اسلاف کے زمانے میں موجود نہیں تھیں

الله تعالیٰ نے انسان كی تخلیق كا مقصدنہایت جامع رنگ میں یوں بیان فرمایا ہے كہ:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57)۔

یعنی میں نے جن وانس كو صرف اس لیے پیدا كیا ہے تا وه میری عبودیت اختیار كریں اور میرے عبادت گزار بن جائیں۔ پھر اسی مضمون كو ایك اور رنگ میں یوں بیان فرمایا كہ

أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد: 29)

یعنی یادركھنا كہ قلبی اطمینان اور ذہنی سكون تمہیں خدا كی عبادت اور اس كے ذكر میں ہی ملے گا۔

جب معاشرے میں پھیلی برائیوں اور بے حیائیوں میں پڑ كر انسان اپنی پیدائش كے مقصد كو بھلا دیتا ہے تو پھر عبادتوں اور ذكر الٰہی كی بجائے قسمہا قسم كی لغویات میں اپنی تسكین كا سامان تلاش كرنا شروع كردیتا ہے۔ كبھی ناچ گانے ،فسق وفجور اور جنسی بے راه روی میں اپنی تسكین ڈھونڈتا ہے توكبھی مختلف قسم كے نشوں اورمعاشرے میں پھیلی دیگر بے حیائیوں كےسمندر میں غوطہ زن ہو كر اپنا دل بہلانے كی كوشش كرتا ہے۔ لیكن جس قدر وه اس سمندر كا پانی پیتا ہے اسی قدر اس كی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔

ایسے شخص كی حالت كو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خارش كے مریض كی حالت كے مشابہ قرار دیا ہے جو خارش كرنے میں ہی لذت محسوس كرتا ہے لیكن جوں جوں خارش كرتاہے خود كو زخمی كرتا جاتا ہے۔خارش كے ساتھ اس كا زخم بھی گہرا ہوتا جاتا ہے اورپھر ناسور بن كر ا س كی زندگی كو جہنم بنا دیتا ہے۔

(ماخوذ از الحكم جلد7نمبر 17صفحہ 2 و3 مؤرخہ 24؍ مئی 1904ء)

مختلف نشوں كی لعنت اور اس كے اسباب

اس وقت زندگی كو جہنم بنانے والی ایسی ہی ایك بیماری كا ذكر مقصود ہے جو مختلف قسم كے نشوں كا استعمال ہے۔

كم عمر بچوں میں اس لعنت كے پھیلنے كا سبب بری صحبت اور حد سے زیاده آزادی ہے۔

بچے عموماًبُری صحبت كے زیر اثر دیكھا دیکھی سگریٹ، شیشہ اور دیگر بد عادتوں كا شكار ہو جاتے ہیں۔ ان كے دوست كہتے ہیں كہ كہ سگریٹ پی لو یہ كوئی نشہ تھوڑی ہے۔پھر جب یہ بچے یا نوجوان سگریٹ شروع كر كے ایك لغو كام كرتے ہیں تو اس ڈگر پر چلتے چلتےشراب اور منشیات جیسی دیگر لغویات كی دلدل میں پھنستے چلے جاتےہے۔

مغربی معاشرے كی دورنگی كی ایك جھلك

اسلام نے تو آج سے چوده سو سال قبل ہی ہر نشہ آور چیز كو حرام قراردے دیا ہے اور شراب كو تو الله اور اس كے رسول صلی الله علیہ وسلم نے نجس، ناپاك، ام الخبائث، ہر برائی کی كلید، ہر شر كی جڑ،تمام گناہوں كی ماں اور قابل نفرت شیطانی عمل قرار دیا ہےاور اس كے نقصانات بتا كرسختی سے اس سے مجتنب رہنے كا ارشاد فرمایا ہے۔ لیكن جس معاشرے میں ہم ره رہے ہیں اس میں آزادی كے نام پر شراب اوركئی دیگر نشہ آور اشیاء كا استعمال قانوناً جائز قرار دیا گیاہے۔

یقینا ًیہ امر نہایت حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے كیونكہ اس معاشرے میں تو انسانوں كو ادنیٰ سے ادنیٰ ضرر سے بچانے كےلیے قدم قدم پر حفاظتی تدابیركا اختیار كرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔مثلاً آپ کسی زیر تعمیر علاقے میں جائیں توآپ كو حفاظتی ہیلمٹ پہننے پڑتے ہیں، کار میں بیٹھتے ہیں تو حفاظتی بیلٹ لگانا ضروری ہوتا ہے، گھروں اورعمارتوں میں حفاظتی الارم موجود ہے، ہر کام كے مقام پرہیلتھ اینڈ سیفٹی كے عنوان سے حفاظتی ہدایت نامہ موجود ہوتا ہے، اور تو اور ایك پن بھی استعمال كرنا ہو تو ہمارے پاس saftey pins موجود ہیں۔

لیکن كتنی عجیب بات ہے كہ جس معاشرے میں ادنیٰ سے ادنیٰ ضرر سے بچانے كا اس قدر خیال ركھا گیا ہے وہاں شراب اور بعض نشوں كا استعمال قانوناًجائز ہے جس سےمعمولی نقصان نہیں ہوتا بلكہ لاكھوں لو گ ہر سال لقمۂ اجل بن جاتے ہیں،بلكہ تمباكو نوشی اور ہائی بلڈ پریشر كے بعد مختلف خطرناك بیماریوں اورہلاكتوں كی تیسری بڑی وجہ شراب نوشی اور دیگر نشے ہیں۔

2006ء كے اعداد وشمار كے مطابق یورپ میں جگر كی بیماریوں، مختلف اقسام كے كینسر اور ٹریفك حادثات كی بنیادی وجہ شراب نوشی کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے ایک سال میں تقریباً 195000موتیں واقع ہوتی ہیں۔

(Source: Adapted from WHO’s Global Burden of Disease study (Rehm et al 2004), Alcohol in Europe Anderson P, Baumberg B, Institute of Alcohol Studies, UK June 2006)

تین سال قبل صرف امریکہ میں تقریباً 80,000 لوگ شراب نوشی اور بعض دیگر نشوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔ویتنام کی 20سالہ جنگ میں اتنے امریکن نہیں مرے جتنے محض ایک سال میں شراب نوشی کی وجہ سے ضائع ہو گئے۔ ویتنام میں 20سال میں 58,000 جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

ذرا غور كریں كہ وه معاشرہ جوکزن سے شادی کو ناپسندیدہ قرار دیتا ہے اور دعویٰ کرتاہے کہ ایسا کرنا مضرِصحت ہے، وہ شراب نوشی اور بعض دوسرے نشوں کی اجازت دیتا ہے، جس سے ہرسال دنیا میں تقریباً3ملین لوگ مر جاتے ہیں۔ مرنے والوں کی یہ تعداد کینسر اور ایڈز سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

شراب او ردیگر منشیات كے استعمال سے حیوانی جذبہ بڑھتاہےاور بسا اوقات انسان دامنِ عفت و عصمت کوداغ دار كرتے ہوئے صنفی آوارگی اور جنسی خواہش کی تکمیل پر آمادہ ہوجاتاہے۔ شرابی اور نشئی شخص كی جسمانی قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں، اورنتیجۃًوہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتاہے۔علاوه ازیں شراب اور دیگر نشوں كے استعمال سے ہارٹ اٹیك اور دماغی امراض لاحق ہو جاتے ہیں، لاتعداد خاندان تباہ ہوجاتے ہیں،خواتین اوربچوں پر تشدد ہوتاہے،لوگ دیوالیہ ہوجاتے ہیں۔لوگ نشہ کی حالت میں گاڑیاں چلاتے ہیں اور حادثات کاشکار ہو جاتے ہیں،اور یوں بعض نہ ختم ہونے والی دکھ بھری داستانیں ره جاتی ہیں۔

اسلامی تعلیم كا حسن

اس كے بالمقابل الله تعالیٰ نے ہمیں كتنی پیاری نصیحت فرمائی ہے كہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اَمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(المائدة:91)

اے ایماندارو! ىقىناً شراب اور جؤا اور بت اور قرعہ اندازی كے تیر محض ناپاک(اور) شىطانى كام ہىں اس لیے تم ان (میں) سے (ہر اك سے) بچو، تاکہ تم کامىاب ہو جاؤ ۔

پھرشراب كے بد اثرات كا ذكر كرتے ہوئے الله تعالیٰ فرماتا ہے كہ

اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ(المائدة:92)

شیطان تو ىہى چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذرىعہ سے تمہارے درمىان دشمنى اور بغض پىدا کر دے اور تمہىں ذکرِ الہى اور نماز سے باز رکھے، تو کىا تم باز آجانے والے ہو؟

یقینا ًشراب اور دیگر نشہ آور اشیاءانسان كو اس كے مقصد پیدائش یعنی خدا تعالیٰ كی عبادت ، ذكر الہی اور نماز سے روكنے كا سبب بن جائیں گی ۔ نیز یہ تمام امور ایسی لغویات میں سے ہیں جن كے باره میں الله تعالیٰ فرماتا ہے كہ

وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ(المؤمنون: 4)

یعنی جو حقیقی مومن ہیں وه تو ایسی لغو باتوں سے اعراض كرتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘حدیث میں آیا ہے:

مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكَهُ مَا لَا يَعْنِيهِ. (الترمذي، أبواب الزهد عن رسول اللّٰه)

یعنی اسلام کا حسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دى جاوے…عمدہ صحت کو کسی بے ہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہیے۔ شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مُضر ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔’’(ملفوظات جلد 3صفحہ 219)

نیز حضور علیہ السلام ‘‘کشتی نوح’’ میں فرماتے ہیں:

‘‘ہرایک نشہ کی چیزکو ترک کرو۔انسان کوتباہ کرنے والی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیون، گانجہ، چرس، بھنگ، تاڑی اورہرایک نشہ جو ہمیشہ کے لئے عادت کرلیا جاتا ہے۔ وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے۔’’

(کشتی نوح ،روحانی خزائن جلد 19صفحہ 70-71)

شراب كے خطرناك نتائج كا ذكر كرتے ہوئے حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں كہ

‘‘ایک شراب ہی کو دیکھو جو اُم الخبائث ہے۔ جس سے طرح طرح کے نفسانی جوش پیدا ہو کر کبھی انسان مرتکب فسق و فجور کا ہوتا ہے اور کبھی خونریزی کا ارتکاب کرتا ہے اور بلاشبہ یہ تمام گناہوں کی ماں ہے۔’’(ریویو جلد اوّل صفحہ 110)

ہمار ی تعلیم انتہائی خوبصورت ہے، جرائم اور بے راه رویوں كےارتكاب پر صرف سزاکی ہی بات نہیں کرتی، بلكہ ان جرائم سے بچنے كا اوران جرائم سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل بھی ہماری تعلیم میں موجود ہے۔ اسلام صرف برائی سے ہی نہیں روكتا بلكہ اس تك آنے والے راستوں سے بھی منع فرماتا ہے۔چنانچہ اسلام نےصرف شراب اور نشوں سے بچنے كا ہی حكم نہیں فرمایا بلكہ بتایا ہے كہ جس چیز كی كثرت نشے میں مبتلا كرتی ہے اس كی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ نیز نشوں میں مبتلا كرنے كا باعث بننے والی بری صحبتوں اور سگریٹ نوشی اور شیشے وغیره كی عادات كو بھی لغو قرار دے كر ان سے مجتنب رہنے كا حكم دیا ہے۔

بچوں كو نشے كی لعنت سے محفوظ ركھنے كا طریق

اب سوال یہ ہے كہ ہم اپنے بچوں كو اس لعنت میں گرفتار ہونے سے كیسے بچائیں؟

اس كےلیے ضروری ہے كہ

1) بچوں كی صحبتوں پر نظر ركھیں

2) بچوں كے ساتھ دوستانہ تعلق پیدا كریں تا وه اپنی باتیں اور مشكلات آپ كے ساتھ شیئر كر سكیں۔

ایک مرتبہ خاكسار كے بیٹے نے مجھے بتایا كہ كئی بار ایسا ہوا کہ اس کے كلاس فیلوز نے اسے سگریٹ نوشی كی دعوت دی۔ اب اگر ہم بچوں سے ان كی سكول كی پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں كے بارے میں نہیں پوچھیں گے، یا اپنے بچوں كے ساتھ پیار محبت اور اعتماد كا دوستانہ تعلق نہیں بنائیں گے توبچے ایسی باتیں گھر آكر نہیں بتائیں گےجس کا نتیجہ یہی ہوگا كہ ناسمجھی میں وه ان لغو عادات كا شكار ہو جائیں گے اور پھر یہ عادتیں انہیں مختلف نشوں كی طرف لے جائیں گی ۔اسی نقطہ كی طرف توجہ دلاتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ایك دفعہ فرمایا:

‘‘مجھے پتہ لگاہے کہ یہاں ہمارے بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ شیشہ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں اِس میں نشہ نہیں ہے یا کبھی کبھی استعمال کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔کوئی حرج نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ کبھی کبھی کا جو استعمال ہے ایک وقت آئے گاجب آپ بڑے نشوںمیں ملوث ہوجائیں گے اور پھراُس سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔’’

(خطبہ جمعہ فرموده 13؍جنوری2017ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3؍فروری 2017ءصفحہ 7)

اس لیے اپنے بچوں كی صحبتوں پر نظر ركھنا اوران سے پیار بھرا دوستی اور اعتماد كا رشتہ استوار كرنا نہایت ضروری ہے تاكہ ہم ان كے خیالات اور رجحانات سے آگاه رہیں اور بروقت ان كی رہنمائی اور مدد كر كے انہیں بھٹكنے سے بچانے كی كوشش كرتے رہیں۔

نشے كی لت میں پڑنے والوں كو بچانے كا طریق

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے كہ اگر بے احتیاطی ہو جائے اور بے جا آزادی كی بنا پریا كسی اور وجہ سےكوئی ان نشوں میں مبتلا ہو جائے تو كیا اسلام اس كا بھی حل پیش كرتا ہے؟ جی ہاں، اسلام اس باره میں بھی ایك نہایت مؤثر حل پیش كرتا ہے۔ایك روایت میں آتا ہے كہ

ایک شخص ہمارے آقا حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا۔اے اللہ کے رسولؐ ! مجھ میں چار برائیاں ہیں لیکن اتنی قوت ارادی نہیں کہ چاروں کو ایک ساتھ چھوڑ دوں۔ میں جھوٹ بھی بولتاہوں،زنا بھی کرتا ہوں چوری بھی كرلیتا ہوں اورشراب بھی پیتاہوں۔اگر آپؐ مجھے فرمائیں کہ میں اِن میں سے ایک چھوڑ دوں تو میں کون سی برائی چھوڑوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا :جھوٹ بولنا چھوڑدو۔کچھ دنوں کے بعد وہ شخص واپس آیا اور بولا یارسولؐ اللہ ! میں نے چاروں برائیوں سے نجات حاصل کرلی ہے کیونکہ جب بھی میں ان میں سے كسی برائی كے قریب جاتا تو مجھے خیال آتاکہ اگر رسول اللہؐ مجھ سے پوچھیں گے تو میں جھوٹ نہیں بول سکوں گا۔ لہٰذا میں اُن کے قریب نہیں گیا۔ اس طرح صرف ایک نصیحت پر عمل کرنے سے وہ تمام برائیوں سے نجات پا گیا۔

(ماخوذ از ربيع الأبرار للزمخشري، باب الكذب، والزور، والبهتان، والرياء)

لہٰذا ہمیں جہاں بچوں كے ماحول پر نظر ركھنی چاہیے ، ان كو بری صحبت سے بچانے كی كوشش كرتے رہنا چاہیے اور ان سے پیار محبت ،دوستی اوراعتماد كا تعلق مضبوط كرنا چاہیے وہاں خود بھی سچائی سے کام لینا چاہیے ،اور بچوں كو شروع سے ہی سچ بولنے كی عادت ڈالنی چاہیے تا اگر کبھی سکولوں اور کالجوں كے ماحول كے زیر اثر ان سے خطاسرزد ہو جائے تو وه اپنی غلطی کا اعتراف كرلیں۔

اگر وه ایسا كریں تو یہ موقع نہیں کہ آپ اُن پر برہم ہوں یا یہ کہیں کہ تم نے تو ہمیں شرمندہ کردیا، اورخاندان میں ہماری ناک کٹوادی۔ بلكہ ایسے موقع پرایك ہمدرد دوست كی طرح اُن کے ساتھ حُسن سلوک اور نرم دلی سے پیش آئیں،كیونكہ وہ آپ کی مدد كے محتاج ہیں۔ان كی بالكل اسی جذبہ سے مدد كریں جس كا اظہار كرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

‘‘ہمارا تو یہ حال ہے کہ اگر ہمارا کوئی دوست شراب کے نشے میں ایک گندی نالی میں بے ہوش پڑا ہو تو ہم اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر اپنے گھر لے جائیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ دنیا کیا کہتی ہے۔’’ (سیرت المہدی جلد 2صفحہ 93) اسی جذبۂ ہمدردی سے ہی ہم بچوں كی اس لعنت سے چھٹكارا حاصل كرنے میں مددكر سكتے ہیں۔

جنسی بے راہ روی اور سوشل میڈیا

آج كا معاشره ایسی بے شمار لعنتوں سے بھرا پڑا ہے ان میں سے ایك لعنت جنسی بے راه روی كی ہے۔آج كل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے یہ برائی اس قدرتیزی سے پھیل رہی ہے كہ جنسی واخلاقی بے راه روی اور سوشل میڈیا كا غلط استعمال ایك ہی چیز كے دونام بن كے ره گئے ہیں۔

یہ حقیقت ہے كہ جس زمانے میں ہم ره رہے ہیں یہ دنیاوی ترقیات کی انتہا کا زمانہ ہے ۔ اس میں ذرائع ابلاغ میں اس قدر تیزی آچكی ہے كہ ساری دنیا انٹرنیٹ كے ذریعہ سكڑ كر ایك گلوبل ویلیج بن چكی ہے۔ دور دراز كے ممالك میں رہنے والے انسان چند سیكنڈ كے اندر ایك دوسرے سے رابطہ كر كے باہمی خیالات كا تبادلہ كر سكتے ہیں۔ ہر موضوع پر ایك جہانِ معلومات آپ كی انگلیوں كی جنبش كا مرہون منت ہے۔ انسانی تاریخ میں كبھی بھی اتنے مختلف طریقوں سے خیالات اور تصورات كو اتنے زیاده لوگوں تك پہنچانا ممكن نہیں تھا جتنا آج كل ہے۔

اس زمانے كے باره میں قرآنی پیشگوئی

یہ وه زمانہ ہے جس كے حالات كی تصویر الله تعالیٰ نے اپنے كلام میں آج سے چوده سوسال پہلے ہی كھینچ كر اس كے فوائد ونقصانات كا ذكر بھی كردیا تھا بلكہ اس كے بداثرات سے بچنے كا طریق بھی بتادیا تھا۔

اس كا احوال سورۃالتكویر میں درج ہے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے

وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ

یعنی دنیا كے مختلف ملكوں كے رہنے والے انسانوں كو باہم ملا دیا جائے گا ۔گویا دنیا ایك گلوبل ویلیج بن جائے گی۔پھر فرمایا

وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ

یعنی دنیا جہان كی معلومات اور خبروں پر مشتمل صحیفے سرعام كھول كے ركھ دیے جائیں گے۔ انٹر نیٹ پر كھلنے والا ہر پیج اس پیشگوئی كے پورا ہونے كا اعلان كر رہا ہے۔

لیكن جہاں انسان كواتنی زیاده معلومات مل رہی ہیں وہاں نئی ایجادات، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا كئی لحاظ سےوبال ِجان بھی بن كے ره گیاہے۔

آج موبائل یا سیل فون ہر چھوٹے بڑے كے ہاتھ میں ہے اس موبائل پر انٹرنیٹ، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹیلیگرام، واٹس ایپ، یو ٹیوب، ٹمبلر ،سنیپ چیٹ اور دوسری بہت سی لغویات موجود ہیں جس نے نوجوانوں كو اپنا اسیر بنا لیا ہے۔بعض نوجوان اور بچے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے نشے میں مبتلا ہو كر بھول جاتے ہیں کہ ان کا کوئی خاندان بھی ہے اوراس وجہ سے گھر ٹوٹ رہے ہیں۔ اور ان کی اکائی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔گھر كے افراد كے رویّے تبدیل ہو رہے ہیں۔لوگوں كے فیس بك پر تو500دوست اور فالورز ہیں لیكن گھر كے 5 افراد كی كوئی خبر نہیں۔

دوسری طرف والدین بھی سیل فون پر اس قدر مصروف ہو كر ره گئے ہیں كہ چند سال قبل جرمنی کے شہر ہمبرگ میں بچوں نے جلوس نكالا جس میں والدین كو یہ پیغام دیا گیا كہ‘ ہم سے كھیلیں ،سیل فون سے نہیں۔’

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھڑكائی جانے والی آگ

مذكوره برائیوں كے علاوه انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا كی سائٹس پر شہوانی جذبات كو بھڑكانے كے نظارے اور گناه كی دعوت دینے والی تصاویر اور مخرب الاخلاق امورہر انسان كی دسترس میں ہیں اور انسانوں كی ایك بڑی بھاری اكثریت ان میں مصروف ره كرجہاں اپنی صحت، وقت اور مال كا ضیاع كر رہے ہیں وہاں اپنے لیے جہنم كی آگ بھی بھڑكا رہے ہیں۔

الغرض جہاں انٹرنیٹ علم كا ایك جہان اورمعلومات كا سمندر ہے وہاں اس جہان میں قدم قدم پر غلاظت کے جوہڑ بھی ابل رہے ہیں اور ان جوہڑوں میں تیراکی کے شوقین بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ مکمل رازداری کی مصنوعی گارنٹی بھی موجود ہے جس كی وجہ سے اس دشت کے سیاح بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس صورت حال كو بھی سورۃالتكویر میں وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْكے الفاظ سے بیان كیا گیا ہے: یعنی جب جہنم بھڑكا دی جائے گی۔اور لوگ ان نئی ایجادات اور وسائل میں كھو كرنہ صرف عبادت اورنیك اعمال سے پہلو تہی اختیار كررہے ہوں گے بلكہ انٹرنیٹ وسوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے گند میں پڑ كردن رات اپنے لیے جہنم سہیڑ رہے ہوںگے۔

انٹرنیٹ پر جنسی ویب سائٹس كی تعداد ملینز میں ہے۔ چائلڈ پورنوگرافی دنیا كے ہر ملك میں جرم متصور ہوتی ہے لیكن آج چائلڈ پور نو گرافی دنیا كا سب سے زیاده منافع بخش كاروبار بن گیا ہے جس كی سالانہ آمدنی 3 بلین ڈالرز سے تجاوز كر چكی ہے اور چائلڈ پورنو گرافی كی ویب سائٹس كی تعداد دنیا كی كل ویب سائٹس كا 50 فیصد ہے۔

پھر فحاشی كے نئے نئے طریق ایجاد كیے جارہے ہیں اور ان كو قانون كی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ہم جنسوں كی شادی كو قانونی طور پر جائز قرار دیا گیا ہے۔یہی نہیں بلكہ برطانیہ میں قانون بنایاگیا ہے کہ ہم جنسوں کو برا بھلا کہنا بھی قانوناً جرم ہے۔

جنسی بے راه روی كی بھاری قیمت

جنسی ہوس پوری كرنے كےلیے آج كا انسان تمام حدیں پار كرنے كی كوشش كررہا ہے۔ وه سمجھتا ہے كہ شاید اس كی ہر قسم كی تسكین كا راز نفسانی خواہشات كی تكمیل میں ہی مضمر ہے۔ لیكن تاریخِ انسانی سےہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب اور جس جگہ جنسی بے راه روی اس قدر عام ہو جاتی ہے وہاں معاشرے کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

‘‘جب بھی کسی قوم میں فحاشی اور عریانی کا رواج بڑھتا ہےیہاں تک کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کرنے پر تل جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے درمیان طاعون اور اس جیسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے اسلاف کے زمانے میں موجود نہیں تھیں۔’’

(سنن ابن ماجہ كتاب الفتن باب العقوبات)

چنانچہ آج كے معاشرے میں فحاشی اور عریانی اور جنسی بے راه روی كی وجہ سےایڈز كی طرح كی خطرناك ومہلك بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں ۔

ایك رپورٹ میں كہا گیا ہے كہ اگر ایڈز کی روک تھام میں کوئی موٴثر پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ 10سال کے اندر دنیا کے کروڑوں انسانوں کے لیے ایک عالم گیر موت کا خوفناک اندیشہ پیدا ہوجائے گا یہاں تك كہ بعض ملک اپنی آبادی کا 25فیصد حصہ اس مرض میں گنوا بیٹھیں گے۔

جنت بھی قریب

ایسی گھمبیر صورت حال میں ہم میں سے ہر شخص كے ذہن میں ایك ہی سوال پیدا ہوتا ہے كہ كیا ان خطرناك نتائج سے بچنے كا كوئی راستہ بھی ہے؟ كیا كوئی ایسا طریق بھی ہے جو اس بھڑكتی ہوئی جہنم كی آگ سے محفوظ ركھے؟ اس كا جواب ہے كہ وه خدا جس نے سورۃالتكویر میں ایسے گناہوں كے ذریعہ جہنم كی آگ سہیڑنے كا ذكر فرمایا ہے اس نے اسی سورۃالتكویر كی اگلی آیت میں فرمایا ہے كہوَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتجب جنت قریب كر دی جائے گی ۔یعنی یہی وه زمانہ ہو گا جس میں دینی علم كے حصول كے لیےلمبے لمبے سفر اوربڑے بڑے علماء كی كئی كئی سال كی شاگردی اختیار كرنے كی ضرورت نہیں ہو گی بلكہ قرآن كریم اور احادیث نبویہ اور مامور زمانہ اور اس كے خلفاء كی كتب اور ان كی تعلیمات و نصائح بھی ہر انسان كو میسر ہوجائیں گی اور ہر شخص ان كا علم حاصل كر كے اور ان پر عمل كر كے اپنی زندگی میں ایك پاك تبدیلی پیدا كر سكے گا اوراپنے لیے جنتوں كے حصول كا سامان كرسكے گا۔

ہم پر یہ خدا كا خاص فضل اوراحسان ہے كہ اس نے ہمیں خلافت كی نعمت عطا فرمائی ہے اور خلیفۂ وقت وقتاًفوقتاً ہمیں ان برائیوں سے متنبّہ كر كے ان سے بچنے كی نصیحت فرماتے رہتے ہیں۔

خاكسار نےہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایده الله بنصره العزیز كے مختلف خطبات وخطابات اور پیغامات سے حضور انو ركی نصائح وہدایات كا گلدستہ تیار كیا ہے جن پر عمل ہمیں اور ہماری اولادوں كو جنتوں كے راستوں پر قدم مارنے كی توفیق بخشے گا۔ آئیے ان ہدایات كو غور سے سنیں اور ان پر عمل كر كے اپنے گھروں كو جنت نظیر بنانے كی كوشش كریں۔

نادیدنی، ناشنیدنی اور ناكردنی سے پرہیز

الله تعالیٰ نے عورتوں اور مردوں كے آزادانہ میل ملاپ كے باره میں نصیحت فرمائی ہے كہ

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَهمْ ذٰلِكَ اَزْکٰی لَهُمْ۔(النور:31)

حضور انور ایده الله بنصره العزیز نے اس آیت كے حوالے سے فرمایا:

‘‘اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پہلے کہا کہ غضِ بصر سے کام لو۔ کیوں؟ اس لیے کہ

ذٰلِكَ اَزْکٰی لهُمْ

کیونکہ یہ بات پاکیزگی کے لیے ضروری ہے۔ اگر پاکیزگی نہیں تو خدا نہیں ملتا۔ پس عورتوں کے پردہ سے پہلے مردوں کو کہہ دیا کہ ہر ایسی چیز سے بچو جس سے تمہارے جذبات بھڑک سکتے ہوں… اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بارے میں کئی جگہ بڑی کھل کر نصیحت فرمائی ہے۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ

‘‘مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پرہیزکریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا’’

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ209 حاشیہ)

(خطبہ جمعہ فرمودہ 13؍جنوری 2017 ء)

آزادانہ میل ملاپ اور چیٹنگ بے حیائی كے راستے كھولتی ہے

برائی كے ارتكاب كی ابتدا بری نظر سے ہوتی ہے اور پھر آزادانہ میل ملاپ سے بے حیائی جنم لیتی ہے۔نیزعورتوں اور مردوں كے باہم مكس اپ ہونے اورسوشل میڈیا پر لڑكوں اور لڑكیوں كا بلا رو ك ٹوك چیٹ وغیره كرنا بھی بے راه روی كی كئی راہیں كھولنے كا سبب بنتا ہے۔ اس امر كی سنگینی اور اس كے خوفناك نتائج كی طرف متوجہ كرتے ہوئے حضرت خلیفةالمسیح الخامس ایده الله بنصره العزیز فرماتے ہیں:

‘‘اس زمانے میں انٹرنیٹ ہے، اس پر بیہودہ فلمیں آ جاتی ہیں، ویب سائٹس پر، ٹی وی پر بیہودہ فلمیں ہیں، بیہودہ اور لغو قسم کے رسالے ہیں، ان بیہودہ رسالوں کے بارے میں جو پورنوگرافی pornography وغیرہ کہلاتے ہیں اب یہاں بھی آواز اُٹھنے لگ گئی ہے کہ ایسے رسالوں کو سٹالوں اور دکانوں پر کھلے عام نہ رکھا جائے کیونکہ بچوں کے اخلاق پر بھی بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ ان کو تو آج یہ خیال آیا ہے لیکن قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے یہ حکم دیا کہ یہ سب بے حیائیاں ہیں، ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یہ تمہیں بے حیا بنا دیں گی۔ تمہیں خدا سے دُور کر دیں گی، دین سے دُور کر دیں گی بلکہ قانون توڑنے والا بھی بنا دیں گی۔ اسلام صرف ظاہری بے حیائیوں سے نہیں روکتا بلکہ چھپی ہوئی بے حیائیوں سے بھی روکتا ہے… اسلام بائبل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ تم عورت کو بری نظر سے نہ دیکھو بلکہ کہتا ہے کہ نظریں پڑیں گی تو قربت بھی ہو گی اور پھر بے حیائی بھی پیدا ہو گی۔ اچھے برے کی تمیز ختم ہو گی اور پھر ایسے کھلے عام میل جول سے جب اس طرح لڑکا اور لڑکی، مرد اور عورت بیٹھے ہوں گے تو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تیسرا تم میں شیطان ہو گا۔

(سنن الترمذی ابواب الرضاع باب ما جاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات حدیث نمبر 117)

یہ جو انٹرنیٹ وغیرہ کی میں نے مثال دی ہے، اس میں فیس بک (Facebook) اور سکائپ(Skype) وغیرہ سے جو چَیٹ (Chat) وغیرہ کرتے ہیں، یہ شامل ہے۔ کئی گھر اس سے میں نے ٹوٹتے دیکھے ہیں۔ بڑے افسوس سے میں کہوں گا کہ ہمارے احمدیوں میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ فحشاء کے قریب بھی نہیں پھٹکنا کیونکہ شیطان پھر تمہیں اپنے قبضے میں کر لے گا۔

پس یہ قرآنِ کریم کے حکم کی خوبصورتی ہے کہ یہ نہیں کہ نظر اُٹھا کے نہیں دیکھنا، اور نہ نظریں ملانی ہیں بلکہ نظروں کو ہمیشہ نیچے رکھنا ہے اور یہ حکم مرد اور عورت دونوں کو ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔ اور پھر جب نظریں نیچی ہوں گی تو پھر ظاہر ہے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ جو آزادانہ میل جول ہے اُس میں بھی روک پیدا ہو گی۔ پھر یہ بھی ہے کہ فحشاء کو نہیں دیکھنا، تو جو بیہودہ اور لغو اور فحش فلمیں ہیں، جو وہ دیکھتے ہیں اُن سے بھی روک پیدا ہو گی۔ پھر یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں میں نہیں اُٹھنا بیٹھنا جو آزادی کے نام پر اس قسم کی باتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے قصے اور کہانیاں سناتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس طرف راغب کر رہے ہوتے ہیں۔ نہ ہی سکائپ(Skype) اور فیس بُک(Facebook) وغیرہ پر مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے بات چیت کرنی ہے، ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنی ہیں، نہ ہی ان چیزوں کو ایک دوسرے سے تعلقات کا ذریعہ بنانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب ظاہر یا چھپی ہوئی فحشاء ہیں جن کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم اپنے جذبات کی رَو میں زیادہ بہہ جاؤ گے، تمہاری عقل اور سوچ ختم ہو جائے گی اور انجام کار اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑ کر اُس کی ناراضگی کا موجب بن جاؤ گے۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍اگست 2013ء)

فواحش اور زنا كے مقدمات

قرآن كریم نے جہاں

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا (بنی اسرائیل: 33)

فرمایا ہے كہ زنا كے قریب تك نہ جاؤ وہاں یہ بھی كہا ہے كہ

وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الانعام:152)

یعنی فواحش كے قریب بھی نہ جاؤ خواه وه ظاہر ہوں یا مخفی۔آج كل ٹی وی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا كے غلط استعمال كی وجہ سے زنا كے مقدمات اور فواحش میں گرنے كے امكانات زیاده ہو گئے ہیں ان سے متنبّہ كرتے ہوئے حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصره العزیز فرماتے ہیں:

‘‘چھپی ہوئی فواحش …ایسی ہیں جو بعض دفعہ انسان کو متأثر کرتے ہوئے بہت دُور لے جاتی ہیں۔ مثلاً بعض دفعہ غلط نظارے، غلط فلمیں ہیں، بالکل عریاں فلمیں ہیں۔ اس قسم کی دوسری چیزوں کو دیکھ کرانسان آنکھوں کے زنا میں مبتلا ہورہا ہوتا ہے ۔ پھر خیالات کا زنا ہے، غلط قسم کی کتابیں پڑھنا یا سوچیں لے کر آنا۔بعض ماحول ایسے ہیں کہ ان میں بیٹھ کر انسان اس قسم کی فحشاء میں دھنس رہا ہوتا ہے۔ پھر کانوں سے بے حیائی کی باتیں سننا بھی زنا كے مقدمات ہیں۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ 12 ؍دسمبر 2003ء)

پھر فرمایا:

‘‘یہ جوزنا ہے یہ دماغ کا اور آنکھ کا زنا بھی ہوتا ہے اور پھر یہی زنا بڑھتے بڑھتے حقیقی بُرائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ماں باپ شروع میں احتیاط نہیں کرتے اور جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تو پھر افسوس کرتے اور روتے ہیں کہ ہماری نسل بگڑ گئی، ہماری اولادیں برباد ہو گئی ہیں۔ اس لیے چاہئے کہ پہلے نظر رکھیں۔ بیہودہ پروگراموں کے دوران بچوں کو ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھنے دیں اورانٹر نیٹ پر بھی نظر رکھیں… اگر ماں باپ کسی قسم کی کمزوری دکھائیں گے تو اپنے بچوں کی ہلاکت کا سامان کر رہے ہوں گے۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍اپریل 2010ء)

سوشل میڈیا كے استعمال كا عبادتوں پر اثر

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیره كے بے جا استعمال كا سب سے بڑا اور سب سے بُرا اثر یہ ہوتا ہے كہ انسان اپنےمقصد پیدائش یعنی عبادت كو چھوڑ بیٹھتا ہے۔ اس بارے میں حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:

‘‘ برائیوں میں سے آجکل ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ کی بعض برائیاں بھی ہیں۔ اکثر گھروں کے جائزے لے لیں۔ بڑے سے لے کر چھوٹے تک صبح فجر کی نماز اس لیے وقت پر نہیں پڑھتے کہ رات دیر تک یا تو ٹی وی دیکھتے رہے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہے، اپنے پروگرام دیکھتے رہے، نتیجۃً صبح آنکھ نہیں کھلی۔ بلکہ ایسے لوگوں کی توجہ بھی نہیں ہوتی کہ صبح نماز کے لیے اٹھنا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اور اس قسم کی فضولیات ایسی ہیں کہ صرف ایک آدھ دفعہ آپ کی نمازیں ضائع نہیں کرتیں بلکہ جن کو عادت پڑ جائے ان کا روزانہ کا یہ معمول ہے کہ رات دیر تک یہ پروگرام دیکھتے رہیں گے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہیں گے اور صبح نماز کے لیے اٹھنا ان کے لیے مشکل ہو گا بلکہ اٹھیں گے ہی نہیں۔ بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو نماز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔’’ (خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍مئی 2016ء )

خواهشات كے بُت اور مشركانہ مجالس

جب انسان خواہشات كا اسیر ہو جاتا ہے تو پھر انہی خواہشات كے بت كی پیروی اس كا مطمح نظر بن جاتا ہے، گویاعملی طور پر وه انہی خواہشات كو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ الله تعالیٰ نے ایسے خواہش پرست کو بت پرست کے درجہ میں رکھا ہے۔ فرمایا:

أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ (الفرقان: 44)

یعنی کیا تو نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں كہ

‘‘ بُت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدّم ہوتی ہے وہ بُت ہے اور اس قدر بُت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ میں بُت پرستی کر رہا ہوں’’۔ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 429-430۔ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے اس ارشاد كی تشریح فرماتے ہوئےحضور انور ايده الله بنصره العزيز نے ایك موقع پر فرمایا:

‘‘کہیں آجکل کے زمانے میں ڈرامے بُت بن گئے ہیں۔ کہیں انٹرنیٹ بُت بن گیا ہے۔ کہیں دنیا کمانا بُت بن گیا ہے۔ کہیں اور خواہشات بُت بن گئی ہیں۔’’ (خطبہ جمعہ فرمودہ 28؍اکتوبر2016ء)

آج سوشل میڈیا كے غلط استعمال كی وجہ سے اس قسم كی بت پرستی بڑھ رہی ہے اور آج كا انسان سوشل میڈیا كے غلط استعمال كے ذریعہ روزانہ ایسی مشركانہ مجالس كا حصہ بنتا چلا جارها ہے۔اسی كی طرف توجہ دلاتے ہوے حضورانور ایدہ اللہ نے فرمایا:

‘‘ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اپنے آپ کو بیہودہ اور مشرکانہ مجلسوں سے بچایا ہوا ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو کہیں گے کہ ہم تو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم تو مشرکانہ مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔ لیکن یاد رکھیں کوئی مجلس ہو جیسے انٹرنیٹ ہے یا ٹی وی ہے یا کوئی ایسا کام ہے اور مجلس ہے جو نمازوں اور عبادت سے غافل کر رہی ہے وہ مشرکانہ مجلس ہی ہے۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍اپریل 2017ء)

نماز كی پابندی فحشاء سے بچنے كا بڑا ذریعہ

جیسا كہ پہلے ذكر ہوا ہے كہ آج كل بعض بچے رات دیر تك انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں مصروف رہتے ہیں جس كا نتیجہ یہ ہوتا ہے كہ نمازیں چھوٹ جاتی ہیں۔ اس مشكل كا حل كیا ہے؟ دراصل ان برائیوں فحشاء اور بے حیائیوں سے بچنے كا نسخہ بھی نماز كی پابندی ہے۔گویا یہ فحشاء اور منكر آئے گا تو نماز چھوٹ جائے گی اور اگر نماز كی حفاظت ہوگی تو انسان ان فحشاء اور منكرات سے بچا رہے گا۔ الله تعالی فرماتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ(العنكبوت:46)

یعنی نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روكتی ہے۔

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایده الله تعالیٰ بنصره العزیز فرماتے ہیں:

‘‘بچوں کو ماں باپ اگر فجر کی نماز کے لئے اُٹھائیں گے تواُن کو جہاں نماز کی اہمیت کا اندازہ ہو گا وہاں بہت سی لغویات سے بھی وہ بچ جائیں گے… بعضوں کو رات دیر تک ٹی وی دیکھنے یا انٹرنیٹ پربیٹھے رہنے کی عادت ہوتی ہے…نماز کے لیے جلدی اُٹھنے کی وجہ سے جلدی سونے کی عادت پڑے گی اور بلا وجہ وقت ضائع نہیں ہو گا۔ خاص طور پر وہ بچے جو جوانی میں قدم رکھ رہے ہیں، اُن کو صبح اُٹھنے کی وجہ سے ان دنیاوی مصروفیات کو اعتدال سے کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی… اچھی دیکھنے والی چیزیں بھی ہوتی ہیں، معلوماتی باتیں بھی ہوتی ہیں، اُن سےمیں نہیں روکتا، لیکن ہر چیز میں ایک اعتدال ہونا چاہئے۔ نمازوں کی ادائیگی کی قیمت پر ان دنیاوی چیزوں کو حاصل کرنا انتہائی بےوقوفی ہے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 22؍جون 2012ء)

نیزحضور انور ایده الله تعالی بنصره العزیز نے فرمایا:

‘‘ اگر اپنےبچوں كو ان گندگیوں اور غلاظتوں میں گرنے سے بچانا ہے تو سب سے بڑی كوشش یہی ہے كہ نمازوں میں باقاعده كریں۔كیونكہ اب ان غلاظتوں اور اس گند سے بچانے كی ضمانت ان بچوں كی نمازیں الله تعالیٰ كے وعدے كے مطابق دے رہی ہیں۔ جیسا كہ وه فرماتا ہے كہ

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍اپریل 2005ء)

استغفار اور دعاؤں كے ذریعہ حفاظت

بچوں كوسوشل میڈیا اور انٹرنیٹ كے ذریعہ پھیلے ہوئے شیطانی حملوں سے بچانے كے لیے استغفار اوردعاؤں كی بھی ازحد ضرورت ہے۔اس كے بارے میں حضور انور ایده الله بنصره العزیز فرماتے ہیں:

‘‘ شیطان سے بچنے کی سب سے بڑی پناہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس اس بگڑے ہوئے زمانے میں استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ استغفار ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان آ سکتا ہے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍مئی 2016ء)

نیز فرمایا:

‘‘اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی بہت زیادہ دعا کرو۔ اَعُوْذُ بِاللّٰه مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھو۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوّةَ اِلَّا بِاللّٰه پڑھو۔ اللہ تعالیٰ یہ امید دلاتا ہے جو سننے والا اور جاننے والا ہے کہ اگر نیک نیتی سے دعائیں کی گئی ہیں تو یقیناًوہ سنتا ہے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍اکتوبر 2013ء)

الله تعالیٰ نے ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اولاد كی طرف سے آنكھوں كی ٹھنڈك نصیب ہونے كے لیے یہ دعا بھی سكھائی ہے:

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان:75)

اس دعا كی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور نے فرمایا :

‘‘یہ دعا جہاں خود آپ کو تقویٰ پر قائم رکھے گی، آپ کی اولاد کو بھی دنیا کے شر سے محفوظ رکھتے ہوئے تقویٰ پر چلائے گی۔ اور جو عورتیں یہ شکایت کرتی ہیں کہ ان کے خاوند دین سے رغبت نہیں رکھتے، نمازوں میں بے قاعدہ ہیں، ان کے حق میں بھی یہ دعا ہوگی۔یہ نہ سمجھیں کہ متقیوں کاا مام صرف مرد ہے۔ ہر عورت جو اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے اور آئندہ نسلوں میں اس روح کو پھونکنے کی کوشش کرتی ہے کہ اللہ سے دل لگائو، اس کے آگے جھکو، نیکیوں پر قائم ہو وہ متقیوں کا امام بننے کی کوشش کرتی ہے اور بنتی ہے۔ اپنے گھر کے نگران کی حیثیت سے وہ امام ہے۔’’

(خطاب برموقع سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ یوکے4؍نومبر 2007ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 9 ؍دسمبر 2016ء)

نيز حضور انور ایده الله بنصره العزیز نے گھر كے نگران اور سربراه كو اس كی ذمہ داریوں كی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا كہ

‘‘جب بیویوں کے حق ادا کرنے کی دعا کرے گا، جب اولاد کے قرّۃ العین ہونے کی دعا کرے گا تو پھر بیہودگیوں اور فواحش کی طرف سے توجہ خود بخود ہٹ جائے گی اور یوں ایک مومن پورے گھر کو شیطان سے بچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔’’

(خطبہ جمعہ20؍مئی2016ء)

ایم ٹی اے دیكھنے كی عادت تربیت كا اہم ذریعہ

آج اگر سوشل میڈیا كا صحیح استعمال كرنا ہے تو بچوں كو سوشل میڈیا كے جماعتی اكاؤنٹس سے جوڑنے كی ضرورت ہے نیزایم ٹی اےدیكھنے كی عادت ڈالنے كی ضرورت ہے، اس سے ا ن كی دین سے محبت بڑھے گی اورمعاشرتی آلودگیوں سےمحفوظ ره سكیں گے۔حضرت خلیفة المسیح الخامس ایده الله بنصره العزیز اس بارے میں بچیوں كو نصیحت كرتے ہوئے فرماتےہیں:

‘‘اس زمانے میں ٹی وی کا سب سے بہتر استعمال تو ہم احمدی کر رہے ہیں یا جماعت احمدیہ کر رہی ہے… اس طرف بہت توجہ کریں، اپنے گھروں کو اس انعام سے فائدہ اُٹھانے والا بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری تربیت کے لیے ہمارے علمی اور روحانی اضافے کے لیے ہمیں دیا ہے تا کہ ہماری نسلیں احمدیت پر قائم رہنے والی ہوں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے آپ کو ایم ٹی اے سے جوڑیں۔ اب خطبات کے علاوہ اور بھی بہت سے لائیو پروگرام آرہے ہیں جو جہاں دینی اور روحانی ترقی کا باعث ہیں وہاں علمی ترقی کا بھی باعث ہیں۔ جماعت اس پر لاکھوں ڈالر ہر سال خرچ کرتی ہے اس لیے کہ جماعت کے افراد کی تربیت ہو۔ اگر افرادِ جماعت اس سے بھرپور فائدہ نہیں اُٹھائیں گے تو اپنے آپ کو محروم کریں گے… ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍اکتوبر2013ء)

نیز حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصره العزیز نےلجنہ اماء الله جرمنی كو نصیحت كرتے ہوئے فرمایا:

‘‘آپ اپنی مصروفیات ایسی بنائیں جن سے آپ کی دین سے محبت ظاہر ہوتی ہو۔ مثلاً ہر جمعہ کو جب میرا خطبہ ایم ٹی اے پر نشر ہو تو اسے سننے کا اہتمام کریں۔ کچھ باتیں ساتھ ساتھ نوٹ بھی کریں تاکہ پوری توجہ خطبے کی طرف مرکوز رہے۔جن باتوں کی سمجھ نہ آئےگھر میں کسی بڑے سے پوچھ لیں۔ اس سے آپ کا خلیفۂ وقت سے ذاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ دینی علم بڑھے گا ۔ سوچ اور خیالات پاک ہوجائیں گے اور خدمتِ دین اورجماعتی پروگراموں میں شمولیت کا جذبہ تقویت پائے گا۔ یاد رکھیں کہ آپ جتنا اپنے آپ کو دین کے قریب رکھیں گی اتنا معاشرتی آلودگیوں سے محفوظ رہ سکیں گی۔ اسی سے سکونِ قلب عطا ہوگا۔’’(پیغام برائے لجنہ اماءاللہ جرمنی مطبوعہ سہ ماہی رسالہ ‘گلدستہ’20؍مارچ2017ء)

بچوں كو جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں سے جوڑیں

سوشل میڈیا كے بد اثرات سے بچنے اور اپنی اولاد كو بچانے كا ایك ذریعہ جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں سے جڑنا بھی ہے۔ اس كے بارےمیں حضور انورنے فرمایا:

‘‘نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو جماعتی نظام سے اس طرح جوڑیں، اپنی تنظیموں کے ساتھ اس طرح جوڑیں کہ دین ان کو ہمیشہ مقدم رہے اور اس بارے میں ماں باپ کو بھی جماعتی نظام سے یا ذیلی تنظیموں سے بھر پور تعاون کرنا چاہئے۔ اگر ماں باپ کسی قسم کی کمزوری دکھائیں گے تو اپنے بچوں کی ہلاکت کا سامان کر رہے ہوں گے۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍اپریل 2010ء)

بچوں كو متبادل كام دیں

سوشل میڈیا کے بداثرات سے بچانے کے لیے حضور انور نے احمدی ماؤں كو ایك نصیحت یہ بھی فرمائی كہ بچیوں كو متبادل كام میں مصروف ركھیں۔ آپ نے فرمایا:

‘‘آپ کو ان کے لیے متبادل مصروفیات بھی سوچنا ہوں گی۔ انہیں گھریلو کاموں میں مصروف کریں۔ جماعتی خدمات میں شامل کریں اور ایسی مصروفیات بنائیں جو ان کے لیے اور معاشرہ کے لیے مثبت اور مفید ہوں۔ یہ بڑی اہم ذمہ داری ہے جسے احمدی مستورات نے بجا لانا ہے۔’’

(پیغام برموقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ جرمنی 10؍جولائی 2016ء)

میدانوں میں كھیلنے اورمطالعہ كی عادت ڈالیں

بچوں كو سوشل میڈیا كےاسیر ہونے سے بچانے كے لیے حضور انور نے والدین كو توجہ دلائی كہ وه اپنے بچوں كو میدانوں میں كھیلنے اور كتب كے مطالعےكی عادت ڈالیں۔ حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصره العزیز نے فرمایا:

‘‘تحقیق یہی کہتی ہے کہ ایک گھنٹے سے زیادہ بچوں کو ٹیلی ویژن اور اس قسم کی سکرین وغیرہ کی دیکھنے والی چیزیں جو ہیں آئی پیڈ وغیرہ ان کو دیکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے ان سے نظریں خراب ہوتی ہیں بلکہ ان کی ڈویلپمنٹ متاثر ہو جاتی ہے اس لیے بجائے اس کے کہ یہ چیزیں لے کر دیں بچوں کو کھلے میدان میں کھیلنے کی عادت ڈالیں یا پڑھنے کے وقت ان کو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے ۔’’

(خطاب برائے لجنہ اماء الله جلسہ سالانہ یوكے بتاریخ 4؍اگست 2018ء)

بچیاں اپنے تبلیغی رابطے صرف لڑكیوں اور عورتوں سے ركھیں

بعض اوقات شیطان سبز باغ دكھا كر برائی كی طرف لے جاتا ہے ۔ لڑكیوں كےلڑكوں كے ساتھ تبلیغ كے نام پر رابطے بظاہر تو تبلیغ كے نام پر ہوتے ہیں لیكن بعض دفعہ قباحتیں پیدا هوتی ہیں۔اس بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ كو مخاطب كر كے فرمایا:

‘‘بعض لوگوں کے انٹرنیٹ کے ذریعے سے تبلیغ کے رابطے ہوتے ہیں اور انٹر نیٹ کے تبلیغی رابطے بھی صرف لڑکیوں اور عورتوں سے رکھیں۔ مردوں کا جو تبلیغ کا حصہ ہے وہ مردوں کے حصے رہنے دیں کیونکہ اس میں بعض دفعہ بعض قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔’’

(خطاب از مستورات جلسہ سالانہ آسٹریلیا15؍اپریل 2006ء)

خود كو اور اپنے اہل خانہ كو آگ سے بچاؤ

خدا تعالیٰ كے بتائے ہوئے طریق سے بھٹكنے والے اس دنیا میں بھی مختلف آگوں میں پڑے رہتے ہیں اورآخرت میں بھی ان كا ٹھكانہ آگ ہے۔ ایسے لوگوں كی زبانی الله تعالیٰ نےہماری ہدایت كے لیے قرآن كریم میں ایك پیغام محفوظ فرمایا ہے۔ فرماتا ہے كہ اہل جنت مجرموں سے پوچھیں گے كہ

مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ۔قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ۔وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ۔وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ۔وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ۔حَتّٰى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر:43تا48)

یعنی جہنم كی آگ میں ڈالے جانے والے مجرم اپنے انجام كا سبب بتاتے ہوئے كہیں گے كہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اورحقوق العباد میں مساكین كو كھانا كھلا كرغریب طبقے كے حقوق نہیں ادا كرتے تھےنیز فضول اور لغو باتوں میں مشغول ره كر وقت برباد كرتے رہتے تھے اور ایسے ایسے كسب كرتے تھے جن كی وجہ سے آخرت كا انكار ہی كردیا تھا۔ہم سمجھتے تھے كہ یہ دنیا یہیں ختم ہو جائے گی اس لیے ا س كی رنگینیوں اور عیاشیوں اور لذتوں سے جس قدر فائده اٹھا سكتے ہیں اٹھا لیں اور ہم ان باتوں میں اس قدر غرق ہو گئے كہ كبھی خدا كے سامنے حاضر ہونے كا خیال بھی نہیں آیا۔

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ كا تفریح اور آزادی كے نام پر استعمال انسان كو دن رات ایسے ہی فضول اور لغو امور میں الجھائے ركھتا ہے جس كا نتیجہ اس دنیا میں بھی مختلف قسم كی آگوں میں جلنے كی صورت میں نكلتا ہے اورآخرت میں بھی آگ كے عذاب كا سبب ٹھہرتا ہے۔

اس آگ سے بچنے اور بچانے كے باره میں الله تعالیٰ نے فرمایا ہے كہ

قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَأَهلِیْکُمْ نَارًا(التحر یم :7)

یعنی اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی آگ سے بچاؤ۔اس كی وضاحت فرماتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:

‘‘خاص طور پر گھر کے جو نگران ہیں یعنی مرد ان کا سب سے زیادہ یہ فرض ہے اور ذمہ داری ہے کہ اپنی اولادوں کو اس آگ میں گرنے سے بچائیں ۔’’

فرمایا:

‘‘آج کل تو دنیا کی چمک دمک اور لہو و لعب، مختلف قسم کی برائیاں جو مغربی معاشرے میں برائیاں نہیں کہلاتیں لیکن اسلامی تعلیم میں وہ برائیاں ہیں، اخلاق سے دور لے جانے والی ہیں، منہ پھاڑے کھڑی ہیں جو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کرتی ہیں…یہ نہ ہی تفریح ہے، نہ آزادی بلکہ تفریح اور آزادی کے نام پر آگ کے گڑھے ہیں۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍اپریل 2010ء)

یہی وه آگ ہے جسےسورۃالتكویر میں

وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ(التكوير: 13)

كے الفاظ سے بیان كیا گیا ہے۔ اس كے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں طرح کی آگیں ہیں تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے ۔’’

فرمایا:

‘‘مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔’’

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اوّل صفحہ 315 طبع انڈیا)

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر آگ كے گڑھے

آخر میں ایك بار پھر انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا كے ذریعہ كھودے گئے آگ كے ان گڑھوں كی ایك مختصر سی جھلك پیش ہے تا آپ كو اندازه ہو سكے كہ ہم كس قدر خطرناك صورت حال سے دوچار ہیں اور كس قدر اس سے بچنے كی كوشش ضروری ہو گئی ہے۔

ایك اندازے كے مطابق اس وقت دنیا میں انٹرنیٹ استعمال كرنے والوں كی تعداد 4بلینز سے زائد ہے۔ ان میں سے کم ازکم 80 فیصد لوگ انٹرنیٹ کو فائدے کے لیے کم استعمال کرتے ہیں۔

ٹائم میگزین كی ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر 20ملین یعنی دو كروڑسے بھی زیاده فحش سائٹس موجود ہیں۔

بی بی سی کی ایك رپورٹ کے مطابق انسٹا گرام بچوں کی فحش تصاویر کا ایک بڑا اڈا بنا ہوا ہے۔

ایك رپورٹ کے مطابق ٹَمبلر اور سنیپ چیٹ نے جس طرح سے نوجوان نسل کو پورنو گرافی کی لت میں مبتلا کیا ہے اُس کا کوئی توڑ نظر نہیں آ رہا۔

برطانوی وزیر داخلہ كے بیان كے مطابق 80 ہزار فحش ویب سائیٹ برطانیہ میں بچوں کی جنسی بے راہ روی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق چائلڈ پورنو گرافی كا كاروبار فیس بک پر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

گوچائلڈ پور نو گرافی دنیا بھرکے قوانین میں جرم ہے ۔ لیكن آج چائلڈ پورنو گرافی دنیا كی سب سے بڑی انڈسٹری بن چكی ہے ۔

اس سر سری سی جھلک اورمعمولی اعداد و شمار كی بنا پر بھی آپ تصور كرسكتے ہیں كہ کس طرح سوشل میڈیا سماجی رابطوں کی آڑ میں جنسی بے راہ روی کا اڈا بناہوا ہے۔اوراس کے بے دریغ اور غیر محتاط استعمال ہماری نسلوں كو آگ كے گڑھوں كی طرف دھكیل رہا ہے۔

یہ صورت حال ہمیں رسول الله صلى الله عليہ وسلم كی ایك حدیث یاد دلاتی ہے آپؐ نے فرمایا كہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ روشن کی تو پتنگے اور کیڑے اس آگ میں گرنے لگے۔ وہ شخص پوری قوت سے ان پتنگوں کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہے۔ لیکن پتنگے ہیں كہ آگ پر گرے جارہے ہیں۔ پھر آپ ؐنے فرمایا لوگو، اس طرح میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر جہنم کی آگ سے روک رہا ہوں مگر تم ہو كہ زبردستی اس آگ میں داخل ہونا چاہتے ہو۔

آج دنیا كی ایك بڑی تعداد آگ میں ڈالنے والی برائیوں كی طرف كھنچی چلی جا رہی ہے اور اس سے ہماری نسلیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔آج آنحضرت صلی الله علیہ وسلم كے خادم صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے خلیفہ كی نصائح اور هدایات كو پڑھ كر ہم محسوس كر سكتے ہیں كہ كس طرح خلیفۂ وقت ہماری كمر سے پكڑ پكڑ كرہمیں ان آگوں میں گرنے سے بچانے كی كوشش كر رہا ہے۔آج مسیح الزمان كے اس خلیفہ كی بات پر كان دھرنے میں ہی جنت نظیر راہوں كے نشان مضمر ہیں ۔ آج اس كی آواز پر لبیك كہنےمیں ہی ہماری اور ہماری نسلوں كی اصلاح اور بقا كا راز پنہاں ہے۔

آئیے ہم یہ عہد كر یں كہ ہم ان نصائح پر عمل كرنے كی پوری كوشش كریں گے۔تا كہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام كی پاك صالح اور دوسروں كے لیے نمونہ جماعت كا فعال حصہ بن كر دونوں جہان كی حسنات سمیٹنے والے بنیں۔

حضور فرماتے ہیں:

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ہماری جماعت کو یہ دعا بکثرت پڑھنی چاہئے کہ

رَبَّنَا آَتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآَخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

پس اس طرف ہمیں بھی توجہ دینی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے کر ہمیں ہر قسم کی دنیاوی اور اخروی آگ سے بچائے رکھے۔ (خطبہ جمعہ فرموده 8؍جون 2018ء)آمین ثم آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close