افریقہ (رپورٹس)

کونگو برازاویل میں جماعتی سرگرمیاں

(سعید احمد ۔ نمائندہ الفضل انٹر نیشنل)

Talbassa گاؤں میں پہلی مسجد کا سنگ بنیاد

مکرم داؤد Massambaصاحب معلم جماعت میونزی تحریر کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کے ایک گاؤں Talbassa میں جماعت احمدیہ کونگو برازاویل کو مورخہ 28؍دسمبر 2019ء کو ایک نئی مسجدکی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔ یہ گاؤں کیپٹل برازاویل سے تقریباً تین صد پچاس کلومیٹر ساؤتھ میں واقع ہے۔ اس گاؤں میں جماعت احمدیہ کا پیغام مارچ 2017ء میں پہنچا تھا۔ اس گاؤں میں پہلی دفعہ اسلام کا پودا لگانے کی توفیق جماعت احمدیہ کو ہی ملی۔ اس سے پہلے وہاں صرف عیسائیت تھی۔ اس گاؤں میں ایک چرچ ہے۔ اور اب بفضلہ تعالیٰ جماعت احمدیہ مسلمہ کو مسجد بنانے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس گاؤں کی آبادی پانچ صد نفوس پر مشتمل ہے اور اگر قریب کے گاؤں کو بھی ملا لیا جائے تو اس کی آبادی دو ہزار تک ہو جاتی ہے۔ اس پورے علاقہ میں جماعت کا پیغام پہنچ چکا ہے اور آہستہ آہستہ لوگ عیسائیت کو خیر باد کہہ کر اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس گاؤں کے نمبر دار کو بھی جماعت قبول کرنے کی توفیق ملی ہے۔الحمدللہ

گاؤں کی انتظامیہ کی طرف سے ایک ایکڑ زمین مسجد کی تعمیر کے لیے تحفۃً دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

مورخہ 28؍دسمبر کو خاکسار(نیشنل صدر و مشنری انچارج )کو مسجد کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ اس موقع پر گاؤں کی انتظامیہ کے ساتھ چرچ کے پادری اور کچھ عیسائی احباب نے شرکت کی۔

خاکسار نے احباب کو مساجد کی اہمیت کے بارے میں بتایا اور امن کے حوالے سے اسلام کی تعلیم پیش کی۔ بعد ازاں خاکسار نے مسجد کی بنیادی اینٹ رکھنے کی توفیق پائی۔ اس کے بعد گاؤں کے نمبر دار اور معلم صاحب نے بھی بنیادکی اینٹیں رکھیں۔ آخر پر دعا کروائی گئی۔ دعا کے بعد احباب جماعت اور مہمانان کے لیے ریفریشمنٹ کا انتظام تھا۔ اس دوران بعض عیسائی احباب کی طرف سے پوچھے جانے والے چند سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیے گئے۔

جماعتNgomabitoriمیں ایک نئی مسجد کی بنیاد

مکرم یوسف Boukula صاحب معلم جماعت انکائی لکھتے ہیں کہ دوران ماہ انہیں اپنے حلقہ کی ایک جماعتNgomabitori میں ایک نئی مسجد کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔ یہ گاؤں برازاویل سے پوائنٹ نوار جانے والی مین شاہراہ پر واقع ہے۔ اس گاؤں میں 2018ء میں جماعت کا پودا لگا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کی آبادی سو افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ایک چرچ ہے۔ گاؤں کی انتظامیہ کی طرف سے مسجد کی تعمیر کے لیے پچاس مربع میٹر جگہ تحفۃً دی گئی۔ اس گاؤں میں بھی اسلام کا پیغام احمدیت ہی کی بدولت پہنچا اور اب جماعت کو ہی یہاں پر خدا کا گھر بنانے کی توفیق مل رہی ہے۔

مورخہ 29؍دسمبر 2019ء کو خاکسار کو اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔ اس موقع پر موجود گاؤں کے نمبر دار، جماعت کے لوکل صدر اور معلم جماعت نے بھی بنیاد کی اینٹیں رکھنے کی توفیق پائی۔ دعا کے بعد احباب کے لیے ریفریشمنٹ کا انتظام تھا۔ خاکسار نے لوگوں کو مساجد کی اہمیت کے بارے میں بتایا اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مساجد کو بہتوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے اور احباب جماعت کو صحیح معنوں میں عبادت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close