متفرق مضامین

برصغیر پاک و ہند میں موجود مقدس مقامات

(مبارز نجیب وڑائچ)

جن کو مسیح الزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعیننےبرکت بخشی

صحبت صالحین کا شوق

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت ایک طرف تنہائی پسند واقعہ ہوئی تھی۔ دوسری طرف آپ کو ان لوگوں کی صحبت میں جانے اور رہنے کا شوق ضرور تھا جو صادق ہوں مگر اس معاملہ میں آپ کی فراست مومنانہ نے کبھی آپ کو ایسے لوگوں کے پاس جانے کا موقعہ نہیں دیا۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع اور پیروی سنت سے الگ راہیں نکالا کرتے ہیں اور جن کی اس زمانہ میں کثرت تھی۔ بہت سے بدعتی فقیر اور سجادہ نشین خلافِ سنت طریقے نکال کر مخلوق کو گمراہ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے اسلامی ارکان اور اعمال کی بجائے نئے اعمال پیدا کر لیے اور گونہ نئی شریعت بنا لی تھی۔

عبداللہ غزنوی سے ملاقات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت مولوی عبداللہ غزنوی صاحب ایک بزرگ تھے جو متبع سنت اور اہل دل بزرگ تھے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ان کے متعلق لکھا تھا۔

‘‘ایک بزرگ غایت درجہ کے صالح جو مردانِ خدا میں سے تھے اور مکالمہ الٰہیہ کے شرف سے بھی مشرف تھے اور بمرتبہ کمال اتباع سنت کرنے والے اور تقویٰ اور طہارت کے جمیع مراتب اور مدارج کو ملحوظ اور مرعی رکھنے والے تھے۔ اور ان صادقوں اور راستبازوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کھینچا ہو اہوتا ہے اور پرلے درجہ کے معمورالاوقات اور یادِ الٰہی میں محو اور غریق اور اسی راہ میں کھوئے گئے تھے جس کا نام عبداللہ غزنوی تھا’’

اس بزرگ کی خدمت میں حضرت مسیح موعود ؑکبھی کبھی جاتے تھے۔ یہ بزرگ علاقہ غزنی سے ظالم طبع مولویوں کی ریشہ دوانیوں اور فتاویٰ تکفیر کے باعث نکالے گئے۔ اور جس طرح پر دوسرے راست بازوں کو ناقدر شناس لوگوں نے ہمیشہ دکھ دیا ہے۔ اس بزرگ کو بھی ان نااہلوں نے اپنے خیال میں ہر طرح ذلیل کر کے نکال دیا۔ مگر جو خدا تعالیٰ کے حضور معزز و مکرّم ہو دنیا کی یہ ذلّتیں اس کے سامنے ہیچ اور نا قابلِ التفات ہیں۔

حضرت مسیح موعود ؑ ایک مرتبہ انہیں امرتسر میںملے اور ایک مرتبہ خیروی میں جو نواح امرتسر میں ایک گاؤں تھا۔ وہاں امرتسر میں جب وہ آئے تو چونکہ وہاں وہابی مشہور تھے اس لیے حکام کو ان کی نسبت بد ظن کیا گیا اور اس پر وہ خیروی میں جارہے۔ غرض اس بزرگ کی خدمت میں حضرت صاحب جاتے اور جب جاتے تو آپ کا معمول تھاکہ کبھی خالی ہاتھ نہ جاتے تھے۔ کوئی تحفہ لے جاتے اور عموماً وہ اعلیٰ درجہ کا گوشت کا ٹکڑا ہوتا۔

عبداللہ غزنوی سے دُعا اور اس کا جواب

حضرت اقدس ؑ نے اُن سے اپنی ملاقات کا واقعہ بیان کیا ہے کہ

‘‘جب وہ زندہ تھے ایک دفعہ مقام خیروی میں اور دوسری دفعہ مقام امرتسر میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں کہاکہ آپ ملہم ہیں۔ ہمارا ایک مدعا ہے۔ اس کے لیے آپ دعا کرو۔ مگر میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا کہ کیا مدعا ہے۔ انہوں نے کہا کہ

درپوشیدہ داشتن برکت است و من انشاء اللہ دعا خواہم کرد و الہام امر اختیاری نیست۔

اور میرا مدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوٰۃ والسلام روزبروز تنزّل میں ہے۔ خدا اس کا مددگار ہو۔ بعد اس کے میں قادیان میں چلا آیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد بذریعہ ڈاک ان کا خط مجھے ملا جس میں لکھا تھا کہ
‘‘این عاجز برائے شما دعا کردہ بود القاشد۔ وانصرنا علی القوم الکافرین۔ فقیر را کم اتفاق مے افتد کہ بدین جلدی القا شود۔ این اخلاص شما مے بینم۔’’

حضرت مسیح موعود کی خواہش کا اندازہ اس دعا سے ہو سکتا ہے کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی؟ آپ مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کے پاس اپنی ذاتی غرض کے لیے نہیں گئے تھے اور نہ کچھ پیش کیا۔ جو غرض مخفی آپ کے دل میں تھی۔ وہ محض اسلام کی ترقی کے لیے تھی اور اس کی تائید اور نصرت کی دعا تھی۔

(سیرت مسیح موعود مرتبہ شیخ یعقوب علی تراب جلد اول صفحہ 80طبع اولیٰ ستمبر1915ء)

میاں شرف الدین صاحب سمؔ والے

ضلع گورداسپور میں طالب پور سے متصل ایک مقام سمؔ شریف کہلاتا تھا۔وہاں پانی کا ایک چشمہ سا ہے۔ وہاں میاں شرف الدین صاحب ایک بزرگ رہتے تھے۔حضرت مرزا صاحب ان کے پاس بھی چند مرتبہ تشریف لے گئے۔ آپ کے یہ سفر کسی ذاتی غرض یا دنیوی مفادپر مشتمل نہ تھے بلکہ محض کُوْنُوْامَعَ الصَّادِِقِیْن پر عمل کرنے کے لیے یا ترقی اسلام کے لیے دعا کرانے کے واسطے شروع ہی سے آپ کی فطرت میں اسلام کی تائید اور نصرت کے لیے خاص جوش تھا۔ آپ خود بھی اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ آپ کی ایک پرانی دعا اوپر دیوانِ فرّخ سے میں نے نقل کی ہے۔ آپ کا سونا، جاگنا۔ چلنا۔ پھرنا اُسی دُھن اور آرزو میں تھا۔

(سیرت مسیح موعود مرتبہ شیخ یعقوب علی تراب جلد اول صفحہ 84طبع اولیٰ ستمبر1915ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close