رپورٹ دورہ حضور انور

’’مسجد بیت العافیت‘‘ کے افتتاح کا پروگرام۔ پریس کانفرنس۔ حضور انور کا بصیرت افروز خطاب۔ تقریب میں شامل مہمانوں کے تأثرات

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ہالینڈ 2019ء

………………………………

یکم اکتوبر2019ء بروزمنگل

……………………………

اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح ساڑھے چھے بجے مسجد بیت النور میں تشریف لا کر نمازِفجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پرتشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اورہدایات سے نوازا نیز دیگر دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔

فیملی ملاقاتیں

پروگرام کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت النور تشریف لائے اور فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔

آج صبح کے اس سیشن میں 37 فیملیز کے 140 افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی ۔ ہر ایک نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف پایا۔ حضورِانور نے ازراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلبا اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطافرمائے۔

ملاقات کرنے والی یہ فیملیز ہالینڈ کی مختلف جماعتوں سے آئی تھیں۔

آج ملاقات کرنے والی فیملیز میں سے بڑی تعداد اور اکثریت ان لوگوں کی تھی جو پاکستان سے یہاں آئے تھے اور اپنی زندگی میں پہلی بات اپنے پیارے آقا سے مل رہے تھے۔ یہ سبھی بہت خوش تھے کہ ان کی زندگیوں میں آج ایک ایسا مبارک دن آیا ہے کہ انہیں اپنے پیارے آقا کا انتہائی قریب سے دیدار نصیب ہوا اور انہوں نے اپنے آقا کے قرب میں جو چند لمحات گزارے وہ ان کی ساری زندگی کا سرمایہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک برکتیں سمیٹتے ہوئے باہر آیا۔ ہر ایک نے اپنے پیارے آقا سے دعائیں پائیں۔ تسکین قلب پائی۔ دیدار کی پیاس بجھی اور یہ چند مبارک لمحات انہیں ہمیشہ کے لیے سیراب کرگئے۔

ایک فیملی جب ملاقات کرکے باہر آئی تو ان کے بچوں کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے، خوشی کے آنسو تھے، قلم ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے کہ حضورِانور نے عطافرمائے ہیں۔ یہی آنسو ان کے لیے آب حیات ہیں۔ یہی زندگی کا پانی ہیں۔ اسی سے جہاں دین سنورے گا وہاں دنیا بھی سنورے گی۔ ان آنسوؤں کو، ان مبارک لمحات کو اپنے دلوں میں سجا کر رکھیں تو ہم اپنی مراد کو پاگئے اور پھر ہماری نسلیں بھی ان برکات سے فیض پائیں گی۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام دو بجے تک جاری رہا۔ بعدازاں حضورِانور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

آج پروگرام کے مطابق Almere شہر میں ‘‘مسجد بیت العافیت’’کے افتتاح کا پروگرام تھا۔
حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ساڑھے چار بجے اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور نن سپیٹ سے المیرے کے لیے روانگی ہوئی۔ نن سپیٹ سے المیرے شہر کا فاصلہ پچاس کلومیٹر ہے۔
Almereشہر صوبہ Flevoland میں واقع ہے۔ اس شہر کو 1971ء میں سمندر کے ایک حصہ کو خشک کرکے آباد کیا گیا تھا۔ 49سال قبل یہاں صرف سمندر تھا اور آج ایک خوبصورت شہر آباد ہے۔ یہ شہر قریباً ایک لاکھ چوراسی ہزار نفوس کو سموئے ہوئے ہے۔

یہاں Lelysted کے علاقہ میں سال 2007ء میں جماعت کا قیام عمل میں آیا تھا اور اب جماعت کو یہاں مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی ہے۔

قریباًپچاس منٹ کے سفر کے بعد پانچ بج کر بیس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ‘‘مسجد بیت العافیت’’تشریف آوری ہوئی۔احباب جماعت مردوخواتین نے بڑے پر جوش انداز میں اپنے پیارے آقا کا استقبال کیا۔ بچیاں اپنے ہاتھوں میں ہالینڈ کا قومی پرچم تھامے ہوئے، خیرمقدمی گیت پیش کرتے ہوئے اپنے پیارے آقا کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ ہر طرف ایک خوشی کا سماں تھا۔

جونہی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گاڑی سے باہر تشریف لائے تو المیرے جماعت کے صدر حنیف احمد صاحب، مبلغ سلسلہ سفیراحمد صدیقی صاحب نے حضورِانور کو خوش آمدید کہا۔ حضورِانور نے اپنا ہاتھ بلند کرکے سب کو السلام علیکم کہا۔

بعدازاں حضورِانور نے مسجد کے داخلی دروازہ کے اندر دیوار میں نصب تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔

دعا کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے مردانہ ہال میں تشریف لے گئے اور نمازِظہر وعصر جمع کرکے پڑھائیں۔ جس کے ساتھ مسجد کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لائبریری ہال میں تشریف لے آئے جہاں پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔

حضورِانور کی آمد سے قبل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے نمائندے لائبریری ہال میں موجود تھے اور حضورِانور کی آمد کے منتظر تھے۔

پریس کانفرنس

آج کی اس پریس کانفرنس میں ہالینڈ کے قومی اخبار De Volkskrant کے صحافی، ریجنل آن لائن اخبار Zwolle Nieuwsکے صحافی،ریجنلOmroep Flevoland T.V کے جرنلسٹ، یورو ٹائمز بیلجیم کے نمائندہ اور دیگر نمائندے موجود تھے۔

٭ سب سے پہلے Mr Ben van Raaijجو کہ ایک قومی اخبار De Volkskrant کے نمائندہ ہیں انہوں نے المیرے میں مسجد کے افتتاح پر مبارکباد دی۔ جس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کا شکریہ اداکیا۔ اس کے بعد موصوف نے سوال کیاکہ کیا جماعت احمدیہ کے لیے پاکستان میں مسجد بنانا ممکن ہے؟

اس پرحضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پاکستان کا قانون ہمیں کوئی بھی ایسا کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا جس کا تعلق اسلامی روایات سے ہو۔ اس لیے قانون کے مطابق ہم وہاں مساجد نہیں بناسکتے بلکہ ہم جماعت مخالف لاگوہونے والے اس قانون سے پہلے بھی جو مساجد بنی تھیں ان کو بھی ‘مسجد’نہیں کہہ سکتے۔

٭اسی صحافی نے پوچھا کہ پاکستان میں گزشتہ سال نئی حکومت آئی ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نئی حکومت مذہبی اقلیتوں کے حوالہ سے زیادہ لبرل ہے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس حکومت کے لیے کچھ بھی کرنا زیادہ مشکل ہے کیونکہ ان کو بعض ایسے گروپوں کی تائید حاصل رہی ہے جوکہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہیں۔ موجودہ حکومت اور پاکستان میں مذہبی آزادی کے ماحول کے متعلق آپ کی کیارائے ہے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اگر آپ پاکستانی لوگوں کی نفسیات دیکھیں توپتہ لگتاہے کہ پاکستانی بڑا مذہبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عوام الناس نام نہاد علماء یا مولویوں کے ہاتھ میں ہے۔ بے شک یہ علماء جن کے ہاتھ میں مسجد کے منبر ہیں ان کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ عوام کو باہر گلیوں میں لاسکتے ہیں۔ اس لیے جو بھی پارٹی گورنمنٹ میں آکر دعویٰ کرتی ہے کہ وہ لبرل ہے لیکن وہ مولوی سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ عوام کو باہر گلیوں میں لاسکتے ہیں۔ اس لیے جب تک مولوی کا خوف موجود ہے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومتیں وہ سب کرسکتی ہیں جو وہ چاہتی ہیں۔

٭اس صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ پاکستان جاسکتے ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہاں میں پاکستان جاسکتاہوں لیکن اس شرط پر کہ میں بالکل خاموش رہوں۔ میں وہاں جاکر خود کو مسلمان نہ کہوں اور کوئی بھی ایسا کام نہ کروں جو کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اس لیے احمدیہ مسلم جماعت کے رہ نماہونے کی وجہ سے میں پاکستان نہیں جاناچاہتا۔ اگر میں نےوہاں قانون کی وجہ سے خاموش ہی رہنا ہے تو پھر وہاں جانے کا کیا فائدہ؟

٭صحافی نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں حالات کو بہتر بنانے کا کیا طریق کار اختیار کیا جاسکتا ہے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

جب تک وہاں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا قانون موجود ہے، اور قانون کہتاہے کہ for the purpose of law and constitution, Ahmadis are not-Muslims اور پھر یہ قانون ضیاء الحق کی مارشل لاء رجیم (Regime)کے ذریعہ مزید سخت کردیاگیاتھا ۔اب ہم وہاں ‘السلام علیکم’بھی نہیں کہہ سکتے ، اپنی مسجدوں کو ‘مسجد’ نہیں کہہ سکتے۔ جیساکہ میں نے کہا کہ کسی بھی طریق یا فعل سے یا اشارۃً بھی مسلمان ہونے کا اظہارنہیں کرسکتے۔ اس لیے جب تک یہ قانون موجود ہے، کسی قسم کی بہتری آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اورفی الحال کسی سیاسی پارٹی یا حکومت کے اندر اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ اس قانون کو ختم کردے۔

٭اس کے بعد ریجنل آن لائن اخبار Zwolle nieuwsکے صحافی Mr Rein Tuiningaنے سوال کیا کہ یہاں ہالینڈ میں احمدی مسلمانوں کے حوالہ سے آپ کیا کہتے ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:

یہاں ہالینڈ میں احمدی مسلمانوں کی اکثریت سیاسی پناہ لینے والوں کی ہے جوکہ پاکستان سے ہجرت کرکے اس ملک میں پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ سرینام کے بھی احمدی ہیں جوکہ ماضی میں ڈچ کالونی ہونے کی وجہ سے یہاں آباد ہیں۔لیکن احمدیوں کی اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے جو کہ سیاسی پناہ گزین ہیں۔ پس ہم یہاں اسی لیے ہیں کہ یہاں کی حکومت نے ہمیں اپنے عقیدہ کا اظہارکرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اس وقت ہماری جماعت کی اکثریت پاکستانیوں پر مشتمل ہے۔ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے تو بانئجماعت احمدیہ اس لیے مبعوث ہوئے کہ ان کا مقصد ہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کی تبلیغ کرنا تھا اور لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہ کرنا تھا ۔ اور وہ حقیقی تعلیمات پیار، امن اور ہم آہنگی ہیں۔ انہی چیزوں کی ہم تبلیغ کررہے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات ڈچ لوگوں میں سے بھی ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔بلکہ اس وقت ہالینڈ جماعت کے موجودہ سربراہ بھی ایک ڈچ ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پس قرآن کہتاہے کہ مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی کہاکہ لوگوں کو سمجھایاجائے کہ کیا غلط اور کیا ٹھیک ہے۔ ایک مذہبی جماعت اور ایک مذہبی انسان ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تبلیغ کریں۔ پس جن کو یہ مذہب پسند آتاہے وہ اس طرف آجاتے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ لوگ آئیں گے۔ صرف ہالینڈ میں ہی نہیں بلکہ سارے مغربی ممالک میں اگر یہ نسل نہیں تو اگلی نسل اسلام کی طرف آئے گی۔ ہم اس حوالہ سے بہت پُرامید ہیں کہ لوگ اسلام قبول کرلیں گے اور اپنے خالق کے قریب ہوجائیں گے۔

٭ اس کے بعد ایک ریجنل ٹی وی Omroep Flevoland کے ایک صحافی Mr Menno Hoeboer نے کہا کہ آپ کے لیے آج کا دن کافی خوشی کا دن ہوگا؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:

بالکل ٹھیک بات ہے۔ ہم جب بھی مسجد کا افتتاح کرتے ہیں تو ہمارے لیے وہ دن بڑی خوشی کا باعث ہوتاہے۔ آج کے خطاب میں بھی میں اس مسجد کے افتتاح کے حوالہ سے اپنے جذبات اور احساسات کا ذکرکروں گا۔

٭اسی صحافی نے عرض کیاکہ کیا آپ نے مسجد وزٹ کی ہے؟ مسجد کے بارہ میں آپ کا کیاخیال ہے؟

ابھی میں نے ساری عمارت تو نہیں دیکھی۔ میں اوپر مسجد کے ہال میں گیاتھا۔ وہ تو بہت اچھا لگ رہاتھا۔ بہرحال اپنے وسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم بہت بڑی مسجد تو تعمیر نہیں کرسکتے بلکہ کونسل بھی ہمیں بڑی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہ دیتی۔ جب ہم نے اس علاقہ میں مسجد تعمیر کرنا شروع کی تھی تو ہماری جماعت کی تعداد بہت کم تھی لیکن اب مجھے پتہ چلاہے کہ تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ اس لیے اگر سارے یہاں جمع ہوں تو میرے خیال میں باجماعت نماز کے لیے یہ مسجد کافی نہیں ہوگی۔ بہرحال ویسے مسجد بہت خوبصورت ہے۔ نقشہ کے اعتبار سے بہت اچھی ہے۔ میرے خیال میں اس سوال کا جواب آپ کو دیناچاہیے کہ آپ کو کیسی مسجد لگی؟ کیا یہ مسجد آپ لوگوں کے architectural design میں ضم ہوگئی ہے۔

٭صحافی نے پوچھاکہ یہ مسجد اتنی خاص کیوں ہے کہ آپ یہاں خود اس کا افتتاح کرنے کے لیے تشریف لائے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہماری یہاں ایک چھوٹی سی جماعت ہے اور میں کبھی کبھار یہاں آتاہوں۔ ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ مسجد عطافرمائی ہے ۔ اس لیے یہاں کی جماعت کے لوگوں کی خواہش تھی اور میری بھی خواہش تھی کہ میں یہاں آکر مسجد کا افتتاح کروں۔ جرمنی میں بھی ہم ہر سال چار، پانچ مساجد کا افتتاح کرتے ہیں۔ میں وہاں بھی جاتاہوں۔ جہاں جاسکتاہوں وہاں جاتاہوں۔ اس طرح میری مقامی احمدی لوگوں سے ملاقات بھی ہوجاتی ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے اور ان کے امام جماعت کے ساتھ تعلق میں بھی مضبوطی پیداہوتی ہے اور اس سے ان کو روحانیت میں ترقی کرنے کا بھی موقع ملتاہے۔

٭ اس کے بعد محمد ذیشان صاحب جو کہ یوروٹائمز بیلجیم کے نمائندہ تھے انہوں نے سوال کیا آج کل سیاستدان اور سائنسدان climate change کے حوالہ سے آگاہی دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس حوالہ سے حضورانور کا کیاخیال ہے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

یہ تو ظاہرہے کہ دنیا میں ہرجگہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر تعمیراتی علاقہ میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ لوگوں نے تو رہنا ہے، اس وجہ سے درختوں کو کاٹاجارہاہے اور deforestation کی جارہی ہے اور نئے درخت نہیں لگائے جارہے بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں۔ اس کے ساتھ ساتھ کاربن emissionکا باعث انڈسٹری بھی ایک وجہ ہے جو کہ ماحول کو متاثر کررہی ہے۔ پھر اس کے علاوہ میں نے کہاتھاکہ جنگوں سے بھی ماحول متاثر ہوتاہے اور اب تو کافی تجزیہ نگاروں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مڈل ایسٹ ممالک میں جاری جنگ کی وجہ سے emissionبھی گرمی میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔اس لیے یہ بھی climate changeکی ایک وجہ بن سکتی ہے بلکہ میرا خیال ہے ایک وجہ یہ بھی ہے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس ہمیں شجرکاری کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے اور پھر کاربن emissionکو کم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ پھر آج کل استعمال ہونے والے ہتھیار بھی emission پیداکررہے ہیں، انڈسٹری بھی ایک وجہ بن رہی ہے۔

٭ اسی صحافی نے پوچھا کہ ڈچ گورنمنٹ نے تمام گورنمنٹ کے اداروں کی عمارتوں میں حجاب اور برقع پر پابندی لگادی ہے۔ اس حوالہ سے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کیارائے ہے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

میرے نزدیک اگر کوئی کہتاہے کہ یہ میرا مذہبی فریضہ ہے کہ میں فلاں قسم کا لباس پہننا چاہتاہوں تو حکومتوں کو ان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ دوسروں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے والی بات بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں ایک سکھ نے تقریرکی جس میں اس نے کہا کہ مجھے پگڑی پہننے کا حق حاصل ہے اور ایک یہودی کو اپنی چھوٹی ٹوپی پہننے کا حق ہے، عیسائیوں کے بھی حقوق ہیں، اسی طرح اگر مسلمان عورتیں بغیر کسی زبردستی کے ، اپنی مرضی کے ساتھ برقع یا حجاب پہننا چاہتی ہیں تو انہیں ان کے اس حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔

٭ اس کے بعد ایک صحافی نے پوچھا کہ یہاں پریس کانفرنس میں کوئی بھی خاتون نہیں ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مجھے نہیں پتا کہ کوئی خاتون کیوں نہیں ہے؟ ورنہ میں جب جرمنی، امریکہ یا کینیڈا وغیرہ جاتاہوں تو وہاں پر تو پریس کانفرنسز میں کافی عورتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔

٭ پھر صحافی نے پوچھا کہ کیا عورتیں اس مسجد میں آسکتی ہیں اور کیا وہ مردوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پہلی بات تو یہ کہ عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت ہے۔ دوسرا یہ کہ اس مسجد میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت ہے لیکن ہماری مذہبی تعلیمات کی رُو سے عورتوں کو نماز پڑھنے کے لیے تقریباً مردوں کے ہال کی طرح ایک علیحدہ ہال مہیاکیاگیاہے۔بعض اوقات یہ ہال ساتھ ساتھ واقع ہوتے ہیں، بعض اوقات مرد اوپر اور عورتیں نیچے اور بعض اوقات مرد نیچے اور عورتیں اوپر ہوتی ہیں۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق اگر مرد اور عورت علیحدہ علیحدہ ہوں تو زیادہ بہتر رنگ میں نماز کی طرف توجہ کرسکتے ہیں۔

٭ اسی صحافی نے سوال کیاکہ کیا غیر مسلموں کو بھی اس مسجد میں آکر عبادت کرنے کی اجازت ہے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

بانی ٔاسلام رسولِ کریم ﷺ کے زمانہ میں آپ ﷺ کے پاس نجران سے ایک عیسائی وفد آیا اورجب وہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے ساتھ گفتگو کررہے تھے تو آپ ﷺ نے محسوس کیاکہ یہ لوگ کچھ مضطرب ہیں اور آرام محسوس نہیں کررہے۔ اس پر رسولِ کریم ﷺ نے استفسار فرمایاکہ کیا معاملہ ہے؟ وفد کے ممبران نے جواب دیا کہ ہماری عبادت کا وقت ہوگیاہے۔ شاید اس دن اتوارہو۔ تو ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے جہاں پر ہم اپنے مذہب اور روایات کے مطابق عبادت کرسکیں۔ اس پر رسولِ کریم ﷺ نے فرمایاکہ آپ ہماری مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں، آپ یہاں اپنی تعلیمات کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مساجد تو عبادت کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں۔ جو بھی واحد و ذوالجلال خدا کی عبادت کرنا چاہتاہے اسے یہاں آکر عبادت کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہاں بت تو نہیں رکھے جاتے اس لیے اگر آپ ایک خداکی عبادت کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں ۔ اسی لیے رسولِ کریم ﷺ نے بھی عیسائیوں کو اپنے طریق کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت عطافرمائی تھی ۔

پریس کانفرنس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد سے ملحقہ دفاتر، مشن ہاؤس اور مختلف جگہوں کا معائنہ فرمایا۔

مسجد کے قطعہ زمین کا کل رقبہ 1683مربع میٹر ہے۔ یہ قطعہ زمین دسمبر 2012ء میں دو لاکھ 76ہزار یورو میں خریدا گیا اور دسمبر 2014ء میں یہ قطعہ زمین جماعت کے نام رجسٹرڈ ہوا۔
7؍اکتوبر 2015ء کو حضورِانور نے اپنے دورۂ ہالینڈ کے دوران مسجد بیت العافیت کا سنگ بنیاد رکھا۔ ستمبر 2016ء میں باقاعدہ اس کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ مسجد کے لیے تعمیر ہونے والے حصہ کا رقبہ 558 مربع میٹر ہے۔ یہ مسجد دو منازل پر مشتمل ہے۔ مینار کی اونچائی ساڑے اٹھارہ میٹر ہے۔ مسجد کا گنبد بڑے سائز کا ہے اور فائبر گلاس سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ گنبد احمدیہ آرکیٹکٹ اینڈ انجنیئرز ایسوسی ایشن پاکستان نے تیار کرکے بھجوایا تھا۔

ایک ملٹی پرپز ہال بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد اور ملٹی پرپز ہال کو شامل کرکے دو صد سے زائد لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔

مربی ہاؤس کا رقبہ 111 مربع میٹر ہے۔ اس میں 3 بیڈرومز اور سیٹنگ روم کے علاوہ کچن اور 2واش رومز شامل ہیں۔

ملٹی پرپز ہال کا رقبہ 52.5 مربع میٹر ہے۔ گراؤنڈ فلور پر مقامی جماعت کے لیے دفتر، ٹیکنیکل ایریا، جماعتی کچن، ایک سٹور اور چار بیوت الخلا اور وضو کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ اسی طرح لجنہ کے حصہ میں بھی ایک دفتر اور چار بیوت الخلا اور وضو کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ مسجد کے بیرونی ایریا میں پارکنگ کے لیے بھی جگہ پختہ بنائی گئی ہے۔

اس مسجد کی تعمیر پر مجموعی خرچ قریباً 18لاکھ 81 ہزار یورو ہوا ہے۔

مسجد کے افتتاح کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام مسجد کے بیرونی علاقہ میں مردحضرات اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ مارکی لگا کر کیا گیا تھا۔

آج کی تقریب اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت کی حامل تھی کہ آج سے 64سال قبل 1955ء میں ہالینڈ کی سرزمین پر جماعت کی پہلی مسجد‘‘مسجد مبارک’’Den Haag میں تعمیر ہوئی تھی۔ اور 64 سال بعد المیرے شہر میں جماعت احمدیہ ہالینڈ کی باقاعدہ دوسری مسجد تعمیر ہوئی تھی اور اس کا افتتاح ہورہا تھا۔

حضورِانور کی آمد سے قبل تمام مہمان مارکی میں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس تقریب میں شامل ہونے والے مہمانوں کی تعداد 85 کے قریب تھی جن میں Almere کے ڈپٹی میئر، مختلف علاقوں کے کونسلرز، حکومتی اداروں کے نمائندے، پولیس اور سیکیورٹی کے نمائندے، چیئرمین ہندو کمیونٹی المیرے، سکھ کمیونٹی کے رہنما، Jewish کمیونٹی کے نمائندہ، ڈاکٹرز، پروفیسرز، ٹیچرز، وکلاء، بزنس مین، مسجد بیت العافیت المیرے کے آرکیٹیکٹ اور زندگی کے دوسرے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

پروگرام کے مطابق چھے بج کر دس منٹ پر حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مارکی میں تشریف لائے اور پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔

عطاء القیوم عارف صاحب نے تلاوت کی اور اس کاانگریزی زبان میں ترجمہ پیش کیا۔

٭بعد ازاں سب سے پہلے المیرے سٹی کونسل کے ممبر Ton Van der Berg جن کا تعلق سوشلسٹ پارٹی سے ہے نے اپنا مختصر ایڈریس پیش کیا۔ انہوں نے اپنے ایڈریس میں کہا:سب سے پہلے تو میں آنجناب امن کے خلیفہ کو ہالینڈ کے سب سے دلکش شہر میں خوش آمدید کہتاہوں۔ اپنی پارٹی کی طرف سے آپ کی جماعت کے لوگوں کو بھی خوش آمدید کہتاہوں جو کہ اس ملک کے مختلف علاقوں اور دیگر ممالک سے آج یہاں جمع ہوئے ہیں۔ میں اپنے ساتھی کونسلرزجو آج یہاں موجود ہیں ان کو بھی آداب پیش کرتاہوں۔ امام جماعت احمدیہ میرے خیال میں دوسری مرتبہ المیرے میں تشریف لائے ہیں۔ پہلی مرتبہ اکتوبر 2015ء میں تشریف لائے تھے جب آپ نے اس مسجد کا سنگِ بنیاد رکھاتھا۔ میں حضور کو اس شہر میں اس خوبصورت عمارت کا اضافہ کرنے پر مبارک باد پیش کرتاہوں۔ احمدی گوکہ مسلمان ممالک میں کافی مصیبتیں اور تکالیف جھیل رہے ہیں امن پسنداور قانون کی پیروی کرنے والے شہری ہیں۔ تاہم آپ لوگ اپنے نعرہ ‘محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں’کے ذریعہ بالآخر اس دنیا سے نفرت اور تعصب کو ختم کرنے والے بن جائیں گے۔

حضورکی یہاں تشریف آوری پر مَیں ایک مرتبہ پھر شکریہ اداکرتاہوں اور امید کرتاہوں کہ آپ کا ہالینڈ میں قیام بہت خوش گوار ہوگا۔

٭اس کے بعد Mr Rene Eekhuis جوکہ المیرے سٹی کونسل میں ایک سیاسی پارٹی ‘Respect Almere’کے چیئرمین ہیں انہوں نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ انہوں نے کہا:

آپ سب پر سلامتی ہو۔ ہماری سیاسی پارٹی کے مطابق مذہبی آزادی ہر ایک کے لیے ہے اور اس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ یہاں المیرے میں ایک مسجد اَور بھی ہے جو اپنے بچوں کو نفرت کرنا سکھاتے ہیں۔ ہم اس مسجد کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ چند ماہ قبل ہمیں آپ کی اس مسجد کی طرف سے دعوت ملی جو ہم نے قبول کرلی۔ ہم نے اپنی پارٹی کے سربراہ Gerdwin Lammers کے ہمراہ اس مسجد کا وزٹ کیا۔ ہماری پارٹی یہی چاہتی ہے کہ ہر ایک کو عزت دی جائے اور آپ کے لوکل امام سفیر صدیقی صاحب بھی یہی کررہے ہیں۔ ہماری پارٹی کے نزدیک اس طرح کے میل ملاپ سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں بہتری آتی ہے۔ آپ کی جماعت کے یہاں کے لوکل امام بات چیت کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اسی لیے المیرے میں جماعت احمدیہ کو خوش آمدید ہے۔ ہماری پارٹی کے نزدیک آپ کا‘محبت سب کے لیے ، نفرت کسی سے نہیں’ایک بہت ہی اچھا رویہ ہے۔ ہم المیرے میں مسجد بنانے پر آپ کو مبارکباد دیتے ہیں۔ آپ سب کا شکریہ ۔

اس کے بعد سکھ کمیونٹی کے ایک رہنما سردار Bhupindar Singh نے اپنا ایڈریس پیش کیا جس میں انہوں نے کہا: میں ہالینڈ میں موجود سکھ کمیونٹی کی طرف سے آج اس مقدس دن میں آپ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ میں آپ کے مرکز قادیان بھی گیاہوں جہاں مجھے نہایت عزت و احترام دیکھنے کو ملا اور پھر میں نے یہاں بھی جماعت احمدیہ کے لوگوں کو کام کرتے دیکھاہے، یہ لوگ بہت محنت سے کام کررہے ہیں۔ یہ لوگ قرآن پاک کے تراجم کررہے ہیں اور بنی نوع انسان کو خدا کا پیغام پہنچارہے ہیں جو کہ امن کے لیے پیار اور کسی سے نفرت نہ کرنے اور ہر مذہب اور ہرایک سے عزت و احترام سے پیش آنے کا پیغام ہے۔ لہٰذا میں یہاں المیرے میں اور ہالینڈ میں آپ لوگوں کی جماعت کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتاہوں۔ میں ایک مرتبہ پھر آپ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ میرے دل میں حضرت صاحب کی بے انتہا عزت و احترام ہے جوکہ انگلستان سے یہاں تشریف لائے۔ مجھے اپنی سوشلسٹ پارٹی کے دوست Mr Bommelاور دیگر کونسلرز کے ساتھ حضور سے دو مرتبہ ملنے کا شرف حاصل ہواہے۔ پس یہاں آج المیرے میں مسجد دیکھ کر میں بہت خوش ہوں۔ ہماری سکھ کمیونٹی بین المذاہب ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے اور ہم نے ایمسٹرڈیم میں اپنے پروگراموں میں آپ کی جماعت کو مدعو کیاہے اور انہوں نے ہمیں بہت سی ایسی باتیں سکھائی ہیں جن کا ہمیں علم نہیں تھا۔ ہمیں پتہ چلاکہ آپ لوگ بھی ایک خداپر ایمان لاتے ہیں جو کہ حقیقی خالق ہے اورباقی ذات پات کوئی چیز نہیں ہے۔ہرایک کے لیے ایک جیساپیارہے۔ اس وجہ سے سکھ کمیونٹی کے دل میں آپ سب کے لیے بہت زیادہ احترام ہے۔ ہم آپ کو ایک مرتبہ پھر مبارکباد دیتے ہیں۔

٭اس کے بعد امیرصاحب ہالینڈ نے اپنا ایڈریس پیش کیا جس میں انہوں نے مختصراً مسجد کے کوائف پیش کیے اور کہاکہ اس موقع پر Mr Farhan جو کہ آرکیٹیکٹ تھے اور Mr Vogelij جوکہ constructor تھےان کا ذکر کرنا چاہتاہوں۔ اس کے علاوہ IAAAEکی ٹیم، مقامی جماعت کے صدر Hanif Hendrick Sahib اور ان کی ٹیم کا ذکرکرنا چاہتاہوں جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔ اس کے علاوہ بیلجیم اور جرمنی کے بعض دوستوں کا بھی ذکرکرناچاہتاہوں جنہوں نےمسجد کی تعمیر میں حصہ لیا اور اسی طرح فنڈز اکٹھا کرنےو الی کمیٹی اور سنٹرل مسجد کی کمیٹی کا بھی ذکر کرناچاہتاہوں۔ نیز ان تمام مرد و خواتین اور بچوں کا جو کئی سال سے اس مسجد کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ ان سب کو یادرکھنا اور ان کا شکریہ اداکرنا بہت ضروری ہے۔
امیرصاحب نے کہا:اس مسجد کے پراجیکٹ پر رضاکاروں نے 6500گھنٹے بغیر کسی معاوضہ کے کام کیا۔ بہت بڑی تعداد ہے ان لوگوں کی جنہوں نے یہاں کام کیا۔ میں حضور کی خدمت میں ان سب کے لیے دعا کی درخواست بھی کرنا چاہتاہوں۔

٭اس کے بعد ڈچ سیاستدان Jerzy Soetekouw جن کا تعلق لیبر پارٹی (PVDA)سے ہے اور 2018ء سے بطور Aldermanکام کررہے ہیں اور اس کے علاوہ المیرے کے ڈپٹی میئر بھی ہیں، انہوں نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ موصوف نے کہا:

آج یہاں آنا میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر آپ سب کی تشریف آوری پر میں آپ کا شکریہ اداکرتاہوں۔ آپ میں سے اکثر جانتے ہوں گے کہ یہ قصبہ صرف 42سال پراناہے۔ اس طرح یہ ہالینڈ کا سب سے نیا شہر ہے اور آپ ایک نئی زمین پر کھڑے ہیں۔ اس قصبہ کی آبادی صفر سے شروع ہوکر 2 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا بھر سے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ المیرے میں آکر آباد ہوئے ہیں۔ پس آج ہم 140 ممالک سے تعلق رکھنے والی 119 نسلوں کی یکجہتی کو بھی منارہے ہیں۔ لوگوں کے مختلف ہونے میں بھی ایک خاص طاقت ہے۔ ہم لوگ یکجاہوکر ایک دوسرے کو متاثر کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے سے نئی نئی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ مسجد اور اس کا مقصد کہ ‘محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں ’مجھے بہت پسند آیاہے۔ ہم آج ایک نئی جماعت کو اس شہر میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

ڈپٹی میئر کے اور Alderman ہونے کی حیثیت سے میں اس مختلف ثقافتوں پر مبنی معاشرے کو سراہتاہوں۔ ہاں اگر آپ اس کثیرالجہتی کو واقعی منانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہماری دو ذمہ داریاں ہیں، ایک تو یہ کہ المیرے شہر کے ہر شہری کی بنیاد ایک ہی چیز پر مبنی ہونی چاہیے۔ المیرے میں آپ لوگوں کو مکمل آزادی ہے کہ آپ کسی چیز پر بھی یقین رکھیں اور اپنی مرضی سے رہیں۔ اس لیے تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ میں رہیں۔ یہ جگہ مختلف لوگوں سے بھری ہوئی دیکھ کر اندازا ہوجاتاہے کہ نئے رابطے بننے بھی شروع ہوگئے ہیں اور یہ بہت ہی زبردست چیز ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہم صرف اسی صورت میں آزاد کہلاسکتے ہیں جبکہ ہر انسان کے بنیادی حقوق کا احترام کیاجائے اور ہر ایک ہمارے اس شہر میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکے۔ یہاں پر پولیس بھی موجود ہے اور میں بحیثیت نائب میئر بھی آیاہواہوں اس لیے آپ لوگوں کا کوئی بھی مذہب اور عقیدہ ہو آپ اس شہر کے حکام پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔

تیسری بات یہ کہ ہم آپ لوگوں کی جماعت سے بہت کچھ سیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جیساکہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہم سب اس شہر میں نئے ہیں اور ہم سب مل کر ایک کمیونٹی کو جنم دے رہے ہیں۔ ہمارا ایک انوکھا مقام ہے کیونکہ سارے یورپ میں صرف ہمارا شہر ہی ہے جس میں صرف ایک نسل ہی ابھی تک آئی ہے۔ اس شہر کی تاریخ بہت مختصر ہے اس لیے ہم ہر روز اس شہر کی تاریخ رقم کررہے ہیں اور مسجد کاافتتاح بھی اس کا حصہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں بھی اور اس شہر کے دوسرے لوگ بھی آپ کی جماعت سے بہت کچھ سیکھیں گے۔ میں یہ بات ڈپٹی میئر ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس شہر کا ایک مکین ہونے کے ناطہ کہہ رہاہوں۔

ڈپٹی میئر نے اپنے ایڈریس کے آخر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ سب پر فضل کرے اور آئیے ہم سب مل کراس عظیم الشان شہر میں اس مسجد کے افتتاح کو مناتے ہیں۔ آپ سب کا شکریہ اور یہاں اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر آنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ آپ سب کا شکریہ۔

اس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے چھےبجکر چالیس منٹ پر انگریزی زبان میں خطاب فرمایا۔ اس خطاب کا اردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔

تشہد،تعوذ اورتسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

معزز مہمانانِ کرام، آپ سب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہو اور برکتیں نازل ہوں۔ سب سے پہلے تو میں آپ سب کا یہاں المیرے میں مسجد کے افتتاح کے اس پروگرام کی دعوت قبول کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔آج کل مغرب میں رہنے والے بہت سے لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں شکو ک و شبہات رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بہت سے لوگ اسلام اور اس کے ماننے والوں سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ آپ کا ہماری دعوت قبول کرنا اور یہاں آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ لوگ کھلے دل رکھنے والے لوگ ہیں اور مختلف کمیونٹیز اور اعتقادات رکھنے والے افراد کے مابین دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

اس سے آپ لوگوں کی بین المذاہب گفت و شنیدکی خواہش کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ انسانی اقدار کی اہمیت جانتے ہیں۔ میں دلی طور پر آپ کے اس رویہ پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ ہمارا مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مذہب ہر انسان کے اپنے دل کا معاملہ ہے جو وہ بغیر کسی جبر کے اختیار کرتا ہے۔

اس ضمن میں قرآنِ کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ مذہب کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔
مسجد کا افتتاح خالصتاً ایک مذہبی پروگرام ہے اور یہ آپ کے لیے کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ ہم احمدی مسلمان اپنی مساجد سے دلی اور جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ لہٰذا مسجد کا افتتاح ہمارے لیے بہت جذباتی اور خوشی کا موقع ہے کہ ہمیں یہاں اس شہر میں خداتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس کی عبادت کرنے کے لیے ایک جگہ میسر آگئی ہے۔ البتہ آپ تمام شاملین جو اس پروگرام میں شامل ہو رہے ہیں، آپ کی تو ایسی کوئی دلی وابستگی نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ کوشش کرکے اس پروگرام میں شریک ہوئے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ پیار کرنے والے، کھلے دل کے مالک اور برداشت کرنے والے لوگ ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مساجد بنانے کے مقاصد و وجوہات کیا ہیں۔مَیں اس پر بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ دوسرے مذاہب کے اعتقادات کا علم حاصل کرنا بھی اُن تقسیم کرنے والی دیواروں کو گرانے کے لیے اہم قدم ہے جو ہمارے بیچ حائل ہیں ۔ نیز اس سے ان افسانوی باتوں کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے جوکہ خواہ مخواہ کی بے چینی اور اضطراب پیدا کرتی ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

یقیناً یہ میرے لیے اور ہر امن پسند مسلمان کے لیے بہت دکھ کی بات ہے کہ کسی غیر مسلم ملک میں لوگوں میں اسلام کے بارے میں خوف ہو اور بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ مسلمان اور مساجد معاشرے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ چنانچہ اگر مقامی افراد میں اس حوالہ سے کوئی خدشات ہوں تو میں اب مساجد کی تعمیر کے مقاصد بیان کروں گا تاکہ آپ سب بہتر طور پر مسجد کی اہمیت سمجھ سکیں۔

مسجد کا بنیاد ی مقصد تو خدائے واحد کی عبادت کرنا ہے۔ چنانچہ مسجد وہ جگہ ہے جہاں مسلمان خدائے برتر کے سامنے سربسجود ہونے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔مسجد کی تعمیر کا دوسرا اہم مقصد یہ ہے کہ مسلمان اکٹھے ہوکر اپنے باہمی تعلقات کو بہتر کریں اور جماعتی اتحاد کو فروغ دیں۔ مساجد کی تعمیر کا تیسرا اہم مقصد ہے کہ مسجد غیر مسلم افراد کو اسلامی تعلیمات سے آگاہی کا ذریعہ ہو اور یہ کہ وسیع تر معاشرہ کے حقوق ادا کیے جائیں۔ پس مسجد ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں مسلمان جمع ہو کر بغیر کسی رنگ و نسل کے امتیازکے اپنے ہمسایوں اور معاشرے کے حقوق پورے کریں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

یہ واضح ہو کہ اگر کوئی مسجد امن اور ہمدردی ٔ انسانیت پھیلانے والی نہیں ہے، اور جہاں خداتعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حق ادا نہیں کیے جارہے تو پھر ایسی مسجد کھوکھلی ہے اور اس کی مثال خالی خول جیسی ہے۔ اسلام کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ بانیٔ اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک ایسی ہی نام نہاد مسجد تعمیر کی گئی تھی جہاں پر ضرر رساں عناصر پروان چڑھتے تھے اور معاشرہ میں باہم تقسیم کے بیج بوئے جاتے تھے۔ یہ مسلمانوں کے درمیان نفرت کے شعلے بھڑکانے نیز مسلمانوں اور دیگر فرقوں، خاص طور پر یہودی قبائل، کے درمیان جنگ کروانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ نتیجتاً قرآن شریف میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو یہ مسجد منہدم کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہ بد نیتی سے تعمیر کی گئی تھی۔ لہٰذا اس مسجد کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ واقع قرآن شریف میں بھی مذکور ہے ۔ اس لیے یہ واقعہ ہمیشہ مسلمانوں کے لیے پرزور تنبیہ کا کام کرے گا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی مسجد امن کے گہوارہ کے طور پر جہاں لوگ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے اکٹھے ہوں مستعمل نہیں ، بلکہ اس کی بجائے انتہا پسندی اور نسلی تعصب کو فروغ دیتی ہے تو یہ کبھی بھی اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتی اور نہ ہی حقیقی مسجد کہلانے کی حقدار ہے۔ایک مسجد کا مقصد صرف اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب نمازی مسجد میں اس مصمم ارادہ کے ساتھ داخل ہوں کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور بنی نوع کی بھلائی کے لیے اقدام کریں گے۔ مسجد کا مقصد صرف اسی صورت پوراہوسکتاہے جب عبادت کرنے والوں کے اندر بے نفسی، عاجزی اور بنی نوع انسان کی ہمدردی و محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ایک اَور چیز مَیں واضح کرناچاہتاہوں کہ ایک مسجد خالصتاً مذہبی اور روحانی عبادت گاہ ہے اور ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی مادیت پرستی اور ہر ایسی چیز سے آزاد ہو جس سے معاشرے کا امن برباد ہوتاہے۔ تمام ایسی کارروائیاں سختی سے منع ہیں اور بانیٔ اسلام ﷺ نے ایسی چیزوں کے لیے نفرت کا اظہار کیا ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مساجد میں صرف ایسے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت ہے جس میں خداتعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلائی جائے یا اسلام کی پُرامن تبلیغ کی طرف توجہ دلائی جائے یا معاشرے کی ضروریات پوری کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔جب ہم مساجد بناتے ہیں تو جہاں ہم خداتعالیٰ کی عبادت کے لیے پانچ وقت جمع ہوتے ہیں اور جہاں ہم یہاں پر اپنی روحانی اور اخلاقی بہتری کے لیے مذہبی پروگرام منعقد کرتے ہیں، وہاں باقاعدگی سے ایسے پروگرام بھی منعقد کرتے ہیں جن میں ہمسایوں اور وسیع تر معاشرے کی خدمت کرنے کے لیے سکیمیں سوچی جاتی ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہم ایسے منصوبے بناتے ہیں جن کے ذریعہ غربا اور ضرورت مندوں کی مدد کرسکتے ہیں اور یتیموں کے حقوق پورے کرسکتے ہیں اور معاشرہ کے محروم اور کمزور طبقہ کو اشیائے خورونوش مہیاکرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان مساعی میں اضافہ کرنے کے لیے ہم نے ایک عالمی رفاعی ادارہ ‘ہیومینٹی فرسٹ’کے نام سے قائم کیاہے۔ ہم سال بھر مقامی سطح پر دنیا بھر میں چیریٹی کی مختلف تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر افریقہ میں جہاں ہم دوسروں کو اسلام کی تعلیمات متعارف کروانے کے علاوہ مساجد تعمیر کرتے ہیں وہاں مقامی لوگوں کی نسل اور مذہب سے بالاہوکر امداد بھی کرتے ہیں۔ ہم ہسپتال، کلینک اور سکول تعمیرکرتے ہیں جہاں ہر ایک کو خوش آمدید کہاجاتاہے۔ درحقیقت وہ لوگ جو ہمارے سکولوں اور ہسپتالوں میں آتے ہیں ان میں سے اکثریت کا ہماری جماعت سے تعلق نہیں ہوتا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پھر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت اور محروم طبقہ کی مدد کرنے کا مقصد لےکر ہم نے انسانی خدمت کا ایک پراجیکٹ شروع کیاہے جس کے ذریعہ افریقہ کے دوردراز کے دیہاتوں اور قصبوں میں پانی مہیاکرتے ہیں۔ ہمارے انجینئرز بورنکال کر نلکے لگاتے ہیں جو کہ مقامی لوگوں کو بآسانی پینے کا صاف پانی مہیاکرتے ہیں ۔ جب تک آپ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، آپ اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کس طرح مقامی لوگ جنہیں صاف پانی کا خیال تک نہیں ہوتا وہ پہلی دفعہ ٹوٹیوں سے بہتا ہوا پانی دیکھ کر نہایت خوشی اور جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ انتہائی غربت اور افلاس میں جنم لینے والے معصوم بچے اپنی حیرت اور خوشی پر قابونہیں پاسکتے۔ یہ مقامی لوگ نسل درنسل روزانہ کی بنیاد پر اپنے سروں پر برتن اوربالٹیاں رکھ کر میلوں کا فاصلہ طے کرکے گھریلو استعمال کے لیے تالابوں سے پانی لے کر آنے پر مجبور ہوتے ہیں اوریہ پانی جس کے لیے وہ اتنی مشقت کرتے ہیں وہ بھی آلودہ ہوتاہے اور کئی بیماریوں کا موجب ہوتاہے۔ پس اس صورتِ حال میں جب یہ مایوسی کا شکار لوگ تازہ اور صاف پانی دیکھتے ہیں تو ایسے لگ رہاہوتاہے جیسے انہیں ساری دنیا کے خزانے مل گئے ہوں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پس ہمارا ایمان ہے کہ اگر ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت اور مسجد کے حقوق اداکرنے کی خواہش رکھتاہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے بھی حقوق اداکرے۔ مسلمان کی نظر میں اللہ تعالیٰ کی خدمت اور انسانیت کی خدمت آپس میں لازمی طورپر جڑی ہوئی ہے۔ اگر ایک مسلمان خدانخوانستہ دوسروں کو تکلیف اور پریشانی دیتاہے اور ہمدردی نہیں دکھا سکتا تو وہ باوجودیکہ باقاعدگی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرتاہے ، اس کی تمام عبادات بے معنی اور فضول ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی سورۃ الماعون کی آیات 3 تا 7 میں بیان فرماتا ہے کہ ‘وہی شخص ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے۔ اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ پس ان نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔’ ایسے لوگ دکھاوا کرتے ہیں کیونکہ وہ حقوق العباد پورے نہیں کر رہے ہوتے۔ پس ایسے لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو اس کی عبادت توکرتے ہیں لیکن کمزور اور ضرورت مندوں کے حقوق ادانہیں کرتے اور یہ اعلان کیاگیاہے کہ ایسے لوگوں کی دعائیں کبھی قبول نہیں ہوں گی ، ان کی عبادتیں اوران کا مسجدوں میں جانا دھوکا دہی اور دکھاوے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔قرآن کریم کے اس حوالہ سے بالکل واضح ہے کہ ایسے لوگوں کی عبادتیں لایعنی ہیں اور ان کی یہ منافقانہ حرکتیں انہیں صرف رسوائی اور تباہی کی طرف لے کر جائیں گی۔پس ایک مسجد ہماری توجہ صرف خدا تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کی طرف ہی مبذول نہیں کرواتی بلکہ بنی انسان کے حقوق اور خدمتِ انسانیت کی اہمیت بھی بتلاتی ہے۔ جب ایک حقیقی مسجد کے پیچھے یہ بنیادی مقاصد ہوں تو پھر آپ لوگوں کے پاس اس مسجد سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اسلام نے باربار ہمسایوں کا خیال رکھنے اور ان کے حقوق اداکرنے پر زور دیاہے۔ مثال کے طور پر سورۃ النساء کی آیت 37 میں جہاں قرآن کریم مسلمانوں کو یہ حکم دیتاہے کہ وہ اپنے والدین اور اپنے خاندانوں سے پیار و محبت کاسلوک کریں وہاں اس بات کا بھی حکم دیتاہے کہ آپ معاشرے کےکمزور لوگوں کی ضروریات پوری کریں اور پھر ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی کا خاص طور پر ذکرکیاگیاہے۔ مسلمانوں کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ خواہ ان کے ساتھ ذاتی تعلق ہو یا نہ ہو پیارکرنے اور ان کی حفاظت کرنے اور بوقتِ ضرورت ان کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیاررہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اسلام میں ہمسایہ کی تعریف بہت وسیع ہے۔ اس میں آپ کے ساتھ کام کرنےو الے، آپ کے ماتحت آنے والے اور سفر میں ساتھ بیٹھنے والے بھی شامل ہیں۔ اس میں صرف وہی لوگ شامل نہیں ہیں جن کے گھرآپ کے گھروں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں بلکہ اس میں تمام لوگ شامل ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایاکہ آپ کے اردگرد کے چالیس گھر ہمسائیگی میں شامل ہیں۔ پس یہ کہاجاسکتاہے کہ اس شہر کے تمام لوگ اس مسجد یا اس مسجد میں عبادت کرنے والوں کے ہمسایہ ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ ہمارے ہمسائے مسلمان ہیں یا غیر مسلم، ان کا خیال رکھنا، ان کے حقوق پورے کرنا اور اس بات کی یقین دہانی کرنا کہ ہم ان کے لیے کوئی مسئلہ یا مشکل پیدا نہ کریں ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ یہ ہماری طرف سے کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ درحقیقت رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمسایوں کےحقوق کی ادائیگی کی اہمیت پر اس قدر زور دیاکہ مجھے لگاکہ شاید ہمسایوں کو وراثت کے حقوق مل جائیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مختصراً اب یہ مسجد تعمیر ہوئی ہے اس سے ہمارے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقوق میں ہی صرف اضافہ نہیں ہوابلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشرہ کی خدمت کرنے اور معاشرہ میں مثبت حصہ ڈالنے کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ یہاں کے مقامی احمدی اس شہر کے تمام لوگوں کو اپنا ہمسایہ سمجھیں گے اور اپنے ذمہ ان کے حقوق کو سمجھیں گے اور ان حقوق کواپنی تمام تر قابلیتوں کے ساتھ پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ جب کبھی آپ کو ہماری مدد کی ضرورت ہوگی تو ہم جس طرح بھی ہو سکا آپ کی مدد اور تعاون کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں کے مقامی احمدی مسلمان مقامی معاشرہ کی طرف اپنے اوپر عائد فرائض کو نہایت سنجیدگی سے لیں گے اور ہمیشہ اس شہر میں بھرپور حصہ ڈالنے کی پوری کوشش کریں گے اور وفادار اور خیرخواہ شہری بنیں گے جو کہ اپنے معاشرہ کا بھرپورخیال رکھنے والے ہوں گے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ان باتوں کی روشنی میں میں اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مقامی احمدی مسلمان احباب کو بھی توجہ دلانا چاہوں گاکہ انہیں ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرناچاہیے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنا اور معاشرہ کی خدمت کرنا چاہیے۔امید ہے کہ وہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنے ہمسایوں اور دیگر مقامی لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے حوالہ سے موجود خوف و خدشات اور غلط نظریات کو دور کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔ ان شاء اللہ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مجھے یقین ہے کہ اب اس مسجد کا افتتاح ہوچکاہے اس کی وجہ سے ہماری جماعت اوریہاں کے مقامی لوگ مزید قریب آجائیں گے اور ہمارے درمیان دوستی کا یہ بندھن مضبوط سے مضبوط تر ہوتاچلاجائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ باہمی پیار و محبت کی روح میں اضافہ ہوتاچلاجائے گا اور آپ لوگ اس مسجد کو امن اور بنی نوع انسان کی بھلائی کی علامت کے طور پر دیکھیں گے۔ اس وقت پہلے سے کہیں بڑھ کر ہم سب پر فرض ہے خواہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم، کہ ہم مذہبی تضادات کو ایک طرف کرکے امن کے قیام کے لیے مل کر کام کریں اور انسانیت کے نام پر یکجاہوجائیں اور اپنی قوم کی بہتری کے لیے کام کریں اور دنیا میں امن قائم کرنے کی پوری کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ بنی نو ع انسان کو یہ سب کرنے کے قابل بنائے اور حکمت عطاکرے۔ آمین

آخر پر میری دعاہے کہ یہ مسجد ہمیشہ کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہو جس سے ہر طرف انسانی ہمدردی ، امن اور پیارہی پھوٹے۔ آمین

ان الفاظ کے ساتھ میں آپ سب کا اس مبارک تقریب میں شمولیت پر ایک مرتبہ پھر شکریہ اداکرتاہوں۔
آخرپر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعاکروائی جس میں تمام مہمان اپنے اپنے طریق پر شامل ہوئے۔

بعدازاں اس تقریب میں شامل تمام مہمانوں نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی معیّت میں کھانا تناول کیا۔ کھانے کے بعد بعض مہمانوں نے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔

اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کچھ دیر کے لیے خواتین کی مارکی میں تشریف لے گئے۔

پروگرام کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد بیت العافیت تشریف لا کر نمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد واپس نن سپیٹ جانے کے لیے روانگی ہوئی۔

نو بج کر پنتالیس منٹ پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ‘‘بیت النور’’نن سپیٹ تشریف آوری ہوئی اورحضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گا ہ پر تشریف لے گئے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس خطاب نے اس تقریب میں شامل ہونے والے مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ بعض مہمانوں نے اپنے تاثرات اور جذبات کا اظہار کیا۔

المیرے (Almere) چرچ کے چیئرمین مایووتیزل صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا

آپ کی جماعت کا پیغام امن کا پیغام ہے۔ آپ کے خلیفہ نے امن اور مذہبی آزادی پر بہت ہی عمدہ تقریر کی ہے۔ المیرے میں پہلے کیتھولکس اور پروٹیسٹنٹس مل کر امن کے ساتھ رہتے تھے اور اب امید ہے کہ احمدی بھی ہمارے ساتھ مل کر امن کے ساتھ رہیں گے۔

ایک لوکل ڈچ مہمان یونا سےصاحب نے بیان کیا:

مجھے کچھ عرصہ پہلے افتتاح کا دعوت نامہ ملا تھا۔ آپ کی جماعت کی یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ آپ کے خلیفہ کا پیغام بہت واضح تھا اور میں ان شاء اللہ پھر اس مسجد میں آؤں گا۔

ایک عرب مہمان الولید صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:آپ کے پروگرام میں آکر بہت اچھا لگا۔ میں کچھ عرصہ سےآپ کی جماعت کا تعارف حاصل کر رہا ہوں۔ دنیا کو آپ کی جماعت کے امن کے پیغام کی ضرورت ہے اور آپ کے خلیفہ کا خطاب مجھے بہت پسند آیا کہ یہ مسجد امن کا کردار ادا کرے گی۔

ایک ڈچ خاتون حینی صاحبہ نے کہا:

‘‘خلیفہ کا پیغام امن کا پیغام ہے۔ میں المیرے میں رہتی ہوں۔ مجھے بہت اچھا لگا کہ آپ نے ہمیں اپنی مسجد کے افتتاح کے موقع پر مدعو کیا ہے۔ آپ کی جماعت بہت مہمان نواز ہے۔ آپ کے خلیفہ کا امن کا پیغام ہماری عیسائی تعلیمات سے کافی ملتا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ آپ کی جماعت ہمارے ساتھ مل کر اس علاقہ میں امن کو قائم رکھیں گے۔’’

چیئرپرسن مندویونیدو (NGO) پیٹریشاحافے مان صاحبہ کہتی ہیں۔ میں دی ہیگ سے آئی ہوں اور مجھے آپ کے پروگرام کی آرگنائزیشن بہت عمدہ لگی۔ میں آپ کے خلیفہ سے پہلے مل چکی ہوں۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ آپ کے خلیفہ اور آپ کی جماعت ہمارے ساتھ مل کر آج کل کے معاشرے کے کئی مسائل حل کر سکتے ہیں۔

ایک عرب مہمان زکریا الاظہر صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:آج کا پروگرام بہت اچھا تھا۔ آپ کے خلیفہ کی تقریر بہت عمدہ تھی اور اگر ہم امن چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی تقریر پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔اور ایک عرب ہونے کے ناطے میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پروگرام کے شروع میں تلاوت قرآن کریم کی گئی تھی جو مجھے دیکھ کر بہت اچھا لگا۔

ایک لوکل مہمان دینے کے صاحبہ نے بیان کیا:

آپ کا پروگرام بہت عمدہ طریقہ سے آرگنائز کیا گیا ہے۔ آپ کے خلیفہ کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ خلیفہ کی تقریر بہت اچھی تھی۔ آپ کے پروگرام کی یہ بات بھی اچھی ہے کہ آپ نے عورتوں کے لیے بھی اچھا انتظام کیا ہوا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں آئندہ پھر کبھی اس مسجد میں آؤں اور آپ کی جماعت کی عورتوں سے بھی ملوں۔

ایک لوکل مہمان فیلپ (Filip)صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مجھے آپ کی مسجد دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس لیے میں آج یہاں آیا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نےآپ کے خلیفہ کو بھی دیکھ لیا ہے تو آج کا دن میرے لیے بہت سپیشل ہے۔ آپ کے خلیفہ کی تقریر کا مجھ پر بہت اچھا اثر ہوا ہے۔

ایک لوکل مہمان ایدوِن صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

یہ پہلا موقع ہے کہ میں مسلمانوں کے اس قسم کے پروگرام میں آرہاہوں۔ آنے سے پہلے میرے ہمسائے نے کہا تھا بچ کر رہنا۔ مسلمانوں کا کچھ پتہ نہیں کب کیا کردیں۔ لیکن مجھے یہاں آکر بہت اچھا لگا۔ آپ کی جماعت کے لوگوں نے ہمارا شروع سے لے کر آخر تک خیال رکھا اور آپ کی مہمان نوازی یادگار رہے گی۔ آپ کے خلیفہ کے خطاب سے ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ امن پسند ہیں اورالمیرے شہر کے ماحول کو خراب نہیں کریں گے۔

ایک لوکل خاتون مہمان ایولِن صاحبہ نے بیان کیا:

آپ کے خلیفہ کی تقریر آج کل کے حالات میں بہت ضروری ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ دنیا کو اسلام کی یہ تصویر نہیں دکھائی جاتی۔ آپ کی جماعت کے لوگ بہت محنتی ہیں اور مہمان نواز ہیں۔ میں نے آج اس مسجد کو پہلی بار دیکھا ہے۔ مگر میں آئندہ بھی یہاں آناچاہتی ہوں کیونکہ آپ کی مسجد میں مجھے سکون ملا ہے۔

ایک سکھ خاتون گرپریت کور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:ہم آپ کی جماعت کو کافی عرصہ سے جانتے ہیں۔ ہم قادیان بھی جا چکے ہیں اور انڈیا میں ہمارا گھر امرتسر ہے۔ آپ کے آج کے اس پروگرام میں آکر بہت اچھا لگا۔ آپ سب باہم ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں جوکہ آج کے دور میں نہایت ضروری ہے۔

……………………………………………………………(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close