رپورٹ دورہ حضور انور

ہالینڈ کے واقفینِ نَو بچوں کی امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ساتھ کلاس

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ہالینڈ 2019ء

………………………

30؍ستمبر2019ء بروزسوموار (آخری حصہ)

……………………

بعدازاں سات بجے واقفین نو بچوں کی کلاس حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ شروع ہوئی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم علی شہریار نے کی۔ اس کا اردو ترجمہ عزیزم طٰہٰ شکیل نے پیش کیا۔

اس کے بعد عزیزم ندیم احمد نے آنحضرت ﷺ کی حدیث مبارکہ کا عربی متن پیش کیا جس کا درج ذیل اردو ترجمہ عزیزم مسرور احمد نے پیش کیا۔

‘‘حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میری تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ مجھے گالیاں دیتا ہے حالانکہ اسے ایسا کرنے کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ اس طرح پیدا نہیں کرسکتا۔ جس طرح اس نے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے اور مجھے گالی دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے۔ حالانکہ میری ذات صمد یعنی بے نیاز ہے اور نہ میرا کوئی بیٹا ہے اور نہ میں جنا گیا ہوں۔ یعنی نہ میں کسی کا بیٹا ہوں اور نہ ہی میرا کوئی ہمسر ہو سکتا ہے۔’’

(مسند احمد۔ جلد نمبر2 صفحہ 317)

بعدازاں عزیزم خرم شہزاد نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس پیش کیا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

‘‘پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پید اہوئی ہے۔ خدا کا شناخت کرنانبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے۔ اس لیے یہ خود غیرممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے توحید مل سکے۔ نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی طرح آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے، دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے۔ تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس جن لوگوں کا وجود ضروری طور پر خدا کے قدیم قانون ازلی کے رو سے خدا شناسی کے لیے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے ان پر ایمان لانا توحید کی ایک جزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ بغیر اُن آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص توحید جو چشمہ یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آسکے۔ وہی ایک قوم ہے جو خدا نما ہے۔ جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق دردقیق اور مخفی درمخفی اور غیب الغیب ہے، ظاہر ہوتاہے۔ اور ہمیشہ سے وہ کنز مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ ورنہ وہ توحید جو خدا کے نزدیک توحید کہلاتی ہے۔ جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے۔’’

(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 116-115)

اس کے بعد عزیزم حسن محمود نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نظم

حمد و ثناء اُسی کو جو ذات جاودانی

ہم سَر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی

میں سے منتخبہ اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر سنائے۔

بعدازاں عزیزم نوراحمد رضا اور عزیزم حمزہ ابتسام نے ‘‘ہستی باری تعالیٰ’’کے عنوان پر اپنا مضمون پیش کرتے ہوئے مختلف دلائل دیے۔

اس کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے واقفین نو بچوں کو سوالات کرنے کی اجازت عطافرمائی۔

٭ ایک بچے نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا کیوں بنائی ہے؟

اس کے جواب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ تم کاغذ کی کشتی بناتے ہو؟ تمہارا دل چاہتاہے توبناتے ہو۔ تو اللہ کی بھی مرضی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی،پھر یہ دنیا بھی بنائی، پھر اس میں انسان پیداکیے۔ پھراللہ تعالیٰ نے کہاہے کہ میں نے یہ دنیا بے مقصد نہیں بنائی۔ اس کا ایک مقصد بھی ہے۔تاکہ جو نیک لوگ ہیں، ان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دے، پھران سے خوش ہو، ان کو انعام دے۔تو اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا بنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہاہے کہ میری باتیں مانا کرواور نیک کام کیاکرو۔ پھر میں تمہیں انعام دیاکروں گا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جب تم بڑے ہوجاؤ گے تو پھر تمہیں دنیا بنانے کا اور بھی مقصد پتا لگ جائے گا ۔

٭ ایک بچے نے سوال کیاکہ ہم ہالینڈ میں احمدیت کس طرح پھیلا سکتے ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تمہاراکام یہ ہے کہ تم اچھے کام کرو۔تم بتاؤ کہ میں احمدی مسلمان ہوں۔ نیک کام کرو۔ نماز کا وقت ہوجائے تو ٹیچر سے اجازت لیکرسکول میں نماز پڑھو۔ لوگ پوچھیں گے کہ کیاکرتے ہو تو کہوکہ عبادت کرتے ہیں اور پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کی عبادت کرو۔ نیک کام کرو تو لوگ attractہوں گے۔ اچھی باتیں کرو، شرارتیں نہ کرو۔ غلط کام نہ کرو۔ تو لوگوں کو توجہ پیداہوگی کہ کس طرح کے یہ بچے ہیں کہ اچھے کام کرتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:پڑھائی میں بھی اچھے ہو، کھیلوں میں بھی اچھے ہوتو توجہ پیداہوجائے گی۔پھر جب احمدیت کا تعارف ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔دل تو اللہ تعالیٰ نے کھولنا ہے۔ پھر ایک وقت آئے گا جب لوگوں کی خود ہی توجہ ہوگی، ان کو پتہ ہوگاکہ ہمیں ایک لڑکے نے بتایاتھاکہ احمدیت کیا چیز ہے۔ جو نیک لوگ ہوں گے ان کی خود ہی مذہب کی طرف توجہ پیداہوجائے گی ۔ زبردستی تو کسی کو احمدی نہیں بنایاجاسکتا۔اللہ تعالیٰ نے کہہ دیاہے کہ زبردستی کچھ نہیں کرنا۔ ہاں اچھے کام کرو تو لوگ خودبخود تمہیں دیکھ کر تمہاری طرف توجہ کریں گے ، پھر ریسرچ کریں گے اور پھرکسی وقت احمدی بھی ہوجائیں گے ۔

٭ ایک خادم نے سوال کیا کہ حضورکو جب فری ٹائم ملتاہے تو اس میں حضورکیاکرتے ہیں؟

اس کے جواب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:سب سے پہلے تو میں کوشش کرتاہوں کہ مجھے فری ٹائم مل جائے۔

٭ ایک بچے نے سوال کیاکہ دنیا میں سب سے پہلی چیز کیابنی تھی؟

اس کے جواب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہ تو اللہ تعالیٰ کو پتا ہے کہ اس نے سب سے پہلے کیا بنایا ۔ بہر حال جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو یہ بڑی گرم چیز تھی، آگ تھی، کوئلہ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس پر بارش ہوئی، ٹھنڈی ہوئی۔ دنیا سے مراد اگر یہ زمین ہےتو یہاں پہلے آگ تھی، پھر آہستہ آہستہ ٹھندی ہوئی۔ پھر اس میں آبادی آئی۔اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کتنی زمینیں بنائی ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتاہے۔ یہ جو ہماری دنیا ہے، یہ بھی تو کئی ارب سال پرانی ہے۔ لاکھوں ارب سال پرانی ہے۔ اتنی پرانی ہسٹری کون جانتاہے کہ پہلی چیز کیاتھی۔ ہاں یہ ہے کہ یہ جو زمین کی موجودہ شکل ہے اس سے پہلے یہ آگ کا گولہ تھی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اور اس میں آبادی آتی گئی۔ پہلے بیکٹیریا پیداہوئے، پھر اور جاندار اور جانور پیداہوئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے evolution سے اس دنیا کو آباد کیا۔

٭ ایک بچے نے سوال کیاکہ جن واقفینِ نو بچوں کو بڑا ہوکر مربی بنناہے لیکن ان کے اندر ابھی مربی بننے کا شوق نہیں ہے ، وہ کیاکرسکتے ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:کس نے کہاہے کہ اگر interest نہیں ہے تو پھر بھی مربی بنناہے۔ زبردستی تو کوئی نہیں کررہا۔اگرتمہارے ماں باپ کی خواہش ہے کہ تم مربی بنو اور تمہارا interestہے کہ تم ڈاکٹر بنو تو ڈاکٹر بن جاؤ، اگر انجینئر بننے کا شوق ہے تو انجینئر بن جاؤ، lawyer بننے کاشوق ہے تو lawyerبن جاؤ۔ یااگر کوئی اور کام کرناہے تو اجازت لے کر کرسکتے ہو۔ بے شمار واقفینِ نو ہیں۔ ہر ایک تو جامعہ میں جابھی نہیں سکتا اور جاتے بھی نہیں ۔ ہاں ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ مربی بنے۔ لیکن پہلی choiceتمہاری ہے۔ اگر تمہارا دل چاہتاہے یا تمہارے پاس optionsہیں اور تمہیں نہیں پتا کہ کیا بننا ہے تو پھر پہلی optionمربی کی ہونی چاہیے۔ پھر ڈاکٹرز ہیں، ٹیچرز ہیں اور جو دوسرے شعبہ ہیں ان کو لے سکتے ہو۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر بچے نے بتایاکہ وہ مربی بنناچاہتاہے۔ اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ تم تو مربی بننا چاہتے ہو تو تمہیں کس چیز کی فکر ہے؟ باقی جس نے جو بھی بنناہے وہ بنے، مجھے لکھ کر بتادیاکرو۔

٭ ایک بچے نے سوال کیاکہ حضورانور نے کون سی دعاکی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے بن گئے ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا: اللہ تعالیٰ سے ویسے ہی دعاکرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجائے۔ اگر تمہاراخیال یہ ہے کہ خلیفہ بننے کے لیے دعاکی تھی تو کوئی بھی یہ دعانہیں کرتا۔ہاں یہ دعاکرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیکیوں کی توفیق دے، ہمیں اچھا احمدی بنائے، ہمیں خلیفہ وقت کی باتیں ماننے والا بنائے، اور نیک کام کرنے والا بنائے۔ یہ دعا کیا کرو۔

٭ ایک بچے نے سوال کیاکہ جب ہم سفر کررہے ہوتے ہیں اور نماز کا وقت ہوجائے تو ہم ٹرین یا گاڑی میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں لیکن ہمیں خانہ کعبہ کا رخ کا پتہ نہیں ہوتا۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جب تم سفر کررہے ہو تو اس میں اجازت ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اجازت دی ہوئی ہے۔ اگر تمہیں قبلہ کے رخ کا نہیں پتا اور مجبوری ہے تو نماز پڑھنا زیادہ ضروری ہے۔ عبادت تو اللہ کی ہی کررہے ہو۔ جہاں مجبوری ہے وہاں تم پڑھ سکتے ہو۔کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن نماز وقت پر پڑھنی چاہیے۔ نماز ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

٭ اس بچے نے عرض کیاکہ میری نظر بہت کمزور ہوگئی ہے۔ اس کے لیے دعاکی درخواست کرنی تھی۔
اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ اپنی آنکھوں کی میڈیکل رپورٹ لکھ کر مجھے بھیجو۔ پھر ہومیوپیتھی دوائی استعمال کرنا۔

٭ ایک خادم نے عرض کیاکہ میری ایک عیسائی دوست سے بحث ہورہی تھی۔وہ کہہ رہاتھاکہ اگر صرف عیسیٰ علیہ السلام پر ہی ایمان لے آؤ تو تمہیں جنت حاصل ہوجائے گی۔ میں اس کا کوئی صحیح جواب نہیں دے سکاتھا۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا:اسے کہوکہ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔ تم کہتے ہوکہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لاؤ، ہم تو کہتے ہیں کہ سارے نبیوں پر ایمان لاؤ تو جنت ملتی ہے۔ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی نبی مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں اوران کو اللہ تعالیٰ کا سچا نبی مانتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے آنے کی انہی کی پیشگوئی تھی جوکہ بائیبل میں بھی موجود ہے۔ اس کے مطابق ہم آنحضرت ﷺ کو بھی مانتے ہیں۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر آنحضرت ﷺ نے آنے والے مسیح کی پیشگوئی کی اور ہم اس کو بھی مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں لکھاہے کہ سارے نبیوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم تو ایمان لاتے ہیں۔

حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اسے کہو کہ اگر تو جنت تم نے دینی ہے تو نہ دینا۔ اگر جنت اللہ تعالیٰ نے دینی ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کی بات سن کر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں ، اگر جنت تمہارے ہاتھ میں ہے تو ہم ایسی جنت سے باز آئے۔ اس میں بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بعض ضدی آدمی ہوتے ہیں ۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ یہ کہاں لکھاہواہے کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آؤ تو تمہیں جنت مل جائے گی۔ آنحضرت ﷺ نے تو اپنی بیٹی کو بھی فرمایاکہ اگر تم نے نیک عمل نہ کیے تو یہ نہ سمجھنا کہ تم رسول کی بیٹی ہوکر جنت میں چلی جاؤ گی۔ ع

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

اس لیے اپنے عمل نیک ہوں گے تواللہ تعالیٰ اس کا بہترreward دیتاہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتاہے کہ میں معاف کردیتاہوں۔ ایک شخص تھا جو بہت گنہگار تھا ، اس نے ننانوے قتل کردیے تھے ۔ ہرکوئی اسے کہتاتھاتم دوزخ میں جاؤ گے اور جو بھی اسے کہتاکہ تم دوزخ میں جاؤگے تو وہ اسے بھی قتل کردیتا۔بالآخر کسی نے اسے بتایاکہ تم فلاں شخص کے پاس جاؤ، وہ تمہیں جنت کا راستہ بتائے گا۔ وہ اس طرف چل پڑا ۔ وہ چل رہاتھاکہ راستہ میں اس کو موت آگئی۔ اب وہاں جنت کے فرشتے بھی آگئے اور دوزخ کے فرشتے بھی آگئے۔دوزخ کے فرشتے کہیں کہ ہم نے اسے لے کر جانا ہے کیونکہ اس نے گناہ کیے ہوئے ہیں۔ جنت کے فرشتے کہیں کہ نہیں! یہ نیکی کی طرف جارہاتھا، ہم نے اسے جنت میں لے کر جاناہے۔ خیر بڑی بحث کے بعد فیصلہ ہواکہ فاصلہ ناپاجائے۔اگر تو جنت کاراستہ تلاش کرنے جس بزرگ کی طرف جارہاتھا وہاں کا فاصلہ کم ہوا توپھر جنت میں چلاجائے گا ۔ لیکن اگر جہاں سے آیا تھا وہاں سے فاصلہ کم ہواتو پھر دوزخ میں چلاجائے گا۔ یہ حدیث ہی ہے۔ اورجب پیمائش کرنے لگے تو نیکی کی طرف جانے والا جو فاصلہ تھا وہ کم تھا اور اس طرف اس کے قدم زیادہ ہوگئے تواللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں ڈال دیااس کے اس حسنِ ظن پر کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے اور اس نے آخری وقت تک کوشش کی۔ توانجام بخیر ہونے کی دعاکرنی چاہیے۔ اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے rewardدیناہے۔ باقی کسی بندے نے جنت میں لے کرنہیں جاناہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:ہاں، اللہ تعالیٰ نے یہ ضرورکہاہے کہ تم آنحضور ﷺ کو مانولیکن ان کی تعلیم پر بھی عمل کرو۔ قرآن شریف میں لکھاہواہے کہ ظاہری نمازیں پڑھ لینا اور مسلمان کہہ دیناکافی نہیں ہے۔ قرآن شریف میں لکھاہواہے فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّیْن۔کہ یہ نمازیں ہلاکت کا باعث بن جاتی ہیں۔ ان نمازوں سے مار پڑجاتی ہے۔ ہرچیز کرو توپھر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے بنتے ہو۔ صرف کلمہ پڑھنے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا۔ ٹھیک ہے، شرک نہیں کرنا۔ شرک ایک بہت بڑا جُرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتاہے کہ میں نہیں بخشوں گا۔لیکن اصل یہ ہے کہ مسلمان ہوکر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ جنت و دوزخ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرناہے اور وہی کرے گا۔ اس دنیا میں کوئی نہیں بتاسکتاکہ کون جنت میں جائے گا اور کون دوزخ میں۔ اس لیے ہر وقت استغفارکرنی چاہیے اور اپنے انجام اچھے ہونے کی دعاکرنی چاہیے۔

٭ ایک خادم نے سوال کیاکہ کیا حضورانور نے تیسری عالمی جنگ کے لیے کوئی تیاری کی ہے؟ ہمیں کس قسم کے measures لینے چاہئیں ؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا: تم میرے خطبے سنتے ہو؟ میرے غیروں کے ساتھ بہت سارے ایڈریسز ہیں ان میں میں کہہ چکاہوں کہ ہم بڑی تیزی سے World War IIIکی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب تودنیا دار اور دوسرے بڑے بڑے لوگ بھی کہنے لگ گئے ہیں ۔ باقی جو measures ہیں تو ان کے حوالہ سے میں پہلے ہی کہہ چکاہوں کہ اگر World War IIIہوتی ہے توہوسکتاہے کہ atomic warبھی ہوجائے ۔ اس کے لیے تم لوگ جو کم از کم ظاہری علاج ہے وہ کرو۔ ہومیوپیتھی دوائی کا بھی بتایاتھاکہ وہ کھاؤ۔ دوسرایہ کہ کچھ دیر کے لیے، دو تین مہینے کے لیے اپنا راشن وغیرہ بھی اپنے پاس رکھو۔ جماعتوں کو سرکلر کیاہواہے کہ measuresلے لیں اور کھانے پینے کا سامان رکھیں۔ میں تو پچھلے پانچ، چھ سال سے کہہ رہاہوں۔ مختلف وقتوں میں اس کی ضرورت پڑتی بھی رہی۔ نیچرل طوفان اور hurricane آتے رہے۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھو ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:ہم ظاہری طور پر یہی کرسکتے ہیں، باقی اللہ تعالیٰ سے دعاکروکہ اللہ تعالیٰ بچائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاتھا کہ جنگیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لیے پیشگوئی کے طور پر آئیں ۔ پہلے بھی دو world warsہو چکی ہیں۔ تم لوگ نیک بن جاؤ ۔ اس آگ سے تبھی بچ سکتے ہوجب تم لوگ نیکیاں کرو گے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بچالے گایاکم از اس حد تک محفوظ رکھے گاکہ اگر کچھ ہوتابھی ہے تو اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں تم لوگوں سے بہتر سلوک کرے گا۔ جب جنگیں ہوتی ہیں تو ان کے ایک نیچرل اثرات تو ظاہر ہونے ہی ہیں۔ لیکن اس سے بچنے کے لیے ہم جو ظاہر کوشش کرسکتے ہیں وہ کرنی چاہیے۔ radiationسے بچنے کے لیے دوائی ہے۔ بھوک سے بچنے کے لیے کچھ راشن وغیرہ ہے۔ باقی اللہ سے پیار کرو، اللہ سے تعلق رکھو۔ یہی سب سے بڑا measureہے۔

٭ اس کے بعد ایک خادم نے سوال کیاکہ ہمارے مسلمان ممالک خاص کر جو ترقی پذیر ممالک ہیں ان میں blast وغیرہ بھی ہوتے ہیں ، ان میں بعض بچے یتیم ہوجاتے ہیں ۔ یورپ میں تو ایسے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری حکومت لے لیتی ہے لیکن وہاں ایسا نہیں ہے ۔ ان کی بری سوسائٹی میں پڑنے کے چانسز زیادہ ہوجاتے ہیں۔ اس طرح جب وہ بری سوسائٹی میں پڑتے ہیں اور غلط کام کرتے ہیں تو پھر عام طور پر خیال جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کو سزا بھی ملے گی اور جہنم میں بھی جائیں گے۔ حالانکہ ان کے بچوں کا توکوئی قصور نہیں جب ان کے ماں باپ ہی ان سے بچھڑ جاتے ہیں۔ وہ اس وقت تو بے گناہ ہوتے ہیں۔
اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں حکم دیاہے کہ یتیموں کا خیال رکھو۔ ایسے بچوں کو بری سوسائٹی میں ڈالنے والے بھی گناہگارہوں گے اورا ن کو اس کی سزا ملے گی۔ باقی اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ اگرکسی بچہ کا اس ماحول کی وجہ سے قصور نہیں ہے تو ہمیں کیاپتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کیاسلوک کرناہے؟ میں نے ابھی مثال بھی دی ہے ہر ظاہر ی طور پر اچھے کام کرنے والا جنت میں جائے اور ہر برے کام کرنے والا دوزخ میں جائے اس کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:کتنے لوگ ہیں جو بری سوسائٹی میں جاتے ہیں؟ اسی ماحول میں پلنے والے بچے بہتر بھی نکلتے ہیں اور خراب بھی ہوتے ہیں۔اس ماحول میں جو یورپ میں رہنے والے ہیں یہاں تو ساری سہولتیں میسرہیں۔یہاں یتیم خانے ، Orphanagesبنے ہوئے ہیں جو بچوں کو اچھا رکھتے ہیں تو ان کے کونسا سو فیصد بچے اچھے کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ اگر نیکی کا معیار اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل سے دیکھاجائے تو کہاں لکھاہواہے کہ سارے نیک ہیں؟ صرف پیسہ ہونا تو نیکی نہیں ہے۔ روٹی مل جانا تو نیکی نہیں ہے۔باقی سزایاجزادینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس کے بارہ میں ہم نہ جانتے ہیں اور نہ فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ اگر کسی کا قصور نہیں ہے اور ماحول نے اس کو خراب کیاہے تواللہ تعالیٰ رحمان ہے جو اس کے بخشش کے سامان اگلے جہان میں کرسکتاہے۔ اور وہ کس طرح کرے گا؟ یہ اللہ تعالیٰ بہترجانتاہے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہاں یورپ میں جو آپ مثال دے رہے ہیں کہ آپ نے orphanages بنادیے ہیں اس کی کیا گارنٹی ہے وہاں سارے ٹھیک ہوں گے۔ ان کے اندر بھی تو چور، ڈاکو، اچکے پیداہوتے ہیں ۔ اگر یہاں ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے تو پھر انہوں نے ایسے قانون کیوں بنائے ہوئے ہیں؟ یہ قانون بنانے کا مقصدہی یہ ہے کہ برائیاں موجود ہیں۔ دوسرایہ کہ ان کی نظرمیں جو برائیوں کا معیار ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں برائیوں کا معیار ہے وہ مختلف ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ضروردیاہے تم یتیموں کو سنبھالو، انہیں پالو۔ جنگوں کی وجہ سے یا دوسری لڑائیوں کی وجہ سے جو مر جاتے ہیں اور بچے یتیم ہوجاتے ہیں ، اس زمانہ میں جنگیں ہوتی تھیں اسی لیے اسلام میں اس وقت زیادہ شادیوں کا بھی حکم تھا تاکہ یتیم بچوں کو پالا جائے۔ شادیوں کا ایک مقصد یہ بھی تھاکہ یتیم بچوں کی پرورش کی جائے، یہ نہیں تھاکہ مرد صرف اپنی عیاشی کے لیے شادیاں کرتے رہیں۔ اسلام نے یہ کہیں نہیں لکھا۔ اسلام نے بعض قوانین رکھے ہیں۔ بعض شرائط رکھی ہیں،ان شرائط کے اندر رہ کر شادی کی اجازت ہے ۔ ہرایک کو چار چار شادیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ کھڑے ہوجائیں کہ میں مسلمان ہوں اور میں چار شادیاں کرلوں۔ اور اس ملک کا قانون بڑا خراب ہے۔ مجھے چار شادیاں کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کی چار شادیوں کا مقصد بھی پورا ہوناچاہیے۔ کوئی وجہ ہونی چاہیے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار تلقین بھی کی ہے کہ وہ لوگ جو یتیم کی پرورش نہیں کرتے، اس کا خیال نہیں رکھتے اُن کو میں جہنم میں ڈالوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کی تو بات کی ہی نہیں کہ وہ جہنم میں جائے گا۔ یتیم جو خراب ہوتاہے، اس کو خراب کرنے کی وجہ بننے والا جہنم میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت بھی تو بہت وسیع ہے۔جو انتہائی شرک کرنے والاہے اللہ تعالیٰ نے کہاہے کہ میں اس کو نہیں بخشوں گا۔ دوسری طرف ایک جگہ کہا کہ ایک وقت ایسا آئے گاجب جہنم بالکل خالی ہوجائے گی۔ اس لیے جنت کے مزے تو سارے لے لیں گے۔ لیکن تھوڑی بہت سزا انسان اپنے کیے کی پاتاہے۔ باقی حکومت کا کام ہے، اوراس ماحول کا کام ہے اور لوگوں کا کام ہے کہ ان کو سنبھالیں ۔ اگر وہ نہیں سنبھالتے تو یتیموں کے پاس تو عذر ہے کہ وہ کہہ دیں گے کہ ہمیں کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ ان کا عذر شاید مان لے۔ لیکن جنہوں نے نہیں پالا، ان کا عذر نہیں مانا جائے گا۔ وہ ضرور جہنم میں جائیں گے۔ بظاہر اللہ تعالیٰ کی باتوں سے یہی لگتاہے۔ باقی تو ہم کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے قرآن شریف کو بار بار پڑھو۔ قرآن شریف میں یتیم کو پالنے کے بارے میں بہت تلقین کی گئی ہے ۔

٭ ایک خادم نے سوال کیاکہ جماعت climate changeکے حوالہ سے کیاکردار اداکرسکتی ہے؟

اس کے جواب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:خدام الاحمدیہ والے ایک پودا لگاکر سمجھتے ہیں کہ ہم نے climate چینج کردیاہے۔ یا لجنہ نے چار درخت لگادیے یا انصاراللہ نے لگادیے ۔ سوال یہ ہے کہ اب جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے، اُس آبادی کے لیے زمین چاہیے۔ جب زمین چاہیے ہوگی توظاہر ہے جو جنگل ہیں، درخت ہیں وہ کم ہوں گے۔ جنگل کی percentage کم ہے۔ اس لیے درخت لگاتے رہنا چاہیے۔ اس لیے ان ملکوں میں کہتے ہیں کہ تیس یا چالیس فیصد جنگل ہوناچاہیے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک ہیں جہاں صرف چور اکٹھے ہوئے ہیں اور جنگل کاٹ کاٹ کر بیچ دیے اور مزید لگانہیں رہے۔ وہاں بد اثرات پیداہوں گے۔ پس یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ، جہاں ہمارے وسائل ہیں ان کے ذریعہ لوگوں کو awarenessدینے کی کوشش کریں۔ درخت زیادہ کریں۔ greenery زیادہ کریں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اور باقی یہ کہ دنیا جس طرح ترقی کررہی ہے کہ یہاں بھی آنا ہو تو کار میں بیٹھ کر آجاتے ہیں۔ اس لیے کاربن emissionکو کم کریں۔ ڈچ لوگ سائیکل چلاتے ہیں، آپ بھی زیادہ سائیکل چلایاکریں۔ آپ لوگوں نے ذراسابھی کہیں جانا ہو تو کاروں پر چلے جاتے ہیں ۔ ہمارے پاکستا ن سے آنے والے زیادہ تراسی طرح کرتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:پس یہی کام ہیں جو کرسکتے ہیں۔ ایک تو plantation زیادہ کروباقی دنیا میں جو ترقی ہورہی ہےاس کے مقابلہ میں ہمارے پاس تو انڈسٹری نہیں ہے۔ اس لیے ہمارا کیاکردار ہوسکتاہے۔ ہمارے پاس کوئی ایساکارخانہ ہوگاجس کی چمنی سے smoke نکل کر pollution پیداکرے گاتو پھر ہم بھی کچھ کریں گے۔ ابھی جماعت کے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ باقی جو کرسکتے ہیں وہ کردار تو اداکرہی رہے ہیں۔

٭ ایک خادم نے سوال کیاکہ ‘ناکامی’ کی کیا تعریف ہے؟ یا کونسا ایسا شخص ہے جو اس دنیا میں ناکام کہلائے گا؟ یا جو اپنے آپ کو ناکام سمجھے؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل شعر پڑھا:

مایوس و غم زدہ کوئی اس کے سوا نہیں

قبضہ میں جس کے قبضہ ٔسیفِ خدا نہیں

اس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اللہ تعالیٰ سے دعاکیاکرو ۔ ناکامی کاکیاہے؟ مایوسی ہی ناکامی ہوتی ہے۔ باقی آدمی اپنی پوری کوشش کرے اور پھر اس کے لیے جتنی دعا کرسکتاہے کرے۔ اس کے بعد جو نتائج ہیں وہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ وہ سمجھے کہ پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے ۔ اس کی وجہ سے مایوسی پیدا نہیں ہوتی۔ مایوسی ہی ناکامی ہوتی ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتاہے کہ ہمارے لیے کیا بہترہے۔ ناکامی کی definitionکیاہے؟ آپ سمجھتے ہیں کہ ایک چیز آپ کو ضرور ملنی چاہیے۔ آپ نے اس کے لیے پوری کوشش کی، اس کے جو لوازمات ہیں وہ پورے کیے ، جو محنت تھی وہ کی، اور اس محنت کے ساتھ پھر دعاکی۔ایک مومن کا یہی کام ہے۔ ایک دہریہ صرف محنت کرتاہے اوراس کو اس کا rewardمل جاتاہے۔ ایک مو من صرف محنت کرے گا تو اس کو rewardنہیں ملے گا جب تک اللہ تعالیٰ کو شامل نہ کرے۔ یا پھر کہہ دے کہ میں اللہ کو مانتاہی نہیں ہوں ، دہریہ ہوں۔ پس جب ایک احمدی ہوکر اللہ کو مانتے ہو تو پھر محنت بھی کرنے پڑے گی اور دعابھی کرنی پڑے گی۔ اور جب دعاکرو اور محنت کرو اور پھر اس کے نتائج نہ ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیتاہے کہ یہ تمہارے لیے بہتر نہیں ہے۔ یا پھر تسلی ہوجاتی ہے کہ جو بھی ہوگا، میرے لیے بہتر ہوگا۔ اس طرح مایوسی ہوتی ہی نہیں۔ اس لیے ناکامی کی definitionحساب کے فارمولے کی طرح تو نہیں بتاسکتے ۔ بہرحال مایوس نہیں ہونا۔ پوری محنت کرو، اپنی ساری potentialہے ، صلاحیتیں ہیں ، وسائل ہیں ان کو کام میں لاؤ اور پھر دعاکرو۔ پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دو۔

واقفین نو بچوں کی حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ یہ کلاس آٹھ بجے ختم ہوئی۔

بعدازاں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمازِ مغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

……………………(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close