رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ہالینڈ 2019ء

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

اس رپورٹ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

نیشنل مجلس عاملہ جماعت احمدیہ ہالینڈ اور نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ ہالینڈ کی حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ الگ الگ میٹنگز

………………………………………………

30؍ستمبر2019ء بروزسوموار

………………………………………………

حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح ساڑھے چھے بجے مسجد بیت النور میں تشریف لا کر نمازِفجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پرتشریف لے گئے۔

صبح حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دفتری ڈاک ملاحظہ فرمائی اورہدایات سے نوازا اورمختلف دفتری امور سرانجام دیے۔

پروگرام کے مطابق صبح گیارہ بج کر دس منٹ پر حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بیت النور تشریف لائے اور نیشنل مجلس عاملہ جماعت ھالینڈ کی حضورِانور کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔ حضورِانور نے دعاکروائی۔

بعدازاں حضورِانور نے جنرل سیکرٹری صاحب سے جماعتوں اورتجنید کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ جنرل سیکرٹری نے عرض کیا کہ جماعتوں کی تعداد 17 ہے اور رجسٹرڈتجنید 1612 ہے۔ یکصد کے قریب ایسے احباب ہیں جو ابھی تصدیق کے پراسس میں ہیں۔

نیشنل مجلس عاملہ جماعت احمدیہ ہالینڈ کی اپنے آقا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی بابرکت معیت میں ایک تصویر

حضورِانور کے استفسار پر جنرل سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ ہماری دو تین جماعتیں فعال نہیں ہیں اور باقی سب جماعتیں فعال اور active ہیں اور ان کی طرف سے باقاعدہ رپورٹس موصول ہوتی ہیں۔ ایڈیشنل جنرل سیکرٹری رپورٹ کے حوالہ سے تمام صدران سے رابطہ کرتے ہیں اور یاددہانی بھی کرواتے ہیں۔ حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ جن کی رپورٹس نہیں آتیں ان کے صدران کو توجہ دلائیں۔

نیشنل سیکرٹری تبلیغ سے حضورِانور نے تبلیغی منصوبہ بندی اور پروگراموں کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ اس پر سیکرٹری تبلیغ نے بتایا کہ ہم نے نیا تبلیغی پلان بنایا ہے۔ اب حضورِانور جو ہدایات دیں گے ہم وہ بھی اس میں شامل کریں گے۔ حضورِانور کے استفسار پر بیعتوں کی رپورٹ کے حوالہ سے جنرل سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ اس سال ہماری بیعتوںنیشنل مجلس عاملہ جماعت احمدیہ ہالینڈ کی اپنے آقا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی بابرکت معیت میں ایک تصویر کی تعداد 7 تھی۔ ہم نے سابقہ یکصد بیعتوں کا ٹارگٹ اپنے مدنظر رکھا ہوا ہے۔ حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ کیا لوکل لوگوں نے بھی بیعت کی ہے۔ اس پر عرض کیا گیا کہ مقامی لوگوں نے بھی بیعت کی ہے۔ دو نوجوان ہیں اور جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے ہیں اور ڈیوٹیاں بھی دے رہے ہیں۔

نیشنل سیکرٹری ضیافت سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ جلسہ پر مہمانوں کے کھانے کا انتظام کس کے سپرد تھا۔ اس پر سیکرٹری ضیافت نے عرض کیا کہ انہی کے سپرد تھا۔ حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ آپ کی توقع سے بہت زیادہ مہمان آئے۔ پانچ ہزار سے زائد مہمان آئے۔ کیا سب کے کھانے کا انتظام ہوگیا تھا۔ اس پر سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ ہم نے تیاری کی ہوئی تھی۔ تمام مہمانوں کو کھانا مہیا کیا گیا۔ آلو گوشت، دال اور روٹی کے علاوہ ہم نے چاول بھی مہیا کئے تھے۔

نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن ووقف عارضی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وقف عارضی کے شعبہ میں خاص کام نہیں ہوا۔ بہت کمی ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایاپہلے اپنی عاملہ کو کہیں کہ وقف عارضی کے لیے وقت دیں پھر خدام، انصار اور لجنہ کی مجالس عاملہ میں ان کو کہیں کہ ان کی عاملہ کے ممبران وقف عارضی کریں پھر آپ کی مقامی جماعتیں ہیں ان کی مجالس عاملہ ہیں۔ پھر ذیلی تنظیموں کی مجالس کی عاملہ ہیں۔ مختلف لیول پران سب مجالس عاملہ کے ممبران active ہوجائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وقف عارضی کے لیے ضروری نہیں کہ سپین بھجوانا ہے بلکہ ہالینڈ میں بھی وقف عارضی کرسکتے ہیں۔ بچوں کو قرآن کریم پڑھانے، دینی علم پڑھانے کی کلاسز لیں۔ اپنی عاملہ سے رپورٹ لیں اور پھر مجھے رپورٹ بھجوائیں کہ عاملہ میں سے کتنے ممبران نے اپنے آپ کو پندرہ دن کے لیے وقف عارضی کے لیے پیش کیا ہے۔ اگر آپ تمام مجالس عاملہ سے 75 فیصد ٹارگٹ لے لیں۔ وقف عارضی کے لیے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے 75 فیصد کو involve کرلیا تو اس طرح کام شروع کریں۔

نیشنل سیکرٹری تحریک جدید نے حضورِانور کے استفسار پر بتایا کہ ہمارے چندوں میں بہتری آرہی ہے۔ ہم اس کے لیے جماعتوں کے دورے بھی کرتے ہیں۔ حضورِانور نے فرمایا کہ سیکرٹری صاحب مال کے ساتھ بیٹھ کر چندوں کے معیار اور چندہ دینے والوں کی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور پھر ٹارگٹ دیا جا سکتا ہے۔ زیادہ پریشر نہ ڈالیں اور یہ بھی نہ ہو کہ بالکل ڈھیلے ہوجائیں۔

نیشنل سیکرٹری وقف جدید کو اطفال کے چندہ کے حوالہ سے حضورِانور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ اطفال کا چندہ اطفال کے ذمہ لگائیں۔ ایک چندہ تو ان کے سپرد کریں۔ خدام کو ٹارگٹ دیں کہ اطفال کی تجنید اتنی ہے اس لیے اتنا ٹارگٹ ہے۔ ایک برگر کتنے کا آتا ہے۔ کم از کم اتنا ٹارگٹ تو ہو۔

حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سات سے بارہ سال تک کے طفل سے چندہ وقف جدید لینا ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا یہ درست نہیں ہے۔ سات تا پندرہ سال دفتر اطفال ہے۔ بارہ سال تک نہیں بلکہ پندرہ سال تک ہے۔ اطفال کی عمر پندرہ سال تک ہے۔

نیشنل سیکرٹری تربیت سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ اب تو آپ کے پاس چار مساجد ہیں۔ فجر اور مغرب وعشاء پر کتنے لوگ آتے ہیں۔ سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ ان مساجد کے علاوہ ہمارے پاس مختلف جماعتوں میں تیس نماز سینٹرز ہیں۔ جو ہم نے گھروں میں بنائے ہوئے ہیں۔ ستر فیصد لوگ پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے 66 فیصد باجماعت ادا کرتے ہیں۔ پچاس فیصد لوگ سینٹرز میں جا کر نماز پڑھتے ہیں۔

حضورِانور نے پاکستان سے آنے والے مربی سلسلہ عدیل باسم صاحب کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ وہ کہاں مقیم ہیں۔ اس پر عرض کیا گیا ہے کہ وہ Arnhem میں ہیں اور وہاں جماعت نے دو سینٹر بنائے ہوئے ہیں اور یہ باری باری دونوں سینٹرز میں جاتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھاتے ہیں۔

مقامی طور پر خطبہ جمعہ کے حوالہ سے حضورِانور نے مبلغ انچارج صاحب سے دریافت فرمایا کہ کب شروع کرتے ہیں اور کب ختم کرتے ہیں۔ اس پر مبلغ انچارج نے عرض کیا کہ جماعتوں میں خطبہ جمعہ قریباً ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ شروع کرتے ہیں۔ دس پندرہ منٹ کا خطبہ ہوتا ہے۔ دو بجے سے قبل نمازِجمعہ وغیرہ سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ Live سنا جاتا ہے۔

حضورِانور نے فرمایا آپ جہاں اپنے خطبات میں گزشتہ خطبہ کا خلاصہ بیان کرتے ہیں، وہاں ضرورت کے مطابق یہاں کے مقامی مسائل بھی بیان کردیاکریں۔ خصوصاً نمازوں کی طرف توجہ دلایا کریں۔

حضورِانور نے اصلاحی کمیٹی کے قیام کے حوالہ سے دریافت فرمایا کہ آپ کو پتہ ہے اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ مقامی جماعتوں میں بھی قائم کی گئی ہے۔ جہاں نہیں ہے وہاں بھی بنائیں۔ حضورِانور نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کھڑے ہونے سے قبل نظر رکھیں۔ اصلاحی کمیٹی کا کام ہے کہ قبل اس کے کہ مسئلہ کھڑا ہو اور معاملہ زیادہ بڑھ جائے۔ اس سے پہلے ہی نظر رکھیں اور آغاز میں ہی اصلاحی کمیٹی کارروائی کرے۔

نیشنل سیکرٹری تربیت چیئرمین اصلاحی کمیٹی نے عرض کیا نیشنل کمیٹی کے علاوہ بعض بڑی جماعتوں میں یہ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ بعض معاملے اصلاحی کمیٹی کے پاس آتے ہیں۔ کچھ معاملے ایسے ہوتے ہیں جو بڑھ جاتے ہیں اور قضاء کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس موقع پر سیکرٹری امورِعامہ نے بتایا کہ حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ جرمنی کے موقع پر خطاب سن کر ایک جوڑے نے واپسی کا فیصلہ کرلیا۔ یہ دونوں بالکل علیحدگی کے قریب تھے۔ وہاں سے ان کی واپسی ہوئی اور انہوں نے آپس میں صلح کرلی اور اپنے تمام مطالبات ختم کردیے۔

نیشنل سیکرٹری امورِخارجیہ سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ Almere میں مسجد کے افتتاح کے حوالہ سے جو تقریب ہے اس میں کتنے مہمان آرہے ہیں۔ اس پر سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ پارلیمنٹ کا سیشن ان دنوں جاری ہے۔ حکومت کے مختلف اداروں اور محکموں سے مہمان آئیں گے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا ایسے پروگراموں کے لیے جو بھی تاریخ رکھنی ہو جائزہ لینے کے بعد رکھنی چاہیے۔

حضورِانور نے فرمایا آپ کے بعض اسائیلم کیسز لٹکے ہوئے ہیں۔ یہ جلد کروائیں۔ اس پر سیکرٹری صاحب نے عرض کیا کہ حکومت نے اپنے بعض محکموں میں سٹاف کم کیا تھا جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔ ان شاء اللہ اس سال جلد یہ کیسز ہوجائیں گے۔

نیشنل سیکرٹری صنعت و تجارت کو حضورِانور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ یہاں اسائیلم کے لیے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ بعض امیگریشن ہو کر بھی آئے ہیں۔ ان سے مل کر کام کریں۔ ایک دوسرے کی مدد بھی ہو جائے گی۔

نیشنل سیکرٹری وقف نو نے حضورِانور کے استفسار پر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت شعبہ وقف نو کے تحت 123 لڑکے اور 92 لڑکیاں ہیں۔ اس وقت یونیورسٹی میں 13 لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ ان میں سے آٹھ لڑکیاں اور پانچ لڑکے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا لڑکیاں یونیورسٹی میں زیادہ ہیں۔ لڑکے بھی زیادہ آگے آئیں۔ جوڈاکٹرز، ٹیچرز، انجنیئرز وغیرہ نہیں بن رہے۔ جامعہ میں نہیں جا رہے۔ میں نے ہدایت دی تھی کہ پبلک سروسز میں بھی جائیں۔ اس بارہ میں کوشش کریں۔

نیشنل سیکرٹری جائیداد سے حضورِانور نے کام کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ موصوف نے بتایا کہ انہوں نے نن سپیت میں حنیف صاحب کے ساتھ تعمیراتی کام کیا ہے۔ تعلیمی لحاظ سے انہوں نے انجنیئرنگ میں ڈگری لی ہوئی ہے۔

نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بارہ رشتے طے ہوئے ہیں۔ آٹھ دس پراسس میں ہیں۔ لڑکے لڑکیوں کی فہرست قریباً برابر ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا۔ فہرست برابر ہے تو پھر جلدی جلدی میچ کروائیں۔

انٹرنل آڈیٹر (auditor)نے بتایا کہ انہوں نے ابھی کام شروع کیا ہے۔

ریجنل امراء بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ ایک ریجنل امیر بریمن برگ سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ کیا امیر صاحب آپ کو سپیشل کام دیتے ہیں یا آپ عمومی طور پر اپنے ریجن کی جماعتوں کو دیکھتے ہیں۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ اس وقت ایک مسجد بنانے کا پروگرام ہے۔ ہم ساؤتھ میں مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا مسجد بنائیں کس نے روکا ہے؟ عرض کیا گیا کہ ان کے ریجن میں مربی نہیں ہے۔ رہائش کا بھی مسئلہ ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا جماعت غریب نہیں ہے تو مسجد بنائے۔ گھر لے۔ نماز سینٹر بنائے۔ مربی کو رہائش دے۔ حضورِانور نے فرمایا آپ اپنے ممبران کو encourageکریں اور توجہ دلائیں۔

نیشنل سیکرٹری وصایا نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کل 406 موصی ہیں۔ اکثریت گھر کی عورتیں یا طلباء ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا اصل یہ ہے کہ کمانے والے کتنے موصی ہیں۔ یہ زیادہ ہونے چاہئیں۔

سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ 167 کمانے والے ہیں۔ ان میں سے 92 انصار ہیں، 58 خدام ہیں اور 17 لجنہ ہیں۔

نیشنل سیکرٹری وصایا نے عرض کیا کہ کمانے والوں میں سے 41 فیصد موصی ہیں۔ حضورِانور نے فرمایا 167 کمانے والوں میں سے چوراسی پچاسی موصی ہونے چاہئیں۔

حضورِانور نے یہاں کی ماہانہ انکم، فی گھنٹہ جو اجرت ملتی ہے، اس حوالہ سے تفصیلی جائزہ لیا۔ سیکرٹری صاحب نے عرض کیا فی گھنٹہ اجرت بھی عمر کے حساب سے مختلف ہے۔ جو20،19 سال کے نوجوان ہوتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ بعض دفعہ طلباء رخصتوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کی اجرت کم ہوتی ہے اور جو اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ تیس سال کے لگ بھگ ہیں ان کی فی گھنٹہ اجرت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے کام کرنے والوں کی ماہانہ انکم مختلف ہوتی ہے۔

حضورِانور نے سیکرٹری صاحب مال سے دریافت فرمایا کہ کیا 167 کمانے والے سب چندہ دیتے ہیں۔ جس پر موصوف نے عرض کیا کہ سب دیتے ہیں لیکن ان میں سے 70 فیصد باشرح دیتے ہیں۔ چندہ دینے والوں کی کل تعداد 608 ہے۔

نیشنل سیکرٹری سمعی وبصری سے حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ کیا کوئی پروگرام بناتے ہیں جس پر موصوف نے عرض کیا کہ پروگرام بناتے ہیں۔ امیر صاحب نے کام سپردکیا ہوا ہے۔ ہم لوکل طور پر پروگرام بناتے ہیں۔

ایڈیشنل سیکرٹری اشاعت نے حضورِانور کے استفسار پر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ میں یہاں پبلیکیشن کمیٹی کا ممبر ہوں۔ اس وقت تحفہ قیصریہ کا ترجمہ کررہا ہوں۔

محاسب نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ تمام اخراجات کا حساب دیکھتا ہوں۔ سیکرٹری مال کے ساتھ مل کر چیک کرتا ہوں۔ پھر ہم دونوں آپس میں کراس چیک بھی کرتے ہیں۔ مختلف ڈیپارٹمنٹس کے بجٹ کے لیے میں نے کوشش کی ہے کہ سب اپنے اپنے بجٹ کے اندر رہیں۔

حضورِانور کی خدمت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ یہاں لوگ سوشل لیتے ہیں اور کام نہیں کرتے اور بعض ایسے ہیں جو سوشل لینے کے ساتھ ساتھ خفیہ طور پر کام بھی کرتے ہیں۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ میں اپنے خطبوں میں ذکر کر چکا ہوں کہ سوشل نہ لیں اور اپنا کام کریں۔ حضورِانور نے فرمایا جو کمزور ہیں۔ سیکرٹری تربیت اور مبلغین کاکام ہے کہ ان کو سمجھاتے رہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: بعض ایسے بھی ہیں جو سوشل لینے کا حق رکھتے ہیں لیکن وہ خود بند کررہے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: جو سوشل لے رہے ہیں، کام نہیں کرتے اور ٹیکس بچاتے ہیں۔ ان کو دو دفعہ سمجھائیں کہ اپنی اصلاح کریں۔ اگر یہ اصلاح نہیں کرتے تو پھر قانون کو بتادیں۔ کسی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔ قانون کی پابندی کریں۔

حضورِانور نے سیکرٹری صاحب امورِعامہ کو ہدایت فرمائی کہ امورِعامہ اور شعبہ صنعت و تجارت مل کر کام کریں کہ نئے آنے والوں کو کس طرح کام مہیا کرنا ہے۔ ان کی کس طرح مدد کی جاسکتی ہے اور ان کوکوئی کام دلوایا جاسکتا ہے۔ یہ کام بھی امورِعامہ کا ہے کہ لوگوں کی کام کے حصول میں رہنمائی کرے تاکہ ان کے اپنے مالی حالات بہترہوں۔

باجماعت نماز کی ادائیگی کے حوالہ سے حضورِانور نے فرمایا کہ نیشنل عاملہ کے ممبران کو فجر اورعشاء کی نمازیں مساجد، سینٹرز میں جا کر ادا کرنی چاہئیں۔

جو ممبران نہیں آتے تین ماہ بعد ان کی حاضری کی رپورٹ کریں۔ نیشنل عاملہ کی حاضری کی رپورٹ صدرجماعت، امیر صاحب کو دے دیا کریں۔

سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ تبلیغ کے لیے بجٹ بہت کم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پروگرام نہیں کیے جا سکتے۔ حضورِانور نے فرمایا تبلیغ کے لیے مناسب بجٹ دینا چاہیے۔ چندہ اشاعت اسلام کے لیے ہی دیا جاتاہے۔
حضورِانور نے جماعت ہالینڈ کے بجٹ کا اور مختلف مدات کا تفصیل سے جائزہ لیا اور فرمایا کہ کل بجٹ کا دس فیصد تبلیغ کو دیں۔

حضورِانور نے فرمایا: جن برانچز کی اچھی مالی حالت ہے وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات خود برداشت کرسکتی ہیں۔

حضورِانور نے سیکرٹری تبلیغ کو فرمایا: پہلے آپ پلان کریں۔ کون سا بڑا ایونٹ کرنا ہے۔ بل بورڈز ہیں، لیف لیٹس، بروشر کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ اپنے امیر صاحب کو تبلیغ کا پلان بنا کر دیں۔ پھر اس کا مسلسل follow up کریں۔

حضورِانور نے فرمایا: آپ اپنی شوریٰ مئی میں کیا کریں اور تمام شعبے اپنے بجٹ پہلے بھجوایا کریں۔
نیشنل مجلس عاملہ ہالینڈ کی حضورِانور کے ساتھ یہ میٹنگ سوا بارہ بجے تک جاری رہی۔ آخر پر مجلس عاملہ کے ممبران نے حضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

بعدازاں نیشنل مجلس عاملہ انصاراللہ ہالینڈ کی حضورِانور کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔ حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔

حضورِانور نے قائد عمومی سے دریافت فرمایا کہ آپ کی مجالس کتنی ہیں۔ اور کیا سب باقاعدہ رپورٹس بھجواتی ہیں۔ اور ان کی رپورٹس پر تبصرہ بھی کرتے ہیں۔ اس پر قائد عمومی نے جواب دیا کہ ہماری 14 مجالس ہیں اور سب باقاعدہ رپورٹس بھجواتی ہیں اورہم اپنا تبصرہ، جواب ان کو بھجواتے ہیں۔ایمسٹرڈم بیت المحمود میں ہم نے اپنا آفس بنایا ہوا ہے۔

نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ ہالینڈ کی اپنے آقا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی بابرکت معیت میں ایک تصویر

قائد مال سے حضورِانور نے بجٹ کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ آپ کا بجٹ کس طرح بنتا ہے۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ ہم مجالس کے زعماء کو فارم بھجوا کر بجٹ اکٹھا کرتے ہیں۔ پھر اس کے ذریعہ ہمارا مجموعی بجٹ تیار ہوتا ہے۔ اس وقت 30 ہزار یورو ہمارا سالانہ بجٹ ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا اگر ہر ناصر اپنی آمد کے حساب سے انصار کا چندہ دے تو بجٹ بڑھ سکتا ہے۔

قائد تربیت سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ تربیت کا کیا پلان ہے۔ کتنے انصار باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ اپنی نیشنل عاملہ کے ممبران کو، اسی طرح اپنی مجالس کی عاملہ کے ممبران کو باجماعت نمازکا عادی بنائیں۔ ان سب کو نمازفجر اور عشاء پر اپنے اپنے سینٹر میں آنا چاہیے۔ کم از کم یہ دو نمازیں تو باجماعت ادا ہوں۔

حضورِانور نے فرمایا آپ کی نیشنل عاملہ کے ممبران اور مقامی مجالس کی عاملہ کے ممبران جہاں جہاں بھی سنٹر ہیں وہاں فجر اور عشاء پر آئیں۔

نائب صدر صف دوم سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ کتنے انصار سائیکل چلاتے ہیں۔ اس پر نائب صدر صف دوم نے عرض کیا کہ بعض انصار سائیکل چلاتے ہیں اور کوئی انصار بہت active ہیں۔

قائد تجنید نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس وقت انصار کی تجنید 266 ہے۔

قائد ایثار نے حضورِانور کے استفسار پر عرض کیا کہ انصار عیادت کے لیے ہسپتال جاتے ہیں۔ old age ہاؤسزمیں جاتے ہیں۔ اِسی طرح ہم نے رقم اکٹھی کرکے افریقہ میں دو کنویں لگائے ہیں۔ کل 20 ہزار یورو اکٹھا کرکے ہم نے ہیومینٹی فرسٹ کو دیا ہے۔

قائد تربیت نومبائعین سے مخاطب ہوتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ انصار اللہ ہر سال پچاس نئی بیعتیں کروائے۔ پچاس نئے convert کرے۔

مختلف مجالس کے زعماء بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ حضورِانور نے زعیم ایمسٹرڈم سینٹر سے نمازوں کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ کیا مسجد محمود میں ادا کرتے ہیں اور وہاں کتنی حاضری ہوتی ہے۔ اس پر موصوف نے عرض کیاکہ مسجد محمود دور ہے۔ لوگوں کے پاس گاڑی نہیں۔ آتے ہوئے دیر لگتی ہے۔ کچھ سستی بھی ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا سستی زیادہ ہے، دیرکم ہے۔

قائد ذہانت و صحت جسمانی سے حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ کتنے لوگ ورزش کرتے ہیں۔ سائیکل چلاتے ہیں۔ اس کا جائزہ ہونا چاہیے۔

قائد تبلیغ سے حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ آپ کا تبلیغ کا پلان کیا ہے۔ اس پر قائد تبلیغ نے عرض کیا کہ ہمارا تبلیغ کا بجٹ اڑھائی ہزار یورو ہے۔ ایک ہم پیس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں چونکہ وہ جماعتی سینٹر میں ہوتی ہے۔ اس لیے دو ہزار یورو میں جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا چیرٹی واک کا پروگرام ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ بھی تبلیغ کی راہیں کھلتی ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا جو انصار کے ذریعہ بیعتیں ہوتی ہیں تو آپ جماعتی شعبہ تربیت نومبائعین کو بتا دیتے ہیں کہ انصار کے ذریعہ یہ یہ بیعتیں ہوئی ہیں اور ان کے سپرد کردیتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا یہاں افریقنوں کی، عربوں کی پاکٹس ہوں گی۔ ان کا جائزہ لیں اور وہاں کام کریں، تبلیغ کریں۔

معاون صدر انصار اللہ نے عرض کیا کہ ہم گیسٹ ہاؤس انصار اللہ کے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔
نائب صدر اول نے عرض کیا کہ صدر مجلس انصاراللہ جو کام میرے سپرد کرتے ہیں۔ میں اسے سرانجام دیتا ہوں۔ ان کی غیرحاضری میں بھی قائمقام صدر کے فرائض انجام دیتا ہوں۔

قائد تعلیم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہم سال میں پانچ کتابیں رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب’’برٹش گورنمنٹ اور جہاد‘‘ اور ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ ہوچکی ہیں۔ حضورِانور نے فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جو بڑی کتب ہیں ان کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے رکھا کریں۔ حضورِانور نے فرمایا۔ حقیقۃ الوحی کو پانچ حصوں میں تقسیم کرلیں۔ اب آئندہ حقیقۃ الوحی کے سو صفحات رکھ لیں۔ انصار کو پتہ چل جائے گا کہ خواب کی، الہام کی اصل حقیقت کیا ہے۔

عاملہ کے ایک ممبر نے حضورِانور کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ رپورٹ نہیں دیتے۔ جب ان سے نمازوں اور دوسرے کاموں کی رپورٹ مانگی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے۔ ہم آپ کو رپورٹ نہیں دیں گے۔

اس پر حضورِانور نے فرمایا ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہئے۔ ان کو بتانا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کیوں فرمایا کہ جو لوگ نماز پر نہیں آتے ان کے گھر جلادوں۔ اگر یہ خدا کا معاملہ ہے تو پھر آپؐ رہنے دیتے اور کچھ نہ کہتے۔ کیوں کہا کہ گھرجلادوں؟ پس ایسے لوگوں کو سمجھائیں اور ان کے جائزے لیتے رہیں۔ عمومی جائزہ لے لیں۔ ایسا فارم بنالیں کہ بس خانے کو ٹک کردیا کریں۔ زیادہ تفصیل میں نہ جائیں۔

حضورِانور نے فرمایا اپنی مجالس کے زعماء کو تلقین کریں کہ وہ انصار کو کہیں کہ جو ہمارے نماز سینٹر ہیں ان میں نماز کے لیے آیا کریں۔ توجہ دلانا ضروری ہے۔

حضورِانور نے فرمایا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے نہ جماعتی طور پر اور نہ انصار اللہ کے طور پر رابطہ کرو۔ ان سے پوچھا جائے کہ آپ یہاں کس لیے آئے تھے۔ آپ جماعتی طور پرہی آئے تھے۔ آپ ایسے لوگوں کے بارہ میں اپنی مقامی جماعت کے صدر کو بتا دیں اور امیر صاحب کو بھی بتائیں۔ پھر مرکز لکھ دیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سے رابطہ نہ کرو۔

قائد تعلیم نے عرض کیا کہ ہم کتب کے مطالعہ کے بعد پرچے بھجواتے ہیں۔ لیکن انصار کی طرف سے حل ہو کر نہیں ملتے۔ 245 تجنید کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے سال کے دوران چار پرچے جاری کیے اور جواب میں صرف 70 پرچے آئے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا یعنی قریباً ایک ہزار میں سے ستر آئے۔

حضورِانور نے فرمایا اپنے زعماء کو active کریں۔ سب سے پہلے اپنی نیشنل عاملہ کو پکڑیں۔ پھر مقامی مجالس عاملہ ہیں ان سب سے پرچے حل کروائیں۔ لوگوں کے پیچھے پڑنے کی بجائے خود گھر سے شروع کریں۔ انصار کو کہیں کہ پرچہ میں صرف اپنا نام لکھ کر بھجوا دو کہ کتاب پڑھ لی ہے۔ آخر کچھ دفعہ کرنے کے بعد پھر پرچہ حل کرکے بھجوا ہی دے گا۔

حضورِانور نے فرمایا جو عربی زبان جانتے ہیں اور ڈچ زبان جانتے ہیں ان کے لیے ان کی زبان میں پرچہ ہونا چاہیے اور جو نصاب مقرر کرنا ہے وہ بھی ان کی اپنی زبان میں ہو۔

حضورِانور نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے فرمایا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ چالیس سال کا خادم active کام کررہا ہوتا ہے۔ جب 41ویں سال میں داخل ہوتا ہے۔ انصار اللہ میں جاتا ہےتو پھر اس جیسا سست کوئی نہیں ہوتا۔

حضورِانور نے فرمایا: بس آپ نے ہر ایک کو نصیحت کرنی ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نصیحت کرتے چلے جاؤ۔

حضورِانور نے فرمایا کہ قائدمال اور قائد تربیت مل کر کام کریں۔ جو سست مسجد نہیں آتے، چندہ نہیں دیتے تو دونوں کو مل کر کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو جماعت کے قریب لائیں۔ حضورِانور نے فرمایا اپنے ذاتی رابطے بھی بنائیں۔ ان سے جا کر ملیں۔ ان کو معلوم ہو کہ آپ ان کو ملنے جارہے ہیں۔ لیکن چندہ وغیرہ کے لیے نہیں بلکہ ذاتی رابطہ اور ایک تعلق اور دوستی کے لیے ملے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ قریب آجائیں گے۔
حضورِانور نے فرمایا اگر کوئی چندہ نہیں دیتا اور اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے تو آپ اس کو انصار کی تجنید میں سے نہیں نکال سکتے۔ جب تک وہ کہتا ہے کہ میں احمدی ہوں خواہ چندہ دے یا نہ دے آپ نے اُسے اپنی تجنید میں شامل رکھنا ہے۔

حضورِانور نے فرمایا ان کے لیے پلان بنائیں۔ تربیت لمبا پراسس ہے۔ ہمارا کام نصیحت کرنا ہے۔ جماعت سے دوڑانا بڑا آسان کام ہے۔ جماعت میں لانا مشکل کام ہے۔

ایک ممبر نے عرض کیا کہ Rotterdamمیں چرچ کی خرید کا معاملہ ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا۔ آپ امیر صاحب کو بتائیں۔ میں نے کب روکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حضورِانور نے فرمایا جو شرح سے چندہ نہیں دیتے وہ عہدیدار نہیں بن سکتے۔ کم شرح سے جو دینا چاہتا ہے وہ اجازت لے لے۔ میں اجازت دے دیتا ہوں۔ لیکن پھر وہ عہدیدار نہیں بن سکتا۔
حضورِانور نے فرمایا یہ بتانا چاہئے کہ چندہ tax نہیں ہے۔ خداتعالیٰ کےاحکام میں مالی قربانی کا حکم ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہے۔

نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ کی یہ میٹنگ دوپہر ایک بجے ختم ہوئی۔ آخر پر ممبران نےحضورِانور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close