متفرق مضامین

نظامِ خلافت، اہمیت اور برکات

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ (النور 56)

‘‘تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعدبھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔’’

(اردو ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ)

اللہ تبارک و تعالیٰ کی یہ سنتِ مستمرہ ہے کہ جب بھی دنیا ظلمت و تاریکی میں ڈوب جاتی ہے اور ظہر الفساد فی البر والبحر کا نمونہ پیش کر رہی ہوتی ہے اور جب یہ اندھیرے اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں باوجود اس کے کہ انسانوں کی یہ حالت ان کی اپنی ہی غلطیوں اور کوتاہیوں اور ظلم کی وجہ سے ہوتی ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں اپنی مخلوق کو اس برے حال میں دیکھ نہیں پاتی اور اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنی مخلوق کو اس گمراہی اور اندھیرے سے نکالنے کے لیے اپنے محبوب انبیاء کا ظہور فرماتا ہے اور انبیاء کی بعثت کے طفیل ان ظلمتوں اور اندھیروں کو اپنے نور کے ذریعہ زائل کرتا ہے۔ مگر شیطانی قوّتوں کو کہاں یہ گوارہ ہوتا ہے کہ مخلوقِ خدا اندھیروں سے نکل کر اپنے خدا کے سائے تلے آجائے ۔ یہ شیطانی قوّتیں انبیاء کے مقابلے کے لیے سرگرم ہوجاتی ہیں اور انبیاء اور ان پر ابتدائی ایمان لانے والوں کوجو بظاہر نظر بہت کمزور بھی ہوتے ہیں ان کو تباہ و برباد کرنے کے دعووں کے ساتھ ساتھ ان کو نابودکرنے کے لیے سر سے پاؤں تک زور بھی لگانے لگتی ہیں اور اپنے زعم میں اس یقین پر قائم ہوتی ہیں کہ ان کمزور سے لوگوں کوختم کرنا تو گویا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے مگر ان کو کیا معلوم کہ ان بظاہر کمزور نظر آنے والوں کا تعلق ایک ایسی قادر ِمطلق ہستی سے ہے اور وہ ان کی پشت پر کھڑا ہے کہ جس کا مقابلہ کرنے کی کسی کو بھی طاقت نہیں۔اور اس قادر ِمطلق خدا کا وعدہ ہے کہ كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي

(المجادلة :23)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (1) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہےجیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓکو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسیٰ ؑمصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اِس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہوگئے اور بنی اسرائیل میں اُن کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسٰیؑ کی ناگہانی جدائی سے چالیس40دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہوگئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا۔

سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سُنّت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دوقدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی ۔ (رسالہ الوصیت صفحہ 3تا 5)

پیارے آقا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خلا فت علیٰ منھاج النبوّۃ کی خوشخبری

عَنْ حُذَیْفَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَآءَ اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ مَاشَآءَ اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْ فَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَاشَآءَ اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً فَیَکُوْنُ مَاشَآءَ اللّٰہُ اَنْ یَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ ثُمَّ سَکَتَ۔

(مسند احمدبن حنبل جلد 4صفحہ 273 ۔مشکٰوۃبَابُ الْاِنْذَارِ وَالتَّحْذِیْرِ)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ قائم ہو گی،پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ جب یہ دور ختم ہو گا تواس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم وستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔

جہاں ہمارے پیارے آقا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے میں خلافت کے قیام کی خوشخبری عطا فرمائی وہیں یہ بھی سمجھا دیا کہ خدا کے اس انعام کی بڑی اہمیت ہےاس لیے اس کی قدر کرنا اور فرمایا اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اگر اس کی خاطربڑی سے بڑی قربانی بھی دینی پڑے تو دینا مگر خلافت کے ساتھ تعلق نہ توڑنا۔

حدیث نبویﷺ میں خلافت کی اہمیت کا بیان

‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اِنْ رَأَیْتَ یَوْمَئِذٍ خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ فَالْزِمْہُ وَاِنْ نُھِکَ جِسْمُکَ وَأُخِذَ مَالُکَ۔یعنی اگر تو اللہ کے خلیفہ کو زمین میں دیکھے تو اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اگرچہ تیرا جسم نوچ دیا جائے اور تیرا مال چھین لیا جائے۔’’

(مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان حدیث نمبر22916)

قیام خلافت حقیقت میں نبوّت کے فیضان کو جاری رکھنے کا ذریعہ ہے جو نبوّت کے اختتام پر اس فیض کو بڑھانے اور لمبے عرصے پر محیط کرنے کے لیے جاری ہوتا ہے۔اسی لیے خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت جس طرح نبوّت کے ساتھ ہوتی ہے اسی طرح خلافت کے ساتھ بھی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جس پر ہاتھ رکھتا ہے ، جسے اپنے لیے چُن لیتا ہے اس کے ساتھ ہی ساری برکتیں وابستہ کر دیتا ہےاور جس نے برکتیں سمیٹنی ہوں اس کا خدا کے اس چنیدہ وجود سے وابستہ ہونا ضروری ہو جاتا ہے اور اس سے علیحدگی یا دوری سب کچھ برباد کر دیتی ہے۔جیسے ہمارے پیارے آقا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کو خدا نے چنا تو جو بھی رسو لِ پاک صلّی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گیا وہ ایک لازوال مقام پا گیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا خواہ وہ پہلے اپنے معاشرے میں ایک حبشی غلام کا مقام رکھتا تھا تو اس تعلق کے نتیجہ میں وہ سیّدنا بلال کا مقام پا گیا مگر دوسری طرف رسول پاک ﷺ کو چھوڑنے والا آپ سے دوری اختیار کرنے والا اگر پہلے ابوالحکم بھی کہلاتا تھا تو خدا کے رسول سے دوری کے نتیجے میں وہی ابوالحکم ابو جہل بن گیا اور ساری برکتیں اور اعزاز جو معاشرے میں اسے حاصل تھے سب برباد کر بیٹھا اور جاہلوں کابھی باپ کہلایا ۔ یہ ہے فرق جو خدا تعالیٰ پیدا فرماتا ہے۔اوراسی طرح نبوّت کے بعدہر برکت خلافت کےساتھ وابستہ کر دیتا ہے کیونکہ خلافت نبوّت کی ہی تو قائم مقام ہےاور انہی برکتو ں کو تو پھیلانے والی ہے تو جوبھی خلافت سے چمٹ جائے گا سب کچھ پائے گااور جو اس سے الگ ہو گا سب کچھ برباد کرکے ناکام ونامراد ہوگا۔ یہ اس خدا کا فیصلہ ہےجس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے۔

خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ظلّی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتاہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لیے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسول کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لیے تا قیامت قائم رکھے۔ سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویزکیا تا کہ دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکاتِ رسالت سے محروم نہ رہے۔’’

(شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد 6۔ صفحہ353)

خلیفہ خدا بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں نقص نہیں ہوتا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘صوفیا نے لکھا کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔ جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپؐ کو خوب علم تھا ۔کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقرر فرماوے گا کیونکہ یہ خدا کا ہی کام ہے اور خداکے انتخاب میں نقص نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا۔(ملفوظات جلد10صفحہ229)

خلافت کی اطاعت سے باہر ہونے والا
نبی کی اطاعت سے باہر ہو جاتا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:

‘‘بے شک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر اور اس کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہےوہ یقیناً نبی کی اطاعت سے باہر ہوتا ہے………… میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔’’ ( الفضل 4 ستمبر 1937ء)

خلیفہ اپنے زمانے میں سب لوگوں سے افضل ہوتا ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ جماعت کا جو خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ میں جماعت کے تمام لوگوں سے افضل ہوتاہے اور چونکہ ہماری جماعت ہمارے عقیدہ کی رُو سے باقی تمام جماعتوں سے افضل ہے اس لیے ساری دنیا میں سے افضل جماعت میں سے ایک شخص جب سب سے افضل ہو گا تو موجودہ لوگوں کے لحاظ سے یقیناًاُسے ‘بعد از خدا بزرگ توئی’کہہ سکتے ہیں۔’’(الفضل27اگست1937ء صفحہ6)

‘‘جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے، وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہے۔’’

(الفضل27اگست1937ء صفحہ8)

حضرت سید محمد اسماعیل صاحب شہید فرماتے ہیں:

امام رسول کے سعادت مند فرزند کی مانند ہے اور تمام اکابر امت وبزرگان ملت ملازموں اور خدمت گاروں اور جانثار غلاموں کی مانند ہیں۔پس جس طرح تمام اکابر سلطنت وارکان مملکت کے لیے شہزادہ والا قدر کی تعظیم ضروری اور اس سے توسل واجب ہے اور اس سے مقابلہ کرنا نمک حرامی کی علامت اور اس پر مفاخرت کا اظہار بد انجامی پر دلالت کرتا ہے ایسا ہی ہر صاحب کمال کے حضور میں تواضع اور تذلل سعادت دارین کا باعث ہے اور اس کے حضور میں اپنے علم و کمال کو کچھ سمجھ بیٹھنا دونوں جہان کی شقاوت ہے اس کے ساتھ یگانگت رکھنا رسول سے یگانگت ہے اور اس سے بیگانگی ہو تو خود رسول سےبیگانگی ہے۔ (منصب امامت صفحہ 78)

خدا تعالیٰ کے منتخب خلیفہ کوکوئی معزول نہیں کر سکتا

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘خلافت کیسری کی دُکان کا سوڈا واٹر نہیں۔ تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے، نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔ میں جب مر جاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اورخد اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کیے ہیں تم خلافت کا نام نہ لو۔ مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔ اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔’’

(اخبار بدر 11جولائی1912ء۔جلد 12نمبر2۔صفحہ4)

خلیفہ کی دعا ہی سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں:

اللہ تعالی جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کےاپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے…… میں جو دعا کروں گا وہ ان شاء اللہ فرداً فرداً ہر شخص کی دعا سے زیادہ طاقت رکھے گی۔( منصب خلافت صفحہ 32)

خلافت سے چمٹنے میں ہی بقا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہو ں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستور العمل ہو، باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الٰہی کو روکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی طرح نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے۔ اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے اس لیے چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں، استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو، وحدت کو ہاتھ سے نہ دو، دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا۔ پس اس نعمت کا شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتاہے۔ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔ ’’

(ابراہیم:8)(الحکم 24 جنوری 1903ء جلد 7 نمب ر3۔ صفحہ 15)

خلافت قوم کے تفرقہ سے بچاؤ اور اتحاد کی ضمانت ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

‘‘اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے احمدیوں پر کہ نہ صر ف ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کاٹوٹنا ممکن نہیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ ذرا ڈھیلے کیے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے اس لیے اس حکم کو ہمیشہ یا رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ ے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چمٹے رہو کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔’’(خطبات مسرور جلد1۔صفحہ256۔257خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 22اگست2003ء)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے11مئی2003ء کواحباب جماعت کے نام ایک خصوصی پیغام میں فرمایا:

‘‘قدرتِ ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے۔ اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو وہ محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اگر قدر تِ ثانیہ نہ ہو تو اسلام کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔’’

(الفضل انٹر نیشنل 23تا30مئی2003ء ۔صفحہ1)

تمام برکات
خلیفۂ وقت سے تعلق کے نتیجہ میں ہی مل سکتی ہیں

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘ جب تک بار بار ہم سے مشورے نہیں لیں گے اس وقت تک ان کے کام میں کبھی برکت پیدا نہیں ہوسکتی آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلے کی باگ نہیں دی میرے ہاتھ میں سلسلے کی باگ دی ہے۔ انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتاتا ہے انہیں نہیں بتاتا ۔پس تم مرکز سے الگ ہوکر کیا کرسکتے ہو جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنا دیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کرکے ہی تم کام کرسکتے ہو۔ اس سے جتنا تعلق رکھو گے اسی قدر تمہارے کاموں میں برکت پیدا ہوگی…….. وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کرسکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا کام بھی نہیں کرسکے گا جتنا بکری کا بکروٹا کرسکتا ہے۔’’

( الفضل 20نومبر 1946ء)

خلافت کے تابع ہونے سے ہی ہر برکت نصیب ہوگی

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘اگر ایک امام اور خلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لیے کسی آزاد تدبیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھا تا ہے، اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے، اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کر تا ہے، اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔ اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کے لیے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔’’(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ27اگست1937ء الفضل 4ستمبر1937۔صفحہ4۔3)

تمام ترقیات خلافت سے وابستگی میں ہی ہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘پس تم خوب یاد رکھو کہ تمہاری ترقیات خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں اور جس دن تم نے اس کو نہ سمجھا اور اسے قائم نہ رکھا، وہی دن تمہاری ہلاکت اور تباہی کا دن ہو گا لیکن اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھےرہو گے اور اسے قائم رکھو گے تو پھر اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں ہلاک کرنا چاہے گی تو نہیں کر سکے گی اور تمہارے مقابل میں بالکل ناکام و نامراد رہے گی جیسا کہ مشہور ہے اسفند یار ایسا تھا کہ اس پر تیر اثر نہ کرتا تھا۔ تمہارے لیے ایسی حالت خلافت کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہے۔ جب تک تم اس کو پکڑے رکھو گے تو کبھی دنیا کی مخالفت تم پر اثر نہ کرسکے گی بیشک افراد مریں گے، مشکلات آئیں گی، تکالیف پہنچیں گی مگر جماعت کبھی تباہ نہ ہو گی بلکہ دن بہ دن بڑھے گی اور اس وقت تم میں سے کسی کا دشمنوں کے ہاتھوں مرنا ایسا ہو گا جیسا کہ مشہور ہے کہ اگرایک دیو کٹتا ہے تو ہزاروں پیدا ہو جاتے ہیں تم میں سے اگر ایک مارا جائے گا تو اس کی بجائے ہزاروں اس کے خون کے قطروں سے پیدا ہو جائیں گے۔’’

(حقائق القرآن مجموعہ القرآن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ سورۃ النور زیر آیت استخلاف۔صفحہ73)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یو م خلافت کے حوالے سے جماعت احمدیہ راولپنڈی کے نام پیغام میں فرمایا:

‘‘آپ میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ دعاؤں پر بہت زور دے اور اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھے اور یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھے کہ اس کی ساری ترقیات اور کامیابیوں کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی ہے۔ وہی شخص سلسلہ کا مفید وجود بن سکتا ہے جو اپنے آ پ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔جب تک آپ کی عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت رہیں گی اور آپ اپنے امام کے پیچھے پیچھے اس کے اشاروں پر چلتے رہیں گے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آپ کو حاصل رہے گی۔’’

(روزنامہ الفضل 30مئی2003ء۔صفحہ2)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 11مئی2003ء کو احباب جماعت کے نام ایک خصوصی پیغام میں فرمایا:

‘‘پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کم تر نظر آئیں۔ امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کے لیے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لیے ایک ڈھال ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح المو عود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:‘‘جس طرح وہی شاخ پھل لا سکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔ وہ کٹی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کر سکتی جو درخت سے جدا ہو اس طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتاہے۔ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علو م جانتا ہو وہ اتنا بھی کام نہیں کر سکے گا جتنا بکر ی کا بکروٹا۔’’ پس اگرآپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہو جائیں۔اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دار و مدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔’’

(الفضل انٹر نیشنل23تا30مئی2003صفحہ1)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ماہنامہ خالد کے ‘سید نا طاہر نمبر’کے لیے اپنے پیغام میں فرمایا:

‘‘یہ خلافت کی ہی نعمت ہے جو جماعت کی جان ہے اس لیے اگر زندگی چاہتے ہیں تو خلافتِ احمدیہ کے ساتھ اخلاص اور وفا کے ساتھ چمٹ جائیں، پوری طرح اس سے وابستہ ہو جائیں کہ آپ کی ہر ترقی کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی مضمر ہے۔ ایسے بن جائیں کہ خلیفۂ وقت کی رضا آپ کی رضا ہو جائے۔ خلیفۂ وقت کے قدموں پر آپ کا قدم ہو اور خلیفۂ وقت کی خوشنودی آپ کا مطمح نظر ہو جائے۔’’

(ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر مارچ اپریل2004ء۔صفحہ4)

ہر قسم کی فضیلت امام کی اطاعت میں ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:

یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے…… ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتا ہوں ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔ خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا ۔اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہوسکتا ۔

(الفضل 15 نومبر 1946ء)

خلیفۂ وقت کی سکیم کے سِوا اَور کوئی سکیم قابل عمل نہیں ہونی چاہیے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:

خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفۂ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں ۔(خطبہ جمعہ 31جنوری 1937ء)

انسانی عقلیں اور تدبیریں خلافت کے تحت ہی
کامیابی کی راہ دکھا سکتی ہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقلمند اور مدبر ہو اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم خدا تعالی کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا،بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہو نا میرے ماتحت ہو۔

(الفضل 4 ستمبر 1937ء)

اطاعت ہو تو صحابہ رسول ﷺ جیسی ہو

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

‘‘اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔ اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔ بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے مؤحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔ یہ سچ بات ہے کہ کوئی قوم، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرماں برداری کے اصول کو اختیار نہ کرے………اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو سرّ ہے۔ اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے، خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی، وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بار گراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا……ناسمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلایا گیا مگر میں یہ کہتا ہوں کہ یہ صحیح نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہ نکلی تھیں۔ یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا………تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزو رکھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پید اکرو۔ اطاعت ہو تو ویسی ہو، باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔ غرض ہر رنگ میں، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔’’(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2۔ صفحہ 246تا248 ۔تفسیر سورۃ النساء زیر آیت60)

خلیفہ سے بحث جائز نہیں

حضرت سید محمد اسماعیل صاحب شہید فرماتے ہیں:

‘‘ لازم ہے کہ احکام کے اجراء اور مہمات کا انجام امام کے سپرد کیا جائے اور اس سے قیل وقال اور بحث و جدال نہ کیا جائے اس کے حضور میں زبان کو بند رکھیں اور اپنی رائے سے سرانجام مقدمات میں دخل نہ دیں اور کسی طرح بھی اس کے سامنے استقلال کا دم نہ ماریں۔ ’’ (منصب امامت صفحہ92)

قرب خداوندی کے لیے خلیفۂ وقت کی اطاعت ضروری ہے

حضرت سید محمد اسماعیل صاحب شہید فرماتے ہیں:

امام وقت سے سرکشی اور روح گردانی اس کے ساتھ گستاخی ہے اور اس کے ساتھ بلکہ خود رسول کے ساتھ ہمسری ہے اور خفیہ طور پر خود رب العزت پر اعتراض ہے کہ ایسے ناقص شخص کو کامل شخص کی نیابت کا منصب عطا ہوا ۔الغرض اس کے توسل کے بغیر تقرب الٰہی محض خلل اور وہم ہے اور ایک خیال ہے جو سراسر باطل اور محال ہے۔ (منصب امامت صفحہ 78)

آخر پر صد سالہ خلافت جوبلی 2008ء کے موقعہ پر ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو عہد ہم سے لیا تھا اس کو پیش کرتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خلافت سے محبت ،عشق اور فدائیت میں ہمیشہ بڑھنے کی توفیق عطا فرماتا رہے ۔ ہم خلافت کی کامل اطاعت کرنے والے ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو برکات خلافت سے وابستہ کی ہیں ہم ان تمام برکات کے وارث ہوں اور اپنے خالق حقیقی کی خوشنودی حاصل کرنے والے بنیں ۔اور اِ س عہد پر جو ہم نے حضرت خلیفۃ المسیح کے ساتھ مل کر کیا ہے اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

‘‘اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔آج خلافتِ احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہﷺ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فریضہ کی تکمیل کے لیے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسولﷺ کے لیے وقف رکھیں گے اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظامِ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لیے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافتِ احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔اے خدا! تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔اللّٰھم آمین، اللّٰھم آمین، اللّٰھم آمین’’

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button