از افاضاتِ خلفائے احمدیت

روحانی علوم اپنے اندر جذب کرکے دنیا میں پھیلائیں

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرموده ۱۰؍دسمبر ۱۹۲۶ء )

ہماری جماعت کے دوستوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ظروف کو اعلیٰ اور مصفّٰی بنائیں اور اپنے اندر وہ قابلیت پیدا کریں کہ جس سے نہ صرف ان کے اندر پانی جذب ہو بلکہ اتنا پانی جمع ہو کہ دوسروں کو بھی پلائیں

۱۹۲۶ءمیں فرمودہ خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ خدا کا کلام ہمیشہ جاری و ساری ہے نیز اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اس کلام کو جذب کرنے کی قابلیت اپنے اندر پیدا کی جائے اور پھر دنیا میں اسے پھیلایا جائے ۔قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔ (ادارہ)

تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ تمام کارخانہ اجسام اور روح پر چل رہا ہے۔ اور روح و جسم کا آپس میں ایسا تعلق ہے کہ نہ روح بغیر جسم کے پائی جاتی ہے اور نہ جسم بغیر روح کے پایا جاتا ہے۔ ہر جسم کے لئے روح ہے اور ہر روح کے لئے جسم ہے۔ روح بغیر جسم کے کچھ کام نہیں کر سکتی۔ روح کے تمام افعال اور خواص جسم کے ذریعہ سے ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

دنیا میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جو بغیر روح اور جسم کے ہو۔

ہر چیز کے لئے اس جوڑے کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ بغیر اس جوڑے کے وہ اپنے اثرات نہیں ظاہر کر سکتی۔ بہر حال وہ کسی نہ کسی ظرف میں ہوگی۔ صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے ہی وحدت ہے۔ اس کے سوا جہاں تک ہماری نظر کام کرتی ہے ہر چیز میں یہی سلسلہ نظر آتا ہے کہ اس کے لئے ایک جسم اور ظرف ضرور ہوتا ہے جس کے ذریعہ سے اس کے افعال کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لطیف سے لطیف چیزوں میں بھی ہمیں یہی سلسلہ نظر آتا ہے۔ مثلاً معانی دنیا میں لطیف چیز ہیں وہ بھی الفاظ کی صورت میں آکر ظاہر ہوتے ہیں اور نتائج پیدا کر تے ہیں۔

پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز بغیر جسم کے نہیں پائی جاتی۔ ہر چیز کے لئے جسم ضرورہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے افعال ظاہر کرتی ہے۔ حتّٰی کہ لطیف سے لطیف چیزیں بھی کسی جسم اور کسی ظرف کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتی ہیں تو اسی طرح صداقت بھی بغیر ظرف کے ظاہر نہیں ہوا کرتی اور بغیر ظرف کے نہیں پائی جاتی۔ حالانکہ صداقت ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ سے چلی آتی ہے اور ہمیشہ چلی جائے گی۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے نکلی ہے اور خدا تعالیٰ اس کا منبع ہے۔ حتّٰی کہ خود اﷲ تعالیٰ کی ذات بھی ایک صداقت ہے۔ چنانچہ

قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی باقی صفات فاعلیت کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں اور فاعل کے معنی دیتی ہیں۔

مثلاً وہ رحمان ہے یعنی رحم کرنے والا۔ لیکن صداقت فاعل کے معنوں میں نہیں بولی گئی۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے متعلق آتا ہے۔الحق۔ کہ وہ ایک صداقت ہے۔ وہ حق ہے جو ازلی ابدی ہے۔ لیکن اﷲ تعالیٰ بھی باوجود اس کے کہ ایک صداقت ہے جو ازلی ابدی ہے ہمیشہ اپنی صفات بندوں کے ذریعہ ہی ظاہر فرماتا ہے۔ اپنے بندوں پر علوم کھولتا ہے اور اپنی تجلیات ظاہر کرتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ ہی اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔ اور جس طر ح وہ اپنی باقی صفات بندوں کے ذریعہ ظاہر فرماتا ہے اسی طرح وہ اپنا کلام بھی بندوں کے دلوں اور دماغوں میں نازل کرتا اور اپنا کلام پاک قلوب میں الہام کرتا ہے۔ پھرآگے ان کے ذریعہ وہ کلام دنیا میں ظاہر ہوتا اور نتائج پیدا کرتا ہے۔

میرا اپنا یہی عقیدہ اور یہی مذہب ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا کلام ہمیشہ سے جاری چلا آتا ہے اور جاری رہے گا۔

اور اس کے کلام کے ظروف بھی ہمیشہ پائے جاتے ہیں اور ہمیشہ پائے جائیں گے۔ اور وہ ظروف اﷲ تعالیٰ کے انبیاء اور اولیاء و صلحاء ہیں۔

جس طرح ہر زمانہ میں اُس کی صفات کا ظہور ہوتا ہے اور مختلف چیزوں کے ذریعہ اس کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔ مثلاً اُس کا علم ہے۔ اس کی ہر زمانہ میں تجلیات مختلف رنگو ں میں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اِس زمانہ میں بھی جس قدر ایجادات ہو رہی ہیں وہ سب درحقیقت اس کے علم کا ظہور ہیں۔ اس کے علم کا نتیجہ ہیں۔اس کے علوم نے دماغوں پر اپنا عکس ڈالا تب یہ ایجادیں نکلیں۔ اسی طرح اُس کا کلام بھی ہر زمانہ میں دلوں پر نازل ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ اس کے کلام کا ظہور ہوتا ہے۔

ہاں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اس کے کلام کے حصول کے لئے قابلیت اور استعداد پیدا کی جائے۔ جیسے تار کے وصول کرنے اوراسے سننے کے لئے اہلیت کی ضرورت ہے۔ تار گھر تو موجود ہے۔ لیکن اگر تار کو سننے والا اور حاصل کرنے والا نہ ہو تو کس طرح اس سے فائدہ حاصل ہو گا؟ اس کے سننے کے لئے تو قابلیت کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ قابلیت اپنے اندر پیدا نہ کی جائے تب تک اس سے فائدہ نہیں حاصل ہوتا۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تو تار کا سلسلہ برابر جاری ہے۔ اس کا کلام ہر زمانہ میں نازل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے سننے کے لئے اور اس کا حامل بننے کے لئے بھی تو پہلے قابلیت اور استعداد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو کلام کا فیضان جاری ہے اور علوم کا سلسلہ چلا آتا ہے۔ لیکن اگر ہم میں اس کے لئے قابلیت نہیں ہوگی تو ہم اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے کلام کو جذب کرنے کے لئے حضرت نبی کریم ﷺ نے بھی مثال کے رنگ میں لوگوں کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو اُس زمین کی طرح ہیں کہ جو نہ تو پانی کو اپنے اندر جذب ہی کرتی ہے اور نہ ہی جمع رکھتی ہے۔ اور ایک اُس زمین کی طرح ہیں جو پانی کو اپنے اندر جذب تو کرتی ہے لیکن جمع نہیں رکھتی اور دوسروں کے لئے مفید نہیں۔ اور بعض اُس زمین کی طرح ہیں جو اپنے اندر جذب بھی کرتی ہے اور اتنا پانی جمع بھی رکھتی ہے کہ جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تو تین قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو نہ تو خدا تعالیٰ کے کلام اور علم کو جو پانی کی مثال ہے اپنے اندر لیتے ہیں اور نہ اپنے اندر اسے جمع رکھتے ہیں۔ یعنی نہ تو خود اس کلام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اور ایک وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے اندر اس کلام کو تو جذب کرتے ہیں اور خود اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خود ترقی حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے۔(بخاری کتاب العلم باب فضل من عَلِمَ)پس اس مثال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تین مدارج کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اور جتنی جتنی کوئی قابلیت اپنے اندر پیدا کرے گا اتنا ہی وہ کلام اور علم سے فائدہ اٹھائے گا اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکے گا۔

پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس قسم کی قابلیت پیداکریں کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے کلام اور اس کے علوم کو اپنے اندر جذب کریں اور پھر ان کو دنیا میں پھیلائیں۔ کیونکہ حقیقی اور ابدی زندگی خدا کے کلام سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

اس لئے حضرت مسیحؑ بھی فرماتے ہیں کہ انسان طعام سے زندہ نہیں بلکہ خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے۔(لوقا باب۴ آیت ۴مطبوعہ لاہور ۲۰۱۱ء)جس کا یہی مطلب ہے کہ درحقیقت اﷲتعالیٰ کا کلام ہی زندگی بخش اور اس کے ہی علوم کام آتے ہیں۔ لیکن جس طرح پانی کے لئے مصفّٰی اور اعلیٰ ظرف کا ہونا ضروری ہے اسی طرح خدا کے کلام کے لئے بھی جس کو پانی سے تشبیہ دی گئی ہے عمدہ اور صاف ظرف کا یعنی اعلیٰ قابلیت کا ہونا ضروری ہے۔ اور وہ ظرف وقت کے مامور اور نبی کی تعلیم پر چلنے سے ہی مصفّٰی اور عمدہ ہو سکتا ہے۔ اسی لئے مامور کی تعلیم سے استفادہ کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ پس کیوں نہیں تم اپنے ظروف کو اعلیٰ اور وسیع بناتے؟ کیا پانی بغیر ظرف کے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور کسی استعمال میں آسکتا ہے؟ تو پھر خدا تعالیٰ کے کلام اور مامور کی تعلیم سے استفادہ بغیر اس کی تعلیم پر چلنے اور اپنے اندر عمدہ قابلیت پیدا کرنے کے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ اسلام کی تعلیم بہت اعلیٰ اور مکمل ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑکی تعلیم اعلیٰ ہے۔ بے شک یہ صحیح ہے۔ لیکن اس کے اعلیٰ اور بہترین ہونے سے تمہیں کیا فائدہ ؟ جب تک کہ تم خود اس پر عمل نہیں کرو اور اس کے علوم کو اپنے اندر جذب کرکے انہیں دنیا میں نہ پھیلاؤ۔

چشمہ تو اُس کے لئے اچھا اور مفید ہے کہ جس نے اُس سے پانی پیا۔

لیکن جو شخص اس چشمہ سے پانی نہیں پیتا اس کو اس سے کیا فائدہ؟ اُس کے صرف یہ کہنے سے کہ چشمہ بہت اچھا ہے ہلاکت سے نہیں بچا سکتا۔ وہ ہلاکت سے تب ہی بچ سکتا ہے کہ اس چشمہ سے پانی پئے۔

بے شک چشمہ تو بہت اچھا اور مفید ہے لیکن اُس شخص کے لئے مفید ہو سکتا ہے جو اس سے سیراب ہو۔ وہ صرف اس چشمہ کی تعریف کرنے سے خواہ کس قدر بھی تعریف کرے موت سے نہیں بچ سکتا۔ اور نہ اس کی پیاس بجھ سکتی ہے جب تک کہ وہ اس کا پانی نہ پئے۔

بے شک اتنی نیکی تو اس کی ہے کہ اس نے لوگوں کی اس چشمہ کی طرف رہنمائی کی۔ لیکن خود تو پیاس کی شدت اور ہلاکت سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ وہ خود بھی اس پانی کو نہ پی لے۔

جب نجات کے لئے خود بھی چشمہ سے پانی پینا ضروری ہے تو ہماری جماعت کے لوگ بھی کبھی نجات کی امید نہیں رکھ سکتے جب تک حضرت مسیح موعودؑ کے چشمہ سے خود بھی پانی نہ پیئیں گے۔ ان کی تعلیم پر اپنے آپ کو نہ چلائیں گے۔ اور اس تعلیم کے اخذ کے لئے اپنے دماغوں کے ظروف کو اعلیٰ نہ بنائیں گے۔ پس

ہماری جماعت کے دوستوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ظروف کو اعلیٰ اور مصفّٰی بنائیںاور اپنے اندر وہ قابلیت پیدا کریں کہ جس سے نہ صرف ان کے اندر پانی جذب ہو بلکہ اتنا پانی جمع ہو کہ دوسروں کو بھی پلائیں۔

حضرت مسیح موعود ؑکی تعلیم پر اپنے آپ کو ایسا چلاؤ کہ تمہاری ہستیوں پر پورا پورا انقلاب آجائے۔

آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر پورے طورپر چلنے کی توفیق بخشے۔ اور ہمیں اس کو اپنے اندر لینے کے لئے اور اس کو دنیا تک پہنچانے کے لئے اعلیٰ درجہ کی قابلیتیں عطا کرے۔ اور ہمیں دنیا کے لئے نمونہ اور رہنما بنائے۔ آمین

(الفضل۲۱؍ دسمبر ۱۹۲۶ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button