کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

ارشادات عالیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام

ہمارا یہ دن درحقیقت جمعہ کا دن ہے کیونکہ اس میں ہر ملک اور ہر زمین کے آدمی جمع کئے گئے ہیں اور نیز اس دن میں دنیا اور دین کی سعادت میں سے ہر ایک چیز جمع کی گئی ہے جس کی طرف لوگوں کو حاجت پڑتی ہے اور نیز ہر طرح کے علوم اور معارف اور شرع متین کے اسرار جمع ہو گئے ہیں اور لوگوں کے تعلقات آپس میں بڑھ گئے ہیں۔ اسلام سب دینوں پر غالب آئے گا اور ہر قوم کی جماعتیں توبہ اور خلوص دل کے ساتھ اس میں داخل ہوں گی۔ پس کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارا وقت جمعہ ہے۔

اَلْبَابُ الْخَامِسُ


’’اے خدا ترس اور عقلمند ناظرین! آگاہ رہو کہ یہ زمانہ وہی آخری زمانہ ہے[حاشیہ ۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قیامت کی گھڑی مخفی ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ کسی زمانہ کو کہا جائے کہ وہ آخری زمانہ ہے۔ پس ہم قیامت کی تعیین نہیں کرتے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ ان معیّن گھڑیوں میں غیر معیّن ہے اور بلاشبہ قرآن کریم نے دنیا کے ہزاروں سالوں کو ایام تخلیق سے تشبیہ دی ہے۔ پس ہمارا ہر قول اسی سے مستنبط ہوتا ہے۔ جیسا کہ اہل ِ دانش پر مخفی نہیں۔] اور میں آخرین میں سے ہوں۔ اور ہمارا یہ دن درحقیقت جمعہ کا دن ہے کیونکہ اس میں ہر ملک اور ہر زمین کے آدمی جمع کئے گئے ہیں اور نیز اس دن میں دنیا اور دین کی سعادت میں سے ہر ایک چیز جمع کی گئی ہے جس کی طرف لوگوں کو حاجت پڑتی ہے اور نیز ہر طرح کے علوم اور معارف اور شرع متین کے اسرار جمع ہو گئے ہیں اور لوگوں کے تعلقات آپس میں بڑھ گئے ہیں۔ جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ہر ایک ریل گاڑی صبح اور شام مشرق اور مغرب کے گروہ در گروہ لوگ لاتی ہے اور اس کے باعث مشرق اور مغرب کے میوے خدا کے حکم سے جمع ہو گئے ہیں۔ اور امید ہے کہ آخر کار رحیم خدا ہمارے دین کی پراگندگی کو دور کر دے گا اور خلقت کو اس گڑھے کے کنارے سے ہٹا لے گا جس کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ یہ خدا کا وعدہ ہے اور وہ سب سچ بولنے والوں سے زیادہ سچ بولنے والا ہے۔ اور اسلام سب دینوں پر غالب آئے گا اور ہر قوم کی جماعتیں توبہ اور خلوص دل کے ساتھ اس میں داخل ہوں گی۔ پس کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارا وقت جمعہ ہے۔ اور آسمان اور زمین اس پر گواہی دیتے ہیں اور اس میں وہ ہر ایک چیز جمع ہو گئی ہے جو اگلوں میں پراگندہ تھی اور میں اس جمعہ میں عصر کے وقت اور ایسے وقت میں جبکہ اسلام اور مسلمانوں کو تنگی اور عسر نے گھیر لیا تھا پیدا کیا گیا ہوں جیسا کہ آدم صفی اللہ جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آدم کا زمانہ اس وقت کے لئے بطور نمونہ کے تھا اور اس کے عصر کا وقت اس عصر کے لئے سایہ کے طور پر تھا کہ اس میں اسلام کا گلا گھونٹا گیا اور ہمارے دین پر مصیبتیں پڑیں اور قریب ہے کہ دین کا آفتاب غروب ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ان دنوں اسلام کا نور تاریکی کی اور لئیموں کی زیادتی اور دشمنوں کے حملوں سے جو قلم کے ساتھ ہیں اور تکذیب کرنے والوں کی وجہ سے کم ہو گیا ہے۔ اور قریب تھا کہ اس کا کچھ نشان بھی باقی نہ رہتا اگر خدائے کریم کا فضل اس کا تدارک نہ کرتا۔ چنانچہ اسی سبب سے خدا کی غیرت نے تقاضاکیا کہ اس میں ایک مجدّد کو پیدا کرے جو آدم سے مشابہ ہو۔پس اس دن عصر کے وقت یعنی عُسر کے وقت میں مجھ کو پیدا کیا اور مجھ کو اپنے پاس سے سکھایا اور عزت دی اور اپنے بزرگ بندوں کے سلسلہ میں مجھ کو داخل کیا۔ اور مجھے ان کے لئے جو اختلاف کرتے ہیں حَکم بنایا اور وہ احکم الحاکمین ہے۔ اور لوگوں نے کھلم کھلا دیکھ لیا ہے کہ خداتعالیٰ میری مدد کرتا ہے اور ہر بات میں میری تائید کرتاہے اورلوگوں نے مجھے نکال دیا لیکن اُس نے مجھے اپنے پاس جگہ دی اور وہ مجھ پر ٹوٹ پڑے لیکن اُس نے مجھے محفوظ رکھا اورمیری جماعت بڑھائی اور میرے سلسلہ کو قوت دی پس بدظنی اور خدا کے فضل نے جو مجھ پر تھا اُن کو حیرت میں ڈالا اور کہا کہ کیا خدا ایسے شخص کو خلیفہ بناتاہے جو زمین میں خرابیاں کرے اور خون کرے۔ پس خدا نے ان کو میری وساطت سے جواب دیا کہ مَیں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور کہا کہ فلانا مظلوم مارا گیا اور فلانے عیسائی کے قتل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اور قتل کو میری طرف منسوب کیا تا کہ مجھے اُن لوگوں میں داخل کریں جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور ظلم اور فساد سے لوگوں کو مار ڈالتے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ مَیں اُن سے برَی ہوں اور اُن کی یہ باتیںجو میری نسبت ہیں بالکل جھوٹی اور بہتان ہے اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اور اِسی لئے خدا نے میری طرف انہی کی زبانی وحی کی کہ ’’کیا تو خلیفہ بناتا ہے زمین میں‘‘ اس آیت تک کہ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ اور یہ اس لئے فرمایا کہ جرأت کرنے والوںکوعبرت حاصل ہو۔ اور یہ باتیں ان کی زبان پر اس لئے جاری ہوئیں تاکہ خداتعالیٰ کی اِس خبر کو پوری کریں جو پہلے مذکور ہو چکی اور اس لئے کہ میری مشابہت آدم سے فساد اور خونریزی کی تہمت میں ثابت کریں۔ پس خدا نے ان کو اپنی وحی کے ذریعہ سے جواب دیا اور یہ وحی اُس مشرک کے قتل سے پہلے جس کی نسبت اُن کا گمان ہے کہ مَیں نے اُسے قتل کیا ہے اور اُس نصرانی کی موت سے پہلے جس کی نسبت اُن کا گمان ہے کہ میرے دوستوںنے اُس کے قتل کے لئے اس پر حملہ کیا چَھپ کر شائع ہو چکی تھی۔پس تعریف ہو اس خدا کی کہ جس نے میری طرف سے ان باتوں کے ساتھ مدافعت کی جو آدم کے حق میں کہی گئی تھیں اور خدا سب دفاع کرنے والوں سے بہترہے۔ وہی خدا جس نے میرے ذریعہ سے اسلام کے سورج کوجس وقت وہ غروب ہو رہا تھا پھر لوٹایا پس گویا پھر اپنے مغرب سے طلوع کیا اور طالبوںکے لئے تجلّی فرمائی۔‘‘


(خطبہ الہامیہ مع اردو ترجمہ صفحہ 151تا155۔شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمدیہ پاکستان۔ربوہ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button