اداریہ

اداریہ: حقیقی عید

(حافظ محمد ظفراللہ عاجزؔ۔ مدیر اعلیٰ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل)

(عید تو وہ ہے جو ہمیں کچھ دے کر جائے اور وہ باطنی عید ہے۔ اندرونی عید ہے۔ دلی عید ہے۔ وہ عید ہے جو ہماری روح کو سیراب کرے، جو ہمیں کچھ دے۔ اور ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی دولت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے اور ہونا چاہیے اور یہی حقیقی عید ہے کیونکہ اس میں کامیابی نظر آ رہی ہے)

رمضان المبارک اپنے اختتام کو ہے اور اگلے چند روز میں مسلم دنیا عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی۔ عید کے دن میٹھے کھانے کھا لینا، نئے کپڑے پہن لینا اور عزیزوں، رشتہ داروں کو مل لینا اور مختلف انداز میں خوشیاں منا لینا اس وقت تک دل کو اطمینان نہیں پہنچاسکتا جب تک عید کی حقیقی روح کو مدنظر نہ رکھا جائے۔ اور عید کی روح کو جاننے کے لیے ہم دروازہ کھٹکھٹاتے درِ خلافت کا۔ سیدنا وامامنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس معاملے میں بہت خوبصورتی سے ہماری راہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’عید کا دن ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے اور یاد کروانے والا ہونا چاہئے کہ جن نیکیوںکے مزے ہم نے ایک مہینے میں چکھے ان کو ہم نے جاری رکھنا ہے۔ ان باتوں جن کی طرف عموماً ہماری رمضان کے مہینے میں توجہ رہتی ہے، ان میں عبادتیں بھی ہیں اور صدقات اور مالی قربانیاں اور حقوق العباد کا خیال رکھنا بھی ہے یہ باتیں اب اجتماعی طور پر ایک خاص ماحول کے تحت کرنے کا عرصہ تو ختم ہو گیا لیکن ایک مومن کی حقیقی ذمہ داری اور مقام یہی ہے کہ نیکیوں کو نہ صرف جاری رکھے بلکہ ان میں بڑھے۔ پس کل سے اس سال کے فرض روزوں کے دن تو ختم ہو گئے جن میں ہم نے بہت سی نفلی عبادتیں بھی کیں لیکن جن دوسری عبادتوں اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ ہوئی اسے ہمیں جاری رکھنا چاہئے۔ نوافل کی طرف توجہ ہوئی تو اسے جاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ نمازوں کی باقاعدگی کی طرف توجہ ہوئی تو اسے جاری رکھنا ہے۔ اپنے نفس پر کنٹرول کی ٹریننگ ہوئی تو اس پر قائم رہنے کی کوشش ہم نے کرنی ہے۔ ہمدردیٔ خلق کے جذبے کی طرف توجہ ہوئی تو اس پر اپنے آپ کو قائم رکھنا ہے۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ نماز باقاعدگی سے پڑھیں لیکن اگر وہ اپنے نفس کو ٹٹولیں تو یہ ان کے نفس کا دھوکہ ہے، وہ کوشش کرتے ہی نہیں۔ نماز کی ادائیگی کی ذمہ داری کو سمجھتے ہی نہیں۔ اگر سمجھتے ہوں تو کبھی کوشش ناکام ہو ہی نہیں سکتی۔ آخر رمضان کے مہینے میں عموماً بہتر صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان دنوں میں حقیقی کوشش ہوتی ہے، اٹھنے کا ارادہ ہوتا ہے عموماً سوائے اس کے کہ کوئی بہت ہی ڈھیٹ ہو اور اپنے ماحول کو دیکھ کر بھی شرم نہ آئے۔ رمضان میں سحری کی غرض سے بھی اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بھی اٹھتے ہیں۔ سست ترین لوگ بھی جو ہیں وہ بھی عموماً فجر کی نماز وقت پر پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حقیقی کوشش ہے جس کا نتیجہ نکلتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس کام کا ستر اسی فیصد نتیجہ نہیں نکلتا اس کے لئے صحیح رنگ میں ایک جذبے سے کوشش کی ہی نہیں گئی۔ پس آج ہمیں مصمم اور پکا ارادہ کرنا چاہئے کہ تمام نیکیوں کے بجا لانے کے لئے ہم حقیقی کوشش کریں گے۔ صرف اپنے نفس کے دھوکے میں نہیں آئیں گے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں۔ جب یہ ہو گا تبھی ہماری عید حقیقی عید ہو گی۔ تبھی ہماری آج کی خوشی پورے سال کی خوشی پر محیط ہو گی۔ اور یہی عید کا حقیقی مقصد ہے۔ اگر یہ نہیں تو آج خاص طور پر تیار ہونا، اچھے کھانے کھانا اور دوستوں کو ملنا اور دوسرے پروگرام بنانا یہ تو بے مقصد ہے۔ اصل روح تو آج کی خوشیوں کے پیچھے یہ ہے کہ ایک مہینہ خاص طور پر اپنی تربیت کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے بعض جائز کاموں سے رکیں اور خوشی سے اور قربانی کرتے ہوئے رکیں۔ آج ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں سے ہی اس کی خوشی منا رہے ہیں کہ یہ ہم نے مہینہ گزارا لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی عہد کرتے ہیں کہ اس مہینے کی تربیت کی وجہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف ہم آئندہ بھی توجہ دیتے رہیں گے۔

پس یہ بات ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں اچھی طرح رہنی چاہئے کہ سال میں صرف ایک مہینہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنے اور اس کا حق ادا کرنے سے ہماری زندگی کا مقصد پورا نہیں ہو گیا اور نہ ہی صرف ایک مہینہ حقوق العباد ادا کرنے سے ہمارا مقصد پورا ہو گیا بلکہ مقصد تب پورا ہو گا جب ہم ان باتوں کو دائمی کریں گے، ہمیشہ کے لئے کریں گے۔ اور جو سستیاں رمضان کے مہینے کی وجہ سے دور ہوئی ہیں ان کو اب ہمیشہ دور رکھیں گے۔ جن نیکیوں کے کرنے کی ہمیں توفیق ملی ہے انہیں ہم ہمیشہ کرتے چلے جائیں گے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں اور ہر دن ہمارے لئے عید کا دن بن جائے۔ ہر دن جو ہم پر طلوع ہو اللہ تعالیٰ کی رضا کا مورد بناتے ہوئے طلوع ہو۔ پس اگر ہم چاہتے ہیں تو ہمیں تقویٰ پر چلتے ہوئے ہمیشہ اپنی عبادتوں میں طاق اور باقاعدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ حقوق العباد کی طرف توجہ دیتے ہوئے غریبوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ رشتہ داروں اور قریبیوں سے حسن سلوک کی ضرورت ہے۔ اپنے دلوں کو انانیت سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمدردیٔ خلق کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ (خطبہ عید الفطر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ مورخہ ۱۶؍ جون ۲۰۱۸ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۴؍ جنوری ۲۰۱۹ء صفحہ ۱ و ۱۵)

حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک اور موقع پر حقیقی عید کی خوبصورت تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’یاد رکھنا چاہیے کہ عید اصل میں خوشی کا نام ہے اور خوشی اس وقت ہوتی ہے جب انسان کسی کام میں کامیابی حاصل کرے۔ اگر کامیابی نہیں تو کون عقل مند ہے جو خوش ہو گا بلکہ الٹا ناکامی پر روئے گا۔ پس عید کو بھی ہمیں اسی طرح دیکھنا ہو گا۔ جب کوئی عید مناتا ہے تو اصل میں وہ اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہا ہوتا ہے۔ جب یہ کامیابی کا دعویٰ ہے تو ہم میں سے ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا حقیقت میں کامیابی ہے اور کیا اس کامیابی کی وجہ سے اسے حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ عید منائے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک دن ہم عید کا مقرر کر کے اس دن ہم اچھے کپڑے پہن لیں، کھانا پینا اچھا کر لیں، ظاہری طور پر رونق لگالیں، شورشرابا کر لیں، دعوتیں کھا لیں اور کھلا دیں۔ ان سب چیزوں میں ہم کچھ نہ کچھ خرچ کرتے ہیں۔ یہ سارے کام مفت نہیں ہوتے۔ تو جس عید پر ہم صرف خرچ کرتے ہیں اور وہ ہمیں کچھ دے کر نہیں جاتی تو پھر وہ عید نہیں ہو سکتی۔ یا کچھ حاصل بھی کیا تو وقتی خوشی۔ عید تو وہ ہے جو ہمیں کچھ دے کر جائے اور وہ باطنی عید ہے۔ اندرونی عید ہے۔ دلی عید ہے۔ وہ عید ہے جو ہماری روح کو سیراب کرے، جو ہمیں کچھ دے۔ اور ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی دولت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے اور ہونا چاہیے اور یہی حقیقی عید ہے کیونکہ اس میں کامیابی نظر آ رہی ہے۔ روزوں کے بعد یہ عید اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھی ہے تا کہ یہ خوشخبری دے کہ روزے قبول ہو گئے۔ پس عید پر ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا حقیقت میں ہمارے روزے قبول ہو گئے ؟کیا واقعی میں خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کی توفیق دی اور کیا واقعی میں ہماری عبادت قبول بھی ہو گئی؟ کیا پتہ کہ جس عبادت کی ہمیں توفیق ملی وہ قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں۔ کئی عبادتیں قبول نہیں ہوتیں۔ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جلدی جلدی نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نماز پڑھو کیونکہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوئی۔ اس نے پھر جلدی جلدی نماز پڑھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ پھر نماز پڑھو تمہاری نماز قبول نہیں ہوئی۔ اس نے پھر نماز پڑھی پھر اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تو اس پر اس شخص نے کہا کہ کس طرح نماز پڑھوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستگی اور سکون سے نماز پڑھو۔ یہ اصل نماز ہے پس اس کو ہمیں پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ حقوق العباد ادا نہیں کرتے ان کی نمازیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔

پس جس طرح نمازیں قبول نہیں ہوتیں اسی طرح بعض روزے داروں کے روزے بھی قبول نہیں ہوتے۔ روزوں میں حقوق اللہ کے ساتھ جو حقوق العباد کرنے کا خاص طور پر حکم ہے اگر وہ ہم نے ادا نہیں کیے توکس طرح روزے قبول ہوں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو بیماری اور معذوری کی وجہ سے روزے رکھنے کی رخصت ہے، مجبوری ہے اور یہ اجازت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے لیکن کیونکہ وہ باقی فرائض اور نوافل اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے ادا کر رہے ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو روزے نہ رکھنے کے باوجود ثواب سے محروم نہیں رکھتا۔ ایسے لوگ تو عید بھی اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے منا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر نظر کر کے ان کے کھاتے میں حقیقی عید کی خوشیاں لکھ رہا ہوتا ہے۔ بعض لوگ روزے کی طاقت ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھتے اور افطاری ایسے ذوق شوق سے کرتے ہیں جیسے سب سے زیادہ ان کو ہی روزے کی کمزوری ہو رہی ہے اور پوچھو تو کہتے ہیں کہ روزہ تو فلاں فلاں عذر کی وجہ سے نہیں رکھا، نمازیں بھی کاروباری یا کام کی مصروفیت کی وجہ سےٹھیک طرح نہیں پڑھ سکا، نوافل بھی ادا کرنے کے لیے نہیں اٹھ سکا نیند بڑی آ جاتی ہے، نیند کا غلبہ آ جاتا ہے، فلاں احکام بھی ادا نہیں کر سکتا۔ اگر افطاری بھی نہ کھاؤں تو بالکل ہی کافر ہو جاؤں۔ اس حوالے سے لوگوں نے مختلف لطیفے بھی بنائے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ لطیفے آج کل پھیلے بھی ہوئے ہیں اور پرانے زمانے سے ہی پھیلے ہوئے ہیں۔ تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ یہ صرف لطیفہ ہی نہیں ہے حقیقت میں ایسے لوگ ہوتے ہیں اور عید والے دن بھی سب سے پہلے آ کر شامل ہو جاتے ہیں کہ عید کے منانے کا سب سے زیادہ ادراک شاید صرف انہیں ہی ہے لیکن اس قسم کے دھوکوں کے ساتھ خدا تعالیٰ دھوکے میں نہیں آ سکتا،نہ ہی ہمارے نفس کو اس کا کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پس ہمیں اپنے دلوں پر غور کرنا چاہیے۔ یہ غور کرنا چاہیے کہ ہماری عید کیسی ہے؟‘‘خطبہ عید الفطر خطبہ عید الفطر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ مورخہ ۲۴؍مئی ۲۰۲۰ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۰ء صفحہ ۶)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی عید پر غور کرتے ہوئے عید سعید کو حقیقی روح کے ساتھ منائے اور دائمی خوشیاں حاصل کرنے والا ہو۔ آمین

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button