مکتوب

مکتوب جنوبی امریکہ (ماہ دسمبر کی بعض اہم خبریں)

(لئیق احمد مشتاق ۔ مبلغ سلسلہ سرینام، جنوبی امریکہ)

معدنیات کی دولت سے مالا مال ایک غیر معروف علاقہ جس نے جنوبی امریکہ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا

جنوبی امریکی خطے میں دو ممالک کے درمیان سونے اورتیل کی دولت سے مالا مال ایک متنازعہ علاقے پر سرحدی کشیدگی نے بین الاقوامی تشویش کو جنم دیا ہے۔یہ جھگڑا وینزویلا اور گیانا کے درمیان ایک متنازعہ علاقے ایسکیبو کی خودمختاری پر ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جو گیانا کے دو تہائی حصے کے برابر ہے ( اور یہ تقریباً تیونس کے برابر ہے اور انگلینڈ، کیوبا یا یونان کے رقبے سے زیادہ ہے)۔وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ۳؍ دسمبر کو ملک میں اس معاملے پر ایک متنازعہ ریفرنڈم کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ اس علاقے کو وینزویلا کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے سرکاری کمپنیوں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ علاقے میں تیل کے ذخائر کی تلاش اور ان سے تیل نکالنے کا کام شروع کریں اور متنازعہ زمین کے لیے ایک نیا جامع دفاعی زون تشکیل دیں۔

گیانا کی حکومت نے اس ریفرنڈم کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ ایک بھونڈا مذاق قرار دیا ہے۔ گیانا کے صدر نے کہا کہ ملک وینزویلا سے خود کو بچانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں اور امریکی فوج کی سدرن کمانڈ سمیت علاقائی اتحادیوں سے مدد مانگی گئی ہے۔ گیانا نے تقریباً ۱۰۰؍ سال سے ایسکیبو کا انتظام سنبھالا ہوا تھا۔اس تنازعے پر متعدد مغربی ممالک کی طرف سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی مذمت کی گئی ہے، امریکہ نے اس مسئلے کا پُرامن حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے اور برطانیہ نے وینزویلا کی حکومت کے حالیہ اقدامات کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ایسکیبو تیل سے مالا مال ایک علاقہ ہے جو وینزویلا کے پڑوسی ملک گیانا کے زیر انتظام ہے۔اس علاقے کو گیانا ایسکیبیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ۱۵۹۶۰۰؍ مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا یہ علاقہ گیانا کے زیر انتظام رقبے کے دو تہائی کے برابر ہے۔ یہ گیانا کے آٹھ لاکھ شہریوں میں سے سوا لاکھ آبادی کا گھر ہے۔یہ علاقہ سونے، تانبے، ہیرے، لوہے، باکسائٹ اور ایلومینیم سے مالا مال ہے۔

۲۰۱۵ءمیں متنازعہ علاقے سے دور پانیوں میں خام تیل کی دریافت کے بعد سے گیانا کی معیشت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ اس تنازعہ کا پس منظر یہ ہے کہ ایسکیبو پندرھویں صدی کے دوران وینزویلا کے ہسپانوی کپتانی جنرل کا حصہ تھا۔ جب وینزویلا نے ۱۸۱۱ء میں سپین سے آزادی حاصل کی تو اس نے خود ساختہ طور پر ایسکیبو کو اپنا حصہ قرار دے دیا۔تین سال بعد برطانیہ نے وینزویلا کے مشرق میں تقریباً ۵۱۷۰۰؍ مربع کلومیٹر کے علاقے کو حاصل کرنے کے لیے نیدرلینڈز کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے لیکن اس معاہدے میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ برٹش گیانا سے منسلک مغربی سرحد کا خطہ کیا بنے گا؟

۱۹۶۶ءمیں برطانیہ نے گیانا کو آزادی دے دی اور فریقین اس تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم تھے، وینزویلا کے آنجہانی صدر ہوگو شاویز اور جارج ٹاؤن کے درمیان اچھے تعلقات کی وجہ سے ان کی حکومت کے دوران یہ کیس بند رہا۔لیکن ۲۰۱۵ءمیں تیل کی دریافت کے بعد وینزویلا اور گیانا کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔

برازیل کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی حکومت کی جانب سے گیانا کے زیر کنٹرول علاقے کو اپنی سرزمین میں شامل کرنے کے منصوبے کے اعلان کے بعد وہ وینزویلا کے ساتھ اپنی سرحد پر فوج تعینات کر رہا ہے۔ وینزویلا کے ساتھ سرحدی تنازع پر کشیدگی بڑھنے پر برطانوی جنگی جہاز گیانا پہنچ گیا۔HMS ٹرینٹ کی آمد کے بعد وینزویلا نے گیانا کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب مشرقی کیریبین میں فوجی مشقیں شروع کیں۔برازیل کی وزارت خارجہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور دونوں جنوبی امریکی ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی طرف واپس جائیں بیان میں کہا گیا ہے کہ دیگر ممالک کو ایسی ’’فوجی سرگرمیوں‘‘سے گریز کرنا چاہیے جو کسی بھی فریق کی حمایت کریں۔ برازیل نے مقامی راہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ سرحدی تنازعہ کو عدم تشدد کے ذریعے حل کریں۔

پیرو میں ہزاروں کچھوے اسمگلنگ سے بچ گئے

پیرو کے دارالحکومت لیما کے ایک ہوائی اڈے پر کسٹم حکام نے ۴۰۰۱؍ زندہ کچھوے پکڑے ہیں جنہیں انڈونیشیا سمگل کیا جانا تھا۔ میٹھے پانی کے کچھووں کے انڈے اور گوشت کو دنیا کے کچھ حصوں میں بہت پسند کیاجاتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کھیپ کے لیے برآمدی کاغذات درست نہیں تھے، جس میں کچھ جانوروں کی انواع اور دیگر کی عمر کی غلط شناخت ظاہر کی گئی تھی۔ کچھووں کو لیما کے ایک مجاز افزائشی مرکز میں لے جایا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ جب تک ان کی آخری منزل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، ان کی دیکھ بھال اسی مرکز میں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک رینگنے والے جانوروں میں سے کوئی بھی نہیں مرا۔ پیرو کی نیشنل فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف سروس (SERFOR) نے کہا کہ تاریکایا کچھووں (Taricaya turtles)کے لیے برآمدی لائسنس دیا گیا تھا جن کی عمریں ایک سے تین سال کے درمیان تھیں، لیکن پکڑے گئے رینگنے والے جانور بہت کم عمر کے ہیں۔ یہ ادارہ ہر سال ہزاروں جانوروں کو غیر قانونی اسمگلروں سے بچاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بندر، کچھوے اور طوطے سمگلروں کے لیے مقبول ترین جانوروں میں سے ہیں۔

سرینام کے سابق آمر کو سیاسی مخالفین کے قتل کے الزام میں قید کی سزا

ملک کی اعلیٰ عدالت نے سابق مطلق العنان صدر ڈیسی بوترز (Desi Bouterse) کو دسمبر ۱۹۸۲ء میں اس وقت کی فوجی حکومت کے پندرہ مخالفین کے قتل کے جرم میں ۲۰؍ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ مقدمہ گذشتہ سولہ سال سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت تھا۔ ۷۸؍ سالہ بوٹرز کو اس سے قبل ۲۰۱۹ءاور ۲۰۲۱ءمیں اس کیس میں یہ سزا سنائی گئی تھی لیکن اس نے دونوں فیصلوں کے خلاف اپیل کی تھی، مگر اعلیٰ عدالت نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے اس کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مقتولین کے لواحقین نے کہا کہ ہمیں اس فیصلے سے راحت ملی ہے، اور اب ہم فخر سےکہہ سکتے ہیں کہ سرینام ایک آزاد آئینی ریاست ہے۔ عدالت نے فوج کے سابق سربراہ اور سابق صدر کے چار ساتھی ملزمان کو بھی پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنائی۔ فیصلے کے وقت سابق صدر اور ان کے چاروں ساتھی کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

امریکہ اور میکسیکو تارکین وطن کے بہاؤ کو روکنے کے لیے کوشاں

امریکہ اور میکسیکو نے انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے کیونکہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی نقل مکانی ان ممالک کی سرحد پر افراتفری کا باعث بنی ہوئی ہے۔امریکہ کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن (Antony Blinken)اور میکسیکو کے صدر اینڈریس مینوئل لوپیز اوبراڈور (Andrés Manuel López Obrador)نے میکسیکو سٹی میں ہونے والی ملاقات میں لوگوں کے بہاؤ کو روکنے کے طریقہ پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ اعلیٰ سطحی ملاقات اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس پر تارکین وطن کی امریکہ آمد کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی حکام نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہر روز دس ہزار تک لوگ غیرقانونی طور پر ملک میں داخل ہو رہے ہیں۔ مسٹر بلنکن کی واشنگٹن واپس روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ میکسیکو کے حکام نے ہمارے ساتھ تارکین وطن کے اسمگلروں کے خلاف عملی اقدامات کے منصوبوں کا اشتراک کیاہے، اور یہ بہت امید افزا اقدامات ہیں۔ نمائندے نے کہاکہ ہم میکسیکو کی طرف سے اٹھائے جانے والے کچھ نئے اقدامات سے واقعی متاثر ہوئے ہیں، اور ہم نے حالیہ دنوں میں سرحدی گزرگاہوں پر نئے آنے والوں میں نمایاں کمی دیکھی ہے۔

میکسیکو کے حکام کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر ٹرکوں اور ٹرینوں میں سرحد پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ میکسیکو کے صدر نے سماجی رابطے’’ایکس‘‘پر لکھا کہ یہ بات چیت بہت مثبت ماحول میں ہوئی اور دونوں فریق ’’اہم معاہدوں‘‘پر پہنچے۔ لیکن صدر نے ان معاہدوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ارجنٹائن برکس بلاک میں شمولیت کے منصوبے سے دستبردار

ارجنٹائن کے نئے صدر جیویر میلی(Javier Milei) نے دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے حامل ممالک (چائنا، روس،برازیل، انڈیا جنوبی افریقہ) کی تنظیم برکس(BRICS) برکس کلب آف نیشنز میں شمولیت کا منصوبہ واپس لے لیا ہے۔ رکن ممالک کے سربراہوں کو لکھے گئے خط میں مسٹر میلی نے کہا کہ سابقہ حکومت کے فیصلوں پر نظر ثانی کی گئی ہے، اور ہم اپنی درخواست واپس لیتے ہیں۔ ارجنٹینا اگلے ماہ تنظیم میں نئےشامل ہونے والے چھ ممالک کی فہرست میں شامل تھا۔ اسے یکم جنوری۲۰۲۴ء کو مصر، ایران، ایتھوپیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ برکس کلب میں داخل ہونا تھا۔ یہ تبدیلی اس وقت آئی ہے جب مسٹر میلی نے نومبر۲۰۲۳ء میں جنوبی امریکی ملک کی بیمار معیشت کی بحالی کے وعدوں کے ساتھ صدارتی انتخاب میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔

شہرہ آفاق کھلاڑی کا ایک اور اعزاز

ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن (AFA) نے لیجنڈ فٹ بالر(Lionel Messi) لیونل میسی کی جرسی نمبر ۱۰ کو بھی ان کے ساتھ ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کے صدر کلاڈیو تاپیا (Claudio Chiqui Tapia)کے مطابق سٹار فٹبالر لیونل میسی کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی نمبر ۱۰ جرسی کو بھی ریٹائر کر دیا جائے گا۔لیونل میسی کے بعد ارجنٹینا کی جانب سے دوبارہ کوئی نمبر ۱۰ جرسی زیب تن نہیں کر پائے گا۔فٹ بال ایسوسی ایشن نے اس کھیل کے لیے میسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے یہ اعزاز ان کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صدر نے کہا کہ لیونل میسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس مقصد کے لیے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔یاد رہے کہ ارجنٹینا نے دسمبر ۲۰۲۲ء میں لیونل میسی کی قیادت میں فٹ بال کا عالمی کپ جیتا تھا۔اسی ورلڈ کپ میں لیونل میسی ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیتنے میں بھی کامیاب رہے تھے۔

گیانا میں ہیلی کاپٹر حادثہ

گیانیز فوج کا ایک ہیلی کاپٹر وینزویلا کی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ اس ہیلی کاپٹر میں فوج کے پانچ اعلیٰ افسران اور عملے کے دو افراد سوار تھے۔ یہ افسران سرحدی علاقے کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کا معائنہ کرنے کے لیے جا رہے تھے۔ ابتدا میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ہیلی کاپٹر کو وینزویلا کی فوج نے مار گرایا ہے۔

گیانیز فوج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عمر خان کے مطابق یہ بالکل نیا ہیلی کاپٹر (Bell ۴۱۲ EPI) وینزویلا کی سرحد سے تقریباً ۴۸؍ کلومیٹر مشرق میں گہرے جنگل میں غائب ہو ا۔ فوری طور پر تلاش کا کام شروع کیا گیا، اور اگلے روز امدادی ٹیمیں اور اسپیشل فورسز ملبہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔سات فوجیوں میں سے صرف دو معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔بعد میں حکام نے اعلان کیا کہ یہ ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث تباہ ہوا ہے۔ پانچ فوجی افسران کی شہادت پر ملک میں قومی سوگ منایا گیا اور صدر مملکت نے جارج ٹاؤن کی ایک معروف شاہراہ کو ’’ہیروز ہائی وے‘‘ کے نام سے منسوب کرنے کا علان کیا۔

بیونس آئرس، ارجنٹیناسیاحوں کے لیے سستا شہر

دنیا بھر میں اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ اب رہائش پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔ درحقیقت اشیا اور سروسز کی اوسط قیمتوں میں گذشتہ ایک سال کے عرصے میں ۷.۴ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (EIU) نے حال ہی میں سال ۲۰۲۳ءمیں دنیا بھر میں رہائش کی قیمت کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق یہ گذشتہ پانچ برسوں میں ۲.۹؍ فیصد اوسط سے بڑھ رہی ہے۔ مگر ان بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہر خطہ یکساں متاثر نہیں ہوا۔اس رپورٹ میں ۱۷۳ ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے اور وہاں اشیائےخورونوش، کپڑوں، کرایوں اور سفری اخراجات سمیت دیگر ۲۰۰؍سے زیادہ اشیا اور سروسز کی قیمتوں کا بھی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ارجنٹینا کا دارالحکومت دنیا کے ان پانچ شہر وں میں شامل ہےجن کی سیر آپ کم بجٹ میں بھی کر سکتے ہیں۔ سالانہ رپورٹ کی درجہ بندی میں تمام تر مہنگائی، افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باوجود ارجنٹینا کا شہر بیونس آئرس ۱۷۳؍شہروں میں سے ۱۶۳ویں نمبر پر ہے۔ پرتگال کا شہر لزبن،کینیڈاکا شہرٹورنٹو،جاپان کا شہرٹوکیو بھی سستے شہروں میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیاحوں کو جس چیز کاخیال رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ آپ غیرملکی کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کی بجائے نقد ادائیگی کریں تو بہتر ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں کرائے اور کھانے بہت سستے ہیں۔اتوار کو مزید سستے بازار یہاں پر کھل جاتے ہیں۔ یہاں کم خرچ کر کے اچھے کھانے کھائے جاسکتے ہیں اور مختلف مقامات کی سیر کی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور پین امریکن تنظیم کی سرگرمیاں

عالمی ادراہ صحت (WHO) اور پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن(PAHO)کے نمائندوں نے دسمبر میں جنوبی امریکہ کے مختلف ممالک کو صحت کا نظام بہتر بنانے کے لیےعطیات دیے ہیں۔ سرینام کی وزارت صحت کو ملیریا کے خاتمے کی نگرانی اور دیگر معلوماتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سام سنگ کی ۴۷؍ ٹیبلٹس عطیہ کی گئی ہیں۔ نمائندوں نے یہ ٹیبلٹس وزارت صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راکیش سکل کے حوالے کیں۔ موصوف نے کہا کہ یہ عطیہ ملیریا کے خلاف لڑنے اور اس کے خاتمے کے نظام میں جدت لائے گا۔

اسی طرح ٹرینیڈاڈ کی وزارت صحت کو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کا ریکارڈ رکھنے، صحت کے شعبے کے ردعمل کو مضبوط بنانے کے لیے کمپیوٹرز اور مواصلاتی وسائل کا عطیہ دیا گیا ہے۔

ڈومینیکن ری پبلک کی وزات صحت کو خواتین کی جنسی اور تولیدی صحت، زچگی، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال اور خاص طور پر نوزائیدہ بچوں میں انفیکشن کی روک تھام اور انتظامات کرنے کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button