مکتوب

جدید جرمنی۔ ایک تعارف

(محمد کولمبس خاں۔ مہدی آباد، جرمنی)

وفاقی جمہوریہ جرمنی (Germany) وسطی یورپ کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس کا رقبہ تقریباً ۳۵۷,۰۲۲ مربع کلومیٹر ہے۔ اس کے شمال میں ڈنمارک، مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ، جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزلینڈ اور مغرب میں بیلجیم، فرانس اور ہالینڈ واقع ہیں۔ جرمنی کی آبادی تقریباً ۸۳؍ ملین افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت برلن ہے۔ دوسرے اہم شہروں میں ہیمبرگ، میونخ، کولن اور فرینکفرٹ ہیں۔

ماضی سے حال تک

جدید تہذیب کی تاریخ کی تشکیل میں اس کا نمایاں حصّہ ہے۔ جہاں قیصر ولیم ثانی اور ہٹلر جیسے جنونی سربراہ جرمنی میں ہو گزرے ہیںوہیں اس ملک میں بڑے بڑے مدبرین اور علماء پیدا ہوئے جن کی کاوشوں سے خواہ ان کا تعلق مذہب، سیاست یا علوم سے ہو ساری دنیا نے فائدہ اٹھایا۔

آج ایک فلاحی ریاست بننے تک جرمنی کو بڑے نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ یہ ریاست ایک قبائلی طرز پر گیارہ سو سال قبل وجود میں آ ئی جس پر رومن کیتھولک کی سرپرستی اور تحکیم تھی۔ جب ۱۵۱۷ء میں پادری مارٹن لوتھر نے کیتھولک نظریات سے اختلاف کرکے تجرد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شادی کی تو اس کا یہ اقدام بڑے انقلابی نتائج کا حامل ثابت ہوا اور عیسائیت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ جس کے سیاسی عواقب میں تیس سال کی باہمی جنگ بھی شامل ہے جو ۱۶۱۸ءتک جاری رہی۔ جرمن بولنے والے علاقوں پر مشتمل ایک ریاست ۱۸۷۱ء میں جرمن ایمپائر کی شکل میں نمودار ہوئی۔ بیسویں صدی میں جرمنی کی طرف سے دو عظیم جنگوں کا آغاز کیا گیا جس میں کروڑوں جانوں کا نقصان ہوا اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد جو علاقے امریکن، برٹش اور فرانسیسی کنٹرول میں تھے وہ مغربی جرمنی اور جو علاقے سوویت یونین نے فتح کیے وہ مشرقی جرمنی قرار پائے۔ نصف صدی کے بعد جرمنی کی نئی قیادت کی دانشمندی سے دونوں ممالک کا اتحاد ہوگیا۔

بندرگاہیں اور سمندری ٹریفک

بحری ٹریفک کے لیے لیوبک (Lübeck)، کیل (Kiel) اور ہمبرگ (Hamburg) میں سے ہمبرگ جرمنی کی سب سے بڑی جبکہ یورپ کی دوسری بڑی بندرگاہ ہے جس کے دونوں اطراف میں شہر واقع ہے۔ لیوبک سے جہاز ڈنمارک جاتے ہیں جبکہ کیل سے سویڈن وغیرہ۔ جرمنی میں شرقی اور شمالی دو سمندروں کو ملانے والی قریباً ایک سو کلو میٹر لمبی نہر بھی انیسویں صدی کا ایک عجوبہ ہے جس سے ہر سال قریباً تیس ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔

Made in Germany

آپ نے معیار اور پائیداری کی ضمانت Made in Germany کا لیبل جرمن مصنوعات پر پڑھا ہوگا جو ۱۳۶ سال سے چلا آرہا ہے لیکن درحقیقت آغاز میں اس کا معاملہ کچھ اور تھا۔ یہ اچھے معیار کے لیے نہیں بلکہ اس وقت کے جرمنی کے لیے توہین آمیز فیصلہ کے طور پر کیا گیا تھا۔ ۱۸۸۷ءمیں برطانیہ نے جرمنی سے تیار ہو کر برطانیہ آنے والی مصنوعات پر ’’میڈ اِن جرمنی‘‘کا لیبل لازمی قرار دیا کیونکہ جرمن کمپنیاں انگلینڈ کے شہر شیفیلڈ سے اعلیٰ معیار کے چاقو کی حیرت انگیز طور پر کم معیار کی نقل تیار کر رہی تھیں۔ لیکن آہستہ آہستہ جرمنی میں تیار کردہ مصنوعات کا معیار تیزی سے بلند ہونے لگا اور یہ مہر ’’اعلیٰ معیار اور درستگی اور کارکردگی کے لیے جدوجہد‘‘کی علامت بن گئی۔

جرمن وفاقیت

جرمنی وفاقی جمہوریہ ہے جس کا سیاسی ڈھانچہ پارلیمانی جمہوریت پر مبنی ہے اور وفاقی مقننہ دو ایوانوں پر مشتمل ہے:۱۔ایوان زیریں (Bundestag) اور۲۔ایوان بالا (Bundesrat)۔ ایوان زیریں متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت عوامی انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتا ہے۔اس میں قومی سطح پر سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی ہوتی ہے جبکہ ایوان بالا میں صوبائی حکومتوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ یہاں سولہ صوبائی حکومتیں صوبوں کے معاملات کے حل کے لیے مشورہ کرتی ہیں۔ ہر صوبہ میں صوبائی پارلیمان خود مختاری سے قانون سازی کرتا ہے اور اپنی حکومت بناتا ہے۔ بلدیاتی سطح پر جرمنی میں مقامی حکومتیں شہری، ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر ہوتی ہے۔ جرمنی نام کا ہی نہیں بلکہ کاموں میں بھی وفاقی ہے۔ مثلاً ٹریفک سے متعلق نگران ادارہ ڈنمارک کے قریب فلینسبرگ (Flensburg) میں ہے تو کرمنل معاملات کی نگرانی کے لیے ادارہ جنوبی جانب ویزبادن(Wiesbaden) میں ہے۔

سیاسی جماعتیں

جرمنی میں کئی سیاسی جماعتیں ہیں جن میں سے کچھ اہم ترین سیاسی جماعتوں کا ذکر حسب ذیل ہے:

۱۔کرسچین ڈیموکریٹک یونین CDU/کرسچین سوشل یونین CSU : یہ دو جماعتیں ہیں لیکن ان کا الحاق ہے۔ CDU صوبہ بائرن کے علاوہ سارے جرمنی میں سرگرم ہے جبکہ CSUصرف صوبہ بائرن میں محدود ہے۔ ایس پی ڈی کے ایک نامور مدبر ہیلمٹ شمٹ گزرے ہیں جن کو عدم اعتماد کی بنیاد پر چانسلر شپ سے ہٹنا پڑا۔ اس موقع پر سی ڈی یو کے لیڈر اور اپنے حریف ہلمٹ کوہل کو منتخب ہونے پر اسمبلی میں اپنی کرسی سے اٹھ کر وقار کے ساتھ مبارک باد دینا جرمنی کی تاریخ کا حصّہ ہے۔ ہلمٹ کوہل کی زندگی کا مقصد اتحاد جرمنی تھا جس میں اس کو کامیابی نصیب ہوئی۔ اسی پارٹی کی خاتون انجیلا میرکل ایک وقفہ کے ساتھ چار بار چانسلر منتخب ہوئیں جن کے دور میں ایک ملین شامی مصیبت زدگا ن کو جرمنی میں انسانی ہمدردی کے تحت تمام سہولیات کے ساتھ پناہ دی گئی یہی وجہ ہے کہ وہ ماما میرکل کے نام سے بھی مشہور ہوئیں۔

۲۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD۔ یہ جرمنی کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔ SPD کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کے اکثر ممبران کو نازی دور میں ملک سے فرار ہونا پڑا۔ انہی میں سے ایک وِلی برانٹ تھے جنہیں پولینڈ میں ہولوکوسٹ کی یادگار پر گھٹنے ٹیکنے پر نوبیل انعام دیا گیا کیونکہ ان کا یہ اقدام نازی جرائم کا اعتراف اور متحاربین کی آپس میں صلح کی بنیاد بنا۔ ایک اتحاد کے ذریعہ آجکل یہ مرکز میں حکومت کر رہی ہے۔ اس کے چانسلر مسٹر شلتس ہیں۔ ہمبرگ کی صوبائی پارلیمنٹ میں جماعت احمدیہ کے بھی دو ممبران ایس پی ڈی کے ٹکٹ پر منتخب کیے گئے ہیں۔

۳۔ Die LinkeیاThe Left جرمنی کے اتحاد کے بعد ابھرنے والی یہ ایک بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ یہ جماعت سوشلسٹ اور کمیونسٹ اصولوں پر مبنی ہے۔

صنعتیں

جرمنی کی صنعتی پیداوار دنیا بھر میں مقبول ہے۔ جس میں برّی اور ہوائی ٹرانسپورٹ صف اوّل پر ہے۔دفاعی سازو سامان خاص طور پر ایٹمی آبدوزوں میں جرمنی بہت آگےہے۔ یہاں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم مفت ہے اور ترقی پذیر ممالک کے ذہین لوگ بھی تمام شعبہ جات میں تحقیقی کام کر رہے ہیں۔ بلیو کارڈ سکیم کے تحت پاکستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کثرت سے جرمنی آ رہے ہیں۔

سوشل سیکیورٹی سسٹم

جرمنی کا سوشل سیکیورٹی سسٹم (Sozialversicherungssystem) جس کا سہرا جرمن چانسلر اوٹو فان بسمارک کے سر ہے جس نے انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور انقلاب فرانس کی وجوہات کو جرمنی میں پیدا ہونے کے خطرہ کے پیش نظر ۱۸۸۳ء میں ریاست میں نافذ کیا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اصلاحات ہوتی رہیں اور آج دنیا کی تمام فلاحی ریاستیں اسی آغاز کی مرہون منت ہیں۔

ہر ملازم کی آمدنی سے سوشل سیکیورٹی فنڈ میں بے کاری، صحت اور بڑھاپے کے لیے انیس فی صد کٹوتی اور اتنی ہی مقدار میں آجر کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ اس سسٹم میں سوشل کوڈ (Sozialgesetzbuch) کے تحت نہ صرف روٹی،کپڑا، مکان بلکہ تعلیم اور صحت کی بھی تمام بنیادی ضروریات کا تحفظ ریاستی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

جرمنی میں مذاہب

جرمنی میں دنیا بھر کے تما م معروف مذاہب پائے جاتے ہیں۔ لیکن ۴۲؍ فی صد آبادی لا مذہب ہے۔ اس لا مذہب ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے عقیدہ ہیں بلکہ ان میں سے اکثر ٹیکس کی غرض سے کسی رجسٹرڈ مذہبی جماعت سے منسلک نہیں ہیں۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے ان کے علاوہ دیگر عیسائی فرقے پائے جاتے ہیں۔ عیسائیوں کے بعد دوسرا بڑا طبقہ مسلمانوں کا ہے جو زیادہ تر ترکی، عرب اورافریقی ممالک سے ہیں۔

احمدی مسلمان

جرمنی میں احمدیت کے آغاز کو سو سال ہو گئے ہیں اور جماعت احمدیہ اس حوالے سے کئی قسم کےپروگرام کر رہی ہے۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق احمدی مسلمانوں کی تعداد سولہ ریجنز اور قریباً دو سو جماعتوں میں ساٹھ ہزار کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے لیکن ہماری مساجد اور سنٹرز کی تعداد اوسطاً کم و بیش تین سو نفوس فی سنٹر کے حساب سے باقی مسلمانوں کی نسبت کہیں زیادہ اور دینی، جماعتی، سماجی سرگرمیاں کہیں بڑھ کر ہیں۔ جرمنی میں احمدی نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ایک وسیع عمارت جامعہ احمدیہ کے لیے بنائی گئی ہے جس میں جرمنی میں پلے بڑھے نوجوان اسلام کے مبلغ بنتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کو ہی پہلی بار جرمنی میں مساجد کے لیے اوپن ڈور ڈے(Open Door Day)منانے کی توفیق ملی جسے اب تمام جرمنی میں الیوم المفتوح للمساجدکے طور پر اختیار کر لیا گیا ہے۔

اسلام کانفرنس

جرمنی میں استحکام امن کی خاطر قبل از وقت اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مختلف نسلوں، زبانوں اور مذاہب میں ہم آہنگی کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ایک ادارہ ’’اسلام کانفرنس ‘‘کے نام سے بنایا گیا ہے جس میں اسلامی تنظیموں کو جماعت احمدیہ سمیت نمائندگی دی گئی ہے۔

جماعت احمدیہ کا خصوصی سٹیٹس

جرمنی میں ایک قانون کے مطابق رجسٹرڈ تنظیم پبلک کارپوریشن کا درجہ حاصل کر سکتی ہے اور ملک کی سماجی زندگی میں بھرپور حصّہ لے سکتی ہے اور جماعت احمدیہ جرمنی کو بھی اس کے تحت Körperschaft des Öffentlichen Rechts کا درجہ حاصل ہے۔

جرمنی کے مسائل

جرمنی کے صوبہ ہیسن میں ایک علاقہ رامشٹائین کے نام سے مشہور ہے۔ اس علاقہ میں نیٹو معاہدہ کے تحت امریکی فوجی کمانڈ کور ہیڈ کوارٹر ہے جہاں سے مشرق کی جانب فوجی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں جرمن پولیس یا عدلیہ کی jurisdictionنہیں ہے۔ جرمنی توانائی کے معاملہ میں بیرونی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ یوکرائن میں روسی جارحیت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورت حال نے اسے مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ ملک میں بعض مدبّرین دائیں اور بائیں بازو کی اس جنگ میں جرمنی کی پوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن روس پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے حکومت خسارہ قبول کرنے پر مجبور ہے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ جرمنی کے سمجھ دار سیاستدان اس بحران سے ملک کو نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

جلسہ سالانہ جرمنی

اس بار جلسہ سالانہ کورونا کی پابندیاں مکمل طور پر اٹھائے جانے کی وجہ سے پہلے سے کہیں بڑھ کر حاضری کے امکان کی وجہ سے ایک نئی اور بہت بڑی جگہ پر سٹٹگارٹ میں مورخہ یکم تا تین ستمبر ۲۰۲۳ء منعقد ہوگا۔ ان شاء اللہ

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب فرمائے اور جرمنی کے متعلق خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بشارات پوری ہوں اور یہاں حقیقی رنگ میں اسلام کا بول بالا ہو۔ آمین

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button