مکتوب

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی

(مبارک احمد خان۔نمائندہ الفضل)

نیوزی لینڈ دنیا میں بہت زیادہ پُرامن ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ دہشتگردی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ دنیا کے دور دراز ممالک میں دہشتگردی کے واقعات سن کر ہم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ہم ایسے خطرناک واقعات سے بچے ہوئے ہیں۔ اگرچہ دہشتگردی کے اکا دکا واقعات ماضی میں ہوئے ہیں لیکن پھر بھی عوام ان واقعات کی وجہ سے یہ بات قبول نہیں کرتے کہ یہاں کے لوگ دہشتگرد ہیں یا اس کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔ گاہے گاہے بد قسمتی سے ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جس سے عوام میں پریشانی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

۲۳؍ نومبر ۲۰۲۳ء کو یہاں پر سکولوں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں کو بم دھماکوں کی دھمکیوں کی ای میلز بھیجی گئیں جن کی وجہ سے جنوبی جزیرہ میں خصوصاً آ کلینڈ میں پولیس الرٹ جاری کر دیے گئے۔ خدشہ کی بنا پر متعدد سکول و کالجز بند کردیے گئے اور ہسپتالوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ عبادت گاہوں میں بھی مذہبی تنظیموں نے حفاظتی اقدام سخت کردیے۔ پولیس نے بھی سپیشل سکواڈ مختلف علاقوں میں گردش کے لیے مقرر کر دیے۔ ٹی وی پر بھی یہ خبر متواتر نشر کی جاتی رہی۔

پولیس نے کہا کہ ۷۰؍ سے زیادہ اداروں کو ای میلز موصول ہوئی ہیں جن میں اسکول، ہسپتال، عدالتیں اور عبادت گاہیں شامل ہیں۔ پولیس نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ یہ ای میلز ہماری کمیونٹی کے ارکان میں حقیقی تشویش کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر عبادت گاہوں پر بھیجی گئی ای میلز ہمارے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔ پولیس نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ موصول ہونے والی ای میلز ایک ہی ذریعہ سے کی گئی ہیں، اور کسی خاص کمیونٹی یا گروپ کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ ہم ان دھمکی آمیز ای میلز بھیجنے والے ذرائع تک پہنچنا چاہتے ہیں، اگرچہ خوش قسمتی سے یہ دھمکی حقیقت میں تبدیل نہیں ہوئی اور کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ان دھمکیوں کی وجہ سے طلبہ اور مریضوں کو بہت زیادہ پریشانی اٹھانی پڑی۔ طلبہ ان دنوں سالانہ امتحان دے رہے تھے۔ اس دھمکی کی وجہ سے سکول بند ہو گئےجس سے پیپر زکینسل کرنے پڑے۔ اس طرح ہسپتالوں میں آپریشن مؤخر ہوئے اور کئی اہم اپائنٹمنٹس منسوخ کرنی پڑیں۔ پولیس ابھی تک ای میلز بھیجنے والوں کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی اپ ڈیٹ نہیں دی۔

ماضی میں یہاں پر کبھی کبھی دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں۔ ان میں حملہ کرنے والے اکثر اشخاص اکیلے ہی تھے۔اور وہ سیاسی نوعیت کے تھے۔ لیکن ۲۰۱۹ء میں مذہبی بنیاد پر دہشت گردی کا پہلا بڑا واقعہ ہوا تھاجس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

ہمارے قارئین کو یاد ہو گا کہ ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو کرائسٹ چرچ شہر کی مسجد النور اور لین ووڈ اسلامک سنٹر میں ایک دہشت گرد نے حملہ کر کے ۵۱؍ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا اور ۴۰؍ مسلمان زخمی ہوئے تھے۔ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سب سے مہلک حملہ تھا۔ دو دیسی ساختہ بم اس کی کار میں پائے گئے اور بعد میں انہیں ناکارہ کر دیا گیا۔ برینٹن ٹیرنٹ، ایک آسٹریلوی، کو گرفتار کیا گیا اور اس پر قتل اور دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے فائرنگ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ اس دہشت گرد کو بعد ازاں اگست ۲۰۲۰ء میں پیرول کے امکان کے بغیر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ جیسنڈا آرڈرن نے لوگوں سے کہا کہ اس دہشت گرد کا نام بھی زبان پر نہ لائیں۔ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے فوری طور پر پورے ملک میں اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔

اس حملہ کے باعث عوام میں شدید رد عمل ہوا۔ اگرچہ پولیس نے دہشت گرد کو پکڑ لیا تھا اور اس کو عمر قید کی سزا بھی سنا دی گئی تھی پھر بھی عوام یہ چاہتے تھے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر انکوائری ہو۔ چنانچہ اس کے لیے ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کی طرف سے رائل کمیشن آف انکوائری (RCOI) کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ ایک جامع رپورٹ رائل کمیشن کی طرف سے منگل ۸؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو جاری کی گئی جس میں قومی سلامتی ، وسیع تر سماجی اور کمیونٹی دونوں معاملات پر ۴۴ سفارشات پیش کی گئیں۔ ان میں پولیس، ایمبولینس، ہسپتال اور حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے انہیں بہتر کرنے کی تجاویز دی گئیںتاکہ مستقبل میں ایسا واقعہ ہونے کو روکا جائے اور بہتر طور پر نبرد آزما ہوا جا سکے۔ ان سفارشات پر مسلمانوں کو کافی اعتراض تھے۔ چنانچہ اس پر تفصیلی بحث کے لیے عدالت میں ان سفارشات کو پیش کرنے کا فیصلہ ہوا۔

ان دنوں عدالت میں ان سفارشات کے اہم زاویوں پر بحث ہو رہی ہے۔ پہلے دن عدالت کا کمرہ شہداء کے رشتہ داروں، دوستوں اور متعلقہ افراد سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ماوٴری طریق پر استقبال کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کی گئی اور پھر ہر ایک شہید کانام لے کر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ڈپٹی چیف کورونر بریگزٹ ونڈلی نے ۲۴؍اکتوبر۲۰۲۳ءبروز منگل کارروائی شروع کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ان ۵۱؍ لوگوں میں سے ہر ایک شہید کو یاد رکھیں جن کی جانیں اس روز لے لی گئیں اور اس سماعت میں اس مشترکہ مقصد کو ہر آن یاد رکھیں۔‘‘ ونڈلی نے کہا کہ یہ انکوائری چھ ہفتوں تک جاری رہے گی اور جو کچھ ہوا اس پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرے گی۔ اور اسی طرح کے واقعے کے دوبارہ ہونے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے سفارشات پر غور کرے گی۔

انکوائری میں ۱۰ مسائل کا جائزہ لیا جائے گا جن میں ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال کے عملے کا ردعمل، کیادہشت گردکو کسی دوسرے شخص سے براہ راست مدد حاصل تھی اور ہر مرنے والے کی موت کیسے اور کیوں ہوئی۔

مبصرین کو حملے کے دن کرائسٹ چرچ کے ارد گرد دہشت گردکی نقل و حرکت کی ایک دلخراش ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ فوٹیج بھی شامل ہے جو اس نے GoPro کیمرہ استعمال کرتے ہوئے بنائی تھی۔

ماہاجلال،وانہاؤ ٹرسٹ (Whanau Trust)کی ترجمان جو کچھ متاثرین کے لواحقین کی نمائندگی کرتی ہیں، نے کہا کہ انکوائری میں پولیس اور ایمرجنسی سروسز کے ردعمل کے اوقات، ہر مسجد میں طبی ردعمل، کیا ٹیرنٹ کو حملے کی منصوبہ بندی میں مدد ملی اور کیا کسی کی جان بچائی جا سکتی تھی، ان سب کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘ سچائی کی حقیقت کو جاننے اور اس تکلیف دہ واقعہ کے زخموں کو بھرنے کے لیے بہت اہم ہے، ماہا نے مزید کہا کہ متاثرین کے اہل خانہ ’’افہام و تفہیم کے حصول میں متحد ہیں، یہ واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان کے پیارے زندہ بچ سکتے تھے‘‘۔

فائرنگ کی تحقیقات میں رائل کمیشن کو پتا چلا کہ انٹیلی جنس سروسز انتہائی دائیں بازو کے خطرات سے ہٹ گئی تھیں کیونکہ ان کی توجہ اسلامی انتہا پسندوں کے خطرے کی سرگرمیوں پر تھی۔ لیکن ۸۰۰؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غلطیاں ہونے کے باوجود حملے کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔

جیسنڈا آرڈرن نے حکومت کی کوتاہیوں کے لیے معذرت کی اور اپنی ناکامیوں کا اعتراف کیا۔ تقریباً ۸۰۰؍ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو ایک بنیادی اصول میں بیان کیا جا سکتا ہے: مسلمان نیوزی لینڈ کے باشندے ہیں اور ان کو محفوظ رہنا چاہیے۔کوئی بھی جو نیوزی لینڈ کو گھر کہتا ہے، نسل، مذہب، جنس یا جنسی رجحان سے قطع نظر اسے محفوظ رہنا چاہیے۔تاہم نیوزی لینڈ کی اسلامی خواتین کونسل نے اس رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے کہا کہ اس میں شفافیت کا فقدان ہے۔

اس تنظیم نے کہا ’’ثبوت کے متعدد حصے ہیں جن کی چھان بین نہیں کی گئی ہے اور IWCNZ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’ہمیں اس بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کمیشن کو انتظامی ناکامیوں اور وسائل کی کمی کا علم تھا۔ ان کا اسلامی دہشت گردی کی طرف نامناسب رجحان پایا گیا اور پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ واقعہ سے پہلے دہشت گرد کا پتا لگانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

النور مسجد کے امام نےکہا کہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حکام مسلمانوں کی حفاظت کرنے کے بجائے مسلم کمیونٹی پر حد سے زیادہ مشکوک تھے۔ جمال فودا نے کہا ’’ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی کو نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ہم درست ہیں۔‘‘رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ سرکاری اداروں میں ادارہ جاتی تعصّب اور لاشعوری تعصّب موجود ہے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رپورٹ میں تجویز کردہ تبدیلیوں کو اب مسلم کمیونٹی اور پولیس کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

عدالت میں وکلا نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس بروقت ایکشن لینے میں ناکام رہی۔ اسی طرح ایمبولینسز بھی کافی دیر سے جائے وقوعہ پر پہنچیں جس کی وجہ سے کافی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہماری پولیس اور طبی امداد کو اس سلسلہ میں کافی ٹریننگ کی ضرورت ہے وہ ایسی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے۔

لین ووڈ مسجد کے حوالے سے، ایمبولینس کے ایک ادارے سینٹ جان کے انچارج مسٹر سمتھ نے کہا کہ گولی لگنے والے مریضوں کو ایمبولینس پہنچانے میں تاخیر ہوئی اور یہ ’’واضح طور پر افسوسناک ہے۔‘‘

مسٹر سمتھ نے عدالت کو بتایا کہ پیرامیڈیکس اور پولیس کے درمیان مواصلاتی خرابی کو سینٹ جان کے اندرونی جائزے میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور مزید تشخیص کو ایک اور سانحے سے روک دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عملے کے لیے خطرناک حالات میں کام کرنا مناسب نہ تھا اس بارے میں سوالات نے سینٹ جان اور دیگر ہنگامی اداروں کے لیے ایک پریشان کن صورت حال پیدا کر دی۔

۱۵ مارچ کے معاملے میں، سمتھ نے مزیدکہا کہ سینٹ جان کمانڈر اور پولیس کمانڈر کو بات چیت کرنی چاہیے تھی اور ایک تفصیلی منصوبہ بنانا چاہیے تھا کہ کسی بھی طبی عملے کے داخل ہونے سے پہلے مریضوں کو مساجد سے کیسے لے جایا جائے گا۔

عدالتی انکوائری۲۴؍اکتوبر کو شروع ہوکر۱۵؍ دسمبر تک جاری رہی۔امید ہے کہ اس افسوس ناک سانحہ سے انتظامیہ کی ذہنی سوچ تبدیل ہو گی اور وہ مسلمانوں کو دہشت گرد خیال کرنے سے باز رہیں گے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button