نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۵؍نومبر ۲۰۲۳ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم شیخ محبوب الٰہی صاحب ابن مکرم شیخ شریف احمدصاحب مرحوم(آف کوٹ مومن ضلع سرگودھا۔حال نیوہیم لندن۔یوکے) کی نمازِ جنازہ حاضر اور آٹھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جناز ہ حاضر

مکرم شیخ محبوب الٰہی صاحب ابن مکرم شیخ شریف احمدصاحب مرحوم(آف کوٹ مومن ضلع سرگودھا۔حال نیوہیم لندن۔یوکے)

۱۰؍نومبر۲۰۲۳ءکو ۷۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے خاندان میں احمدیت حضرت مولا بخش صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آئی جو کہ آپ کے دادا کے بھائی تھے۔مرحوم کو کریم نگر فیصل آباد میں کئی سال تک بطور محاسب خدمت کرنے کی توفیق ملی۔۱۹۷۴ء کے فسادات کے دوران مشکل حالات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور غیر معمولی قربانی کی توفیق پائی۔مرحوم نماز اور روزہ کے پابند، خوش اخلاق اور خلافت کے ساتھ اخلا ص ووفا کا تعلق رکھنے والے ایک مخلص انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

نماز جناز ہ غا ئب

۱۔مکرم محمدحسین حیدر صاحب ابن مکرم چودھری عطاء محمد صاحب(امریکہ)

۲۰؍ستمبر۲۰۲۳ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد کا تعلق سکھے والی ضلع لدھیانہ سے تھا اور انہوں نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر حضرت عبد اللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ کی تبلیغ کے ذریعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓکے دور میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اورتلاوت قرآن کریم کے پابند، دعا گو،ایک مخلص، نیک اور باوفا انسان تھے اور اللہ کے فضل سے موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے بڑے بیٹے مکرم ناصر احمد گورایہ صاحب بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۲۔مکرم عبد اللطیف علوی صاحب ابن مکرم چودھری غلام نبی صاحب (دوڑ ضلع نواب شاہ سندھ)

۲۸؍اگست ۲۰۲۳ء کو۸۱؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک کسی نہ کسی رنگ میں جماعتی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔نائب امیر ضلع نواب شاہ اور صدر جماعت دوڑ بھی رہے۔ پنجوقتہ نمازوں اور تہجد کے پابند،سادہ مزاج، ضرورتمندوں کا خیال رکھنے والے ایک مخلص اور نیک انسان تھے۔جماعتی سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا ایک کمرہ نماز کے لیے مخصوص کر رکھاتھا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

۳۔مکرم مسعود احمد باجوہ صاحب ابن مکرم چودھری شیر محمد باجوہ صاحب(سڈنی آسٹریلیا)

۳۰؍ستمبر۲۰۲۳ءکو۸۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء میں مکرم محمود احمد صاحب بنگالی( صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ) کی ہدایت پر دور دراز علاقوں سے احمدی گھرانوں کے تمام حالات معلوم کرنے کا کام کرتے رہے۔۱۹۸۷ء میں آسٹریلیا آگئےاور ان دنوں میں مسجد بیت الھدیٰ کی تعمیر کے وقار عمل میں بھر پور حصہ لیا۔ آسٹریلیا میں سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری تربیت، سیکرٹری وصایا اور سیکرٹری زراعت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔بارہ سال سے زائد عرصہ نائب صدر انصار اللہ بھی رہے۔ تبلیغ کا بہت شوق تھااور بے شمار چرچوں میں جاکر تبلیغ کیا کرتے تھے۔آپ اچھے شوہر، شفیق باپ اور بہترین دوست تھے۔خلافت کے ساتھ اخلاص کا گہر اتعلق تھا۔بچوں کو بھی خلافت اور نظام جماعت کی اطاعت کی تلقین کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے بڑے بیٹے مشہود احمد باجوہ صاحب بطور نیشنل سیکرٹری مال آسٹریلیا خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔آپ کی ایک بیٹی مکرم لارڈ طارق احمدصاحب بی ٹی کی اہلیہ ہیں۔ایک پوتے عزیزم سدید احمد جامعہ احمدیہ کینیڈا میں درجہ خامسہ کے طالب علم ہیں۔

۴۔مکرم چودھری نصیر احمد نسیم صاحب ابن مکرم چودھری محمد سلیم صاحب سدھو(سابقہ سیکرٹری مال ٹھروہ ضلع سیالکوٹ)

۱۵؍اکتوبر۲۰۲۳ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پیشہ کے لحاظ سے ٹیچرتھے۔ آپ نے تیس سال مقامی طور پر سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، مہمان نواز، غریب پرور، ہمدرد، مخلص اور باوفا انسان تھے۔خلافت سے والہانہ اخلاص کا تعلق تھا۔ تکلیف دہ بیماری کا بڑے صبر وہمت سے مقابلہ کیا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۵۔مکرمہ صدیقہ علیمہ صاحبہ اہلیہ مکرم ماسٹر نذیر احمد شاد صاحب مرحوم (کوٹ محمد یار۔حال ربوہ )

۳؍اکتوبر۲۰۲۳ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے باڈی گارڈ مکرم حاجی محمد رمضان صاحب کی بیٹی تھیں۔مرحومہ نے شوہر کی وفات کے بعد بچوں کی تعلیم و تربیت بڑی خودداری اور صبر وشکر کے ساتھ کی۔پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ حسب توفیق نماز تہجد بھی ادا کرتی تھیں۔خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، مہمان نواز، مخلص اور نیک خاتون تھیں۔ خلافت اور خاندان کی بزرگ خواتین سے خاص عقیدت کا تعلق تھا۔محلہ میں متعدد بچوں بچیوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کی توفیق پائی۔ اپنے تمام چندے اول وقت میں بڑی فکر کے ساتھ ادا کرتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم حافظ کرامت اللہ ظفر صاحب کی والدہ اورمکرم داؤداحمد جاوید صاحب کی ساس تھیں۔

۶۔مکرم سعد الدین سعدی صاحب(سٹاک ہوم سویڈن) ابن محترم شیخ عبد القادر صاحب( محقق عیسائیت)

۸؍اکتوبر ۲۰۲۳ءکو ۷۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا مکرم شیخ عبد الرب صاحب نے نوجوانی میں انتہائی مخالفت کے باوجود۱۹۰۹ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، دعاگو، زندہ دل، خوش اخلاق، ملنسار،مہمان نواز، شریف النفس،عاجز اور مخلص انسان تھے۔خلافت کے ساتھ گہرا اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔پاکستان میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر متمکن رہتے ہوئے بہت بھر پور اور متحرک زندگی گزاری۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

۷۔مکرمہ طاہرہ منظور صاحبہ اہلیہ مکرم منظور احمد خان مرحوم (خزانچی خزانہ صدر انجمن احمدیہ ربوہ )

۲۰؍اکتوبر ۲۰۲۳ءکو۹۰سال کی عمرمیں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم محمد ظہور خان صاحب پٹیالوی رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو تھیں جوکہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے بھائی تھے۔ مرحومہ کا تعلق انڈیا کے قصبہ پنگوان ضلع گورداسپور سے تھا۔پاکستان ہجرت کے بعد آپ کا خاندان ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں رہائش پذیر ہوگیااورشادی کے بعد ربوہ آئیں۔ پھر میاں کے ساتھ کچھ عرصہ جرمنی میں رہنے کے بعد ۲۰۰۰ء میں جرمنی سے واپس ربوہ آگئیں۔ جرمنی کے دو حلقوں میں مقامی سطح پر سیکرٹری تعلیم و تربیت اور صدرلجنہ کے علاوہ ربوہ میں اپنے حلقہ میں لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری مال کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ صوم وصلوٰۃ کی پابند، صابرہ وشاکرہ، مہمان نواز،سلیقہ شعار اور کفایت شعار خاتون تھیں۔خلافت اور خاندان حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بہت عقیدت واحترام کا تعلق تھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

۸۔مکرم سلیم الدین صاحب(جرمنی)

۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۳ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔َ آپ مکرم چودھری صلاح الدین صاحب مرحوم (ناظم جائیداد ومشیر قانونی ربوہ ) کے چھوٹے بیٹے تھے۔مرحوم نمازوں کے پابند ایک نیک مخلص اور باوفاانسان تھے۔آپ نے کچھ دیر نیشنل سیکرٹری ضیافت جرمنی کے علاوہ اپنے حلقہ میں زعیم انصار اللہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ آ پ کا گھر نماز سنٹر کے طورپر بھی استعمال ہوتا رہا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اورایک بیٹی شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔

اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button