ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر 135)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

فرمایا:’’اگر اعتراض ہو کہ کل دنیا کے لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے تو جواب یہ ہے کہ بعض لوگوں کی فطرت میں روشنی کم اور بد ظنی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض ہوئے۔نشان دیکھ دیکھ کر پھر ان کو جھٹلاتے رہے۔آنحضرتﷺکو فریبی کہا ایسے لوگوں کی فطرت بد ہوا کرتی ہے۔اسی لئے کہا ہے۔

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

پس بہر دستے نہ باید داد دست

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۴۰۴؍ ایڈیشن۱۹۸۴ء)

تفصیل:جلال الدین محمد بلغی معروف بہ مولانا،مولوی رومی کی کتاب مثنوی معنوی میں اس سے ملتا جلتا ایک شعر اس طرح ملتاہے۔

چُوْں بَسِے اِبْلِیْس آدَمْ رُوْئے ہَسْت

پَسْ بِہَرْ دَسْتِےْ نَشَایَد دَادْ دَسْت

ترجمہ:چونکہ بہت سے شیطان انسانوں کے روپ میں ہوتے ہیں اس لیے ہر کسی کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دے دینا چاہیے۔

ملفوظات اور مثنوی کے شعر میں صرف چند الفاظ کا فرق ہے۔جبکہ معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں۔’’اےبسا‘‘ یعنی بہت سارے۔ اور ’’چوں بسی‘‘چونکہ بہت سارے۔اسی طرح ’’نہ باید‘‘کا مطلب ہے نہیں چاہیےاور’’نشاید‘‘ کا مطلب ہے، مناسب نہیں۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button