بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط48)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

(امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھےجانے والے بنیادی مسائل پر مبنی سوالات کے بصیرت افروز جوابات)

٭… کیاسورۃالبقرہ کی آیت 206میں بیان کردہ حرث و نسل کی تباہی سے DNA اور RNA میں چھیڑ کے نتیجہ میں انسانوں میں ہونے والی جسمانی، ذہنی اور ایمانی تبدیلی کی کوشش کے معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں؟

٭… انسان کو کس حد تک اسلام، قرآن کریم اور جماعت کے بارے میں سوال اٹھانے کی اجازت ہے؟

٭… اسلام سے قبل سود کی حرمت اور حج کے موقع پر عورتوں اور مردوں کے اکٹھےنماز پڑھنےکے متعلق راہنمائی

سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے قرآنی آیت وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَیُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَالنَّسۡلَ ؕ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ۔(البقرہ:206)یعنی جب وہ صاحبِ اختیارہوجائے تو زمین میں دوڑا پھرتا ہے تاکہ اس میں فساد کرے اور فصل اور نسل کو ہلاک کرے جبکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔سے حرث و نسل کی تباہی سے مراد DNA اور RNA میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے نتیجہ میں انسانوں میں ہونے والی جسمانی، ذہنی اور ایمانی تبدیلی کی کوشش کے معانی اخذ کر کے اس بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے راہنمائی چاہی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 24؍ نومبر2021ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق قرآن کریم قیامت تک کے لیے بنی نوع انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےوَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَمَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ(سورۃ الحجر:22)یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے (غیر محدود) خزانے ہیں۔ لیکن ہم اسے (ہر زمانہ میں اس کی ضرورت کے مطابق) ایک معین اندازہ کے مطابق نازل کرتے ہیں۔

سائنسی نقطۂ نظر سے آپ نےاس آیت کے جو معانی بیان کیے ہیں، وہ ٹھیک ہیں۔ ان میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ DNAمیں چھیڑ چھاڑ کے نتیجہ میں انسانی تباہی کے مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی بعض مواقع پر بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حضور رحمہ اللہ نے اپنی معرکہ آراء تصنیف ’’الہام، عقل، علم اور سچائی‘‘میں بھی جینیاتی انجنیئرنگ کے عنوان کے تحت انسانی تخلیق میں اس قسم کی منفی چھیڑ چھاڑ کی کوشش کے بارے میں دنیا کے سائنسدانوں اور حکومتوں کو انتباہ فرمایا ہے۔

اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے اپنے وقتوں میں اس آیت کی جو نہایت بصیرت افروز تفاسیر فرمائی ہوئی ہیں، ان میں بھی اس قسم کی منفی انسانی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں انذار فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں بادشاہت مل جاتی ہے یعنی وہ خداتعالیٰ کی پیدا کردہ طاقتوں سے کام لے کر حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ رعایا اور ملک کی خدمت کریں بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کریں وہ ایسی تدابیر اختیار کرنی شروع کر دیتے ہیں جن سے قومیں قوموں سے، قبیلے قبیلوں سے اور ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں اور ملک میں طوائف الملوکی کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے ملک کی تمدنی اور اخلاقی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور آئندہ نسلیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ حرث کے لغوی معنے تو کھیتی کے ہیں مگر یہاں حرث کا لفظ استعارۃً وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ جتنے ذرائع ملک کی تمدنی حالت کو بہتر بنانے والے ہوتے ہیں ان ذرائع کو اختیار کرنے کی بجائے وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے تمدن تباہ ہو۔ اقتصاد برباد ہو۔ مالی حالت میں ترقی نہ ہو۔ اس طرح وہ نسل ِ انسانی کی ترقی پر تبر رکھ دیتے ہیں۔ اور ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں اپنی طاقتوں کو کھو بیٹھتی ہیں۔ اور ایسی تعلیمات جن کو سیکھ کر وہ ترقی کر سکتی ہیں ان سے محروم ہو جاتی ہیں۔‘‘(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 454،453)

اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے خطبات جمعہ مورخہ 28؍جولائی 1972ء اور 11؍اگست 1972ء میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 206 کی تشریح میں انسان کو عطا ہونے والی خداداد استعدادوں اور طاقتوں کے غلط اور مفسدانہ استعمال کو نوع انسانی کے لیے مضر قرار دیتے ہوئے اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بنی نوع انسان کو متنبہ فرمایا ہے۔ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ دونوں خطبات ’’ خطبات ناصر‘‘ جلد چہارم میں شائع ہو چکے ہیں۔ آپ وہاں سے ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

سوال: امریکہ سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ انسان کو کس حد تک اسلام، قرآن کریم اور جماعت کے بارے میں سوال اٹھانے کی اجازت ہے۔ مزید یہ کہ میں نے اپنے مربی صاحب سے اسلام سے قبل سود کی حرمت کے بارے میں، نیز حج کے موقعہ پر عورتوں اور مردوں کے اکٹھےنماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا لیکن مربی صاحب نے ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اسی طرح اس دوست نے لجنہ کی حضور انور کے ساتھ ایک ملاقات میں ایک سوال پر حضور انور کے جواب کہ ’’مذہب کے معاملہ میں کیوں اور کس لیےکا سوال نہیں ہے۔‘‘کا بھی ذکر کر کے اس بارے میں حضور انور سے راہنمائی چاہی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 26؍نومبر 2021ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل تفصیلی ہدایات فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اسلام نے زیادتیٔ علم کے لیے سوال کرنے کی اجازت دی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ۔(النحل:44)یعنی اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔

لیکن کج بحثی کی خاطر لغو، بیہودہ اور بے ادبی والے سوال کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُم۔(المائدہ:102) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو وہ تمہیں تکلیف میں ڈال دیں۔اسی طرح فرمایا: اَمۡ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔلُوۡا رَسُوۡلَکُمۡ کَمَا سُئِلَ مُوۡسٰی مِنۡ قَبۡلُ۔(البقرہ:109) یعنی کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرنا چاہتے ہو جس طرح (اس سے) پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے تھے۔

چنانچہ صحابۂ رسول ﷺ سوال کرنے کے بارے میں بہت زیادہ محتاط تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خود سوال نہ کرتے بلکہ انتظار کرتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور حضورﷺ سے سوال پوچھے تا کہ ہم وہ باتیں سن کر اپنا علم بڑھا لیں۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صحابہؓ کی اس علمی تشنگی کو اس طرح دور فرما دیتا کہ بعض اوقات حضرت جبرئیل کو انسان کی شکل میں بھیجتا اور وہ حضور سے سوال کرتے اور حضورﷺ ان سوالوں کے جواب دیتے۔ جس سے صحابہ اپنی علمی پیاس بجھا لیتے۔(صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن بَاب قَوْلِهِ إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوال کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں:’’بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں۔ جس سے وہ اندر ہی اندر نشو و نما پاتا رہتا ہے اور پھر اپنے شکوک اور شبہات کے انڈے بچے دیدیتا ہےاورروح کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔ میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کر لے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر سوال کرنا بھی مناسب نہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔‘‘(الحکم جلد 7، نمبر 13، مورخہ 10؍اپریل 1903ء صفحہ 1)

پس سوال کرنا تو منع نہیں اور اگر کوئی بات سمجھ نہ آ ئے تو ضرورپوچھنی چاہیےلیکن ہر بات میں بحث اور تکرار کے لیے سوال در سوال کی عادت بنا لینا بھی ٹھیک نہیں۔

پھر یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہیےکہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی طرف سے نازل ہونے والی تعلیمات پر مبنی کتاب ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی حکمتوں اور اس کی گہرائیوں کو سمجھنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسانی کوششوں سے روز بروز نئی نئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات اور اس کے احکامات کے نئے نئے پہلو اور حکمتیں بھی ہر زمانہ میں کھلتی رہتی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَمَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ(الحجر:22) یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے (غیر محدود) خزانے ہیں۔ لیکن ہم اسے (ہر زمانہ میں اس کی ضرورت کے مطابق) ایک معین اندازہ کے مطابق نازل کرتے ہیں۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات بھی سمجھا دی کہ قرآن کریم چونکہ ایک دائمی کلام ہے اور اس میں قیامت تک کے لیے انسانوں کی فلاح، ہدایت اور راہنمائی کے لیے تعلیمات موجود ہیں، جن کا ہر زمانہ میں حسب ضرورت استخراج ہوتا رہے گا۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ایک وقت میں اس کی ساری باتیں کسی انسان کو سمجھ آ جائیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ یہ ایک کامل کتاب ہے جو نوع انسانی کو دی گئی ہے اور ہمیشہ کے لیے ان کی راہنمائی کرے گی۔ کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ انہیں قرآن کے علاوہ کسی اور ہدایت اور راہنمائی کی ضرورت پیش آئے۔ قرآن کریم نے آئندہ کی خبریں دی ہیں اور ہر صدی کے متعلق قرآن کریم میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں جو اپنے وقتوں پر ظاہر ہوتی ہیں… اس کامل کتاب کے نزول پر اب قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ اس کا ماضی بھی عملاً یہ بتاتا ہے کہ مستقبل میں بھی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ سے انسان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا کہ نئی سے نئی باتیں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ظہور میں آئیں گی اور پیشگوئیاں پوری ہوں گی، جب نئے مسائل پیدا ہوں گے قرآن کریم کی نئی تفسیر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھائے گا، اپنے مقربین اور اپنے محبوب بندوں کو اور پھر وہ ان مسائل کو حل کریں گے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی 1977ء، خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 113)قرآن کریم ایک اور مقام پر اس بارے میں اس طرح ہماری راہنمائی فرماتا ہے:ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَمَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَالرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ۔(آل عمران:8)یعنی وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اُسی میں سے محکم آیات بھی ہیں، وہ کتاب کی ماں ہیں۔ اور کچھ دوسری متشابہ (آیات) ہیں۔ پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ چاہتے ہوئے اور اس کی تاویل کی خاطر اُس میں سے اس کی پیروی کرتے ہیں جو باہم مشابہ ہے حالانکہ اللہ کے سوا اور اُن کے سوا جو علم میں پختہ ہیں کوئی اُس کی تاویل نہیں جانتا۔ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے، سب ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔ اور عقلمندوں کے سوا کوئی نصیحت نہیں پکڑتا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’میرے نزدیک ہر شخص کے لیے کوئی حصہ کسی متکلم کے کلام کا محکم ہوتا ہے یعنی جو خوب طور سے سمجھ آ جاتا ہے اور کوئی حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے معنے سمجھنے میں دقتیں پیش آتی ہیں اور بوجہ اس کے مجمل رکھنے کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔ ہر شخص پر یہ حالت گزرتی ہے۔ اللہ نے اس کے متعلق یہ راہ دکھائی ہے کہ جو آیات ایسی ہیں کہ جن کی خوب سمجھ آ جائے اور تجربہ و عقل و مشاہدہ اس کے خلاف نہ ہو وہ تو محکم سمجھ لو۔ پھر وہ آیات جن کے معنے سمجھ میں نہیں آئے ان کے معنے ایسے نہ کرے جو ان محکم آیات کے خلاف ہوں…خلاصہ یہ ہے کہ بعض آیات خوب سمجھ میں آ جاتی ہیں اور بعض کے معنے جلد نہیں کھلتے۔ اس کے لیے ایک گر بتایا ہے…فرماتا ہے جن کو یہ خواہش ہے کہ وہ راسخ فی العلم ہو جاویں وہ محکموں کو معاً مان لیتے اور متشابہ کا انکار نہیں کرتے بلکہ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا کہتے ہیں۔ یعنی دونوں پروردگار کی طرف سے مانتے ہیں۔ پس وہ متشابہ کے ایسے معنی نہیں کرتے جو محکم کے خلاف ہوں بلکہ ہر جگہ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا کا اصول پیش نظر رکھتے ہیں۔ کوئی آیت ہو اس کے خواہ کتنے معنے ہوں مگر ایسے معنے نہ کرنے چاہئیں جو محکم کے خلاف ہوں۔ دوسرا طریق دعا کا ہے وہ یوں بتایا کہ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ھَدَیۡتَنَا یعنی اے ہمارے رب ہمیں کجی سے بچا لے۔ یعنی قرآن کے معنے اپنی خواہشوں کے مطابق نہ کریں۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 448،447)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’قرآن عظیم میں مُتَشٰبِہٰتٌبھی ہیں جو تاویل کی محتاج ہیں۔ان مُتَشٰبِہٰتٌ کی بہت سی باتیں بعض استعارات کے پردہ میں محجوب ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آ کر کھلتی ہیں اور جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا یہ قرآن کریم کی عظمت ہے، بہت بڑی عظمت کہ وہ ایک ایسا کلام ہے جس نے قیامت تک کے لیے انسان کی بہتری کے سامان کر دیئے۔ ہر صدی کا، ہر زمانہ کا، ہر علاقہ کا، ہر ملک کا انسان قرآن کریم کا محتاج اور اس کی احتیاج سے وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتا۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی 1977ء، خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ 115،114)

پس مذکورہ بالا ارشادات سے ہمیں یہ راہنمائی ملتی ہے کہ دینی معاملات میں سے اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے اور کسی دوسرے کے جواب سے بھی تسلی نہ ملے تو ایسی صورت میں ایک تو قرآن و حدیث کی محکم صداقتوں پر خود غور و تدبر کرکے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیےاور دوسرا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرتے ہوئے اور اس کے آگے جھکتے ہوئے ان مسائل کے بارے میں اسی سے راہنمائی طلب کرنی چاہیے۔

باقی جہاں تک آپ کے سوالات کا تعلق ہے تو لجنہ اماءاللہ جرمنی کے ساتھ ملاقات میں جو میں نے سیکرٹری صاحبہ ناصرات کو ناصرات کی تربیت کی طرف توجہ دلاتےہوئے یہ کہا تھا کہ ’’مذہب کے معاملہ میں کیوں اور کس لیےکا سوال نہیں ہے۔ ایمان بالغیب بچپن میں ہی ان کے ذہنوں میں ڈالنا چاہیے۔‘‘ اس کا بھی یہی مطلب تھا کہ مذہب کے معاملہ میں بعض امور بڑے واضح ہوتے ہیں جو آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں لیکن بعض امور کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لا محدود علم کی بناء پر ایمان بالغیب کے پردہ میں رکھا ہے، جن کی حقیقت کو سمجھنا یا ان کا احاطہ کرنا انسان کے بہت ہی محدود علم کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا مذہبی احکامات کے معاملہ میں جس طرح ہم آسانی سے سمجھ آجانے والے احکامات کی پابندی کرتے اور ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے ہیں، اسی طرح ہمارایہ بھی فرض ہے کہ ان احکامات کی بھی اسی طرح اطاعت کریں جن کا ایمان بالغیب کے ساتھ تعلق ہے اور ان کے بارے میں بلا وجہ اپنے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جگہ نہ دیں۔

اسلام سے قبل سود کی حرمت نیز حج کے موقع پر مردوں اور عورتوں کا اکٹھےنماز وغیرہ پڑھنے کے بارے میں آپ کے سوالات کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ اسلام سے پہلے یہود میں بھی سود کی ممانعت تھی۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے یہود کے سود لینے کی وجہ سے جس سے انہیں روکا گیا تھا، ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کر دیں جو اس سے پہلے ان کے لیے حلال کی گئی تھیں۔(النساء:162)

عہدنامہ قدیم کی بہت سی کتابوں میں بھی سود کی ممانعت بیان ہوئی ہے۔ لیکن استثناء میں غیر اسرائیلی اور پردیسیوں سے سود لینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ چنانچہ لکھا ہےکہ ’’ تم اپنے بھائی سے سود وصول نہ کرنا خواہ وہ روپوں پر، اناج پر یا کسی ایسی شے پر ہو جس پر سود لیا جاتا ہو۔ تم چاہو تو پردیسیوں سے سود وصول کرنا لیکن کسی اسرائیلی بھائی سے نہیں۔‘‘(استثناء 21-20/23)

قرآن کریم کے بیان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر بھی سود کو حرام قرار دیا تھا لیکن انہوں نے بعد میں جس طرح خدا تعالیٰ کے دیگر احکامات میں اپنی مرضی سے تحریف کی اس حکم میں بھی تحریف کرتے ہوئے غیر یہود سے سود لینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے وہ عذاب ِالٰہی کے مورد ہوئے۔

اس کے مقابل پر اسلام میں جس طرح دیگر برائیوں کی بڑی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ممانعت فرمائی گئی ہے، سود کے بارے میں بھی قرآن کریم نے کھول کھول کر اس کی حرمت بیان فرمائی اور سودی لین دین کی قباحتوں کو ہر پہلو سے بیان کرتے ہوئے اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا اور مسلمانوں کو اس سے کلیۃً اجتناب کرنے کی ہدایت فرمائی۔ پھر آنحضورﷺ نے بھی مختلف مواقع پر سودکی شناعت بیان فرمائی اور سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کی دستاویزات تیار کرنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت کی۔ (صحیح مسلم کتاب المساقاۃ بَاب لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ) نیز اپنے معرکہ آراء خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے پرانے تمام سودی لین دین کے خاتمہ کا اعلان فرمایا۔ (سنن ابی داؤد کتاب البیوع بَاب فِي وَضْعِ الرِّبَا) اسی طرح آپ ﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی سودی لین دین کے گناہ کی سنگینی بیان کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سؤر کا کھانا بحالت اضطرار جائز رکھا ہے مگر سود کے لیے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے۔(اخبار بدرقادیان نمبر 5، جلد7 مورخہ 6؍ فروری 1908ء صفحہ 6)

خانہ کعبہ میں عورتوں اور مردوں کی نماز کے لیے الگ الگ جگہ مقرر ہوتی ہے۔ اوائل اسلام میں حضور ﷺ کے عہدِمبارک میں بھی عورتیں مردوں سے الگ اس طرح نماز پڑھتی تھیں کہ ان کی صفیں مسجد میں سب سے آخر پر ہوتی تھیں، ان کے آگے بچوں کی صف ہوتی اور پھر بچوں کے آگے مردوں کی صفیں ہوتی تھیں۔

اسی طرح خانہ کعبہ کے طواف کے وقت بھی اگرچہ مرد و خواتین طواف اکٹھا ہی کرتے تھے۔ لیکن عورتیں مردوں سے الگ رہتی تھیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب ابن ہشام (گورنر مکہ)نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کیا تو عطاء بن ابی رباح نے اس سے کہا کہ تم انہیں کیسے روک سکتے ہو جب کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج نے مردوں کے ساتھ طواف کیا۔ (ابن جریج کہتے ہیں)میں نے (عطاء سے )پوچھا، یہ بات پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد کی ہے یا پہلے کی ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں مجھے اپنے عقیدہ کی قسم، میں نے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ان کو اس طرح طواف کرتے دیکھا ہے۔(ابن جریج کہتے ہیں) میں نے کہا عورتیں مردوں سے کیسے مل جل جاتی تھیں؟ انہوں نے کہا عورتیں ملتی جلتی نہ تھیں۔ حضرت عائشہ ؓلوگوں سے ایک طرف جدا طواف کرتیں، ان سے ملا جلا نہیں کرتی تھیں۔ایک عورت نے ان سےکہا، ام المومنین چلیں حجر اسود کو بوسہ دیں۔ انہوں نے کہا تم جاؤ اور انکار کردیا۔عورتیں رات کواس طرح باہر نکلتیں کہ پہچانی نہ جاتیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتیں۔البتہ جب بیت اللہ میں داخل ہونے لگتیں تو باہر ٹھہر جاتیں اور مردوں کو باہر کر دیا جاتا تو وہ اندر جاتیں۔ (صحیح بخاری کتاب الحج بَاب طَوَافِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ)

علاوہ ازیں ابتداء میں شریعت نے حج اور عمرہ وغیرہ میں عورت کے ساتھ اس کے محرم کے ہونے کی جو شرط رکھی تھی، اس میں ایک حکمت یہ بھی نظر آتی ہے کہ حج اور عمرہ کے موقعہ پر جبکہ لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو اس ہجوم میں عورت کا محرم اس کا ہاتھ وغیرہ پکڑ کر اسے دوسرے لوگوں سے اپنی پناہ میں رکھ سکتا ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button