خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 04؍نومبر2022ء

مالی قربانی کرنے والوں کو اپنی روحانی حالتوں کی طرف بھی نظر رکھنے کی بہت ضرورت ہے تبھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے حقیقی وارث ٹھہریں گے

تحریکِ جدیدکے اٹھاسیویں۸۸ سال کے کامیاب اور بابرکت اختتام اور نواسیویں۸۹ سال کے آغاز کا اعلان

اللہ کے فضل سے تحریک جدید کے مالی نظام میں جماعت کو 16.4 ملین پاؤنڈزکی مالی قربانی کی توفیق ملی جو پچھلے سال سے گیارہ لاکھ پاؤنڈز زیادہ ہے

اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ دین کی خاطر تم جو قربانیاں کرتے ہو، اپنا مال خرچ کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی انعامات سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرض نہیں رکھتا

آج دینی اغراض کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو بھیجا ہے اور آپؑ کے ذریعہ آج دنیا میں تبلیغ اسلام اور خدمت انسانیت کا کام ہو رہا ہے

اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں تقریباً ہر جگہ لجنہ اپنی تعداد کے لحاظ سے اپنا حصہ چندوں میں ادا کرتی ہے اور کسی سے پیچھے نہیں ہے

اللہ تعالیٰ نہ امیروں سے ادھار رکھتا ہے نہ غریبوں سے،ہر ایک کو اس کے مطابق نوازتا ہے

اس سال بھی جماعت جرمنی دنیا بھر کی جماعتوں میں اول نمبر پر ہے

مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مخلص احمدیوں کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات کا بیان

شعبہ تاریخ احمدیت جماعت یوکے کی ویب سائٹ(www.history.ahmadiyya.uk) کا اجرا

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 04؍نومبر2022ءبمطابق 04؍نبوت 1401 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج نومبر کا پہلا جمعہ ہے اور حسبِ طریق نومبر کے پہلے جمعہ میں

تحریکِ جدید کے نئے سال کا اعلان

کیا جاتا ہے اور

گذشتہ سال میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی بارش برسائی ہے اس کا ذکر

کیا جاتا ہے۔ سو اس حوالے سے آج میں کچھ کہوں گا۔ سب سے پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہر کام کو چلانے کے لیے، اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ ہر نبی نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے مال کی تحریک کی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1صفحہ 233 ایڈیشن 1984ء) اور قرآنِ کریم میں بھی مختلف زاویوں اور پیرائے میں مومنوں کو مال کی قربانی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ دین کی خاطر تم جو قربانیاں کرتے ہو،
اپنا مال خرچ کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس دنیا میں بھی اور
آخرت میں بھی انعامات سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرض نہیں رکھتا۔

مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کہ وہ کس طرح نوازتا ہے، کس قدر نوازتا ہے فرمایا کہ مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (البقرہ: 262)یعنی ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اگاتا ہے۔ ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جسےچاہے (اس سے بھی) بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

پس یہ ہے مثال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے مومنوں کی کہ جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قرض نہیں رکھتا بلکہ انہیں اس دنیا میں بھی نوازتا ہے اور آخرت میں بھی نوازتا ہے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دین کی اشاعت کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو بھیجا ہے اور آپؑ کے ماننے والوں کے ذمہ بھی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ اشاعتِ دین کے لیے، اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لیے، دنیا کو خدائے واحد کے حضور جھکانے کے لیے اپنا فرض ادا کریں اور اگر وہ خالص ہو کر ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کے وارث ٹھہریں گے۔ ایک روایت میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز، روزہ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی تضعیف الذکر فی سبیل اللّٰہ عزوجل حدیث 2498) یعنی مالی قربانیاں جو تم کرتے ہو ان کے ساتھ یہ چیزیں بھی ضروری ہیں۔ پس اس حدیث میں ایک حقیقی مومن کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے کہ

ایک مومن کو یہی نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف مالی قربانی کر کے پھر اللہ تعالیٰ کو وہ کہے کہ میں نے تو اتنی مالی قربانی کی اور اپنے فرمان کے مطابق مجھے اب سات سو گنا بڑھا کر دے۔ نہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ اپنی عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے ہوں گے، اپنے نفس کی حالت کو بھی بہتر کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبانوں کو بھی تر رکھنا ہو گا۔ لغویات سے پرہیز کرنا ہو گا اور خالص ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مالی قربانی بھی کرنی ہو گی پھر اللہ تعالیٰ اس طرح نوازتا ہے کہ بعض دفعہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔

بسا اوقات اللہ تعالیٰ ہمارے تھوڑے سے عملوں کو بھی قبول فرماتے ہوئے اس طرح نوازتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ اس طرح نوازے اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان بڑھتا ہے۔ اس کی باتوں پر یقین پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہ بہرحال انسان کی کوشش ہونی چاہیے کہ صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائے کہ میں نے اتنی قربانی کی ہے اور باقی عمل نہیں بھی ہیں تو ضرور اللہ تعالیٰ مجھے انعامات سے نوازے گا۔ پس

مالی قربانی کرنے والوں کو اپنی روحانی حالتوں کی طرف بھی نظر رکھنے کی بہت ضرورت ہے تبھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے حقیقی وارث ٹھہریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیشہ حقیقی مومنوں کو نوازتا رہا ہے۔ اس کی بےشمار مثالیں جماعت میں موجود ہیں۔ پہلوں کی مثالیں صرف ہم نہیں دیتے۔ پہلوں کی مثالیں بھی ہیں کہ کس طرح ان کو یقین ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نوازے گا اور موجودہ زمانے کی مثالیں بھی ہیں۔

پرانے زمانے میں، پہلوں کی مثالوں میں حضرت رابعہ بصریؒ کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ کیا توکّل تھا ان کا! ایک دفعہ گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ بیس مہمان آ گئے اور گھر میں صرف دو روٹیاں تھیں۔ انہوں نے ملازمہ کو کہا کہ یہ دو روٹیاں بھی جا کر کسی غریب کو دے آؤ۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل کا بھی ایک عجیب انداز ہے۔ ملازمہ بڑی پریشان ہوئی اور اس نے خیال کیا کہ یہ نیک لوگ بھی عجیب بیوقوف ہوتے ہیں۔ گھر مہمان آئے ہوئے ہیں، جو تھوڑی بہت روٹی ہے یہ کہتی ہیں کہ غریبوں میں بانٹ آؤ۔ ابھی وہ سوچ رہی تھی، جانے لگی تھی یا دے آئی تھی تو تھوڑی دیر کے بعد باہر سے آواز آئی اور ایک عورت آئی۔ کسی امیر عورت نے اسے بھیجا تھا۔ وہ اٹھارہ روٹیاں لے کر آئی تھی۔ حضرت رابعہ بصریؒ نے اسے واپس کر دیں کہ یہ میری نہیں ہیں۔ اس ملازمہ نے پھر کہا کہ آپ رکھ لیں۔ حضرت رابعہ بصری نے کہا کہ نہیں۔ اس نے بڑا زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں! یہ میری نہیں ہیں۔ اس ملازمہ نے پھر کہا کہ رکھ لیں۔ بہرحال تھوڑی دیر بعد ہمسائی جو امیر عورت تھی اس نے اپنی ملازمہ کو آواز دی کہ تم کہاں چلی گئی ہو۔ رابعہ بصری کے ہاں تو بیس روٹیاں لے کر جانی تھیں۔ یہ ان کی نہیں ہیں، یہ تو میں نے کسی اَور کو بھیجی تھیں۔ رابعہ بصری کہتی ہیں کہ

میں نے جو دو روٹیاں بھیجی تھیں تواللہ تعالیٰ سے سودا کیا تھا کہ وہ دس گنا کر کے مجھے بھیج دے گا۔

تو دو کے بدلے میں بیس آنی چاہیے تھیں۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے یہ واقعہ بیان کیا اور قرآنِ کریم کی مختلف آیات کا حوالہ بھی آپ نے دیا۔ حوالہ دیتے ہوئے آپؓ نے فرمایا کہ بعض مقام پر ایک کے بدلے میں دس اور بعض میں ایک کے بدلے میں سات سو کا ذکر ہے اور یہ بدلہ نیکی کے موقع اور محل کے مطابق ہے۔ یعنی نیکی کس موقع پر کس طرح کی جا رہی ہے اور کتنی قربانی کی جا رہی ہے۔ قربانی کرنے والا کس حد تک قربانی کر رہا ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے جیساکہ میں نے کہا حضرت رابعہ بصری ؒکا یہ واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح نوازتا ہے لیکن تم لوگ اللہ تعالیٰ کا امتحان لینے کی نیت سے ہر وقت یہ نہ کرتے رہو۔(ماخوذ از حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 420-421)یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا امتحان لینے کی نیت سے یہ کرنا شروع کر دو۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہو کر کبھی اس طرح قربانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ نوازے گا بھی۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دیتے ہیں وہ حقیقی قربانی کرنے والے ہیں۔ حضرت رابعہ بصریؒ کی مثال گو ذاتی مہمانوں کی لگتی ہے لیکن ان کے پاس بھی لوگ دین کی غرض کے لیے آتے تھے۔ بہرحال

آج دینی اغراض کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو بھیجا ہے اور آپؑ کے ذریعہ آج دنیا میں تبلیغ اسلام اور خدمت انسانیت کا کام ہو رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ہر سال کئی ملین پاؤنڈز اشاعت لٹریچر میں، مساجد کی تعمیر میں،مشن ہاؤسز کی تعمیر میں اور دوسرے منصوبوں پر خرچ کرتی ہے۔ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کی اکثر رقم افریقہ اور بھارت اور دوسرے غریب ملکوں میں خرچ ہوتی ہے۔ اپنے ملکوں کے اخراجات کے علاوہ جو یہ لوگ اپنے ملکوں میں ان مقاصد کے لیے خرچ کر رہے ہیں اور جتنی وسعت اب کاموں میں ہو چکی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ افراد جماعت قربانیوں میں بڑھتے ہوئے ان اخراجات کو بھی باوجود معاشی حالات کے خراب ہونے کے پورا کرتے ہیں اور پھر

اللہ تعالیٰ آج بھی ان کو اپنے سلوک کے نظارے دکھاتا ہے کہ کس طرح وہ ان قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے۔

غریب ملکوں میں رہنے والوں کو بھی اور امیر ملکوں میں رہنے والوں کو بھی، ہر ایک کو اپنے اپنے تجربات ہوتے ہیں جو اپنی ضروریات کو قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں۔ اس وقت میں

چند واقعات بھی پیش کر دیتا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں سے سلوک فرماتا ہے اور مخلصین بھی کس جذبے کے ساتھ اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔

نومبائعین، جن کو احمدی ہوئے، اسلام قبول کیے، تھوڑا عرصہ ہوا ہے ان میں بھی مالی قربانی کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہو رہی ہے اور اس لیے کہ ان کو اس مالی قربانی کی روح کی سمجھ آ گئی ہے۔

لائبیریا

سے لوکل معلم محمد جانسن ہیں۔ یہ پہلے عیسائی تھے، مسلمان ہوئے، معلم بنے۔ کہتے ہیں ہماری کاؤنٹی میں چند ماہ قبل ایک گاؤں میں تبلیغی کوشش کے نتیجہ میں جماعت کا پودا لگا اور اس گاؤں کے افراد نے امام سمیت جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اور وہاں کوئی باقاعدہ سڑک بھی نہیں جاتی۔ بارشوں کی وجہ سے وہاں پہنچنا بھی مشکل تھا۔ تحریکِ جدید کے چندے کی وصولی کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ اس گاؤں کوہم نے خود جان بوجھ کر نظر انداز کر دیاکہ آئندہ سال ان کو تحریک کریں گے اور تحریکِ جدید میں شامل کریں گے۔ ایک تو یہ بالکل نئے احمدی تھے، راستہ بھی دشوار تھا،گاؤں بھی چھوٹا سا تھا ۔ کہتے ہیں ایک دن گاؤں کے امام ابوبَوْکَائی (Bokai) صاحب اچانک ٹب مین برگ مشن ہاؤس پہنچ گئے اور آتے ہی کچھ پیسے دیے کہ جماعت کے اکیس افراد کا تحریکِ جدید کا چندہ ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ آپ کو تو تحریک نہیں کی گئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میں ریڈیو پر جماعت کے پروگرام باقاعدہ سنتا ہوں اور گذشتہ ہفتہ جب آپ نے ریڈیو پروگرام میں تحریکِ جدید کا تعارف کروایا اور اس کی اہمیت بیان کی تو میں نے یہ بات اپنی جماعت کے سامنے رکھی۔ اس پر افراد نے یہ چندہ دیا تو اس طرح خود بخود اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں ڈالتا ہے، احساس پیدا کر رہا ہے، قربانی کی روح پیدا کر رہا ہے۔

گیمبیا

کے امیر صاحب نے لکھا ہے کہ ایک گاؤں میں تحریکِ جدید کے حوالے سے تحریک کی گئی۔ تمام افراد نومبائعین ہیں۔ ایک ستاون سالہ بوڑھی عورت سسٹر فاتو نے دو سو ڈلاسی (Dalasi)نکال کر چندہ میں ادا کر دیا۔ یہ وہاں کی کرنسی ہے۔ خاتون کہنے لگیںکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے کوئی بھی سچے اسلام احمدیت کے پیغام کو پھیلا سکتا ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ آخری رقم تھی جو اس نے اپنے خاندان کے لیے کھانا خریدنے کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ یہ نہیں کہ وہ امیر عورت تھی۔ دو سو ڈلاسی رقم دی اور کہا کہ اس لیے دے رہی ہوں کہ اسلام کی تبلیغ کرنے کے لیے اس رقم کی ضرورت ہے۔ میں اپنی بھوک قربان کرتی ہوں اور یہ رقم دے رہی ہوں۔ کہتے ہیں ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ان کا بیٹا جو سوئٹزرلینڈ میں ہے، اس کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے بارہ ہزار دو سو ڈلاسی بھیجے ہیں۔ اس پر اس خاتون نے مجمع میں روتے ہوئے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ہم پر فضل کیا ہے۔ کہنے لگی کہ اب میں اور زیادہ چندہ ادا کروں گی۔ وہاں موجود لوگ بھی حیران تھے۔ چھ ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا تھا بیٹا رابطہ نہیں کر رہا تھا،ماں کو پوچھ نہیں رہا تھا۔ ماں کا مالی لحاظ سے برا حال تھا لیکن اسی موقع پر ایسا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ فون آیا اور ساتھ ہی رقم آئی۔ اس پر واقعی لوگوں پر اثر ہوا کہ احمدیت حقیقی اسلام ہے اور سب نے یہ عہد کیا کہ ہم مرتے دم تک احمدی رہیں گے۔

تنزانیہ

کے شمال مغرب میں واقع گیٹا (Geita) ریجن کی ایک جماعت ہے۔ وہاں کے معلم نے لکھا کہ عبداللہ صاحب ایک خادم ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے بیعت کی تھی۔ ایک دن انہوں نے خطبہ جمعہ میں چندہ تحریکِ جدید کے بارے میں سنا۔ا نہیں علم ہوا کہ یہ چندہ کی وصولی کا آخری مہینہ ہے اور ہر احمدی کو جو کچھ بھی توفیق رکھتا ہے اس کو برکت کی خاطر اس میں شامل ہونا چاہیے۔ عبداللہ صاحب کے پاس کوئی رقم نہیں تھی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگلے دن شام تک وہ ضرور کچھ نہ کچھ رقم چندہ تحریکِ جدید میں ادا کر دیں گے۔ اگلے دن وہ کام کی تلاش میں نکلے۔ ایک شخص کو زمین کی کاشت کرنے کے لیے آدمی کی ضرورت تھی اور عبداللہ صاحب کو انہوں نے کام دے دیا اور انہوں نے سارا دن بڑی محنت سے جو بھی کام ذمہ لگایا تھا وہ شاید عام حالات میں دو دن میں مکمل کرتے لیکن انہوں نے شام تک مکمل کر لیا اور جو رقم ملی وہ لے کر چندہ تحریکِ جدید ادا کرنے کے لیےپہنچ گئے۔ یہ واقعہ سنا کر خود ہی کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے میری نیت میں برکت رکھی اور محض اپنے فضل سے مالی قربانی کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ احساس بھی ساتھ پیدا ہو جاتا ہے۔

آسٹریلیا کے قریب سولومن آئی لینڈ ایک جزیرہ

ہے۔ آسٹریلیا کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ سولومن آئی لینڈ کے دورے کے دوران تربیتی اور تبلیغی، انتظامی پروگراموں کے علاوہ تحریکِ جدید کے اختتام کی نسبت سے احباب کو چندے کی تحریک کی گئی، توجہ دلائی گئی تو وہاں ایک خاتون ہیں۔ ان کے خاوند غیر مسلم ہیں۔ دونوں پولٹری فارم چلاتے ہیں۔ سیکرٹری تحریکِ جدید جب ان کے گھر گئے چندہ کی یاددہانی کے لیے تو گھر پہ نہیں تھیں۔ ان کے بچوں نے جو تھوڑی بہت رقم ان کے پاس تھی وہ ادا کر دی۔ خاتون واپس جب گھر آئیں تو بچوں نے بتایا کہ اس طرح سیکرٹری تحریکِ جدید آئے تھے۔ وہ فوراً سیکرٹری کے گھر گئیں اور ایک ہزار ڈالر چندہ تحریکِ جدید میں ادا کر دیا جس پر سیکرٹری صاحب نے انہیں کہا کہ میں نے تو سب دوستوں سے چندہ وصول کر لیا۔ لسٹ تیار کر کے دے آیا ہوں تواگلے سال میں یہ چندہ ڈال لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا:نہیں! میں نے اپنے خدا سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس سال اتنا دینا ہے تو یہ اسی سال میں شمار کریں۔ چنانچہ ان کے کہنے پر دوبارہ نئی لسٹ تیار کی گئی اور راتوں رات اس کی اطلاع مرکز کو دی۔

پھر

اللہ تعالیٰ کس طرح کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے

اس کے بھی نظارے نظر آتے ہیں۔

گنی کناکری

کے مبلغ لکھتے ہیں۔ یہاں ایک جگہ کافیلیا (Kafilya) ہے۔ مشنری نے وہاں خطبہ میں تحریکِ جدید کے حوالے سے توجہ دلائی۔ پھر انفرادی طور پر گھروں کا بھی دورہ کیا۔ ایک نوجوان محمد سِلا (Sylla) صاحب ملے اور انہیں چندہ کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی جس پر انہوں نے اسی وقت اپنی جیب سے دس ہزار گنی فرانک (Guinean Franc)نکال کر تحریکِ جدید کی مدّ میں ادا کر دیے اور ساتھ ہی کہا کہ یہ میرے پاس موجود تھی جس سے میں نے دوپہر اور رات کا کھانا خریدنا تھا لیکن میں آج اللہ اور اس کی رضا کی خاطر بھوکا رہ لوں گا اور اس واقعہ کے چار دن بعد اس نوجوان کا مشنری کو فون آیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری قربانی قبول کر لی ہے۔ کہتے ہیں میں نے ایک miningکمپنی میں ڈرائیور کی جاب کے لیے انٹرویو دیا ہوا تھا اور یہاں اللہ کے فضل سے مجھے ساڑھے پانچ ملین گنی فرانک ماہانا تنخواہ پر پانچ سال کا contractمل گیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے کئی ہزار گنا بڑھا کر مجھے عطا فرمایا۔ سال کا چندہ تو انہوں نے دس ہزار دیا تھا لیکن اضافہ جو سال میں ہوا وہ سات سو گنا سے بڑھا کر چھ ہزار چھ سو گنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں چاہتا ہوں تو اس سے بڑھا کر بھی دے دیتا ہوں تو یہاں اس سے بھی بڑھا کر دینے کا نظارہ ہے۔

پھر

نائیجر

کی صدر لجنہ لکھتی ہیں۔ اللہ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ نائیجر کی پہلی سہ روزہ نیشنل تربیتی کلاس کے انعقاد کا موقع ملا۔ بہت ساری خواتین نے شرکت کی۔ اس میں عمومی طور پر تحریکِ جدید کے حوالے سے بھی توجہ دلائی گئی کہ سال ختم ہونے میں کچھ عرصہ رہتا ہے۔ وعدہ ادا کرنے کی کوشش کریں جتنی جلدی کر سکتی ہیں۔ لیکن کہتی ہیں اسی وقت لجنہ نے چندہ پیش کرنا شروع کر دیا۔ ان کو کہا بھی کہ ابھی تو صرف تحریک تھی، وقت ہے ابھی۔ انہوں نےکہا نہیں ہم ابھی دیں گی۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسری خواتین بھی آگے آئیں۔ انہوں نے مالی قربانی پیش کی اور ایک بڑی رقم جمع ہو گئی۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں تقریباً ہر جگہ لجنہ اپنی تعداد کے لحاظ سے اپنا حصہ چندوں میں ادا کرتی ہے اور کسی سے پیچھے نہیں ہے۔

بعض ملکوں میں تو بعض دفعہ خدام اور انصار کو توجہ دلانی پڑتی ہے کہ لجنہ قربانی میں بڑھ گئی ہے۔ آپ لوگ بھی اس کے مطابق ادا کریں۔

سینٹ پیٹرزبرگ رشیا

کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ارسان بیک صاحب کا تعلق رشیا کی ایک ریاست سے ہے۔ گذشتہ سال مَیں نے تحریکِ جدید کے نئے سال کا جو اعلان کیا تھا تو ارسان صاحب نے کہا کہ وہ تحریکِ جدید میں ایک ہزار روبل (Rouble) کی قربانی پیش کرتے ہیں اور انہوں نے گذشتہ سال کی تھی۔ اب انہوں نے کہا اس سال میں دس ہزار روبل کا وعدہ کرتا ہوں اور پھر اپنے بزنس کے بارے میں کہا کہ وہ شروع کرنے والے ہیں۔ تو بہرحال انہوں نے جولائی میں اپنا دس ہزار روبل کا وعدہ مکمل کر دیا۔ رشیا کے حالات بھی یوکرین جنگ کی وجہ سے تنگ ہیں اور روبل کی قیمت بھی کافی گر گئی ہے لیکن انہوں نے یہ پورا کیا۔ تو یہ کُل دس ہزار روبل جو ایک سو اٹھہتر یورو بنتے ہیں لیکن وہاں کے حالات کے مطابق یہ ان کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔ انہوں نے یہ ادا کرنے کے بعد کہا کہ مَیں پانچ سو روبل چندہ اس کے علاوہ دیتا رہوں گا اور روزانہ پانچ سو روبل ادا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے بزنس میں ایسی برکت پڑی ہے کہ باوجود حالات خراب ہونے کے مجھے بہت آمد ہو رہی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے ایک ہزار روبل کر دیا اور یہ بھی روزانہ ادا کر رہے ہیں۔

کیمرون

کا شمالی شہر ہے مروہ (Maroua)، وہاں کے معلم لکھتے ہیں۔ یہ بھی غریبوں کے ایمان میں پختگی اور چندہ کی برکات کا ایک واقعہ ہے۔ عبداللہ صاحب نومبائع ہیں، بالکل غریب آدمی ہیں۔ کہتے ہیں گذشتہ سال تحریکِ جدید کے لیے آدھی بالٹی یعنی پانچ کلو مکئی کا بطور چندہ انہوں نے تحریکِ جدید میں دیا اور کہتے ہیں اس کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ نے پانچ بوریاں عطا فرمائیں۔ تین سو پچاس کلو۔ستر گنا اضافہ ہوا۔ اس سال کہتے ہیں بڑا پریشان تھا۔ کھاد مہنگی ہو گئی تھی۔ قیمتیں بڑھ گئیں۔ میں خرید نہیں سکتا تھا۔ مجھے فکر ہوئی کہ یہ نہ ہو کہ فصل اچھی نہ ہو۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں نے تھوڑی بہت محنت کی جو محنت کر سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت ڈالی کہ اس سال ان کی اس سے دوگنی فصل نکلی اور تحریکِ جدید میں بھی انہوں نے ستر کلو کی بوری چندہ تحریکِ جدید ادا کیا۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی فیملی کو بھی بتاتا ہوں کہ تحریکِ جدید کے چندہ کی برکت سے خدا تعالیٰ میری محنت اور فصل میں برکت ڈالتا ہے۔

گیمبیا

کے امیر صاحب لکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں لیکن غریب احمدی کے لیے بہت اہم ہیں۔ ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک دوست پاتھے سیسے جنہوں نے 2014ء میں بیعت کی تھی انہوں نے بتایا کہ میں جماعت میں شامل ہونے سے پہلے بیروزگار تھا۔ کئی مرتبہ نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود رہا۔ کہتے ہیں جب سے جماعت میں شامل ہوا ہوں چندہ جات اور دیگر جماعتی کاموں وغیرہ میں ،تبلیغ وغیرہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہوں۔ چنانچہ اب وہ دو جگہ نوکری کر رہے ہیں۔ کہاں بیروزگاری تھی اور رہنا بھی مشکل تھا، گھر نہیں تھا۔ اب انہوں نے پختہ گھر بھی بنا لیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جماعت نے ان کی مدد کی۔ وہ جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ جماعت نے مدد نہیں کی اللہ تعالیٰ نے چندے کی برکت سے میری مدد کی ہے۔

انڈونیشیا

کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک احمدی ہیں۔ ان کی فیکٹری ہے۔ حالات ٹھیک نہیں چل رہے تھے۔ تحریکِ جدید کے بارے میں جب گذشتہ سال بعض واقعات کا ذکر کیا اور نئے سال کا مَیں نے اعلان کیا تو بڑا اچھا اثر ان پہ ہوا، بڑا گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے فوراً تحریکِ جدید کے لیے پچھلے سال کی نسبت دوگنا وعدہ لکھوا دیا اور فوراً اس وعدے کو پورا بھی کر دیا۔ اس کے ایک ہفتہ بعد ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا اور ان کی سیل میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ اس طرح ایک کمپنی نے جن کے ساتھ پہلے بزنس بند تھا وہ واپس آگئی اور بڑی خریداری کی پیشکش کی۔ اس سال کہتے ہیں کہ میری کمپنی کی آمدنی گذشتہ سالوں سے کئی گنا بڑھ گئی۔

جرمنی

سے مبلغ فرہاد صاحب لکھتے ہیں کہ ویزبادن (Wiesbaden)کی ایک خاتون کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ آمد بھی رک گئی۔ خاوند کو بلانا تھا، سپانسر نہیں کر سکتی تھیں۔ پریشانی کا اظہار اپنے بھائی سے کیا تو اس نے کہا کہ اچھا اب یہی علاج ہے کہ دعا کرو اور چندہ دو۔ مالی قربانی کرو۔ انہوں نے اپنا زیور بیچ کے چندہ ادا کر دیا۔ چار دن کے بعد کام والوں کا پیغام آ گیا کہ مستقل کام آپ کو دیا جاتا ہے اور تنخواہ بھی دو ہزار یورو ہو گی جس سے وہ اپنے خاوند کو سپانسر بھی کر سکتی تھیں۔

انڈیا

سے وکیل المال صاحب کہتے ہیں کہ یہاں ایک صاحب ہیں، جو تحریکِ جدید کی مالی قربانی میں بڑے پیش پیش ہیں۔ انہیں بجٹ میں اضافہ کی تحریک کی تو کہنے لگے کتنا اضافہ کروں؟ ان سے کہا کہ اپنے وسائل کے مطابق جو آپ کر سکتے ہیں کر دیں لیکن ان کا مبلغ کو یا مرکزی نمائندے کو اصرار تھا کہ آپ بتائیں تو نمائندے نے کہہ دیا کہ اچھا دس لاکھ روپے کا اضافہ کر دیں۔ وہ پہلے پانچ لاکھ روپے دے چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اضافہ کر دیا اور ادائیگی بھی کر دی۔ کہتے ہیں کہ میرا ایک مکان تھا جس کی رجسٹری نہیں ہو رہی تھی اور بڑا بھاری نقصان پہنچنے کا خیال تھا لیکن اضافہ کرنے کے چند دن بعد ہی التوا میں پڑا ہوا یہ کام بھی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے نقصان پورا کر دیا۔ تو

اللہ تعالیٰ نہ امیروں سے ادھار رکھتا ہے نہ غریبوں سے۔
ہر ایک کو اس کے مطابق نوازتا ہے۔

انڈیا سے ہی وکیل المال صاحب لکھتے ہیں کہ کشمیر کے ایک ڈاکٹر پروفیسر صاحب ہیں۔ وہ شیر کشمیر یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وعدہ جات کی ادائیگی کر دی تھی اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ مجھے ترقی دے کے ایگرونومی میں Professor-cum- Chief Scientist بنا دیا گیا ہے اور غیر معمولی اضافہ میری تنخواہ میں بھی ہو گیا ہے۔ اس پر انہوں نے اپنے تحریکِ جدید کے چندے میں بھی اضافہ کر دیا۔

ماریشس

کی خاتون کہتی ہیں گذشتہ سال رشتہ داروں کے تحریکِ جدید کے حوالے سے کچھ واقعات سننے کے بعد میرے شوہر نے مجھے کہا کہ ایسی رقم وعدہ کرنا چاہیے جس کی ادائیگی قدرے مشکل ہو۔ چنانچہ پچہتر۷۵ ہزار روپیہ جو ماریشین روپیہ ہے اس کا وعدہ لکھوا دیا۔ کہتی ہیں کہ اس وقت میرے شوہر ایک میڈیکل کمپنی میں کام کرتے تھے۔ پچھلے تین سالوں میں تنخواہ میں معمولی اضافہ ہوا تھا لیکن جب انہوں نے وعدہ لکھوایا تو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں جاب آفر ہو گئی۔ انہی دنوں میں شوہر نے اپنی والدہ کو ایک ہزار تحفہ بھی دیا تھا۔ تو ملازمت کے لیے انٹرویو دینا تھا۔ شوہر نے بتایا کہ احساس ہو رہا تھا کہ یہ انٹرویوجہاں ہے وہاںمجھے جاب بھی مل جائے گا اور رقم جو مجھے تنخواہ میں ملے گی وہ اس کے قریب قریب ہو گی جو میں نے قربانی کی ہے۔ چنانچہ انٹرویو ہوا، ان کو رکھ لیا گیا اور چھہتر۷۶ ہزار روپے تنخواہ کی پیشکش انہیں ہوئی۔ وعدہ پچہتر۷۵ ہزار کا تھا۔ کہتے ہیں ایک ہزار جو میری والدہ کا تھا وہ بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے لوٹا دیا۔

بنگلہ دیش

کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک صاحب کو کورونا وبا کے دوران کافی نقصان ہوا۔ چندوں کا اچھا خاصا بقایا ہو گیا۔ تحریکِ جدید وغیرہ کے چندے کے بارے میں یاددہانی کروائی گئی تو اپنی اہلیہ کی جمع پونجی میں سے ساڑھے گیارہ ہزار ٹکا (Taka)ادا کر دیا لیکن ابھی بھی نصف بقایا تھا۔ بہرحال کہتے ہیں اس ماہ کے آخر میں اہلیہ نے اطلاع بھیجی کہ آکر بقایا چندہ لے جائیں۔ جب ہماری ٹیم وہاں پہنچی تو وعدہ شدہ چندوں سے تین گنا زیادہ چندہ ادا کیا اور لازمی چندوں کا بقایا بھی ادا کر دیا اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ایک دیرینہ ضرورت خدا نے حال ہی میں پوری کر دی ہے۔ بڑی دیر سے وہ مکان کے لیے ایک قطعہ زمین ڈھونڈ رہے تھے۔ جب سے انہوں نے چندے ادا کرنے شروع کیے ہیں خدا نے اعجازی رنگ میں مکان بنانے کے لیے ایک پلاٹ خریدنے کی توفیق دے دی۔ آمد ن بھی بڑھ گئی، چندے بھی ادا کر دیے اور اللہ تعالیٰ نے جائیداد بنانے کی توفیق بھی دے دی۔

برکینا فاسو

سے ایک دوست ہیں۔ ٹیچر ہیں۔ کہتے ہیں گاڑی خریدنے کی توفیق ملی تو ان کے باقی ٹیچروں نے کہا کہ ٹیچر تو ہم بھی ہیں، ہم تو یہ خرید نہیں سکتے۔ یقیناً جماعت نے مدد کی ہو گی۔ کہتے ہیں میں نے کہا جماعت نے مدد نہیں کی۔ یہ اللہ تعالیٰ نے میرے مال میں چندوں کی وجہ سے برکت ڈال دی۔ کہتے ہیں طالب علمی کے زمانہ سے ہی مجھے چندہ دینے کی عادت ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ مجھے نوازتا رہتا ہے۔

جرمنی

کی جماعت اوسنا بروک (Osnabrück) کے ایک صاحب ہیں۔وہ لکھتے ہیں تحریکِ جدید کے حوالے سے ایک اجلاس رکھا گیا۔ کہتے ہیں: پانچ سو یورو مَیں اضافی ادا کرنے کے لیے لایا تو ان کو کہا گیا کہ رسید بک ختم ہے۔ کہتے ہیں میں واپس چلا گیا اور اپنے لیبر کو دینا تھا، جن سے کام کرواتے تھے ان کو ادا کر دیے۔ تو رات کو خواب میں انہوں نے مجھے دیکھا۔ کہتے ہیں کہ مجھے آپ کہہ رہے ہیں۔ یعنی اس شخص کو میں کہہ رہا ہوں کہ مجھے پانچ ہزار یوروز چاہئیں۔ کہتے ہیں میں سمجھ گیا اس سے مراد تحریکِ جدید کا چندہ ہے۔ بیگم کو خواب سنائی اس نے کہا کہ تحریکِ جدید میں پانچ ہزار یورو ادا کریں گے اور کہتے ہیں اس سے کچھ ہی عرصہ بعد کورونا ہیلپ میں میرے اکاؤنٹ میں بائیس ہزار سے زیادہ رقم آ گئی جس کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔

کینیڈا

سے ایک لجنہ بیان کرتی ہیں مالی تنگی کا سامنا تھا۔ بڑی پریشان تھی کہ اپنا وعدہ کس طرح پورا کروں گی۔ بڑی فکر بھی تھی، دعا بھی کر رہی تھی۔ میری نیت بڑی نیک تھی۔ آثار بظاہر نظر نہیں آ رہے تھے۔ بہت دعائیں کیں۔ پھر کیا ہوا ،کہتی ہیں ایک رات میری بیٹی اپنا برتھ سرٹیفکیٹ ڈھونڈ رہی تھی کہ ایک پرانا پرس اس کو مل گیا۔کہتی ہیں آٹھ سال پہلے امریکہ گئے تھے تو میں نے امریکہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے وہاں خرچ کے لیے کوئی رقم رکھی ہوئی تھی اس میں سے کچھ بچ گئی تھی وہ میں نے وہاں ڈال کے رکھ دی تھی اور مجھے بھول گیا تھا اور جو رقم نکالی تو وہ عین اتنی رقم تھی جتنا چندہ ادا کرنا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ اس طرح بھی مدد فرماتا ہے۔

گنی کناکری

کے صدر صاحب لکھتے ہیں ایک غریب احمدی خاتون ہیں۔ معمولی چیزیں فروخت کر کے اپنا گذر بسر کرتی ہیں۔ عشرہ تحریکِ جدید کے دوران جب ان کے گھر پہنچے اور ان خاتون کو بھی تحریکِ جدید کے چندہ کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی تو خود کہنے لگیںکہ اب اس چھوٹے سے ذریعہ آمدنی کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ کاروبار میں نے ادھار لے کر شروع کیا تھا۔ آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔ ادھار بھی نہیں ادا کر سکتی۔ بہرحال سمجھایا گیا اور دعا کے لیے بھی کہا گیا تو اس عورت نے بیس ہزار فرانک گِنی جو کُل رقم ان کے پاس موجود تھی چندہ میں دے دی۔ وہ غریب خاتون جو کہ حالات سے لڑ رہی تھی اس کے لیے یہ بہت بڑی رقم تھی۔ کچھ دنوں بعد جب ہمارے مشنری دوبارہ کسی کام کے سلسلہ میں اس خاتون سے ملنے گئے۔ جب اس سے ملے تو اس خاتون نے جذبات سے بھری آواز میں خوشی سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے سارے مسائل حل کر دیے ہیں۔ میرا معمولی کاروبار بہت اچھا چل پڑا ہے۔ میرا قرضہ بھی اتر گیا ہے اور یہ سب اس مالی قربانی کی وجہ ہے۔

تاتارستان رشیا

کے ایک دوست فرید ابراہیموف (Farid Ibrahimov) ہیں۔کہتے ہیں گذشتہ سال موسم گرما میں میرے فون کے ساتھ کچھ عجیب معاملہ ہوا۔ کہتے ہیں میرے بینک کے آن لائن اکاؤنٹ میں اپنے مسافروں سے رقم وصول کرنے کے بعد مالی عطیات کے بارے میں جو خلیفہ وقت کا خطبہ ہے وہ خود بخود میرے سمارٹ فون پر لگ گیا۔ کہتے ہیں ایسا ایک بار نہیں ہوا بلکہ جب بھی کوئی بڑی رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی تو ایساکچھ نہ کچھ واقعہ ہو جاتا۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے یاددہانی کروا رہا ہے۔ یہ میرے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں حضرت مسیح موعود ؑکی جماعت میں شامل ہو کر مالی قربانی کی توفیق پا رہا ہوں۔ تو ایسا ہوتا ہے کہ خود بخود خطبہ لگ گیا یا کوئی پیغام آ جاتا ہے ان کے فون پہ جس سے ان کو چندے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔

پھر

تنزانیہ

کی ایک مخلص خاتون ہیں، کہتی ہیں کہ جلسہ سے واپسی پر ان کو خیال آیا کہ چندہ تحریکِ جدید کا بقایا ہے۔ کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک شخص نے ان سے قرض لیا ہوا تھا۔ امید تھی کہ وہ واپس کر دے گا تو چندہ ادا کر دیں گی لیکن وہ جواب نہیں دے رہا تھا۔ فون بھی نہیں اٹھاتا تھا۔ بیمار تھیں، دوائی وغیرہ کے اخراجات بھی روز بروز بڑھتے جا رہے تھے۔ بڑی پریشان تھیں۔ بچوں کی سکول فیس کی بھی فکر تھی۔ اپنے بچوں سے کہا کہ دعا کرو اور کہتی ہیں کہ اسی دوران میں اذان کی آواز آئی تو بچے نے کہا کہ نماز پر چلتے ہیں اور خدا سے مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس طرح بچوں کے ایمان بھی مضبوط کرتا ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعا سن لے اور اس کے دل میں ڈالے اور وہ شخص پیسے واپس کردے۔ چنانچہ ماں بیٹے نے وضو کر کے نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ نماز ختم کرنے سے پہلے ہی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی۔ یہ اس شخص کا فون تھا جس نے قرض لیا ہوا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ میں دروازے کے باہر کھڑا ہوں اور تمہارے پیسے واپس کرنے آیا ہوں۔اس شخص نے بتایا کہ میں بس سٹاپ پر کھڑا ویگن کا انتظار کر رہا تھا کہ اذان کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی مجھے ایسے لگا جیسے کوئی آواز مجھے کہہ رہی ہے کہ پہلے قرض کی رقم واپس کر دو۔ چنانچہ میں پیسے واپس کرنے آ گیا۔ اس عورت اور بچے نے یہ سارا واقعہ سنا تو دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ بچے نے کہا دیکھا ہم نے نماز پڑھی تو ہمیں پیسے بھی مل گئے اور پھر انہوں نے اپنی ضروریات پوری کیں۔

سینٹ پیٹرز برگ

کے ایک صاحب اکرام جان صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ اپنی مالی خوشحالی کی دعا کرتا ہوں تاکہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کر سکوں اور خاص طور پر اپنے چندہ جات کی ادائیگی کر سکوں اور یہ ہمیشہ عجیب طریق سے رونما ہوتا ہے۔ کہتے ہیں پچھلی مرتبہ میرے پاس تین ہزار روبلز کم تھے جبکہ چندہ کی ادائیگی کا آخری دن تھا۔ کام کے دوران میرے پاس اچانک دو لوگ آئے جن میں سے ایک نے مجھے ہزار اور دوسرے نے دو ہزار روبل دیے اور اس سے پہلے میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ کام سے تین سو سے پانچ سو روبل ملتے تھے۔ اب میں اپنی زائد آمدنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیتا ہوں۔

تو یہ چند واقعات ہیں جو میں نے پیش کیے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نوازتا ہے جو مالی قربانی خالص ہو کے کرتے ہیں۔

اس کے بعد اب تحریکِ جدید کے نئے سال کا اعلان بھی کرتا ہوں

یہ اٹھاسیواں۸۸سال 31؍ اکتوبر کو اختتام پذیر ہوا ہے اوریکم نومبر سے نواسیواں۸۹سال، 89 والا سال اب شروع ہوا ہے۔

اس سال تحریکِ جدید کے مالی نظام میں 16.4ملین پاؤنڈز کی مالی قربانی جماعت نے پیش کی۔ الحمد للہ۔
دنیا کے تیزی سے بگڑتے ہوئے اقتصادی حالات کے باوجود یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابلے پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1.1ملین پاؤنڈز زیادہ ہے یعنی گیارہ لاکھ پاؤنڈز زیادہ ہے۔

پہلے کی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے

اس سال بھی جماعت جرمنی دنیا بھر کی جماعتوں میں اول نمبر پر ہے۔

پاکستان نے بھی قربانی کے لحاظ سے بہت قربانی کی ہے لیکن اقتصادی حالات وہاں خراب ہیں۔ پیسے کی جو ویلیو (value)گری ہے اس کی وجہ سے وہ نیچے گئے ہیں۔ باقی قربانی کے لحاظ سے تو وہ آگے ہی بڑھے ہیں۔ جرمنی گو اوپر ہے لیکن اپنی مقامی کرنسی کے لحاظ سے ان میں کمی ہوئی ہے اور برطانیہ اور امریکہ میں جس طرح اضافہ ہو رہا ہے اگر یہ اضافے میں بڑھتے جائیں تو یہ اوپر آ سکتے ہیں۔ اسی طرح کینیڈا میں بھی اضافہ ہوا ہے، آسٹریلیا میں بھی اضافہ ہوا ہے، بھارت میں بھی اضافہ ہوا ہے، گھانا کی جماعت کے چندے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کارکردگی کے لحاظ سے زیادہ اضافہ جو ہے اس میں دوسری قابل ذکر جماعتیں

جو ہیں وہ ہالینڈ ہے، فرانس ہے، سویڈن ہے، جارجیا ہے، ناروے ہے۔ بیلجیم، برما، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش، کیریباتی،قزاخستان،تاتارستان، فلپائن، مڈل ایسٹ کی جماعت۔

افریقن جماعتوں میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے نمایاں جماعتیں

گھانا ہے۔ پھر نمبر دو پہ ماریشس ہے۔ یہ بھی افریقہ میں ہے۔ نائیجیریا۔ برکینافاسو۔تنزانیہ۔گیمبیا۔ لائبیریا۔ یوگنڈا۔ سیرالیون اور بینن۔

فی کس ادائیگی کے اعتبار سے

جماعتوں میں پہلے نمبر پر امریکہ ہے۔ پھر برطانیہ۔ پھر آسٹریلیا۔

شامل ہونے والوں کی مجموعی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے پندرہ لاکھ چورانوے ہزار ہے۔

گذشتہ سال کی نسبت اضافہ کرنے والے قابلِ ذکر افریقن ممالک میں جو تعداد میں اضافہ ہے ان میں نائیجیریا۔گنی بساؤ۔ کانگو۔ برازاویل۔گنی کناکری۔ تنزانیہ۔ کانگو کنشاسا۔ گیمبیا۔کیمرون۔ آئیوری کوسٹ۔ نائیجر۔ سینیگال اور برکینا فاسو ہیں۔

دفتر اوّل کے کھاتے تو اللہ کے فضل سے سب کے سب جاری ہیں ۔

جرمنی کی پہلی دس جماعتیں

جو ہیں روئڈر مارک (Rödermark)۔ روڈگاؤ(Rodgau)۔ مہدی آباد۔ نیڈا (Nidda)۔ کولون (Köln)۔ فلورس ہائم (Flörsheim)۔ نوئس (Neuss)۔ پنےّ برگ (Pinneberg)۔ اوسنابروک(Osnabrück) ۔ فریڈ برگ (Friedberg)۔

اور

لوکل امارتیں

جوہیں۔ وہ ہیمبرگ(Hamburg)۔ فرینکفرٹ(Frankfurt)۔ گروس گیراؤ (Gross-Gerau)۔ ویزبادن (Wiesbaden)۔ ڈٹسن باخ (Dietzenbach)۔ پھر ریڈشٹڈ(Riedstadt)۔ مورفلڈن (Mörfelden)۔ فلورز ہائم (Flörsheim)۔ ڈامشٹڈ(Darmstadt) اور من ہائم (Mannheim) ہیں۔

پاکستان میں عمومی وصولی کے لحاظ سے

اوّل لاہور ہے۔ پھر ربوہ۔ پھر سوم کراچی۔

ضلعی سطح پر جو دس اضلاع ہیں

ان میں سیالکوٹ نمبر ایک ہے۔ پھر اسلام آباد ہے۔ پھر گوجرانوالہ ۔ گجرات۔ عمر کوٹ۔ حیدر آباد۔ میرپور خاص۔ سرگودہا۔ کوئٹہ۔ لودھراں۔

عمر کوٹ اور میر پور خاص والے علاقے ایسے ہیں جہاں پچھلے دنوں بارشوں کی وجہ سے سیلاب بھی آئے۔ ان علاقوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بہت بڑی قربانی ہے جو لوگوں نے دی ہے۔

وصولی کے اعتبار سے زیادہ قربانی کرنے والی پاکستان کی شہری جماعتیں

یہ ہیں۔ امارت ٹاؤن شپ لاہور۔ امارت دارالذکر لاہور۔ امارت ماڈل ٹاؤن لاہور۔ امارت مغل پورہ لاہور۔ امارت علامہ اقبال ٹاؤن لاہور۔ امارت بیت الفضل فیصل آباد۔ پھر امارت عزیز آباد کراچی۔ پھر امارت دہلی گیٹ لاہور۔ پھر امارت کریم نگر فیصل آباد۔ پھر آخری نمبر پر دسویں نمبر پر امارت صدر کراچی۔

برطانیہ کے پہلے پانچ ریجنز

جو ہیں ان میں نمبر ایک پہ بیت الفتوح۔ دوسرے اسلام آباد۔ پھر مسجد فضل۔ پھر مڈلینڈز (Midlands)۔ پھر بیت الاحسان۔

اور

مجموعی وصولی کے لحاظ سے برطانیہ کی پہلی دس بڑی جماعتیں۔

پہلے نمبر پر فارنہم (Farnham)پھر ساؤتھ چیم (South Cheam) پھر اسلام آباد۔ پھر ووسٹرپارک(Worcester Park)۔ پھر والسال(Walsall)۔ جلنگھم(Gillingham)۔مسجد فضل۔ آلڈر شاٹ ساؤتھ(Aldershot South)اور پٹنی(Putney)۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے جو چھوٹی جماعتیں

ہیں وہ سپن ویلی۔ کیتھلی۔ نارتھ ویلز۔ نارتھ ہیمپٹن۔ سوانزی ہیں۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے امریکہ کی جماعتیں۔

نمبر ایک پہ میری لینڈ(Maryland)۔ پھر لاس اینجلیس (Los Angeles)۔ پھر نارتھ ورجینیا۔ پھر ڈیٹرائٹ (Detroit)۔ سیلیکون ویلی (Silicon Valley)۔ شکاگو (Chicago)۔ سیئٹل (Seattle)۔ اوش کوش(Oshkosh)۔ پھر ساؤتھ ورجینیا (South Virginia)۔ اٹلانٹا (Atlanta)۔ جارجیا (Georgia)۔ نارتھ جرسی۔ یارک (York)۔

مجموعی وصولی کے لحاظ سے کینیڈا کی لوکل امارات۔

وان (Vaughan)نمبر ایک پہ۔ پھر پیس ولیج (Peace Village) ۔ پھر کیلگری (Calgary)۔ وینکوور (Vancouver)۔ ٹورانٹو (Toronto)۔

قربانی کے لحاظ سے انڈیا کی پہلی دس جماعتیں

ہیں: نمبر ایک پہ کوئمبٹور (Coimbatore)۔ تامل ناڈو۔ پھر قادیان۔ پھرحیدر آباد۔کرولائی (Karulai)۔ پتھہ پریم۔ پھر کالی کٹ ۔ بنگلور۔ میلا پالم۔کلکتہ۔ کیرنگ۔ اور

قربانی کے لحاظ سے دس صوبہ جات جو ہیں

ان میں پہلے نمبر پہ کیرالہ ۔ پھر تامل ناڈو۔ پھر کرناٹک۔ پھر جموں کشمیر۔تلنگانہ۔ اڑیسہ۔ پنجاب۔ بنگال۔ دہلی۔ مہاراشٹرا۔

آسٹریلیا کی پہلی دس جماعتیں۔

کاسل ہل(Castle Hill)۔ میلبرن لانگ وارِن(Melbourne Lang warrin)۔ میلبرن بیروک (Melbourne Berwick)۔ مارسڈن پارک(Marsden Park)۔ پھر پین رتھ(Penrith)۔ پھر پرتھ۔ پیراماٹا (Parramatta)۔ پھر ایڈیلائڈ ویسٹ(Adelaide West)۔ اےسی ٹی کینبرا(ACT Canberra) ۔پرزبن لوگن ایسٹ۔

تو یہ تھی پوزیشن۔ اللہ تعالیٰ سب مالی قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔

یوکے کی جماعت نے ایک نئی ویب سائٹ بھی شروع کی ہے جویوکے میں تاریخ احمدیت کے بارے میں ہے۔

تاریخ کی تدوین کا یہ کام تو کئی سالوں سے ہو رہا تھا۔ اب جو ویب سائٹ تیار کی گئی ہے اس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مغرب میں تکمیل اشاعت ہدایت کی کاوشوں پر تحقیقاتی مضامین کو شائع کیا گیا ہے۔ یوکے کی تاریخ کا آغاز 1913ء میں سمجھا جاتا ہے جب چودھری فتح محمد صاحب سیال یہاں آئے تھے جبکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام یوکے اور یورپ کے دوسرے ممالک میں آپؑ کے دعویٰ مجددیت کے ساتھ ہی پہنچ گیا تھا جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بغرض اتمام ِحجت ایک خط اور انگریزی اشتہار جس کی آٹھ ہزار کاپیاں چھپوا کر ہندوستان اور انگلستان میں موجود مشہور اور معزز پادری صاحبان نیز مختلف سوسائٹیز اور مذاہب کے لیڈران تک جہاں جہاں اس زمانے میں اس پیغام کا پہنچنا ممکن تھا بھجوایا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ یوکے میں چارلز بریڈلا (Charles Bradlaugh)کے نام سے ایک پولیٹیشن جو ایک دہریہ تھا اسے آپ علیہ السلام کی دعوت 1885ء میں موصول ہوئی تھی۔ اس کا ذکر یہاں کے ایک اخبار کورک کانسٹیٹیوشن (Cork Constitution)نے اپنے 8؍جون 1885ء کے شمارے میں کیا تھا۔ اسی طرح دی تھیوسوفسٹ (Thesophist)سوسائٹی کے ایک بانی ہنری سٹیل آلکاٹ (Henry Steel Olcott)کو بھی یہ دعوت 1886ء میں موصول ہوئی تھی جس کا ذکر اس نے اپنے اخبار دی تھیوسوفسٹ کے ستمبر 1886ء کے شمارے میں کیا تھا۔

اس ویب سائٹ پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دورِ مبارک پر ایک ٹائم لائن تیار کی گئی ہے جس پر مغرب میں پیغام حق پر مبنی حقائق کو بیان کیا گیا ہے۔ نیز پائنیئر (pioneer)مشنریز کے نام سے ایک اور ٹائم لائن تیار کی گئی ہے جس میں اوّلین مبلغین سلسلہ جس میں صحابہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام شامل ہیں ان کا تعارف اور یوکے میں ان کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پادری پگٹ (Pigott)کے حوالے سے پیشگوئی پر ایک مفصل تحقیق تمام حوالوں کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ اسی طرح تاریخ پر مبنی مزید تحقیقی مضامین شائع کیے گئےہیں جو نوجوان نسل پر اس بات کو واضح کریں گے کہ ان کا اور ان کے آباء کا ان ممالک میں آنے کا اصل مقصد کیا تھا۔ اس ویب سائٹ کا ایڈریس ہے

history.ahmadiyya.uk

تو یہ بھی آج سے شروع ہو گی۔ ویسے تو شروع ہے لیکن باقاعدہ رسمی افتتاح بھی آج یہ کروانا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ ہمارے لوگوں کے لیے بھی، اپنوں کے لیے بھی، غیروں کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button