سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

حضرت مرزاسلطان احمد صاحب نے 25؍دسمبر 1930ء کو بیعت کی تھی اور 2؍جولائی 1931ء کو وفات پائی۔ آپ کی بیعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی جو موعود فرزند کے بارے میں تھی کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا پوری ہوئی اور آپ کا بیعت کرنا ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوا

صاحبزادہ مرزاسلطان احمدصاحب کی قبولیت احمدیت…دستی بیعت

آپ نے 25؍دسمبر 1930ء کو بیعت کی۔ اس بیعت کے بارے میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ مرزا سلطان احمد صاحب اپنی لمبی بیماری کے دوران جو انہیں پنشن کے کچھ عرصہ بعد لاحق ہو گئی تھی پہلے لاہور تشریف فرما تھے۔ پھر آپ قادیان آ گئے اوریہاں علاج معالجہ کا سلسلہ شروع ہو گیا اس لمبی اور آخری بیماری کے دوران خاکسار کوبہت کچھ طبی خدمت کاموقع ملتا رہا۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’میں نے کبھی مرزا صاحب کو مغموم نہ پایا۔ اکثر لطائف کے رنگ میں بات کرتے تھے۔‘‘ ایک روز خاکسار نے مندرجہ ذیل رؤیا مرزا صاحب کو سنایا:

’’خاکسار نے 12 رمضان 1930ء کو جب کہ میں نماز فجر کے بعد لیٹ گیا تھا رؤیا میں دیکھا کہ قادیان میں شور بپا ہے اور اعلان سا ہو رہا ہے کہ حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دوبارہ دنیا میں آ رہے ہیں اور لوگ حضور کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پھر دیکھا کہ حضرت…… خلیفۃ المسیح ثانی جن کے ہمراہ اس وقت صرف یہ ناچیز راقم ہے حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے استقبال کے لئے چوک مسجد مبارک سے ریلوے سٹیشن سے آنے والے راستہ کی طرف بڑھے ہیں اور ابھی تھوڑا سا آگے بڑھے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سامنے سے تشریف لاتے ہوئے اس مقام پر نظر آئے ہیں جو کہ حکیم مولوی قطب الدین صاحب کے مطب کے سامنے ہے۔ اس وقت حضور نے نہایت سفید نقاب پہنا ہوا ہے جس کو حضور نے جب اتارا تو حضور کا چہر ہ مبارک ایسا منور نظر آیا جس کی مثال بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس وقت تھوڑے توقّف کے بعد پہلے حضرت خلیفة المسیح نے مصافحہ کیا اور اس کے بعد خاکسار راقم نے۔ حضور پُرنور نے خاکسار کے ہاتھ کو کچھ زیادہ دیر تک اپنے ہاتھ میں تھامے رکھا ابھی میرا ہاتھ حضور کے ہاتھ میں ہی تھا کہ ایک طرف تو حضور کی شکل میں کچھ تبدیلی نظر آئی اور حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی شبیہ سے کچھ مشابہ ہو گئی اور دوسری طرف میرے دل میں بھی یہ خیال آنے لگا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب لاہور میں بیمار تھے وہ تندرست ہو کر آئے ہیں۔ مگر یہ خیال زیادہ غالب نہ آیا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ اس وقت جب میں نے یہ خواب دیکھا تو میرا بدن خوشی کے اثر سے جو رؤیا کی حالت میں پہنچی تھی چارپائی پر تھرتھرا رہا تھا۔ …

جب میں نے یہ رؤیا حضرت مرزا صاحب مرحوم کو سنایا تو آپ اسے سن کر بہت مغموم ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور رقت قلب کے ساتھ خاکسار سے مخاطب ہوئے کہ ’’ڈاکٹر صاحب میرے لئے دعا کریں کہ میں بھی انسانوں میں داخل ہو جاؤں۔‘‘ یہ الفاظ کچھ ایسے رنگ میں کہے تھے کہ میرے دل پر ان کا بہت گہرا اثر ہوا۔ علاج معالجہ کا سلسلہ جاری رہا اور میں ان کی خدمت میں وقتاً فوقتاً حاضر رہتا اور کبھی سلسلہ احمدیہ کا تذکرہ بھی ہو جاتا۔ آخر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وہ دن لے آیا کہ مرزا صاحب مرحوم اپنے اہل بیت کی تحریک پر بیعت کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے اور مرزاصاحب کےاہل بیت کی طرف سےخاکسار کو بلایا گیا کہ میں حضرت صاحب (حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی)کی خدمت میں عرض کرکے حضور کو بلا لاؤں تاکہ حضور مرزا صاحب مرحوم کی بیعت لے لیں۔ اس وقت مجھے بے حد خوشی پہنچی اور خدا کی قدرت کا نظارہ سامنے آ گیا کہ بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر خدا کی راہ میں بکنے لگا ہے۔ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حضرت مرزا صاحب کے ہاں تشریف لے جانے اور بیعت لینے کے لئے عرض کیا۔ حضور اسی وقت میرے ہمراہ حضرت مرزا صاحب کے مکان پر تشریف لے آئے اور اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں مرزا صاحب بستر علالت پر تھے۔ مرزا صاحب کی طبیعت اس وقت اچھی تھی۔ کوئی بخار وغیرہ یا کسی قسم کا عارضہ نہ تھا بجز اس تدریجی کمزوری کے جو لاتوں میں پیدا ہو گئی تھی اور شدید قبض کی شکایت تھی۔ آپ اس حالت میں لاتوں کی کمزوری کی وجہ سے لیٹے رہنے پر تو مجبور تھے مگر آپ کے علمی مشاغل جاری تھے مثلاً اخبار کا پڑھنا وغیرہ۔

جب حضرت خلیفة المسیح ثانی مرزا صاحب مرحوم کی چارپائی کے قریب کرسی پر بیٹھ گئے۔ تو میں نے دیکھا کہ دونو بھائیوں پر خاموشی طاری ہے۔ … کچھ توقف کے بعد مرزا صاحب مرحوم کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جیسا کہ آپ خواہش ظاہر کر چکے ہیں آپ اب ہاتھ بڑھائیں اور بیعت کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے برضا و رغبت ہاتھ بڑھایا اور حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کے ہاتھ کو اپنےہاتھ میں لے لیا تاکہ اس دیر سے بچھڑے ہوئے بھائی کو اپنے عالی مقام والا شان خدا کے جری کے آغوش شفقت میں داخل کر لیں۔ بیعت شروع ہوئی۔ حضرت خلیفة المسیح دھیمی آواز سے بیعت کے الفاظ منہ سے نکالتے اور مرزا صاحب مرحوم ان کو دہراتے تھے۔ جس وقت یہ الفاظ بولے گئےکہ آج میں محمود کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر کے احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہوں۔ تو اس وقت میرے قلب کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ آنکھوں کے سامنے آ گیا کہ ایک چھوٹے بھائی کو جو بڑے بھائی سے عمر میں بہت چھوٹا ہے بلکہ اس کی اولاد کے برابر ہے خدا تعالیٰ نے وہ مرتبہ دیا کہ وہ آج اپنے بڑے بھائی سے یہ الفاظ کہلوا رہا ہے کہ میں آج اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر کے جن میں میں گرفتار تھا سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں۔ پھر اس کے بعد یہ الفاظ بھی دہرائے گئے کہ آئندہ بھی میں ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ شرک نہیں کروں گا۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور جو آپ نیک کام بتائیں گے ان میں آپ کی فرمانبرداری کروں گا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے تمام دعووں پر ایمان رکھوں گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان الفاظ کے خاتمہ پر حسبِ معمول حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور مرزا صاحب مرحوم اور دیگر حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھا کر دعا میں شمولیت اختیار کی۔ دعا کے کچھ دیر بعد حضرت خلیفة المسیح ثانی اپنے مکان پرواپس تشریف لے گئے اوریہ ناچیزراقم خوشی سے لبریز دل کے ساتھ اپنے کام پر چلا گیا۔

اس وقت کئی ذوقی باتیں میرے دل میں آئی تھیں ایک خیال یہ بھی آیا کہ حضرت مرزا صاحب مرحوم نے جومیرے رؤیا بیان کرتے وقت مجھ سے برقت قلب کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انسانوں میں داخل کر لے۔ کچھ ایسے رنگ میں یہ الفاظ منہ سے نکلے تھے کہ خداتعالیٰ کے حضور قبولیت پکڑ گئے اور حضرت مرزا صاحب مرحوم کو سلسلہ میں داخل ہونا اور مقبرہ بہشتی میں اپنے عالی شان والد حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے قدموں میں سونا نصیب ہوا۔ (الفضل مورخہ 11؍دسمبر 1940ء جلد 28 نمبر281 صفحہ 3)

حضرت مرزاسلطان احمد صاحب نے 25؍دسمبر 1930ء کو بیعت کی تھی اور 2؍جولائی 1931ء کو وفات پائی۔ آپ کی بیعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی جو موعود فرزند کے بارے میں تھی کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا پوری ہوئی اور آپ کا بیعت کرنا ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button