خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍مئی2022ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ اما بعد، یقیناً زمین اللہ ہی کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے گا اس کا وارث بنا دے گا اور عاقبت متقیوں کی ہی ہوا کرتی ہے اور اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد صدیقِ اکبر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات اور مناقبِ عالیہ

مسیلمہ کذاب کے خلاف ہونے والے معرکۂ یمامہ کے محرکات اور حالات و واقعات

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍مئی2022ء بمطابق 20؍ہجرت1401 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾ اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں

جنگ یمامہ

کا ذکر ہو رہا تھا۔ جنگ یمامہ کی تفصیل میں لکھا ہے کہ یمامہ یمن کاایک مشہور شہر ہے۔ آج کل یہ علاقہ سعودی عرب میں واقع ہے۔

(فرہنگ سیرت از سید فضل الرحمٰن صفحہ321زوار اکیڈمی پبلیکیشنز کراچی 2003ء)

(اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد23صفحہ 311زیر اہتمام دانش گاہ پنجاب لاہور2002ء)

یمامہ ایک انتہائی سرسبز اور زرخیز علاقہ تھا۔ چنانچہ یمامہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یمامہ خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک شہر تھا اور اس میں مال، درخت اور کھجوریں بکثرت تھیں۔

(معجم البلدان جلد 5صفحہ 506 زیر لفظ یمامہ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

یمامہ میں بنو حنیفہ آباد تھے جو سخت جنگجو قوم تھی۔ ان کے بارے میں تفسیر قرطبی میں آیت سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ (الفتح :17) کہ تم عنقریب ایک ایسی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت جنگجو ہو گی۔ تم ان سے قتال کرو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے، کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حسن کہتے ہیں کہ سخت جنگجو قوم سے مراد فارس اور روم ہیں۔ ابنِ جبیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہوازن اور ثقیف کے قبائل ہیں۔ زُہری اور مُقَاتِل کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو حنیفہ ہیں جو یمامہ میں رہنے والے ہیں اور مسیلمہ کے ساتھی تھے ۔ رافع بن خَدِیج کہتے ہیں کہ ہم یہ آیت پڑھتے تھے لیکن ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ جنگجو قوم کون ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؓنے ہمیں بنو حنیفہ سے قتال کے لیے بلایا تو ہمیں پتہ چلا کہ ان سے مراد یہ قوم ہے۔

(الجامع لاحکام القرآن از علامہ قرطبی صفحہ 2850-2851 زیر آیت سورۃ الفتح آیت 16مطبوعہ دار ابن حزم)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 7؍ہجری کی ابتدا میں یا بعض کے نزدیک 6؍ہجری میں مختلف ممالک کےبادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تو ایک خط یمامہ کے بادشاہ ہَوْزَہ بن علی اور اہلِ یمامہ کے نام بھی لکھا جس میں اسے اور یمامہ والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ جب 9؍ہجری میں مختلف وفود مدینہ آئے تو یمامہ سے بنو حنیفہ کا وفد بھی آیا۔ اس وفد میں مُجَّاعَہ بن مُرَارَہ بھی تھے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیر میں ایک غیر آباد زمین عطا فرمائی تھی جس کی اس نے درخواست کی تھی۔ اس وفد میں رَجَّال بن عُنْفُوَہ بھی تھا اس کے علاوہ مسیلمہ کذاب، ثُمَامہ بن کبیر بن حبیب بھی تھا۔ ابن ہشام کے نزدیک اس کا نام مسیلمہ بن ثُمامہ تھا اور اس کی کنیت ابوثمامہ تھی۔ بنو حنیفہ کا یہ وفد مدینہ میں انصار کی ایک عورت رَمْلَہ بنت حارثکے گھر ٹھہرا۔

(ماخوذ از فتوح البلدان لامام ابی الحسن احمد بن یحییٰ البلاذری صفحہ 59 دارالکتب العلمیۃ بیروت2000ء)

(ماخوذ از السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 852 ، قدوم وفد بنی حنیفہ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے متواتر وفود آئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک گھر مقرر کر لیا تھا جہاں وفود ٹھہرتے تھے۔ یہ گھر رملہ بنت حارث کا تھا جو بنو نجار کی ایک خاتون تھیں۔ یہ ایک بہت وسیع مکان تھا۔

(المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام از جواد علی جزء 5 صفحہ258 مکتبہ جریر 2006ء)

جب بنو حنیفہ کے یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے گئے تو مسیلمہ کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے۔ اسے اپنے سامان کی حفاظت کی خاطر پیچھے چھوڑ گئے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے مسیلمہ کے بارے میں ذکر کیا اور کہا یا رسول اللہؐ! ہم اپنے ایک ساتھی کو پیچھے اپنے سامان اور سواریوں کے پاس چھوڑ آئے ہیں۔ وہ ہمارے لیے ہمارے سامان کی حفاظت کر رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کے لیے بھی اسی قدر تحائف کا حکم دیا جس قدر لوگوں کو دینے کا ارشاد فرمایا تھا اور فرمایا: وہ مرتبہ میں تم سے کم تر نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں کے سامان کی حفاظت کر رہا ہے۔ پھر وہ وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلا گیا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کے لیے دیا تھا وہ بھی لے گئے۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 852 ، قدوم وفد بنی حنیفہ… دارالکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

اس بیان کردہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ کے علاوہ بنو حنیفہ کے وفد میں موجود تمام افراد کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی مگر بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں جن میں مسیلمہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔ عموماً اسی بارے میں روایات ہیں کہ مسیلمہ ملا۔ اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے جب دوسری دفعہ آیا ہو تب ملا ہو۔ بہرحال اس کی تفصیل میں مزید لکھا ہے کہ جب یہ وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس میں مسیلمہ بھی موجود تھا جو دوسری جگہ لکھا ہے۔ وہ لوگ مسیلمہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حالت میں لائے کہ اس کو کپڑوں سے ڈھانپا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی۔ مسیلمہ نے آپؐ سے گفتگو کی اور کچھ مطالبات کیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ

اگر تُو مجھ سے یہ کھجور کی شاخ بھی مانگے جو میرے ہاتھ میں ہے تو مَیں وہ بھی تجھے نہیں دوں گا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد الباب التاسع والثلاثون فی وفود بنی حنیفہ…… جلد 6 صفحہ326 دارالکتب العلمیۃ 1993ء)

صحیح بخاری میں موجود روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے نہیں گیا تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے پاس تشریف لے گئے تھے۔ چنانچہ عُبَیداللّٰہ بن عبداللّٰہ بن عُتْبَہ نے بیان کیا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور حارث کی بیٹی کے گھر میں اترا اور حارث بن کُرَیز کی بیٹی اس کی بیوی تھی اور وہ عبداللہ بن عامر کی ماں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شَمَّاسؓ تھے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کہلاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپؐ مسیلمہ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس سے گفتگو کی۔ مسیلمہ نے آپؐ سے کہا کہ اگر آپؐ چاہیں تو ہمارے درمیان اور اس معاملے کے درمیان ہمیں چھوڑ دیں۔ پھر آپؐ اسے اپنے بعد ہمارے لیے مقرر کر دیں۔ یعنی نبوت کا جو معاملہ ہے اس کا جو فیصلہ ہو یا آپؐ کے بعد نبوت ہمیں مل جائے۔ یہی اس کا زیادہ بڑا مطالبہ تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرتم مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگو تو مَیں تمہیں یہ نہیں دوں گا اور

مَیں تجھے وہی شخص سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے خواب دکھائی گئی ہے جو مجھے دکھائی گئی۔

اور یہ ثابت بن قیسؓ ہے، وہ میری طرف سے تمہیں جواب دے گا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی بَابُ قِصَّةِ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ روایت نمبر 4378)

اسی طرح ایک اَور روایت میں ذکر ہے حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے جانشین بنائیں تو مَیں ان کی پیروی کروں گا۔ یہ پھر پہلی روایت کی وضاحت ہوتی ہے اور وہ وہاں اپنی قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شَمَّاس تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی یہاں تک کہ آپؐ مسیلمہ کے سامنے جبکہ وہ اپنے ساتھیوں میں تھا کھڑے ہو گئے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تُو مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے تو مَیں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور

تُو اپنے متعلق ہرگز اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تُو نے پیٹھ پھیری تو اللہ تیری جڑ کاٹ دے گا

اور مَیں دیکھتا ہوں کہ تُو وہی شخص ہے جس کے متعلق مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے۔ اور یہ ثابتہیں یعنی ثابت بن قیسؓجو میری طرف سے تجھے جواب دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ یہ روایت بھی بخاری کی ہے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ روایت نمبر 4373)

حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ تم کو مَیں وہی شخص پاتا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں وہ کچھ دکھایا گیا جو دکھایا گیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے مجھ سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بار مَیں سویا ہوا تھا اس اثنا میں مَیں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔ (یہ خواب کا ذکر ہو رہا ہے)۔ ان کی کیفیت نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَیں نے خواب میں کنگن دیکھے اس کیفیت نے مجھے فکر میں ڈالا۔ پھر مجھے خواب میں وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں ۔ چنانچہ مَیں نے ان پر پھونکا اور وہ اُڑ گئے۔ مَیں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جو میرے بعد ظاہرہوں گے۔

راوی عبیداللہ نے کہا۔ ان میں سے ایک وہ عَنْسِی ہے جس کو فیروز نے یمن میں مار ڈالا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔ یہ بھی بخاری کی روایت ہے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی بَابُ وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَحَدِيثِ ثمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ روایت نمبر 4374)

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب قصۃ الاسود العنسی روایت نمبر 4379)

بہرحال مندرجہ بالا روایات سے یہی لگتا ہے کہ مسیلمہ کذاب ایک سے زیادہ مرتبہ مدینہ آیا تھا۔ ایک مرتبہ اُس وقت جب اُس کے وفد والے اسے سامان کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ گئے تھے اور اس کی ملاقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ ہو سکی تھی اور دوسری مرتبہ وہ اُس وقت مدینہ آیا تھا جب اس کی ملاقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تھی اور جس میں اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جانشین بننے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حوالے سے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ مسیلمہ دو دفعہ مدینہ آیا ہو۔ پہلی دفعہ اس وقت جب بنو حنیفہ کا رئیس اس کی بجائے کوئی اَور تھا۔ یعنی اس وقت وہ قبیلہ کا رئیس نہیں تھا۔ کوئی اَور تھا اور یہ اس کا تابع تھا۔ اسی وجہ سے اسے سامان کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ اور دوسری مرتبہ وہ اس وقت آیا جب لوگ اس کے تابع تھے اور اس وقت ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے گفتگو ہوئی تھی یا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی واقعہ ہو اور وہ اپنی مرضی سے اپنی حمیت اور اس بات پر تکبر کرتے ہوئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہو سامان کے پاس رک گیا ہو لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیفِ قلب کی عادت کی وجہ سے اس سے عزت کا سلوک کیا۔ پھر حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہ ایک بڑی تعداد کے ساتھ آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سترہ لوگوں کے ساتھ آیا۔ یہ بات بھی مسیلمہ کے ایک سے زائد دفعہ مدینہ آنے کی دلیل ہے۔

(ماخوذ از فتح الباری شرح صحیح البخاری لابن حجر جلد8صفحہ112روایت4373قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی)

بہرحال

جب یہ وفد واپس یمامہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ کادشمن مسیلمہ مرتد ہو گیا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور کہا مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت میں شریک کر لیا گیا ہے۔

کیا جب تم نے رسول اللہؐ کے پاس میرا ذکر کیا تھا تو انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے تم سے بُرا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صرف اس لیے کہا تھا کہ آپ جانتے تھے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور بنو حنیفہ جانتے تھے کہ مجھے بھی آپ کے معاملے میں شریک کر لیا گیا ہے۔ پھر مسیلمہ بناوٹ کر کے کلام بنانے لگا اور لوگوں کے لیے قرآن کریم کی نقل کرتے ہوئے کلام بنانے لگا اور ان سے نماز معاف کر دی۔ اس نے اپنی ہی شریعت شروع کر دی۔ نماز معاف کر دی۔ ایک روایت کے مطابق اس نے دو نمازیں نماز عشاء اور فجر معاف کر دی تھی اور لوگوں کے لیے شراب اور زنا کو حلال قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی گواہی دیتا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں۔ بنو حنیفہ نے ان باتوں پر اس سے اتفاق کر لیا۔

(ماخوذ از سبل الہدیٰ والرشاد الباب التاسع والثلاثون فی وفود بنی حنیفہ…… جلد 6 صفحہ326 دارالکتب العلمیۃ 1993ء)

(ماخوذ از تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 271۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1987ء)

ایک اَور سبب جس نے مسیلمہ کی طاقت بڑھائی وہ تھا رَجَّال بن عُنْفُوَہ کا اس سے مل جانا۔

بڑی ہوشیاری سے اس نے ایک تو یہ کہ آسانیاں پیدا کر دیں کہ شریعت میں یہ یہ آسانیاں ہیں اور مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے وحی کی ہے اور ساتھ یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی بھی ہیں تا کہ جو لوگ مسلمان ہوئے تھے ان میں کسی کو یہ احساس پیدا نہ ہو کہ ہمیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دُور لے کے جا رہا ہے۔ بڑی منافقت سے اس نے یہ سارے کام کیے۔ بہرحال لکھا ہے کہ ایک اَور سبب جس نے مسیلمہ کی طاقت بڑھائی وہ تھا رَجَّال بن عُنْفُوَہ کا اس سے مل جانا۔ یہ شخص بھی یمامہ کا ہی رہنے والا تھا اور بنو حنیفہ کے وفد کے ساتھ بھی آیا تھا۔ ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آ گیا تھا یہاں اس نے قرآن کریم پڑھا اور دینی تعلیم حاصل کی۔

جب مسیلمہ نے ارتداد اختیار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہلِ یمامہ کی طرف معلم بنا کر بھیجا اور لوگوں کو مسیلمہ کی اطاعت سے روکنے کے لیے بھیجا لیکن یہ مسیلمہ سے زیادہ فتنہ کا باعث ہوا۔

جب اس نے دیکھا کہ لوگ مسیلمہ کی اطاعت قبول کرتے جا رہے ہیں تو وہ ان لوگوں کی نظروں میں اپنے آپ کو سرخرو کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل گیا۔ بھیجا تو اس لیے گیا تھا تا کہ وہاں اصلاح کرے اور فتنہ کا تدارک کرے لیکن یہ مسیلمہ کے ساتھ شامل ہو گیا اور مسیلمہ کی نبوت کا جھوٹا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ایک جھوٹا قول بھی منسوب کیا کہ مسیلمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔ یہ بھی اس نے مشہور کر دیا۔ قرآن کریم کا علم حاصل کیا تھا اس لیے لوگوں نے اس کی باتوں پر یقین بھی کر لیا۔ جب اہلِ یمامہ نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص مسیلمہ کی نبوت کی گواہی دے رہا ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہے اور وہ لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم سے آگاہ کرنے والا ہے تو ان لوگوں کے لیے مسیلمہ کی نبوت سے انکار کی گنجائش نہ رہی اور لوگ جوق در جوق مسیلمہ کے پاس آ کر اس کی بیعت کرنے لگے۔

(ماخوذ از حضرت ابوبکرصدیقؓ از محمد حسین ہیکل (مترجم) صفحہ 187-188)

(تاریخ ابن خلدون جلد2 صفحہ 437-438،خبر مسیلمۃ والیمامۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2016ء)

مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک خط بھی لکھا جس کا متن اس طرح سے ہے کہ اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے محمد رسول اللہ کی طرف۔ اما بعد، نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی مگر قریش انصاف نہیں کرتے۔

اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خط لکھا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام۔اما بعد، یقیناً زمین اللہ ہی کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے گا اس کا وارث بنا دے گا اور عاقبت متقیوں کی ہی ہوا کرتی ہے اور اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔

(فتوح البلدان لامام ابی الحسن احمد بن یحییٰ البلاذری صفحہ 59 – 60دارالکتب العلمیۃ بیروت2000ء)

ایک روایت میں ذکر ہے کہ حضرت حَبِیب بن زید انصاریؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر مسیلمہ کے پاس گئے تھے۔ جب انہوں نے یہ خط مسیلمہ کو دیا تو اس نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر اس نے کہا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ مَیں بہرہ ہوں۔ مَیں سنتا نہیں۔ بات ٹال دی۔ یہ چاہتا تھا کہ وہ تسلیم کریں کہ وہ بھی نبی ہے۔ مسیلمہ بار بار یہی سوال دہراتا رہا۔ آپؓ وہی جواب دیتے رہے اور ہر مرتبہ جب حضرت حبیبؓ اس کے منشا کا جواب نہ دیتے۔ جب اسے منشا کا جواب نہ ملتا تو وہ ان کے جسم کا ایک عضو کاٹ دیتا۔ ٹارچر کرنے کے لیے کہ اب جواب ہاں میں دو۔ وہ ان کا کوئی نہ کوئی عضو کاٹ دیتا۔ حضرت حبیبؓ صبر و استقامت کا پہاڑ بنے رہے یہاں تک کہ اس نے آپؓ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ اس کے سامنے

حضرت حبیبؓ نے جام شہادت نوش کر لیا۔

(سیدنا ابوبکر صدیقؓ شخصیت اور کارنامےاز صلابی صفحہ349)

مسیلمہ نے یمامہ میں علَم بغاوت بلند کر دیا تھا۔

اب یہ صرف نبوت کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ ظلم بھی ہے۔ کس طرح اس نے اپنے آپ کو نبی نہ ماننے والوں سے سلوک کیا۔ مسیلمہ نے یمامہ میں علم بغاوت بلند کر دیا اور یمامہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل حضرت ثُمَامہ بن اُثَالؓ کو نکال دیا۔

(حضرت ابوبکر صدیق اکبر از محمدحسین ہیکل مترجم شیخ محمد احمد پانی پتی صفحہ 101علم و عرفان پبلشرز لاہور2004ء)

(تاریخ الخمیس جلد3 صفحہ 81قصۃ سجاح، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2009ء)

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور حضرت ابوبکرؓنے مرتدین کی طرف مختلف لشکر بھیجے تو حضرت عکرمہ ؓکی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ کی طرف بھی بھیجا اور ان کی مدد کے لیے ان کے پیچھے حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ ؓ کو روانہ فرمایا۔ حضرت ابوبکرؓنے حضرت عکرمہؓ کو یہ تاکید فرمائی کہ شُرَحْبِیل کے پہنچنے سے پہلے مسیلمہ سے لڑائی نہ چھیڑنا مگر حضرت عکرمہؓ نے جلدبازی سے کام لیا اور حضرت شُرَحْبِیلؓ کے پہنچنے سے پہلے ہی اہلِ یمامہ پر حملہ کر دیا تا کہ کامیابی کا سہرا ان کے سر آئے مگر وہ مصیبت میں پھنس گئے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسیلمہ کی فوج بہت بڑی تھی۔ حضرت شُرَحْبِیلؓ کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ راستے میں ہی رک گئے اور حضرت عکرمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی طرف اس واقعہ کے متعلق لکھا تو حضرت ابوبکرؓنے ان کو لکھا کہ مَیں تمہاری صورت نہیں دیکھوں گا اور نہ تم مجھے دیکھنا۔ جو مَیں نے تمہیں کہا تھا تم نے اس ہدایت کی نافرمانی کی ہے۔ یہاں لوٹ کر مت آنا مبادا لوگوں میں بزدلی پیدا ہو۔ تم حضرت حُذَیفہ اور عَرْفَجَہ کے پاس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر عمان اور مَہْرَہ والوں سے جنگ کرو۔ مہرہ بھی عرب کے جنوب میں مشرقی ساحل پر بحرہند کے کنارے ایک علاقہ ہے اور پھر وہاں سے اپنی فوج کے ہمراہ یمن اور حضرموت میں جانا اور وہاں جا کر اسلامی لشکر سے جا ملنا۔ حضرموت بھی یمن کے مشرق میں ایک مملکت ہے جن کی جنوبی سرحد پر سمندر ہے۔

ایک اَور روایت میں حضرت ابوبکرؓکے خط کے الفاظ اس طرح سے ملتے ہیں کہ استادی جانتے نہیں۔ شاگردی سے گھبراتے ہو۔ اتنا بھی تمہیں صحیح طرح پتہ نہیں۔ جنگوں کے جو طریقے سلیقے ہوتے ہیں اس میں جتنا ماہر ہونا چاہیے اتنے تم ہو نہیں اور سیکھنے سے گھبراتے ہو۔ جس دن تم مجھ سے ملو گے دیکھو تمہارے سے کیسا سلوک کرتا ہوں۔ تم اس وقت تک کیوں نہ ٹھہرے کہ شُرَحْبِیل آ جاتے اور ان کی مدد اور تعاون سے جنگ کرتے۔ اب حذیفہ کے پاس جاؤ اور مدد پہنچاؤ۔

تم نے اب خلیفۂ وقت کے حکم کی نافرمانی کی ہے اور اپنے آپ کو بڑا استاد سمجھتے ہو اور سیکھنا نہیں چاہتے۔

اب یہی ہے کہ اب میرے پاس نہ آنا۔ جب ملو گے تو پھر مَیں دیکھوں گا تمہارے سے سلوک کیا کرنا ہے لیکن بہرحال فی الحال اب تمہارا (کام) یہی ہے کہ تم حذیفہ کے پاس جاؤ اور ان کی مدد کرو۔ ان کے ساتھ مل کر جس مہم کو وہ سر کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں اس میں ان کی مدد کرو۔ اگر ان کو تمہاری پشت پناہی کی ضرورت نہ ہو تو یمن اور حضر موت چلے جاؤ اور مُہَاجِر بن اُمَیّہ کی مدد کرو۔ حضرت ابوبکرؓنے مُہَاجِر بن اُمَیّہ کو کِنْدَہ قبیلہ کے مقابلے کے لیے حضرموت میں بھجوایا ہوا تھا۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسولؐ سیدنا ابوبکر صدیقؓ از طالب الہاشمی صفحہ204)
(اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد21صفحہ 898زیر لفظ مہرہ)
(اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد8صفحہ408زیر لفظ حضرموت)
(حضرت ابوبکرؓ کے سرکاری خطوط صفحہ 24مطبوعہ 1960ء)

(ماخوذ از تاریخ الطبری جلد2صفحہ257)

(ماخوذ از الکامل فی التاریخ لابن اثیر جلد2 صفحہ218-219 دارالکتب العلمیۃ بیروت2006ء)

حضرت ابوبکرؓنے حضرت شُرَحْبِیلؓ کو کسی دوسرے حکم کے آنے تک وہیں ٹھہرنے کا حکم دیا۔ پھر حضرت خالد بن ولید کو یمامہ کی طرف بھیجنے سے پہلے شُرَحْبِیل کو لکھا کہ جب خالد تمہارے پاس آئیں اور یمامہ کی مدد سے فارغ ہو جاؤ تو قُضَاعَہ کا رخ کرنا اور حضرت عَمرو بن عاصؓ کے ساتھ ہو کر قُضَاعَہ کے ان باغیوں کی خبر لینا جو اسلام لانے سے انکار کریں اور اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوں۔

(تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 275 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ لبنان2012ء)

صرف انکار نہیں ہے بلکہ مخالفت بھی ہے۔ حضرت شُرَحْبِیل نے بھی حضرت ابوبکرؓ کی ہدایت کے برعکس حضرت عکرمہ ؓکی طرح جلدبازی سے کام لیا اور حضرت خالدؓ کے ان تک پہنچنے سے پہلے ہی مسیلمہ سے لڑائی شروع کر دی مگر انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس پر حضرت خالدؓ نے ان سے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ حضرت ابوبکرؓنے حضرت خالدؓ کی مدد کے لیے حضرت سلیطؓ کی قیادت میں مزید کمک بھی روانہ فرمائی تا کہ وہ ان کے عقب کی حفاظت کرے۔

(ماخوذ از الکامل فی التاریخ لابن اثیر جلد2 صفحہ219 دارالکتب العلمیۃ بیروت2006ء)

حضرت ابوبکرؓنے حضرت خالدؓ کو مسیلمہ کی طرف بھیجا

اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کے لیے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت بھی روانہ فرمائی۔ حضرت ابوبکرؓ نے انصار پر حضرت ثابت بن قیسؓ اور مہاجرین پر حضرت ابوحذیفہؓ اور زید بن خطابؓ کو امیر مقرر فرمایا اور اس طرح جتنے قبائل تھے ان میں سے ہر قبیلے پر ایک آدمی کو نگران بنایا۔ حضرت خالدؓ بُطَاحْ مقام پر اس لشکر کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ بُطَاحْ بنی تمیم کے علاقے میں ایک جگہ ہے۔ بہرحال جب یہ سب حضرت خالدؓ کے پاس پہنچ گئے تو وہ یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بنو حنیفہ اس دن بہت زیادہ تھے۔ ان کی تعداد چالیس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔ یمامہ کے یہ لوگ جو مسیلمہ کے ساتھ تھے ان کی تعداد چالیس ہزار تھی یا ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ تھی جبکہ مسلمان دس ہزار سے زائد تھے۔

(البدایۃ والنھایۃ جلد3 جزء 6 صفحہ 267 دارالکتب العلمیۃ)

(فرہنگ سیرت صفحہ58)

بہرحال وہاں جب یہ جنگ شروع ہونی تھی تو اس بڑے معرکے سے پہلے ہی مسلمانوں نے بنو حنیفہ کے ایک سردار کو گرفتار کر لیا۔ چنانچہ ایک روایت میں ذکر ہے کہ مُجَّاعَہبن مُرَارہجوکہ بنو حنیفہ کا ایک سردار تھا ایک گروہ کے ساتھ باہر نکلا تو مسلمانوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا۔ حضرت خالدؓ نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور مُجَّاعَہکو زندہ رکھا کیونکہ بنو حنیفہ میں اس کی بہت عزت تھی۔

(ماخوذ از الکامل فی التاریخ لابن اثیر جلد2 صفحہ219-220دارالکتب العلمیۃ بیروت2006ء)

(تاریخ طبری جلد2 صفحہ278، دارالکتب العلمیۃ2012ء)

اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ حضرت خالدؓ جب عَارِض مقام پر اترے تو انہوں نے دو سو گھڑ سوار آگے بھیجے اور فرمایا جو لوگ بھی تمہیں ملیں انہیں پکڑ لیں۔ وہ گھڑ سوار روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے مُجَّاعَہ بن مُرَارہ حنفی کو اس کے تئیس ہم قبیلہ افراد کے ساتھ پکڑ لیا جو بَنُو نُمَیر کے ایک شخص کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ وہ باہر نکلے تھے اور انہیں خالد کے آنے کا علم نہیں تھا۔ مسلمانوں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم بنو حنیفہ سے ہیں۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ وہ خالد کی طرف مسیلمہ کے ایلچی ہیں۔ جب صبح ہوئی اور لوگ آمنے سامنے ہوئے تو مسلمان ان لوگوں کو لے کر حضرت خالدؓ کے پاس آئے۔ حضرت خالدؓ نے جب انہیں دیکھا تو انہوں نے بھی یہی سمجھا کہ وہ لوگ مسیلمہ کے ایلچی ہیں۔ آپؓ نے ان سے پوچھا کہ اے بنو حنیفہ! اپنے صاحب یعنی مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ انہوں نے گواہی دی کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ حضرت خالدؓ نے مُجَّاعَہ سے پوچھا تم کیا کہتے ہو۔ اس نے جواب دیا بخدا ! مَیں تو بنو نُمیر کے ایک شخص کی تلاش میں نکلا تھا جس نے ہمارے قبیلہ میں قتل کیا تھا اور مَیں مسیلمہ کے قریبیوں میں سے نہیں ہوں۔ بہرحال اس وقت وہ خوف سے یا کسی وجہ سے اپنی بات سے مکر گیا۔ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور مَیں نے اسلام قبول کیا تھا اور ابھی بھی اسی حالت پر ہوں۔ باقی لوگ بھی لائے گئے۔ حضرت خالدؓ نے ان سب کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ جب سَارِیَہ بن مسیلمہ بن عامر باقی رہ گیا تو اس نے کہا اے خالد! اگر تم اہلِ یمامہ کے بارے میں کوئی خیر یا شر چاہتے ہو تو مُجَّاعَہ کو زندہ رکھو کیونکہ یہ جنگ اور امن کے ایام میں تمہارا مددگار ہو گا اور مُجَّاعَہ ایک سردار ہے۔ آپ کو ساریہ کی یہ بات پسند آئی۔ آپ نے اسے بھی زندہ رکھا۔ آپ نے اسے قتل نہیں کیا اور ان دونوں کے متعلق حکم دیا کہ انہیں لوہے کی بیڑیوں سے باندھ دیا جائے۔ آپ مُجَّاعَہ کو بلاتے تھے اور وہ بیڑیوں میں ہی ہوتا تھا اور اس کے ساتھ گفتگو کرتے۔ مُجَّاعَہ یہ سمجھتا تھا کہ حضرت خالدؓ اس کو قتل کر دیں گے۔ اسی دوران جبکہ وہ دونوں باتیں کر رہے تھے کہ مُجَّاعَہ نے آپ سے کہا کہ اے ابن مغیرہ (یہ خالد بن ولید کی کنیت تھی) مَیں مسلمان ہوں۔ اللہ کی قسم! مَیں نے کفر نہیں کیا۔ مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپؐ کے پاس سے مسلمان ہو کر نکلا تھا اور اب میں جنگ کے لیے نہیں نکلا۔ پھر نُمیریکو تلاش کرنے کی بات اس نے دہرائی۔ حضرت خالدؓ نے کہا قتل اور چھوڑ دینے کے درمیان تھوڑا فاصلہ ہے یعنی قید۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہماری جنگ میں فیصلہ فرما دے جس کا وہ فیصلہ کرنے والا ہے اور آپ نے اس کو اپنی بیوی کے سپرد کر دیا جس سے آپ نے مالک بن نُویرہ کے قتل کے بعد شادی کی تھی۔ اسے حکم دیا کہ قید میں اس کا اچھا خیال رکھے۔ مُجَّاعَہنے سمجھا کہ خالد اس کو قید کرنا چاہتے ہیں تا کہ وہ انہیں دشمن کا پتہ بتائے اور اس کی خبر دے۔ اس نے کہا آپ جانتے ہیں کہ مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی اسلام پر بیعت کی۔ بار بار یہی بات وہ دہراتا تھا۔ پھر مَیں اپنی قوم کی طرف واپس لوٹا اور آج بھی میری وہی حالت ہے۔ لیکن آگے جو واقعات ہیں ان سے پتہ لگتا ہے یہ سب غلط بیانی تھی۔ کہتا ہے آج بھی میری وہی حالت ہے جو کل تھی۔

(الاکتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول اللّٰہ والثلاثۃ الخلفاء جزء2 صفحہ 120،119 دار الکتب العلمیۃ بیروت 1420ھ)

مُجَّاعَہ کے گروہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خالدؓ یمامہ کی طرف چلے۔

ان کے آنے کی خبر پا کر مسیلمہ اپنے قبیلہ بنو حَنِیفہ کے ساتھ مقابلہ کے لیے نکلا اور عَقْرَبَاء میں آ کر پڑاؤ ڈالا۔ یہ مقام بھی یمامہ کی سرحد پر یمامہ کے کھیتوں اور سرسبز علاقے کے سامنے واقع تھا۔ خالد نے محکم منصوبہ بندی کا اہتمام کیا۔ آپ دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھتے تھے۔ میدانِ معرکہ میں ہمیشہ پوری پوری تیاری اور مکمل احتیاط کے ساتھ رہتے کہ کہیں اچانک دشمن حملہ نہ کر دے اور کوئی سازش نہ کر بیٹھے۔ آپ کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ آپ خود سوتے نہیں تھے، دوسروں کو سلاتے تھے۔ پوری تیاری کے ساتھ رات گزارتے۔ آپ پر دشمن کی کوئی بات مخفی نہیں رہتی تھی۔ فوج کو مرتب کرنے کا وقت قریب آچکا تھا۔ اس معرکے میں علمبردار حضرت عبداللہ بن حَفْص بن غَانِم تھے۔ پھر یہ حضرت سالم مولیٰ ابوحذیفہ کو منتقل ہو گیا۔ حضرت خالدؓ نے اس معرکے میں حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ ؓ کو آگے بڑھایا اور اسلامی فوج کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مقدمہ پر حضرت خالد مخزومی، میمنہ پر حضرت ابوحذیفہ، میسرہ پر حضرت شُجَاع اور قلب پر حضرت زیدبن خطاب اور شاہسواروں پر اسامہ بن زید کو مقرر فرمایا اور اونٹوں کو پیچھے رکھا جن پر خیمے لدے ہوئے تھے اور خواتین سوار تھیں اور یہ معرکہ سے قبل آخری ترتیب تھی۔

(سیدناابوبکرصدیقؓ شخصیت اور کارنامےازڈاکٹر علی محمد الصلابی صفحہ358،357)

دوسری طرف مسیلمہ کذاب کی فوج بھی تیار کھڑی تھی اور مسیلمہ کے بیٹے شُرَحْبِیلنے اپنے قبیلے سے کہا اے بنو حنیفہ !آج کا دن غیرت دکھانے کا ہے۔ اگر آج تم نے شکست کھائی تو تمہاری عورتیں لونڈیاں بنا لی جائیں گی اور بغیر نکاح کے ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ لہٰذا آج تم اپنی عزت اور آبرو کی حفاظت کے لیے پوری جوانمردی دکھاؤ اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرو۔

(تاریخ الطبری لابی جعفرمحمد بن الطبری جلد دوم :ذکر بقیۃ خبر مسیلمۃ الکذاب وقومہ من اھل الیمامۃ صفحہ278، دارالکتب العلمیۃ، 2012ء)

بہرحال اس کے بعد گھمسان کی جنگ ہوئی۔ وہ جنگ ایسی سخت تھی کہ مسلمانوں کو اس سے پہلےایسی جنگ کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مسلمان پسپا ہو گئے۔ یہاں بھی پسپائی ہوئی اور بنو حنیفہ کے افراد مُجَّاعَہ کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے اور حضرت خالدؓ کے خیمہ کا قصد کیا۔ حضرت خالدؓ خیمہ چھوڑ چکے تھے اس لیے وہ مُجَّاعَہ تک پہنچ گئے جو حضرت خالد کی بیوی کی نگرانی میں تھا۔ مرتدوں نے آپ کی بیوی کو قتل کرنا چاہا مگر مُجَّاعَہ نے ان کو روک دیا اور کہا کہ مَیں اس کو پناہ دیتا ہوں۔ لہٰذا انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ مُجَّاعَہ نے کہا کہ تم مردوں پر حملہ کرو۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ تھا کہ مَیں مسلمان ہوں اور اب یہ ان مخالفین کو کہہ رہا ہے کہ تم مردوں پر حملہ کرو اور انہوں نے خیمے کو کاٹ دیا۔

(الکامل فی التاریخ لابن اثیر ذکر مسیلمہ واہل الیمامۃ جلد2 صفحہ221 دارالکتب العلمیۃ بیروت2003ء)

لشکرِ اسلام کے پیچھے ہٹنے کے باوجود حضرت خالد بن ولیدؓ کے عزم و ثبات اور جرأت و استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی شکست کا خیال پیدا نہ ہوا۔ حضرت خالدؓنے پکار کر اپنے لشکر سے کہا کہ اے مسلمانو ! علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ یعنی ہر قبیلہ الگ الگ ہو کر لڑے اور اسی حالت میں دشمن سے لڑو تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ کس قبیلہ نے لڑائی میں سب سے اچھا بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ تمام مسلمان اپنے اپنے قبیلہ کے علم تلے لڑیں۔ اس سے انہوں نے تمام قبائل میں گویا ایک نئی روح پھونک دی اور اس میں اپنی انفرادیت اور بہادری ثابت کرنے کے لیے ایک جذبۂ مسابقت پیدا کر دیا۔

(حضرت ابوبکرصدیقؓ از محمد حسین ہیکل (مترجم) صفحہ 195-196)

مسلمانوں نے بھی ایک دوسرے کو ترغیب دلائی۔ چنانچہ اس کی مزید تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ حضرت ثابت بن قیسؓ نے کہا اے مسلمانوں کے گروہ !کتنی بُری ہے وہ چیز جس کا تم نے خود کو عادی بنا دیا ہے، اگر آسانی کا عادی بنایا ہے تو یہ بہت بُری چیز ہے۔ صحابہ کرامؓ ایک دوسرے کو جنگ پر ابھارنے لگے اور کہنے لگے کہ اے سورۂ بقرہ والو! آج جادو ٹوٹ گیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ نے آدھی پنڈلیوں تک زمین کھود لی اور اپنے آپ کو اس میں گاڑ لیا۔ آپؓ انصار کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور آپؓ نے حنوط مل لیا تھا۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ بعض لوگ جو اپنے آپ کو بہت بہادر دکھانا چاہتے تھے وہ ایسا کیا کرتے تھے گویا یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ کام جو مرنے کے بعد لوگوں نے میرے ساتھ کرنا تھا وہ میں نے خود اپنے ساتھ کر لیا ہے۔ آدھا زمین میں گاڑ لیا گویا میں مرنے کو تیار ہوں اور حنوط چند خوشبودار چیزوں کا ایک مرکب تھا جو کہ مردے کوغسل دینے کے بعد اس پرملتے ہیں یا وہ دوائیں جنہیں لاش پر لگانے سے وہ مدتوں گلنے سڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔ بہرحال روایت ہے کہ انہوں نے کفن باندھ لیا اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے یہاں تک کہ جام شہادت نوش کیا۔

(البدایہ والنھایہ جلد 3جزء 6 صفحہ320 دارلکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

(فیروز اللغات اردوصفحہ609زیر لفظ حنوط)

اس کی یہ تفصیل ابھی مزید ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ ذکر ہو گا۔

اس وقت مَیں

بعض مرحومین کا ذکر

کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے تو

ایک شہید کا ذکر

ہے جنہیں گذشتہ دنوں شہید کیا گیا

عبدالسلام صاحب

ابن ماسٹر منور احمد صاحب صدر جماعت ایل پلاٹ اوکاڑہ۔ ان کو 17؍مئی کو شہید کیا گیا تھا۔ 35؍سال ان کی عمر تھی۔ ایک معاند احمدیت نے خنجر سے وار کر کے آپ کو شہید کیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ تفصیلات کے مطابق عبدالسلام صاحب اپنے دو چھوٹے بچوں عزیزم قمر اسلام جس کی عمر چھ سال تھی اور عزیزم بدراسلام عمر ساڑھے چار سال کے ساتھ کسی کام سے گھر سے نکلے بلکہ ان کو بلایا گیا تھا کہ اپنے گھروں کا پانی وغیرہ کا کنکشن ٹھیک کروا لو اور لگتا ہے یہ بھی کوئی پلاننگ تھی۔ پلاننگ سے گھر سے باہر بلایا گیا اور پیچھے سے حملہ کر کے دشمن نے ان پر وار کیے۔ بہرحال جب یہ گھر سے نکلے تو حافظ علی رضا عرف ملازم حسین نامی معاند احمدیت نے ان کا تعاقب کیا اور خنجر سے حملہ کر دیا۔ شام کا وقت تھا۔ حملہ کے نتیجہ میں عبدالسلام صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے دو معصوم بچوں کے سامنے موقعہ پر شہید ہو گئے۔ ان پر پہلے پیچھے سے حملہ کیا ۔گردہ ان کا کاٹ دیا ،پھر انتڑیوں پر حملہ کیا، پھر دل پہ وار کیا۔ بہرحال یہ موقعہ پر بچوں کے سامنے ہی شہید ہو گئے اور وہ ملزم جو تھا موقعہ سے فرار ہو گیا۔ یہ جنت کی تلاش میں احمدیوں کو شہید کرتے ہیں۔ قاتل مقامی مدرسہ جامعہ امینیہ فریدیہ ایل پلاٹ ضلع اوکاڑہ کا طالبعلم تھا اور واقعہ سے دو دن قبل ہی مدرسہ کا حفظ کا کورس مکمل کر کے فارغ ہوا تھا۔ مدرسہ کی طرف سے جو اختتامی تقریب ہوئی اس میں مدرسہ کے منتظم مولوی نے اپنی تقریر میں پاس ہونے والے طالبعلموں کو کہا تھا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف تم لوگوں کو کارروائی کرنی چاہیے اور خوب اشتعال دلایا اور انتہائی اقدامات کی تحریک بھی کی۔ بہرحال تقریب تو ہو رہی ہے حفظ کلاس کی لیکن جس ذریعہ سے یہ لوگوں کو جنت دلوانا چاہتے ہیں یہ خود بھی جہنم کے رستے کی تلاش کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھی جہنم واصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ شہید مرحوم کے پڑدادا حضرت نبی بخش صاحب کے ذریعہ سے ہوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جو پھمبیاں ضلع ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔ شہید کے دادا مکرم محمد صدیق صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ پھر پاکستان کے قیام کے بعد یہ لوگ اوکاڑہ میں آگئے۔ شہید مرحوم نے میٹرک تک، سیکنڈری سکول تک پڑھائی کی پھر زمیندارہ کر رہے تھے۔ وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں بھی شامل تھے۔ ان کی والدہ کا بھی بیان ہے کہ انہوں نے جب ان کو کہا کہ تم بھی وقفِ نو ہو۔ تمہارے دو بھائی تو مربی بن گئے ہیں تم نہیں بنے۔ تو جواب دیتے کہ میں ان کی خدمت کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری اس خدمت کو بھی کچھ قبول کر ہی لے گا کیونکہ مَیں باقی خاندان کے لیے گھر کے لیے جو کام کر رہا ہوں۔ سارا گھر انہوں نے زمیندارے سے اور اپنے کام سے سنبھالا ہوا تھا۔ مالی لحاظ سے سب کو بے فکر کیا ہوا تھا۔ اس وقت بحیثیت قائد خدام الاحمدیہ خدمت کی توفیق پا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام وصیت میں بھی شامل تھے۔ نہایت ملنسار محبت کرنے والے تھے۔ جس سے بھی ملتے اپنائیت کا تعلق قائم کر لیتے تھے۔ غیر احمدی جو ان کے واقف کار تھےوہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ بہت ظلم ہوا ہے، لیکن دہشت گرد ملاں کے سامنے بولنے کی کسی کو جرأت نہیں ہے۔ پاکستان میں شرافت بالکل گونگی ہو چکی ہے۔

بہرحال مرحوم کے بارے میں ان کے بھائیوں نے بھی، رشتہ داروں نے بھی بیان کیا ہے کہ خلافت سے بے پناہ عشق تھا۔ بلا تمیز ضرورت مند احمدیوں اور غیر احمدیوں کی خاموشی کے ساتھ مدد کرتے تھے۔ مہمان نوازی ان کا نمایاں وصف تھا۔ خاص طور پر مرکزی مہمانوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔ ان کے عزیزوں نے سب نے لکھا ہے کہ بڑے نڈر تھے اور اپنے خاندان میں بہادر نوجوان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ماضی میں بھی مخالفین کی طرف سے شہید مرحوم کو عیدین کے موقع پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بہرحال اس وقت تو اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرتا رہا لیکن اب یہ مقدر تھا۔

شہید مرحوم نے پسماندگان میں والد مکرم ماسٹر منور احمد صاحب صدر جماعت ایل پلاٹ ضلع اوکاڑہ اور والدہ شمشاد کوثر صاحبہ کے علاوہ ان کی اہلیہ فرزانہ ارم ہیں اور تین چھوٹے بچے قمر اسلام، چھ سال۔ بدر اسلام، ساڑھے چار سال اور بیٹی ہے عزیزہ سحر، ایک سال چھ ماہ یادگار چھوڑے ہیں۔ شہید مرحوم کے چار بھائی بھی ہیں جن میں ظہور الٰہی توقیر صاحب ریسرچ سیل میں مربی سلسلہ ہیں۔حافظ انوار احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں۔ یہ بھی پاکستان میں ہیں اور اس کے علاوہ دو بھائی ہیں ایک لندن میں ہیں اور ایک ربوہ میں ہیں۔ تین ہمشیرگان ہیں۔ ایک ان کی ہمشیرہ یہاں مانچسٹر یوکے میں ذیشان خالد صاحب کی اہلیہ ہیں۔ پھر ایک کویت میں ہیں اور تیسری بھی لندن میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ شہید کے معصوم بچوں، اہلیہ، والدین اور جملہ پسماندگان کا خود حامی و ناصر ہو۔ معصوم بچوں کے سامنے ان کے باپ کو شہید کیا گیا تھا ان کے دل کی کیا کیفیت ہو گی، کیا احساسات ہوں گے! اللہ ہی جانتا ہے۔ بڑا بیٹا جس کے سامنے ہوا چھ سال کا تھا، کہتے ہیں کہ فی الحال تو وہ بالکل گم سم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کو صبر اور سکون عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ان بچوں کی بھی خود حفاظت فرمائے اور دشمن کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

دوسرا جو ذکر ہے وہ

عزیزم ذوالفقار احمد ابن شیخ سعید اللہ صاحب فیصل آباد کا ہے

جو گذشتہ دنوں آذر بائیجان گئے ہوئے تھے۔ وہاں 36؍سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوٹل میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے پڑدادا حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب کے ذریعہ سے ہوا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اورحضرت شیخ جنڈا صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب کی مسجد مبارک قادیان کے ساتھ پنسار کی دکان تھی اور بیعت کے بعد قادیان سے قریبی یہ اپنے گاؤں طُقل والا سے ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے۔

ایک دفعہ کسی نے حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ اول کو شکایت کے رنگ میں کہا کہ مسجد کے قریب دکان نہیں ہونی چاہیے۔ حضرت مولوی صاحبؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ لوگ اصحابِ صفہ ہیں۔

(اصحاب احمد جلد10صفحہ187-189)

اور ان اصحاب صفہ کو پھر اللہ تعالیٰ نے ہر لحاظ سے وہ کشائش عطا فرمائی اور ان کے خاندانوں کو بھی بڑھایا۔ مرحوم نے 2005ء میں مانچسٹریونیورسٹی سے ٹیکسٹائل کی فیلڈ میں بی ایس سی آنرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد خاندانی کاروبار سنبھالنے میں مصروف ہو گئے۔ دنیاوی ترقی کی انتہا کے باوجود عاجزی اور انکساری کی مثال تھے۔ ملنا ملانا ہر قسم کے طبقہ کے لوگوں سے تھا۔ ہر ایک کے ساتھ نہایت عزت اور احترام کا سلوک کرتے تھے اور اپنے دوست اور بھائی کی طرح ہر ایک سے ان کا سلوک تھا۔ ملازمین کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ ان سے بڑی ہمدردی کرتے تھے۔ صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور پھر یہ ہسپتال وغیرہ کے خیراتی کاموں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ جماعتی چندوں میں ہر مد میں حصہ لیتے بلکہ سیکرٹری مال کو خود یاددہانی کرواتے کہ میرے سے چندے لیں اور ہر مد جو ہے اس کے بارے میں بتائیں اور اس کا چندہ لیں۔ ہیومینٹی فرسٹ کے پراجیکٹس میں انہوں نے کثرت سے حصہ لیا۔ لوگوں کو گھر بنوا کر دیے۔ غریبوں کی شادیاں کروائیں۔ کسی سے ملتے تو اچھی چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتے۔ اپنی زندگی میں انہیں عمل میں لانے کی کوشش کرتے۔ رمضان میں خاص طور پر بہت خدمت خلق کرتے۔ مرحوم اور ان کے والدین نے بیلیز میں ایک مسجد بھی بنوائی ہے۔ یہ بہت بڑا پراجیکٹ تھا اور وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑی خوبصورت مسجد بنی ہے۔ ان کے بارے میں لکھا ہے کہ نمازوں کے لیے بھی کام روک کر وقت نکالتے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرتےاور اپنی زندگی کو باقاعدہ انہوں نے ریگولیٹ کیا ہوا تھا۔ جب مسجدوں کی پابندیاں ہو گئیں تو گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام تھا۔ ملائیشیا میں تھوڑی دیر کے لیے سیر کے لیے گئے تھے۔ وہاں جماعت کی مسجد پہ پولیس نے جب جماعت کے افراد کو پکڑا تو ان کو بھی تھوڑی دیر کے لیے اسیرِ راہ مولیٰ ہونے کی سعادت ملی۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ اور دو بچوں کے علاوہ والدین، پانچ بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔ ان کی والدہ آصفہ سعید صاحبہ صدر لجنہ ضلع فیصل آباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔

ڈاکٹر حامد محمود صاحب ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ احمدیت اور خاص کر خلافت سے لگاؤ اور پیار کا تعلق تھا۔ اپنے سماجی سیاسی اور انتظامی تعلقات سے لوگوں کی مدد کی کوشش کرتے اور جن کو بھی مدد کی ضرورت ہوتی بڑھ چڑھ کر ان کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر خاموشی سے اس کی مدد کرنا بھی فرض سمجھتے تھے۔ انتہائی خاموشی سے اور بغیر خود نمائی کے یہ کام کرنے کی کوشش کرتے۔

ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب کہتے ہیں کہ ذوالفقار بہت نیک، باوقار اور مخلص نوجوان احمدی تھے۔ کہتے ہیں میرا جب سے ان سے تعارف ہوا ان کی صلاحیتوں کو میں بخوبی جان گیا۔ ہیومینٹی فرسٹ کی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر مالی قربانی کرنے والے تھے۔ قربانی کا جذبہ اور سخاوت کا معیار بہت بڑھا ہوا تھا۔ کئی کئی لاکھ روپے دے دیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی پھر اپنے عجز و انکساری کا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ دے۔ بیوی کو صبر اور حوصلہ دے۔ بچوں کی خود حفاظت فرمائے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تیسرا ذکر

مکرم ملک تبسم مقصود صاحب

کینیڈا کا ہے جن کی گذشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے والد ملک مقصود احمد صاحب 28؍مئی 2010ء کو دارالذکر لاہور میں ہونے والے حملہ میں شہید ہو گئے تھے۔ والد ملک مقصود احمد شہید کے نانا حضرت ملک علی بخش صاحب بھوپال والے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیکچر سیالکوٹ کو سن کر بیعت کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ملک تبسم مقصودصاحب نے 1991ء میں اپنی زندگی وقف کی۔ 2006ء میں ان کی ڈیوٹی نظارت امور عامہ میں لگی۔ وہاں آپ نے نائب ناظر امور عامہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ پھر 2011ء میں بطور مشیرِ قانونی تحریک جدید ان کو مقرر کیا گیا۔ پھر یہ 2016ء میں میری اجازت سے شہداء کی فیملیوں کے ساتھ کینیڈا چلے گئے۔ پہلے تو نہیں جانا چاہتے تھے لیکن میرے کہنے پر چلے گئے۔ کینیڈا میں بھی انہوں نے امورِ عامہ اور جائیداد کے شعبوں میں خدمت کرنے کے علاوہ ناظم دارالقضا کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم و صلوٰة کے پابند، تہجد کا باقاعدگی سے التزام کرنے والے، قرآن کریم سے گہرا لگاؤ رکھنے والے، خلافت سے گہری وابستگی اور خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ بڑے نیک اور ہمدرد انسان تھے۔ ان کے پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کے اکلوتے بیٹے ڈاکٹر اطہر احمد وقفِ زندگی ہیں اور ان کے داماد عمر فاروق صاحب بھی مربی سلسلہ ہیں۔ مرحوم ملک طاہر احمد صاحب امیر جماعت ضلع لاہور کے بھانجے تھے۔

ان کی بیٹی رضیہ تبسم لکھتی ہیں کہ ان کو تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔ ایک دفعہ رات کو یہ تبلیغ کرنے کے لیے نکلے تو وہاں ان پر لڑکوں نے حملہ کر دیا۔ بہرحال ان سے بچ بچا کے یہ نکلے لیکن اس لڑائی میں ایک مکا اُن کی آنکھ پہ لگا اور آنکھ زخمی ہو گئی۔ بڑی مشکلوں سے گھر پہنچے لیکن کسی کو بتایا نہیں۔ کئی سالوں کے بعد جب آنکھ میں دوبارہ تکلیف ہوئی اور ڈاکٹرکو دکھایا تو اس نے کہا یہ پرانی کسی چوٹ کا اثر ہے۔ تب انہوں نے بتایا کہ اس طرح یہ واقعہ ہوا تھا اور بہرحال اس بات پہ خوش تھے کہ میری بینائی کی کمزوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

ملک طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ تبسم مقصود بچپن سے ہی نیکی کا رجحان رکھتے تھے۔ ذیلی تنظیموں اور پھر جماعتی نظام کے تحت خدمت بجا لاتے رہے۔ خلافت سے گہری وابستگی اور نظام جماعت کی اطاعت ان کا شعار رہا۔ بے انتہا منکسر المزاج اور اللہ پر توکل کرنے والے تھے۔ بچوں کی نہایت اعلیٰ درجہ تربیت کی اور ان کے خلافت اور نظام جماعت سے پختہ تعلق قائم کرنے کے لیے بہت کوشش کی۔

حافظ محمد اکرم قریشی صاحب جو نائب وکیل المال ثانی ہیں، کہتے ہیں کہ میرا ان سے پرانا تعلق ہے۔ ہمسائیگی کا بھی تعلق رہا۔ بڑے مخلص، وفا شعار، ہمدرد، خدمتِ خلق کے جذبہ سے ہر دم معمورخلافت کے شیدائی تھے۔ خدا تعالیٰ کی ذات پر انہیں کامل یقین تھا۔ ایک بار میں نے دیکھا کسی شخص کو عرفانِ الٰہی کے متعلق سمجھا رہے تھے تو مَیں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی عظمت کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ پھر یہ لکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک کارکن نے مجھے بتایا کہ مجھے کہا کرتے تھے کہ میری نصیحت ہے کہ کوئی کیا کرتا ہے یہ مت دیکھو، کسی کی مت سنو، بس اپنے ایمان کو بچاؤ۔ خلافت کا دامن مت چھوڑنا اس کے علاوہ کہیں امن نہیں۔ خدام الاحمدیہ کے زمانے میں ہی جماعت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق اور اپنے جان، مال، وقت اور عزت کے ساتھ ہر دم پیش پیش تھے۔ پھرتیلے جوان تھے۔ چاق و چوبند تھے۔ جسم مضبوط تھا۔ لمبا قد تھا۔ سپورٹس مین تھے اور اس طرح جو ساری صلاحیتیں تھیں جماعت کی خدمات کے لیے صرف کرتے تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی سپریم کورٹ کی پریکٹس کا لائسنس بھی ان کو مل گیا۔ مختلف نوعیت کے کاموں کی انجام دہی کا غیر معمولی تجربہ اور صلاحیت تھی اور دنیا کے سفر بھی کیے ہوئے تھے۔ یہ نہیں کہ صرف اپنے حالات میں ہی رہتے تھے لیکن ہمیشہ عاجزی تھی۔ کبھی ان میں خودپسندی نہیں پیدا ہوئی۔ کوئی تفاخر نہیں تھا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 10جون2022ءصفحہ5تا10)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button