سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

آپؑ ایک رئیس زادے ہونے کے باوجود اپنے اساتذہ کاپوری طرح احترام فرماتے اور کوئی مذاق یابے ادبی کی حرکت نہ ہوتی اور نہ کسی شرارت میں حصہ لیتے

بٹالہ میں تدریس اور محمدحسین بٹالوی کوہم مکتب ہونے کااعزاز

آپؑ کی عمر مبارک 17 یا 18 سال کی ہوگی اور سن 1852ء یا 1853ء ہوگا کہ جب کچھ دیگر علوم کے لیے تیسرے استاد مقرر ہوئے۔ یہ استاد مولوی گل علی شاہ صاحب بٹالہ کے رہنے والے اور مذہبا ً شیعہ تھے۔ یہ استاذ اسی تعلیم کے سلسلے میں کچھ عرصہ کے لیے بٹالہ سے قادیان چلے آئے۔ مگر مولوی گل علی شاہ صاحب قادیان میں مختصر قیام کے بعد بٹالہ میں چلے گئے۔ اس لیے حضورؑ کو بھی کچھ عرصے کے لیے بغرض تعلیم بٹالہ میں فروکش ہونا پڑا۔ بٹالہ میں حضورؑ کے خاندان کی دکانیں اور ایک بہت بڑی حویلی تھی( جو بعد میں مقدمات کے نتیجے میں فروخت ہوگئی) حضورؑ نے اسی بڑی حویلی میں قیام فرمایا۔ (یہ حویلی اغلباً میاں محلہ میں اچلی گیٹ میں واقع ہوگی۔ )

In Batala Ahmad stayed in a building which belonged to his father; it was probably situated near Achli Gate in Mian Mohalla.

(Life of Ahmad by A.R.Dard page 29 to 30)

ان دنوں آپؑ کے ہم مکتبوں میں مشہور اہل حدیث مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور لالہ بھیم سین بھی شامل ہوگئے۔ جنہیں آپ کی خدا نما شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور وہ ہزار جان سے آپ کے فریفتہ ہوگئے۔ لالہ بھیم سین صاحب کےنانا مٹھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرااسسٹنٹ تھے اور اس زمانہ میں لالہ بھیم سین صاحب بٹالہ میں ہی اپنے نانا کے ہاں تھے کہ حضرت اقدسؑ بٹالہ میں اپنے استاذ محترم مولوی گل علی شاہ صاحب سے پڑھاکرتے تھے۔ یہیں مولوی محمدحسین بٹالوی اور لالہ بھیم سین صاحب بھی انہی مولوی صاحب سے پڑھنے لگے اوریوں انہیں حضرت اقدسؑ کے ہم مکتب ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے براہین احمدیہ کی اشاعت پر اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد 7میں ہم مکتب ہونے کا جوحوالہ دیا ہے وہ انہی ایام کی یاد میں لکھاتھا۔ جس میں انہوں نے لکھا: ’’مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدرہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب۔ اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری رہی ہے۔‘‘( رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد7شمارہ نمبر 6صفحہ176)جنہوں نے اتنے قریب سے دیکھا تھا اور اس قریب کے مشاہدے کے بعد یہ لکھا کہ ’’مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اورمشاہدے کے رو سے (و اللّٰہ حسیبہ) شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیز گار اور صداقت شعار ہیں …‘‘( رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد7 شمارہ نمبر 9 صفحہ 284)

حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہندو لالہ بھیم سین کو تو اپنی زندگی کے آخری سانس تک حضرت اقدسؑ سے الفت و عقیدت رہی۔ لیکن یہ عالم شرع اور شیخ و واعظ، اور اتنا بڑا عالم ’’أبیٰ واستکبر‘‘ کے مصداق ساری عمر خداکے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانے کی ناکام کوششوں میں مصروف رہا۔ اوراس میں اپنی آخری سانس تک صرف کرڈالی۔ سچ ہے کہ خداکی باتیں خداہی جانے۔ وہ خدا جو مالک ہے اور بےنیاز ہے اور علیم بھی ہے جیسا کہ وہ حکیم بھی ہے۔ اس کی حکمتوں اور کاموں کو وہی جانے۔ فرشتے بھی اس کے رازوں کونہیں پاسکتے۔ محترم لالہ بھیم سین صاحب کے متعلق تفصیلی تعارف حضورؑ کے قیام سیالکوٹ کے باب میں بیان ہوگا۔ (ان شاء اللہ)

آپؑ کی تعلیم کے زمانے کا ذکر ہورہاہے کہ حصول تعلیم کے لیے ایک استاذ جو پہلے قادیان میں مقیم تھے واپس جب اپنے گاؤں بٹالہ چلے آئے تو حضرت اقدسؑ بھی ان کے ساتھ بٹالہ تشریف لے آئے۔

اساتذہ کاادب واحترام

آپؑ کے تدریس کے معمولات کا یہ ذکر بالکل نامکمل رہے گا اگر یہ ذکر نہ کیاجائے کہ آپؑ کا اپنے اساتذہ کے ساتھ کیا مؤدبانہ تعلق تھا۔ آپؑ ایک رئیس زادے ہونے کے باوجود اپنے اساتذہ کاپوری طرح احترام فرماتے اور کوئی مذاق یابے ادبی کی حرکت نہ ہوتی اور نہ کسی شرارت میں حصہ لیتے۔ بعض اوقات اس مکتب کے بعض طالب علم اپنے استاد سید گل علی شاہ صاحب سے کوئی مذاق بھی کر بیٹھتے۔ ان کو حقہ پینے کی بہت عادت تھی اور اسی سلسلہ میں بعض شوخ طالب علم مذاق کر لیتے۔ لیکن حضرت اقدسؑ ہمیشہ ان کا ادب و احترام کرتے اور ایسی شرارتوں سے بیزار اور الگ رہتے۔ (حیات احمد جلد اول صفحہ 82)

چند اقساط قبل حضرت اقدسؑ کی تحریرمبارک سے ایک اقتباس نوٹ کیاگیا ہے کہ کم وبیش چالیس سال بعد بھی جب اپنے ایک استادکا ذکر فرمایا ہے تو کس قدر محبت اور احترام سےذکر فرمایا اور ان کے صاحبزادے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’یہ مولوی صاحب اس عاجز کے استاد زادہ ہیں۔‘‘(ازالہ اوہام،روحانی خزائن 3صفحہ 542)چالیس پینتالیس سال قبل حضرت اقدسؑ چھ سات سال کے طفل تھے۔ اور 1891ء میں جب یہ ذکر ہوا توآپ خداکے فرستادےاور اس کے مامورومرسل کے اعلیٰ وارفع مقام پر فائز ہوچکے تھے۔ لیکن آپؑ نے اس وقت بھی اپنے استاد کویادرکھا اور محبت واحترام سے ذکر فرمایاہے۔ اس سے بخوبی اندازہ کیاجاسکتاہے کہ آپؑ اپنے اساتذہ کاکس قدرادب واحترام کیاکرتے ہوں گے۔

صحتمندانہ تفریح، شکار اور ورزش

یہ ذکر ہوچکاہے کہ ہرچند کہ آپؑ کی طبیعت ابتداسے ہی خلوت پسند واقع ہوئی تھی لیکن صحتمندانہ تفریح اور ورزش اور معمولات آپؑ کی زندگی کا حصہ رہے۔ آپؑ تیراکی بھی کرتے۔ آپؑ جسمانی ورزش کے طورپر مگدراورموگریاں بھی پھیرلیاکرتے تھےاور پیدل چلنا اور سیر کرنا تو آپؑ کی زندگی کا ایسامعمول تھا جو آخری عمربلکہ آخری دن تک جاری رہا۔ صبح اور کبھی شام مستقل طورپر کئی کئی میل کی سیر آپؑ کے معمولات کا حصہ رہی۔ اور اس کے علاوہ بھی گھنٹوں مسجد کے صحن میں چلنا، حتیٰ کہ پڑھتے اور لکھتے وقت بھی آپؑ چل کر لکھاکرتے تھے۔ حضرت معراج الدین عمر صاحبؓ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے سوانح لکھتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ’’آپ کی عادت شروع سے ایسی ہی تھی کہ اکثر مطالعہ ٹہل کر کرتے تھے۔ اورایسے محو ہوکر کثرت سے ٹہلتے تھے کہ جس زمین پر ٹہلتے تھے دب دب کر باقی زمین سے متمیز اور بہت نیچی ہوجاتی تھی۔‘‘(’’براہین احمدیہ‘‘( حضرت مسیح موعودؑ کے مختصرحالات) شائع کردہ میاں معراج الدین عمرؓ صاحب صفحہ 63)

آپؑ کے ٹہلنے کی عادت مبارکہ کے بارے میں اس وقت کے ایک ابتدائی اورقریبی تعلق رکھنے والے ہندودوست محترم لالہ ملاوامل صاحب کا بیان ہے کہ ’’حضرت مرزا صاحب کا معمول تھا کہ وہ ظہر کی نماز بڑی مسجد میں پڑھ کر ٹہلنے لگتے اور میں اپنی دکان پر سے جب دیکھتا کہ آپ ٹہل رہے ہیں تو سمجھ لیتا کہ نماز سے فارغ ہو گئے ہیں چنانچہ میں بھی چلا جاتا اور برابر عصر تک وہ ٹہلتے رہتے اور گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہتا‘‘ (حیات احمدؑ جلداول صفحہ 228)

ٹہلتے ہوئے لکھنے کے متعلق سیرت المہدی کی ایک روایت ہے: ’’آپ کی عادت تھی کہ کاغذ لے کر اس کی دو جانب شکن ڈال لیتے تھے تا کہ دونوں طرف سفید حاشیہ رہے اور آپ کالی روشنائی سے بھی لکھ لیتے تھے اور بلیو، بلیک سے بھی اور مٹی کا اُپلہ سا بنوا کر اپنی دوات اس میں نصب کروا لیتے تھے تا کہ گرنے کا خطرہ نہ رہے۔ آپ بالعموم لکھتے ہوئے ٹہلتے بھی جاتے تھے یعنی ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھتے بھی اور دوات ایک جگہ رکھ دیتے تھے جب اس کے پاس سے گزرتے نب کو تر کر لیتے۔‘‘(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر23)

پیدل چلنے کے متعلق تو ہم حضرت اقدسؑ کی سیرت و سوانح میں متعدد جگہ اور آپؑ کے معمولاتِ سفر میں دیکھیں گے کہ آپؑ علاوہ روزمرہ سیر کے بٹالہ، ڈلہوزی اور دیگر قصبات ودیہات میں پیدل ہی چلے جایاکرتے تھے۔ موگریاں اورمگدر سے ورزش کرنے کی بابت آپؑ کے صاحبزادے حضرت مرزابشیرالدین محموداحمدصاحب خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مونگریاں اورمگدر پھیراکرتے تھے بلکہ وفات سے سال دو سال قبل مجھے فرمایا کہ کہیں سے مونگریاں تلاش کرو جسم میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ میں نے کسی سے لا کردیں اور آپ کچھ دن انہیں پھراتے رہے۔ بلکہ مجھے بھی بتاتے تھے کہ اس اس رنگ میں اگر پھیری جائیں تو زیادہ مفید ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍فروری 1939ء بحوالہ مشعلِ راہ جلد اول صفحہ 110، ایڈیشن دوم)

آپ کے شکار کرنے کے متعلق ذکرہوچکا کہ بچپن میں باہر جنگل میں لاسا [ ایک چپکتا ہوا لعاب دار مادہ جو خاص کر بڑ کے دودھ سے بنایا جاتا ہے۔ (عموماًچھوٹے پرندوں کو پکڑنے کے لئے جال وغیرہ میں مستعمل)۔ (اردو لغت تاریخی اصول پر زیر لفظ’’لاسا‘‘)] اور غلیل وغیرہ کے ذریعہ چڑیوں اور پرندوں کا شکارکرنے کے بارے میں بعض روایات ملتی ہیں۔ بلکہ ایک روایت تو بندوق چلانے کے متعلق بھی ملتی ہے۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ بیان فرماتے ہیں: ’’عام طور پر غلیل کے ذریعہ سے شکار کیا جاتا تھا۔ میری اپنی تحقیقات سے تو یہ پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ بھی کبھی کبھی غلیل چلاتے تھے مگر آپ کے اس شوق کی تعداد شاید تین چار بار سے زیادہ نہ ہو۔ یہ شوق اگر اس کو شوق کہا جاوے صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ آپ کے دیوان خانہ کے پاس اس حصہ میں جہاں مرزا سلطان احمد صاحب کا مکان ہے۔ ایک شخص بسّا نامی رہا کرتا تھا جو باہر رکھوالا ہوتا تھا وہ حفاظت کے لئے غلیل رکھا کرتا تھااس سے لے کر کبھی آپ بھی چلا لیتے اور اسی شوق میں ایک مرتبہ اڑتے ہوئے طوطے کو شکار کر لیا۔ مگر حضرت صاحبزادہ میرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب ایّدہ الله الاحد جن کے عہد خلافت میں میں یہ سیرت لکھ رہا ہوں فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بندوق کے ساتھ شکار کیا تھا اور یہ روایت حضرت مسیح موعودؑ نے خود بیان فرمائی۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کو بحالی صحت کے لئے شکار بندوق کا مشورہ دیا گیا اور بعض اور اسباب بھی تھے جن کے لئے آپ نے ہوائی بندوق اولاً منگوائی تو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے۔ باپ نہ ماری پدڑی بیٹا میر شکار۔ مگر آپ کو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہم نے ایک مرتبہ شکار کے لئے بندوق چلائی تو ایک پدّی (بھوری پیٹھ کی چھوٹی سی خوش آواز چڑیا جو کئی قسم کی ہوتی ہے(اردو لغت تاریخی اصولوں پر شائع کردہ ترقی اردو بورڈ کراچی زیر لفظ ’’پدّا‘‘)شکار ہو گئی۔‘‘(حیات احمدؑ، جلداول صفحہ214تا215)

حیات احمدؑ جلداول کے صفحہ 437 کے مطابق آپؑ نے ایک مرتبہ بندوق سے گل دم (گل دم: ایک پرندہ جس کی دم کے نیچے سرخ پر اور سر پر کلغی ہوتی ہے، ہندوستانی بلبل۔) کاشکاربھی کیا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button