ادبیات

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 104)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

اثبات ضرورت نزول وحی

’’غرض اس قسم میں نزول وحی کی ضرورت کو ایک عام مشاہدہ کی رو سے ثابت کیا ہے کہ جیسے آسمانی پانی کے نہ برسنے کی وجہ سے زمین مر جاتی اور کنوؤں کا پانی خشک ہونے لگتا ہے۔ یہی قانون نزول وحی کے متعلق ہے۔ رجعپانی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ پانی زمین پر بھی ہوتا ہے لیکن آسمان کو ذات الرجع کہا ہے۔ اس میں یہ فلسفہ بتایاہے کہ اصلی آسمانی پانی ہی ہے چنانچہ کہا ہے۔

باراں کہ در لطافت طبعش دریغ نیست

در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس

جو کیفیت بارش کے وقت ہوتی ہے وہی نزول وحی کے وقت ہوتی ہے۔ دوقسم کی طبیعتیں موجود ہوتی ہیں۔ ایک تو مستعد ہوتی ہیں اور دوسری بلید۔مستعد طبیعت والے فوراً سمجھ لیتےہیں۔ اور صادق کا ساتھ دے دیتے ہیں۔ لیکن بلیدالطبع نہیں سمجھ سکتے اور وہ مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دیکھو مکہ معظمہ میں جب وحی کا نزول ہوا اور آنحضرتﷺ پر خدا تعالیٰ کا کلام اترنے لگا۔ تو ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابوجہل ایک ہی سرزمین کے دو شخص تھے۔ ابوبکرؓ نے تو کوئی نشان بھی نہ مانگا اورمجرد دعویٰ سنتے ہی آمنّا کہہ کر ساتھ ہو لیا۔ مگر ابوجہل نے نشان پر نشان دیکھے مگر تکذیب سے باز نہ آیا اور آخر خدا تعالیٰ کے قہر کے نیچے آکر ذلت کے ساتھ ہلاک ہوا‘‘۔

(ملفوظات جلدچہارم صفحہ442-443،ایڈیشن1984ء)

اس حصہ ملفوظات میں آنے والا شعرمع اعراب و اردو ترجمہ ذیل میں درج ہے۔

بَارَاں کِہْ دَرْلَطَافَتِ طَبْعَشْ دَرِیْغْ نِیْسْت

دَرْبَاغْ لَالِہْ رُوْیَدْ و دَرْ شُوْرِہْ بُوْم خَسْ

ترجمہ: بارش جس کی پاکیزہ فطرت میں کوئی ناموافقت نہیں وہ باغ میں تو پھول اگاتی ہے اور شورہ زمین میں گھانس پھونس۔

ایک لفظ کے فرق کے ساتھ یہ شعر شیخ سعدی کے کلام میں ملتاہے یعنی سعدی کے شعر کے پہلے مصرع میں ’’دریغ‘‘کی بجائے ’’خلاف‘‘ کا لفظ ہے اورپورا مصرع اس طرح ہے۔

بَارَان کِہْ دَرْلَطَافَتِ طَبْعَشْ خِلَافْ نِیْسْت۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close