آداب مساجد

وَعَھِدْنَااِلیٰ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بِیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

رُکَّعُٗ: رَاِکعُٗ کی جمع ہے اور رکوع کے معنے رکوع کرنے یا توحید پر چلنے کے ہوتے ہیں۔

سُجُوْدُٗ: سَاجِدُٗ کی جمع ہے۔اس کے معنے (۱)سجدہ کرنے والے اور(۲)کامل فرمابنردار کے ہوتے ہیں۔

طَائِفُٗ: جو شخص بار بار کسی جگہ آئے یااس کے گرد چکر لگائے وہ طائف کہلاتا ہے۔

عَاکِفُٗ: بیٹھنے والا۔جو دھرنا مار کر بیٹھ جائے۔ اِسی سے اعتکاف نکلا ہے۔

۔۔۔ فرمایا ہے۔وَعَھِدْنَااِلیٰ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْل اور ہم نے ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو بڑی پکی نصیحت کی تھی۔ عَھِدَبِہٖ کے معنے ہوتے ہیں اس نے فلاں کے ساتھ عہد کیا۔لیکن عَھِدَ کے ساتھ جب اِلیٰ کا صِلہ آئے تو اسکے معنے ہوتے ہیں پکی نصیحت کرنا یا وصیت کرنا پس فرماتا ہے وَعَھِدْنَا اِلیٰ اِبْرَاھِیْمَ وَ اسْمٰعِیْلَ ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو بار بار نصیحت کی تھی اور بار بار اس بات کی طرف توجہ دلائی اور تاکیدی حکم دیا اَنْ طَھِّرَ ابَیْتِیَ کہ تم دونوں میرے گھر کو پاک کرو اور اسے ہر قسم کے عیبوں اور خرابیوں سے بچاؤ۔ لِلطَّآئِفِیْنَ ان لوگوں کے لئے جو اس کے اردگرد طواف کرنیوالے ہیں یا اُن لوگوں کے لئے جو اس جگہ بار بار آنے والے ہیں۔ وَالْعٰکِفِیْنَ اور ان لوگوں کے لئے جو اعتکاف کے لئے آئیں یا اپنی زندگی وقف کر کے یہیں بیٹھ جائیں۔ طائفین وہ لوگ ہیں جو کبھی کبھی آئیں اور عاکفین وہ ہیں جو اپنی زندگی اس گھر کے لئے وقف کریں۔وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ اور ان لوگوں کے لئے جو خداتعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے کھڑے رہتے ہیں اور اس کی فرمابنرداری میں اپنی ساری زندگی خرچ کرتے ہیں یا ان لوگوں کے لئے جو رکوع و سجود کرتے ہیں۔ اس جگہ رکوع و سجود سے ظاہری اور قلبی دونوں رکوع و سجود مراد ہیں۔ یعنی وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ سے وہ لوگ بھی مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے حضور رکوع اور سجدہ کرنے والے ہوں۔ اور وہ لوگ بھی مراد ہیں جو خداتعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھنے والے ہوں اور جو اس کے کامل فرمانبردار ہوں۔ اسی طرح تطہیر کے بھی دونوں مفہوم ہیں اس سے مراد ظاہری صفائی بھی ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مساجد کو صاف رکھو اور اس میں عود وغیرہ جلاتے رہو اور اس سے باطنی صفائی بھی مراد ہو سکتی ہے یعنی مسجد کی حرمت کا خیال رکھو۔ اور اس میں بیٹھنے کے بعد لغو یات سے کنارہ کش رہو۔ افسوس ہے کہ آجکل مساجد میں ذکر الہٰی کرنے کی بجائے لوگ اِدھر اُدھر کی گپیں ہانگتے رہتے ہیں حالانکہ مسجدیں خداتعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں بیشک ضرورت محسوس ہونے پر مذہبی،سیاسی قضائی اور تمدنی امور پر بھی مساجد میں گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن مساجد میں بیٹھ کر گپیں ہانگنا اور اِدھر اُدھر کی فضول باتیں کرنا سخت ناپسندیدہ امر ہے۔ نوجوانوں کو خصوصیت کے ساتھ اس بارہ میں محتاط رہنا چاہیے۔

طَھِّرَابَیْتِیَ میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک زمانہ میں لوگوں نے اس کے اندر بُت رکھ دینے ہیں۔ تمہارا کام ہے کہ تم ان بُتوں کو نکالو اور بیت اللہ کو پاک و صاف کرو۔ لُغت کی رو سے بھی نجاست ظاہری اور باطنی دونوں کو دُور کرنے کے لئے تطھیر کا لفظ استعمال ہوتاہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیت اللی تطہیر کی اور تین سو ساٹھ بتوں سے اس کو پاک کر دیا۔ آپ کا یہ فعل اسی وصیت کے مطابق تھا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسمٰعیل علیہما السلام کو فرمائی تھی کہ طَھِّرَا بِیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ۔یہ سورۃ ہجرت کے بعد نازل ہوئی تھی اور وہ ایسا وقت تھا کہ مسلمان مدینہ میں بھی محفوظ نہ تھے۔ مگر خداتعالیٰ نے فرمایا کہ تمام دنیا جو اس وقت متفرق ہے وہ اس مرکز پر جمع ہو جائے گی چنانچہ دیکھ لو۔ اب ساری دنیا سے لوگ حج کے لئے جاتے ہیں اور ادھر مُنہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس سے بڑھکر آپ کی صداقت کا اور کیا نشان ہو سکتا ہے۔

(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 163، 171-172)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button