سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

حضرت اقدسؑ کا بچپن ملکی ماحول کی بے شمار آلودگیوں کے باوجود معجزانہ طور پر نہایت درجہ پاکیزہ اور مقدس تھاآپؑ کے بچپن کے معصومانہ انداز کی جھلک بھی ہمیں ان معدودے چند واقعات میں نظر آتی ہے جو کہ سلسلہ کی تاریخ میں صحابہؓ اور دیگر راویان کے ذریعہ ہمارے پاس محفوظ ہے

بابرکت پیدائش

آپؑ کی پیدائش کے آغاز سے ہی غیر معمولی برکات و افضال کی بارش اس خاندان پر ہونے لگی۔ ان میں سے ایک سب سے پہلی اورقابل ذکر برکت یہی کچھ کم نہ تھی کہ پنجاب میں جہاں حضورؑ کی پیدائش ہوئی مہاراجہ رنجیت سنگھ بر سر اقتدار تھا۔ جس نے 1806ء میں بھنگی مسل کے سرداروں سے امرتسر پر قبضہ کرکے مہاراجہ کا لقب اختیار کر لیا۔ اور پھر قصور، جموں، کا نگڑہ، اٹک، جھنگ، ملتان، ہزارہ، بنوں اور پشاور تک کے علاقے زیر نگیں کر لیے۔ اوراس نے 17-1816ء میں رام گڑھیوں کو شکست دے کر قادیان کی ریاست بھی اپنی عملداری میں شامل کر لی۔ لیکن حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ کی پیدائش سے چند ماہ قبل حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو قادیان کے اردگرد کے پانچ گاؤں ان کی خاندانی ریاست میں سے انہیں واپس کر دیے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے چند ماہ قبل آپ کے خاندانی مصائب و مشکلات کے دور کو فراخی اور کشائش میں بدل ڈالا اور آپ کی پیدائش خاندان کے لیے مادی اعتبار سے بھی باعث صد برکت ثابت ہوئی۔ چنانچہ حضرت اقدسؑ کی والدہ ماجدہ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ ہمارے خاندان کے مصیبت کے دن تیری ولادت کے ساتھ پھر گئے اور فراخی میسر آگئی۔ اور اسی لئے وہ آپ کی پیدائش کو نہایت مبارک سمجھتی تھیں۔

حضرت اقدسؑ اسی امر کا تذکرہ کرتے ہوئے خود فرماتے ہیں:

’’وسمعتُ اُمی تقول لی مرارًا ان ایامنا بُدّلت من یوم ولادتک وکنا من قبلُ فی شدائد و مصائب و ذا أنواع کروبٍ و مِحنٍ فجاءنا کل خیر بمجیئک وانت من المبارکین۔‘‘ (التبلیغ، آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن 5 صفحہ 544)ترجمہ: میں نے اپنی والدہ ماجدہ سے سنا ہے وہ اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ تیری پیدائش سے ہمارے دن (فراخی اور کشائش میں ) بدل گئے۔ اس سے پہلے ہم شدید تنگی اور مصیبت میں تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں اور تنگیاں ہم پر واردتھیں لیکن تیرے آنے کے ساتھ ہی طرح طرح کی خیراوربھلائی نازل ہونے لگی اورتیراآنا ہمارے لئے بہت ہی مبارک ثابت ہوا۔

اسی غیر معمولی برکت کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک اور جگہ آپؑ یوں فرماتے ہیں: ’’میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا۔ اوریہ خداتعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا‘‘۔ (کتاب البریہ، روحانی خزائن 13 صفحہ 177-178حاشیہ)

حضرت اقدس علیہ السلام کا پاکیزہ بچپن

حضرت اقدسؑ کا بچپن ملکی ماحول کی بے شمار آلودگیوں کے باوجود معجزانہ طور پر نہایت درجہ پاکیزہ اور مقدس تھا۔ آپؑ کے بچپن کے معصومانہ انداز کی جھلک بھی ہمیں ان معدودے چند واقعات میں نظر آتی ہے جو کہ سلسلہ کی تاریخ میں صحابہؓ اور دیگر راویان کے ذریعہ ہمارے پاس محفوظ ہے۔ ہمارے ذہن میں یہ قول ہمیشہ رہنا چاہیے کہ اَلصَّبِیُّ صَبِیٌّ وَلَوْ کَانَ نَبِیٌّ کہ بچہ، بچہ ہی ہوتا ہے اگرچہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔ اس فطری اور طبعی اصول کو ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ اصول ہے کہ جس کو چھوڑکر قاری یا مصنف کبھی کبھی دوانتہاؤں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ جو دونوں ہی غیرطبعی اور ناموزوں ہوتی ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے جو اپنے مقدس پیشواؤں کی بزرگی اورتقدس میں اتنا مبالغہ کرناچاہتاہے کہ وہ اس کے بچپن کی معصومیت کو اپنی مزعومہ اور فرضی تقدس کی اونچی اونچی دیواروں میں مقیدکردیتاہے اور ایک مافوق الفطرت انسان کے روپ میں اس کو دیکھنا چاہتاہے اور چاہتاہے کہ باقی بھی سب اسی نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ وہ ہرقسم کے انسانی اوربشری تقاضوں سے ماورا اسے دیکھنا اوردکھانا چاہتاہے۔

جبکہ دوسری طرف ایک ایسا طبقہ اٹھتاہے کہ وہ اپنے زمانے کے مامور اورمرسل کی مخالفت میں اتنا اندھا ہوچکا ہوتاہے کہ خداکے اس مامور کی زندگی میں وہ عیب ہی عیب ڈھونڈنے کی سعیٔ ناکام ولاحاصل میں ہلکان ہواجاتاہے۔ اور جب اس کو اس کی زندگی میں کوئی عیب نظر نہیں آتا تو وہ اس کے بچپن کی معصومیت کا گلا گھونٹنے کے دَرپے ہوجاتاہے۔ اور وہ واقعات اور روایات جو دوسروں کی زبانی پہنچی ہوتی ہیں وہ صحیح ہوں یانہ ہوں یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اگر صحیح ہوں بھی تو زندگی کے گلستان کی یہ ننھی ننھی کلیوں کی ایک معصومانہ چٹک اور ادا کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتیں لیکن وہ اس پر بھی معترض ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کلیوں کو یونہی مسل دینے کے سوا اورکربھی کیاسکتے ہیں۔ آئیے ان کرخت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑتےہوئے حضرت اقدس علیہ السلام کے پاکیزہ اور معصومانہ بچپن کو ان روایات کے جھرمٹ میں تاکنے کی کوشش کرتے ہیں جو مختلف کتب میں مذکور ہیں۔

بچپن کاایک معصومانہ واقعہ

حضرت اقدسؑ اپنے بچپن کا ایک واقعہ یوں بیان کرتے تھے: ’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوانمک تھا۔‘‘ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر244)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدصاحبؓ اپنی تصنیف ’’سیرت المہدی‘‘ میں یہ روایت لائے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ایک اور واقعہ بھی بیان کیاہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ بچے تو بچے رہے بڑے بھی کبھی کبھی اس طرح کر بیٹھتے ہیں اور اس کے لیے کسی ایک واقعہ کی ضرورت بھی نہیں ہرانسان کی خود اپنی زندگی میں یا اس کے گھر میں ایسا کبھی نہ کبھی بلکہ کبھی کبھی ہوتاہی رہتاہے۔ بہرحال حضرت صاحبزادہ صاحبؓ اس طرح کا ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے پہلے واقعہ کی ملاحت دوبالا کررہے ہیں۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں: ’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد آیاکہ ایک دفعہ گھر میں میٹھی روٹیاں پکیں کیونکہ حضر ت صاحب کو میٹھی روٹی پسند تھی جب حضرت صاحب کھانے لگے تو آپ نے اس کا ذائقہ بدلہ ہوا پایا۔ مگر آپ نے اس کا خیال نہ کیا کچھ اور کھانے پر حضرت صاحب نے کڑواہٹ محسوس کی اور والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ روٹی کڑوی معلوم ہوتی ہے؟ والدہ صاحبہ نے پکانے والی سے پوچھا اس نے کہا میں نے تو میٹھا ڈالا تھا والدہ صاحبہ نے پوچھا کہ کہاں سے لے کر ڈالا تھا؟ وہ برتن لاؤ۔ وہ عورت ایک ٹین کا ڈبہ اٹھا لائی۔ دیکھا تو معلوم ہوا کہ کونین کا ڈبہ تھا اور اس عورت نے جہالت سے بجائے میٹھے کے روٹیوں میں کونین ڈال دی تھی۔ اس دن گھر میں یہ بھی ایک لطیفہ ہو گیا۔‘‘ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر244)

ہمجولیوں کےساتھ شکار

اپنے بچپن میں آپؑ اپنے دوسرے ہمجولیوں کےساتھ شکار وغیرہ بھی کیاکرتے تھے۔ اس کے متعلق ایک دوروایات جو ملتی ہیں وہ یہ ہیں: ’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں بچپن میں گاؤں سے باہر ایک کنویں پر بیٹھا ہوا لاسا بنارہا تھا کہ اس وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی جو گھر سے لانی تھی میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے یہ چیز لا دو۔ اس نے کہا۔ میاں میری بکریاں کون دیکھے گا۔ میں نے کہا تم جاؤ میں ان کی حفاظت کروں گا اور چراؤں گاچنانچہ اس کے بعد میں نے اس کی بکریوں کی نگرانی کی اور اس طرح خدا نے نبیوں کی سنت ہم سے پوری کرا دی۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ لاسا ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جو بعض درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کرتے ہیں۔ اور جانور وغیرہ پکڑنے کے کام آتا ہے۔ نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہ ہوتا تھا تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے۔‘‘ ( سیرت المہدی جلداوّل روایت نمبر251)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدصاحبؓ بیان فرماتے ہیں: ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کےساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سر کنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا…(اس روایت میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ بچپن میں کبھی کبھی شکار کی ہوئی چڑیا کو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے اس کے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جگہ سرکنڈے سے پورا گول سرکنڈا مراد نہیں ہے بلکہ سرکنڈے کا کٹا ہوا ٹکڑا مراد ہے۔ جو بعض اوقات اتنا تیز ہوتا ہے کہ معمولی چاقو کی تیزی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ چنانچہ خود خاکسار راقم الحروف کو کئی دفعہ بچپن میں سرکنڈے سے اپنے ہاتھوں کو زخمی کرنے کا اتفاق ہوا ہے اور پھر ایک چڑیا جیسے جانور کا چمڑا تو اس قدر نرم ہوتا ہے کہ ذرا سے اشارے سے کٹ جاتا ہے۔ )‘‘(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 51)

آپؑ کے ننھیال ’’اَیمہ‘‘ ضلع ہوشیارپور میں تھے۔ ’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں والدہ کے ساتھ ہوشیار پور جاتے تھے تو ہوشیار پور کے چوہوں میں پھرا کرتے تھے۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں کئی برساتی نالے ہیں جن میں بارش کے وقت پانی بہتا ہے اور ویسے وہ خشک رہتے ہیں۔ یہ نالے گہرے نہیں ہوتے قریباً اردگرد کے کھیتوں کے ساتھ ہموار ہی ہوتے ہیں۔ ہوشیار پور کا سارا ضلع ان برساتی نالوں سے چھدا پڑا ہے۔ ان نالوں کو پنجابی میں چوہ کہتے ہیں۔‘‘ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر252)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button