سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

یہ لفظ ہندی الاصل ہے جس کے معنی مناسب وقت یا صلح یا جوڑ کے ہیں۔ پس اگر یہ روایت درست ہے تو بچپن میں حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق اس لفظ کے کبھی کبھی استعمال ہونے میں خدا کی طرف سے یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ شخص ہے جو عین وقت پر آنے والا ہے یا یہ کہ یہی وہ شخص ہے جو خدا کی طرف سے صلح اور امن کا پیغام لے کر آئے گا

(گذشتہ سے پیوستہ)لفظ ’’سَندھی ‘‘کی لغت سے تحقیق کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں:

پنجابی اردولغت اردو سائنس بورڈ لاہور: سَندھی؛ کسی دیوتا کی بھینٹ کیا گیا بچہ جسے اس کے والدین مقررکی گئی قیمت کا دسواں حصہ ادا کرکے واپس لے لیتے ہیں، عہدنامہ، سمجھوتہ، صلح نامہ، میل ملاپ، چیزوں کو جوڑنے کاعمل۔

مذکورہ بالا یہ روایت بہرحال اس امر کی تائید کرتی ہے کہ آپؑ کو اگر بچپن میں کوئی سَندھی کہا کرتاتھا تو پیار کا یہ جذبہ بہرحال موجزن ہوتاہوگا کہ بڑی دعاؤں اورآرزوؤں کے بعد یہ راج دلارا ملاہے، اوریہ بہت حدتک درست ہے کہ باقاعدہ کسی منت وغیرہ کا کوئی بھی عمل دخل یقیناً نہیں ہوگا۔

آپؑ کا نام نا می غلام احمد ہی رکھا گیا۔ جو تمام سرکاری اورغیرسرکاری کاغذات میں اور حضورؑ کی اپنی تحریرات و اشتہارات اورمکتوبات میں درج ہے۔ اوربعض اوقات آپؑ صرف ’’احمد‘‘ بھی رقم فرمایا کرتے تھے۔

اس نام کی وضاحت اس لیے بھی بہت ضروری ہے کہ بعض ایسے شریراوربدباطن نام نہاد ’’محقق‘‘ بھی ہیں جنہوں نے اپنے خبث باطن کا اظہار اس طرح کیا ہے کہ حضرت اقدسؑ کے سوانح کو مجروح کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ خاندان کوئی امیر اوررئیس خاندان نہ تھا اوریہ کہ آپؑ کا نام ’’سندھی‘‘تھا۔ (ماخوذ ازرئیس قادیان جلد 1صفحہ 1)دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو خداکے اس فرستادے کی مخالفت میں اتنے اندھے ہوچکے ہوتے ہیں کہ حقیقت کے نورسے منہ موڑے ہوئے تعصب کے اندھیروں میں شپّروںکی طرح گم ہوکر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور اپنی طرف سے کمال ڈھٹائی سے خداکے ایسے پیاروں کی مذمت کرنے کی ٹھان لیتے ہیں جن کی فرشتے بھی تعریف کرتے ہیں۔ خدانے جن کا نام عرش پر احمد لکھ رکھاہوتاہے ان کے نام بگاڑنے کی چاند پر تھوکنے کے مترادف کوشش میں اپنامنہ ہی بگاڑنے کے سوااورکچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبرلیجیے دہن بگڑا

میرے سامنے ایسے ہی ایک بدنصیب کی کتاب ہے جس میں وہ صاحب لکھتے ہیں کہ آپ کانام ’’سندھی‘‘ تھا۔ بے چارے نے بڑی جان ماری کی ہوگی اس ’’تحقیق‘‘ میں کیونکہ درجنوں بلکہ سینکڑوں کتابیں جو حضرت اقدسؑ کے متعلق لکھی گئی ہیں نہ صرف اپنوں بلکہ مخالفین کی طرف سے بھی ان سب کتابوں سے صرفِ نظر کرنے کے لیے نہ جانے اپنی آنکھوں پر کتنی پٹیاں باندھنی پڑی ہوں گی، دل ودماغ اورعقل وفکر کے سارے راستے بند کرنے پڑے ہوں گے، پھرکہیں جاکے یہ ’’تحقیق ‘‘پیش کی گئی کہ آپؑ کا نام ’’سَندھی‘‘تھا۔

ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظرآتاہے

ان مخالفین کا یہ رویہ بھی انتہائی اہمیت کاحامل ٹھہرتاہے جب ہم ایک اورپہلوسےجائزہ لیں گے۔ اوراس پہلوسے مخالفت کے یہ سب امورآپ کی صداقت کے روشن نشان کے طور پرسامنے آتے ہیں۔ وہ یہ کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایاتھا کہ یہود بہتر(72)فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر(73)فرقوں میں بٹ جائے گی اورقدم بقدم یہودکے نقش قدم پرچلے گی۔ اور پھرایسے وقت میں ہادی ومہدی امام الزمان مبعوث ہوگا۔ اب حضورؑ کی سوانح پرتمسخراوراستہزا کرتے ہوئے کتابیں لکھنے والے مخالفین جب آپ کی سوانح کاذکرکرتے ہیں تو آپؑ کے اصل نام کی بجائے جان بوجھ کرحق کوچھپاتے ہوئے آپ کانام ’’احمدؑ ‘‘یامرزاغلام احمدؑ نہیں لکھتے۔ اورعین یہ حرکت بعض یہودی مصنفین نے کی ہے کہ جب وہ نبی اکرمﷺ کی سوانح لکھتے ہیں تواپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ آپﷺ کانام ’’محمد‘‘ نہیں بلکہ ’’قثم‘‘ تھا۔

کتنی حیرت کی بات اورکتناعجیب اتفاق ہے کہ اس امت کے یہودفطرت بھی نبی اکرمﷺ کے ظل کامل کے نام کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ احمدتوآپؑ کانام نہ تھا۔

لیکن یہی حیرت کتنی ایمان افروزبن جاتی ہے کہ جب نبی اکرمﷺ کی چودہ سوسال قبل کی جانے والی بات حرف بحرف پوری ہوتی نظرآتی ہے کہ کس طرح یہ لوگ یہودکے نقش قدم پرچلنے والے بن گئے۔ خدانے اپنے رسول کومحمدﷺ کہہ کرپکارالیکن یہودیوں نے کہناشروع کیاکہ نہیں یہ نام تونہ تھا۔ اوراس زمانے کے یہودفطرت نے کہناشروع کیاکہ نہیں احمدنام نہیں تھا جبکہ عرش کاخدا بھی اس کو احمدکے نام سے پکارتاہے: یَا اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ!

اسی کے متعلق سیرت المہدی حصہ اول میں ایک نوٹ ہے جو یہاں ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ روایت نمبر51کی مزید تشریح میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمدصاحبؓ فرماتےہیں: ’’دوسری بات جو اس روایت میں قابل نوٹ ہے وہ لفظ سندھی سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی یہ کہ اس لفظ سے کیا مراد ہے اور وہ عورتیں کون تھیں جنہوں نے حضرت والدہ صاحبہ کے سامنے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا۔ سو روایت کرنے والی عورتوں کے متعلق میں نے حضرت والدہ صاحبہ سے دریافت کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون عورتیں تھیں۔ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ وہ باہر سے قادیان آئی تھیں۔ اور ایمہ ضلع ہوشیار پور سے اپنا آنا بیان کرتی تھیں۔ اس کے سوا مجھے ان کے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔ لفظ سندھی کے متعلق خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس لفظ کے متعلق مزید تحقیق کی ہے یہ لفظ ہندی الاصل ہے جس کے معنی مناسب وقت یا صلح یا جوڑ کے ہیں۔ پس اگر یہ روایت درست ہے تو بچپن میں حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق اس لفظ کے کبھی کبھی استعمال ہونے میں خدا کی طرف سے یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ شخص ہے جو عین وقت پر آنے والا ہے یا یہ کہ یہی وہ شخص ہے جو خدا کی طرف سے صلح اور امن کا پیغام لے کر آئے گا۔ (دیکھو حدیث یَضَعُ الْحَرْب) یا یہ کہ یہ شخص لوگوں کو خدا کے ساتھ ملانے والا ہو گا۔ یا یہ کہ یہ خود اپنی پیدائش میں جوڑا یعنی توام پیدا ہونے والا ہو گا (مسیح موعود کے متعلق یہ بھی پیشگوئی تھی کہ وہ جوڑا پیدا ہو گا) پس اگر یہ روایت درست ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ انہی اشارات کی غرض سے ہے۔ واللّٰہ اعلم

باقی رہا کسی معاند کا یہ مذاق اڑانا کہ گویا حضرت مسیح موعودؑ کا نام ہی سندھی تھا۔ سو اصولاً اس کا یہ جواب ہے کہ جب تک کسی نام میں کوئی بات خلاف مذہب یا خلاف اخلاق نہیں ہے اس پر کوئی شریف زادہ اعتراض نہیں کر سکتا۔ گزشتہ انبیاء کے جو نام ہیں وہ بھی آخر کسی نہ کسی زبان کے لفظ ہیں۔ اور کم از کم بعض ناموں کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کے کیا کیا معنی ہیں۔ پھر اگر بالفرض حضرت مسیح موعودؑ نے کوئی ہندی الاصل نام پا لیا۔ تو اس میں حرج کونسا ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بالکل بے بنیاد اور سراسر افترا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا نام سندھی تھا۔ اور اگر کسی مخالف یا معاند کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے تو وہ مرد میدان بن کر سامنے آئے اور اسے پیش کرے ورنہ اس خدائی وعید سے ڈرے۔ جو مفتریوں کے لئے لعنت کی صورت میں مقرر ہے۔ حقیقت یہ ہے جسے ساری دنیا جانتی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا نام مرزا غلام احمد تھا۔ چنانچہ (1)یہی نام آپ کے والدین نے رکھا اور (2)اسی نام سے آپ کے والد صاحب آپ کو ہمیشہ پکارتے تھے اور (3)اسی نام سے سب دوست و دشمن آپ کو یاد کرتے تھے اور (4)میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی سیالکوٹ کی ملازمت (از1864ء تا 1868ء) کے بعض سرکاری کاغذات دیکھے ہیں۔ جو اب تک محفوظ ہیں ان میں بھی یہی نام درج ہے اور (5)اسی نام کی بناء پر دادا صاحب نے اپنے ایک آباد کردہ گاؤں کا نام احمد آباد رکھا اور (6)دادا صاحب کی وفات کے بعد جو حضرت صاحب کے دعویٰ مسیحیت سے چودہ سال پہلے 1876ء میں ہوئی۔ جب کاغذات مال میں ہمارے تایا اور حضرت صاحب کے نام جائداد کا انتقال درج ہوا۔ تو اس میں بھی غلام احمد نام ہی درج ہوا اور (7)کتاب پنجاب چیفس میں بھی جو حکومت کی طرف سے شائع شدہ ہے یہی نام لکھا ہے اور (8)دوسرے بھی سارے سرکاری کاغذات اور دستاویزات میں یہی نام درج ہوتا رہا ہے اور (9)دوسرے عزیزوں اور قرابت داروں کے ناموں کا قیاس بھی اسی نام کا موٴیدہے اور (10) خود حضرت مسیح موعودؑ نے بھی ہمیشہ اپنے خطوط اور تحریرات اور تصانیف وغیرہ میں … یہی نام استعمال کیا اور (11) حضرت مسیح موعودؑ پر عدالت ہائے انگریزی میں جتنے مقدمات ہوئے ان سب میں حکام اور مخالفین ہر دو کی طرف سے یہی نام استعمال ہوتا رہا اور (12) حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ سے پہلے جب اول المکفرین مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تو انہوں نے اس میں بھی یہی نام لکھا اور (13)اشد المعاندین مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنی جملہ مخالفانہ تصنیفات میں ہمیشہ یہی نام استعمال کیا اور (14) حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر جن بیسیوں ہندو، سکھ، عیسائی، مسلمان اخباروں نے آپ کے متعلق نوٹ لکھے انہوں نے بھی اسی نام سے آپ کا ذکر کیا۔ اگر باوجود اس عظیم الشان شہادت کے کسی معاند کے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ کا نام غلام احمد نہیں تھا۔ بلکہ سندھی یا کچھ اور تھا۔ تو اس کا ہمارے پاس اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ اسی ضمن میں روایات نمبر 25، 44، 98، 129، 134، 412 اور 438 بھی قابل ملاحظہ ہیں جن سے اس بحث پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ ‘‘(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر51)

مختصراً یہ کہ آپؑ چھ یا سات بہن بھائی تھے۔ آپؑ کے علاوہ صرف ایک بھائی اورایک بہن نے نسبتاً لمبی عمر پائی باقی سب چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوتے رہے۔ آپؑ اپنے گھر میں سب سے آخر پر پیداہونے والے، گویا خاتم الاولاد تھے۔ (اس ترکیب ’’خاتم الاولاد‘‘کے لیے ملاحظہ ہو حضرت اقدسؑ کی اپنی تحریر تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close