ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 100)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

فرمایا:’’ہم کسی کو تجارت سےمنع نہیں کرتے کہ وہ بالکل ترک کردیوے مگر یہ کہتے ہیں کہ وہ ذرا سوچیں اور دیکھیں کہ ان کے باپ دادا کہاں ہیں؟بڑے بڑے عزیز انسان کے ہوا کرتے ہیں اور کس طرح وہ ان کے ہاتھوں میں ہی اُٹھ جایا کرتے ہیں اور موت کس طرح آپس میں تفرقہ ڈال دیتی ہے ۔

سال دیگر را کہ مے داند حساب

تا کجا رفت آں کہ با ما بود یار

اب طاعون کی بلاسروں پرہے کہتے ہیں کہ اس کی میعادستربرس ہوا کرتی ہےاوراس کے آگے کوئی حیلہ پیش نہیں جاتا۔سب (حیلے)فضول ہوا کرتے ہیں۔اوراسی لئے آتی ہے کہ خداکے وجود کو منوا دیوے۔سو اس کا وجود برحق ہے ۔ اورخدا کی بلا سے سوائے خدا کے کوئی بچا نہیں سکتا۔ سچا تقویٰ اختیارکروکہ خداتعالیٰ تم سے راضی ہو۔‘‘

(ملفوظات جلدچہارم صفحہ 397-398ایڈیشن 1984ء)

اس حصہ ملفوظات میں فارسی کا یہ شعر آیاہے

سَالِ دِیْگَرْ رَا کِہْ مِیْ دَانَدْ حِسَابْ

تَا کُجَا رَفْت آںْ کِہْ بَا مَا بُوْد یَار

ترجمہ: آئندہ سال کا حساب کون جانتا ہے جو دوست ہمارے ساتھ تھے وہ اب کدھر گئے۔

یہ سعدی شیرازی کا شعر ہےجو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 18؍ اپریل 1901ء کوالہام ہوا جس کا حوالہ بحوالہ تذکرہ درج ہے الحکم جلد 5نمبر 18مورخہ 17؍مئی 1901ء صفحہ 12۔سعدی کے شعر میں آخرپر ’’یار‘‘کی بجائے ’’پار‘‘کا لفظ ہے جس کا مطلب گذشتہ (سال) ہے۔اور اس طرح شعر کا ترجمہ درج ذیل ہوگا ۔

ترجمہ شعر : آئندہ سال کا حساب کون جانتا ہے جو دوست گذشتہ سال ہمارے ساتھ تھے وہ اب کدھر گئے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button